ووٹنگ مشینیں اور بلاوجہ کا شور


کیا بیرون ملک پاکستانیوں کو ووٹ کا حق ہونا چاہیے؟
اس سوال کے دو جواب ہیں۔ ایک اصولی دوسرا عملی۔

اصولی جواب جاننا ہو تو یہ جاننے کی کوشش کریں کہ بھارت بیرون ملک سکونت پذیر بھارتیوں کو ”این آر آئی“ کیوں کہتا؟ یعنی کہ ”نان ریزیڈنٹ انڈین“ ۔ اگر آپ تھوری سی زحمت کریں اور پالیسی مباحثے کو پڑھ لیں تو اصول سمجھ آ جائے گا۔

عملی جواب جاننا ہو تو جواب بہت ہی سادہ سا ہے۔ یعنی یہ کہ بالکل کوئی فرق نہیں پڑتا۔
اسکی وجہ کیا ہے۔ آئیے اس پر نظر ڈالتے ہیں۔

اس وقت بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی کل تعداد تقریباً ساڑھے آٹھ ملین ہے۔ یعنی پچاسی لاکھ۔ ان میں سے پچاس لاکھ کے قریب عرب ریاستوں میں رہتے ہیں۔ بارہ لاکھ برطانیہ۔ ظاہر ہے پچاس لاکھ کے پاس غیر ملکی شہریت نہیں اور برطانیہ رہنے والوں کی کثیر تعداد آزاد کشمیر سے ہے۔

وہ پاکستانی جن کے پاس غیر ملکی شہریت نہیں وہ ہر لحاظ سے دھڑے بندی، برادری اور دیگر روایتی پریشرز کے زیر اثر ووٹ ڈالیں گے۔ یہ مزدور طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جن کی پاکستان سے وابستگی اور تعلق کی نوعیت باقیوں سے بہت فرق ہے۔ ان پاکستانیوں کا ووٹ عام انتخابات کے جنرل ٹرینڈ کے مطابق ہو گا چونکہ ان کی پوری پوری فیملی پہلے سے پاکستان ہے، یہاں کی سیاست میں اپنا حصہ ڈالتی ہے۔ یہ اپنی فیملی، اور کلٹ کے اثر سے نکل کر کوئی منفرد یا نئی راہ اختیار کر ہی نہیں سکتے۔

برطانیہ کے بیشتر ووٹرز کا ووٹ آزاد کشمیر میں اہمیت رکھتا ہے۔ پاکستان کے انتخابات سے ان کا کوئی تعلق نہیں۔

اگر دیکھا جائے تو مجموعی طور پر پچیس لاکھ کے قریبا پاکستانی ہیں جن کے ووٹ سے کسی اپ سیٹ یا ٹرینڈ کی امید رکھی جا سکتی۔

ان میں سے آٹھ لاکھ کے قریب نارتھ امریکہ یعنی امریکہ اور کینیڈا میں ہیں۔ یہی وہ ووٹر ہیں جن کے ووٹوں کو سب سے زیادہ اہمیت دی جاتی ہے۔

دیکھا جائے تو مجموعی ٹرن آؤٹ کے مطابق کل ووٹوں کی تعداد تین کروڑ کے قریب ہوتی ہے۔ یقیناً پچیس لاکھ کا اضافہ ان میں بڑی اہمیت رکھتا ہے مگر صدارتی نظام میں، وہ بھی اس صورت اگر ٹرن آؤٹ سو فیصد ہو جو ناممکن ہے۔ بہت ہی زیادہ ٹرن آؤٹ ہو تو یہ پچاس فیصد تک ہوتی ہے۔ یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ پاکستان میں پارلیمانی نظام ہے۔ اور بیشتر حلقوں میں جیتنے اور ہارنے والے کے ووٹوں میں چند سو یا ہزار کا فرق ہوتا۔ ایسے میں اگر بیرون ملک پاکستانیوں کا پچاس فیصد ٹرن آؤٹ یعنی دس بارہ لاکھ اگر پورے الیکشن عمل میں شامل بھی ہو جائے تو اس سے کوئی فرق نہیں پڑنا۔

اسکی دلیل کیا ہے۔

اگر ہم بیرون ملک پاکستانیوں کی سیاست میں شمولیت پر نظر دوڑائیں تو عرب ریاستوں میں سیاست پر پابندی ہے۔ اس لئے وہاں کا ڈیٹا میسر نہیں۔ برطانیہ اور امریکہ میں ہر سیاسی جماعت کی نمائندگی اتنی ہی ہے جتنی پاکستان کے اندر۔ ٹرینڈ بھی وہی ہیں کہ جو برسر اقتدار ہو گا سب سے زیادہ حامی اسی کے ہوں گے۔ جیسے ہی حکومت بدلے گی وفاداریاں بدل جائیں گی۔ وہ لوگ جو ڈائی ہارٹ فین ہیں جن کی وابستگی کی بنیادی وجہ مراعات نہیں ان کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ برسر اقتدار کون ہے۔ بڑی پارٹیوں کی نمائندگی بیرون ملک بھی زیادہ ہے اور چھوٹی کی بیرون ملک بھی کم۔

پارلیمنٹ سے منظور ہونے والے قانون پر زیادہ بحث اور شور اس لئے نہیں کہ اس سے الیکشن رزلٹ پر فرق پڑے گا۔ بلکہ اس لئے ہے کہ الیکشن رزلٹ کو اپنی مرضی کے مطابق موڑنے تروڑنے میں آسانی ہو جائے گی۔ شور مچانے والوں کو ووٹ دینے والوں کی پسند نا پسند یا سیاسی وابستگی سے پرابلم نہیں بلکہ اس بات سے ہے کہ رزلٹ کو زیادہ آسانی سے تبدیل کیا جا سکے گا۔

میرے نزدیک یہ اعتراض بالکل اہمیت نہیں رکھتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دو ہزار اٹھارہ کے الیکشن میں تمام سیاسی جماعتوں کی ناک تلے، میڈیا کی روشنیوں میں سب کے سامنے رزلٹ روک کر اپنی مرضی کے نتائج حاصل کیے گئے، جہاں جہاں کیے جا سکتے تھے۔ الیکشن سے کچھ گھنٹے پہلے جنوبی پنجاب کے تمام ٹکٹ ہولڈرز نے ایک سیاسی جماعت کی حمایت سے انکار کر دیا۔ ظاہر ہے جو قوتیں دن دیہاڑے ملک کے اندر یہ کارروائی ڈال سکتی ہیں انہیں ووٹنگ مشینوں اور بیرون ملک پاکستانیوں کے ووٹ سے کھلواڑ کی حاجت یا مجبوری نہیں۔ اس لئے یہ چائے کی پیالی کا طوفان ہے جس کی عملی سیاست میں کوئی خاص اہمیت نہیں۔

Facebook Comments HS