اسمبلی – ہنگامہ ہے کیوں برپا؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سئیں سنا ہے کل اسمبلی میں بھر پور اجلاس تھا کوئی بل پاس ہوا ہے آپ بتائیں غریب عوام کے لیے کسی بات پر اتفاق ہوا ہے؟ مہنگائی کے خاتمے اور قیمتوں میں کمی کے لیے کوئی فیصلہ کیا گیا ہے؟ آٹا، چینی، گھی، پیٹرول اور ضرورت کی چیزوں کی قیمتیں کچھ کم کی گئی ہیں؟ سئیں بل پاس ہو جانے کے بعد عوام کو کوئی ریلیف ملے گا نا وہ امید بھری نظروں سے میری طرف دیکھتے ہوئے مسلسل سوال پر سوال کیے جا رہا تھا اور میں انتخابی اصلاحاتی ترمیمی بل پر حکومت کو ملنے والی کامیابی پر غور کرتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ اسے کیا بتاؤں ملک کے وسیع تر مفاد میں بہت کچھ ہوا ہے، حکومت کو فتح ہوئی ہے، اپوزیشن کو شکست ہوئی ہے، سازشیں ناکام ہوئی ہیں، جمہوریت کی فتح ہوئی ہے، صفحہ بچ گیا ہے، اتحادی پرانی تنخواہ پر راضی ہو گئے ہیں اپوزیشن نے مخالفت کر کے بھی حکومت کو بھر پور سپورٹ کیا ہے مگر اس عام بندے کو کیسے سمجھایا جاسکتا ہے جس کی سوئی آٹا، چینی، گھی پر اٹکی ہوئی ہو جیسے کسی بھوکے سے پوچھا جائے کہ دو اور دو کتنے ہوتے ہیں تو وہ کہتا ہے چار روٹیاں۔

سچ تو یہ ہے پچھلے کچھ عرصے سے مہنگائی نے جو حشر کیا ہے عام آدمی جس کے لیے پہلے ہی دو وقت کی روٹی کا حصول مشکل تھا اب تو حالت کہیں زیادہ خراب ہے بلکہ جان کے لالے پڑے ہوئے ہیں یہی وجہ ہے بیچارے غریب عوام حکومت کے ہر قدم، ہر عمل، ہر اعلان، ہر اجلاس پر حکومت سے ایک نئی امید باندھ لیتے ہیں کہ شاید اب ہماری سنی جائے شاید حکومت اپنے وعدوں پر عمل درآمد کر لے ایسی صورتحال میں اسمبلی کا ہنگامہ خیز مشترکہ سیشن ہو تو عام آدمی کا یہ پوچھنا تو بنتا ہے کہ آخر ہوا کیا؟

ممکن ہے اپوزیشن نے عوام کے لیے کوئی ہنگامہ کیا ہو ممکن ہے غریب کی حالت زار کے لیے کوئی واک آؤٹ ہوا ہو ممکن ہے عوام کا دکھ درد دور کرنے کے لیے کوئی ترمیم ہوئی ہو ممکن ہے روزگار کے لیے کوئی بل پاس ہوا ہو ممکن ہے اسپیکر نے غریب کے حق میں کوئی رولنگ دی ہو مگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا مگر حکومت کامیاب ہو گئی ہے حکومت کو تاریخی فتح ہوئی ہے۔

گو نیازی گو، آٹا چور چینی چور، کون بچائے گا پاکستان عمران خان عمران خان کے نعروں، دھینگا مشتی، دھکم پیل، شور شرابے کے ساتھ حکومت انتخابی اصلاحات ترمیمی بل پاس کرانے میں کامیاب ہو گئی بل کے حق میں 221 ووٹ جبکہ مخالفت میں 203 ووٹ آئے۔ جس کے تحت اب بیرون ملک پاکستانی آئندہ انتخابات میں انٹر نیٹ کے ذریعے اپنے ووٹ کا حق استعمال کر سکیں گے جبکہ بھارتی جاسوس کلبھوشن کو عالمی عدالت میں اپیل کا حق، عورتوں اور بچوں پر جنسی تشدد سمیت 33 ترمیمی بل پیش کیے گئے جن میں سب سے اہم اور سب سے متنازعہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین ہے جس پر حکومت اور اپوزیشن کا پہلا بھی اتفاق نہ ہو سکا جبکہ بل کی منظوری کے بعد اپوزیشن نے حکومت پر سخت تنقید کی شہباز شریف نے کہا پارلیمانی روایت کی دھجیاں اڑا کر قانون بلڈوز کرنا انتہائی غلط بات ہے حکومت کی سوچ محدود ہے عوام سے ووٹ ملنا مشکل ہے اس لیے حکومت مشین کے ذریعے اپنے اقتدار کو طول دینا چاہتی ہے اسی طرح بلاول بھٹو نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین کی منظوری کے بعد آئندہ انتخابات کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے متنازعہ بل کے خلاف عدالت میں جانے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ حکومت اسے اپنی تاریخی فتح قرار دیتے ہوئے دھاندلی کے خلاف ایک اہم پیش رفت قرار دے رہی ہے۔

یہ ایک حقیقت ہے کہ اکیسویں صدی آئی ٹی کی صدی ہے دینا سمٹ کر انگلیوں کی پوروں تک محدود ہو گئی ہے ہماری زندگی کے بہت سے معاملات آئی ٹی سے جڑ کر آن لائن ہو چکے ہیں تو ایسے میں اگر ہم الیکٹرک ووٹنگ مشین جیسی ٹیکنالوجی سے استفادہ کرتے ہیں تو یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں مگر جہاں تک دھاندلی کا تعلق ہے دھاندلی درحقیقت ایک سوچ کا نام ہے بدقسمتی سے ہمارے ہاں کبھی بھی انتخابات غیر جانبدارانہ اور شفاف نہیں ہوئے مگر ایک صفحے پر آ جانے کے نتیجے میں کامیاب ہو جانے والی ہر جماعت کہتی ہے کہ انتخابات شفاف ہوئے اور ہار جانے والی ہر جماعت دھاندلی کا الزام لگاتی ہے الیکشن کمیشن کتنا پاور فل ہے اس کے خلاف وزراء کے لب و لہجے سے بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے حالانکہ پاکستان تحریک انصاف دھاندلی کے خلاف ایک بڑی مزاحمتی جماعت بن کر سامنے آئی تھی مگر ڈسکہ الیکشن پر الیکشن کمیشن کی رپورٹ نے اسے بے نقاب کر دیا ایسی صورتحال میں الیکشن پر بالواسطہ اور بلا واسطہ اثر انداز ہونے اور ہار جیت کے فیصلے کرنے والی قوتیں اور سوچ جب تک اپنی سوچ نہیں بدلے گی اس وقت تک نہ تو انسانوں کے ذریعے دھاندلی ختم ہو سکتی ہے اور نہ ہی مشینوں کے ذریعے انتخابات شفاف ہوسکتے ہیں۔

البتہ یہ بات درست ہے کہ حکومت نے بل منظور کرا کے ایک طرح سے اپنا اعتماد بحال کرا لیا ہے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے صفحہ اسی طرح برقرار ہے مگر یہ کامیابی وقتی ہے اصل کامیابی مدت پوری کرنا نہیں ہوتا بلکہ حکومت کرنا ہوتا ہے اور حکومت وہ ہوتی ہے جس کے ساتھ عوام کے دل دھڑکتے ہیں مگر افسوس جس پی ٹی آئی سے بہت سی امیدیں وابستہ کر کے لوگوں نے ووٹ دیے تھے آج ان لوگوں اور اس عوام کے دل حکومت کے ساتھ نہیں دھڑکتے بلکہ حکومت سے ہی دھڑکتے ہیں اس کی پالیسیوں سے دھڑکتے ہیں

اس کے خوف سے دھڑکتے ہیں مگر حکومت ابھی یہ بات سمجھنے سے قاصر ہے کہ بیساکھیوں کے سہارے کھڑا رہنا تو شاید ممکن ہو مگر زیادہ دیر تک چلا نہیں جاسکتا۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments