پاکستان میں زیادتی کے ملزمان کے خلاف قانون سازی، کیمیکل کاسٹریشن کی بھی اجازت
پاکستان کی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں بدھ کو انسدادِ زیادتی قانون کی منظوری دے دی ہے جس کے بعد ریپ کرنے والوں کے خلاف فوری اور سنگین سزائیں بشمول کیمیکل کاسٹریشن کی بھی اجازت ہو گی۔
وائس آف امریکہ کے لیے ایاز گل کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں خواتین اور بچوں کے خلاف ریپ کے واقعات میں حالیہ اضافے کے بعد عوامی سطح پر ایسے ملزمان کے خلاف مؤثر کارروائی کے مطالبات زور پکڑ رہے تھے جس کے بعد یہ قانون سازی عمل میں آئی ہے۔
پارلیمان سے منظور ہونے والے بل کے تحت نیشنل ڈیٹابیس اینڈ رجسٹریشن سینٹر (نادرا) کی مدد سے ملک بھر میں جنسی جرائم کے مجرموں کا ریکارڈ مرتب کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ متاثرین کی شناخت کا تحفظ اور جرائم کے کچھ ہی گھٹنوں میں طبی معائنے کے لیے خصوصی ‘انسدادِ ریپ کرائسز سیلز’ قائم کیے جائیں گے۔
زیادتی کے ملزمان کے تیز ٹرائل کرنے اور جنسی زیادتی کے کیسز کے ‘چار ماہ میں فوری اور ترجیحی بنیادوں’ پر فیصلہ کرنے کے لیے حکومت کو پاکستان بھر میں خصوصی عدالتوں کے قیام کی ضرورت ہو گی۔
بل کے تحت گینگ ریپ میں ملوث افراد کو سزائے موت یا عمر قید کی سزا دی جائی گی جب کہ عادی مجرموں کو کیمیکل کاسٹریشن کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔
کیمیکل کاسٹریشن یا کیمیائی کاسٹریشن کا مطلب مجرم کو کیمیائی طور پر نامرد کرنا ہے۔
پارلیمان سے بل کی منظوری کا انسانی حقوق کے کارکنان نے خیر مقدم کیا ہے۔ البتہ انہوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ جنسی تشدد کے متاثرین کے لیے انصاف یقینی بنانے کے لیے پولیسنگ اور پراسیکیوشن میں بہتری کی ضرورت ہے۔
ناقدین کے مطابق پاکستان میں جنسی استحصال یا ریپ کیسز کے چار فی صد سے بھی کم کا نتیجہ سزا کی صورت میں نکلتا ہے۔
قانون ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان میں ریپ مقدمات کا فیصلہ ہونے میں برسوں لگ جاتے ہیں اور اکثر ریپ کرنے والے سزا سے بچ جاتے ہیں کیوں کہ بااثر افراد کی مداخلت ناقص پولیس تفتیش کا باعث بنتی ہے۔
ان کے مطابق اس کے علاوہ ماتحت عدلیہ میں بڑھتی ہوئی مبینہ کرپشن بھی زیادتی کرنے والوں کو من پسند فیصلوں میں مدد دے سکتی ہے۔

