میں کون ہوں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجھے میری رائے لیے بغیر پیدا کیا گیا اور پھر ایک عدد زندگی تھما دی گئی۔ جس کا راستہ دکھ، تکالیف، مصائب اور اداسی سے تعبیر ہے۔

ہاں مگر زاد راہ میں ہمت، حوصلہ، شجاعت اور ہنسی بخشی گئی تھی۔ تاہم ہمت اور شجاعت سے کام لیتے ہوئے ہنسی مکمل استعمال کر چکا ہوں۔

اب میرے ہمسفر میرے نہ ہنسنے کی وجہ دریافت کرتے ہیں تو انہیں کیسے بتاؤں کہ زندگی کے اس سفر کے دوران دستیاب زاد راہ سے جو باقی بچ گیا ہے اس میں ڈھونڈنے پر بھی ہنسی نہیں پاتا۔

ہمت کر کے ہنسنے کی کوشش کرتا ہوں تو ہمت کا کوٹا کم پڑنے لگتا ہے۔ ڈر کے خاموش ہو جاتا ہوں کہ ہمت کم پڑ گئی کی تو کسی اگلے دوراہے پہ کھڑے غم سے کیسے نبٹوں گا۔

رہی شجاعت کی بات تو سوائے وطن پر جان دینے کے یہ میرے کسی کام کی نہ آ سکی۔ میرے جھولے میں اس وقت کچھ ہمت اور حوصلہ پڑا ہے۔

میں حوصلہ کر کے ایک گلی میں داخل ہوتا ہوں۔ گلی کہیں تاریک کہیں روشن ہے۔ تھوڑا آگے بڑھتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ ایک شخص ہاتھ میں آدھی اینٹ لیے کھڑا ہے۔

میں آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہوں وہ شخص دور سے ہی مجھے ہاتھ میں پکڑی اینٹ دکھاتا ہے۔ جس کا مطلب میری سمجھ میں نہیں آتا۔ لیکن ایک خوف میرے پاؤں روک دیتا ہے۔

میں جھولے میں ہاتھ ڈال کے ہمت نکال کر اوڑھ لیتا اور آگے بڑھتا ہوں۔ وہ شخص لمبے لمبے دانت نکالے ہنسنے لگتا ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ وہ میرے ہمت اوڑھ لینے کی داد دے رہا ہے۔ لیکن جیسے ہی میں دو قدم آگے بڑھتا ہوں وہ شخص اینٹ ہوا میں لہراتا ہے اور میری طرف نشانہ سادھ کے کھڑا ہو جاتا ہے۔

”تم کون ہو“ ؟ میں سوال کرتا ہوں۔
”میں سماج ہوں“ ، وہ شخص کرخت لہجے میں جواب دیتا ہے۔

مجھے ششدر دیکھ کے سماج اونچی آواز میں چلاتا ہے۔ ”واپس لوٹ جاؤ۔ یہ ممنوعہ راستہ ہے۔ یہاں سے گزرنے پر پابندی ہے“ ۔

میں حیرانی سے وجہ دریافت کرتا ہوں۔
”کوئی کبھی اس راستے سے نہیں گزرا۔ تمہارے بڑے بزرگوں نے بھی اجتناب برتا ہے“ ، سماج چلا کر کہتا ہے۔
”اگر میں اس راستے پر چلنے کی ضد کروں تو“ ؟ میں دو قدم پیچھے ہٹتے ہوئے سوال کرتا ہوں۔

سماج دو قدم آگے بڑھتا ہے اور میرے اتنے قریب آ جاتا ہے کہ اس کے منہ کہ بدبو میری نتھنوں کے راستے اندر اترنے لگتی۔ اور زور سے چلاتا ہے۔ ”ہم ضد کرنے والوں کو پاگل کہتے ہیں اور یہ اینٹ ان کے سر میں دے مارتے ہیں۔ جس موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔ لہذا واپس چلے جاؤ“ ۔

میں ہمت ہاتھ میں پکڑتا ہوں الٹے پاؤں پیچھے کی جانب چلنے لگتا ہوں۔ گلی نکڑ پر پہنچ کر دوڑ لگا دیتا ہوں۔

دوڑتے دوڑتے ایک اور گلی میں داخل ہو ہوجاتا ہوں۔ ابھی بیچ راہ میں ہی پہنچتا ہوں کہ ایک دم سے ایک ایک بھاری بھرکم خاتون اچھل کر میرے سامنے آجاتی ہے۔

میں اس اچانک افتاد پر بوکھلا کر ہکلانے لگتا ہوں۔ ہکلاتے ہوئے اسے پوچھتا ہوں میرا راستہ کیوں روکا؟ ”کیونکہ یہ تمہارا راستہ نہیں ہے۔ یہاں کسی کا اپنا راستہ نہیں ہوتا“ ، خاتون قہقہہ لگاتے ہوئے کہتی ہے۔

”تم ہو کون“ ؟ میں سوال کرتا ہوں۔

”میرا نام ثقافت ہے۔ مجھے سماج نے جنم دیا ہے۔ میرا کام تمہارے لیے راہ راست تجویز کرنا ہے“ ۔ خاتون تحکمانہ لہجے میں جواب دیتی ہے۔

”مجھے کس راستے پر چلنا چاہیے“ ؟ میں بے بسی سے سوال کرتا ہوں۔

”واپس جاؤ اور گلی کی نکڑ سے دائیں جانب مڑ جاؤ“ ۔ ثقافت میرے بالکل سامنے کھڑے ہوتے ہوئے جواب دیتی ہے۔

میں پاؤں سے اپنا جوتا اتراتا ہوں جو اس بھاگ دوڑ کے دوران ٹوٹ چکا تھا، جوتا ہاتھ میں پکڑتا ہوں اور واپس گلی کی نکڑ کی جانب چل پڑتا ہوں۔

گلی کی نکڑ پر پہنچ کر جب دائیں جانب مڑتا ہوں تو دیکھتا ہوں کہ ایک ہجوم چلا جاتا ہے۔ میں ابھی وہیں کھڑا سوچ رہا ہوتا ہوں کہ پیچھے سے ایک زور دار دکھا پڑتا ہے۔ میں لڑکھڑاتا ہوا ہجوم میں جا شامل ہوتا ہوں۔ میرا جوتا ہاتھ سے گر جاتا ہے۔ اب میں ننگے پاؤں ہجوم کا حصہ ہوں۔ میں حضرت انسان ہوں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments