جب عمر ڈھل جائے۔۔۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دور سے آتے نظر آتے چوہدری صاحب کی رفتار میری دکان میں داخل ہونے تک زیادہ تیز ہو چکی ہو تھی۔ خلاف معمول چہرہ بہت سرخ ہو رہا تھا۔ گھبرا کے کھڑا ہوا ہی تھا کہ میرے گلے لگ دھاڑیں مار رونے لگ گئے۔ ”خیریت، کچھ بتائیں تو سہی“ ۔ رندھی آواز نکلی ”نہیں نہیں۔ فکر کی کوئی بات نہیں۔ یونہی بھڑاس نکالنے کو دل کیا تھا۔ ایڈمنسٹریٹر نے میرے بیٹے کو ریلیز نہ کرنے کی میری درخواست رد کر دی ہے“ ۔ لڑکا پانی لے آیا تھا۔ چوہدری صاحب کرسی پہ بیٹھ چکے تھے اور وہ چائے لینے جا چکا تھا اور میں منتظر تھا کہ وہ بات شروع کریں۔

چوہدری صاحب سے میرا گاہک دکاندار کا تعلق انیس سو بہتر سے شروع ہو اب دوستی میں بدل چکا تھا۔ ایک اچھی سرکاری ملازمت سے فارغ ہونے کے بعد بس ٹرانسپورٹ کے کاروبار سے منسلک ہو چکے تھے۔ ہمیشہ مسکراتے کھلتے دکان میں داخل ہوتے اور لمبی گپ شپ رہتی۔ فیصل آباد کے نواحی پینتیس چالیس کلومیٹر کے فاصلے والے شہروں میں سے ایک کے باسی تھے۔ بڑا بیٹا مشرق وسطی کی کسی آئل کمپنی میں انجینئر ہو چکا تھا دوسرا ڈاکٹر اور ایک معروف سرکاری ہسپتال میں رجسٹرار تھا۔

تیسرا بھی کسی دوسرے شہر میں ڈاکٹر تھا اور سب سے چھوٹا ( نام شفقت کہہ لیجیے ) فیصل آباد ہی ایک سرکاری بڑے ادارے میں شماریات کا افسر تھا اور فارغ وقت میں باپ کا ہاتھ بٹاتے بسوں کا انتظام بھی کرتا روزانہ بس پہ فیصل آباد کام پہ آتا اور اکثر میری ملاقات رہتی۔ صرف وہی ماں باپ کے ساتھ بیوی اور دو بچوں کے ساتھ مقیم تھا۔

چوہدری صاحب پر سکون ہو چلے تھے اور بات شروع کر چکے تھے۔ ”تمہیں پتہ ہے شفقت ہی اپنے بچوں کے ساتھ ہمارے ساتھ رہتا اور ہمارا خیال رکھتا اور بیوی بچوں سمیت ہماری ہر وقت کی رونق اور دل بہلاوا اور ہم میاں بیوی کا اس بڑھاپے میں خوشی اور دلی راحت کا سامان ہے۔ اسے کامرہ کے ائر فورس کامپلیکس میں نسبتاً بہت بہتر ملازمت مل گئی ہے اور موجودہ ادارے کے ایڈمنسٹریٹر سے ریلیز آرڈر حاصل کرنے کی درخواست بھی دے دی ہے اور ہم میاں بیوی آگے نظر آتی تنہائی اور بے رونقی اور گھر کی ویرانی کا تصور کرتے مرے جا رہے ہیں۔

میں ابھی اس کے ایڈمنسٹریٹر سے مل کے آ رہا ہوں کہ اس کو ریلیز نہ کرے مگر اس نے سرکاری ضوابط کی مجبوری ظاہر کرتے ایسا کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ بچے چلے گئے تو تنہائی۔ ہم میاں بیوی تو جیتے جی مر جائیں گے، جیتے جی مر جائیں گے، مر جائیں گے۔ اب ہم کیا کریں، کیا کریں کہ یہ حربہ بھی روکنے کا ناکام ہو گیا۔“ اور اب وہ پھر دھاڑیں مار رونا شروع تھے اور میرے ذہن ان کے میرے پاس آنے جانے بیٹھنے گپ شپ کے پچھلے سترہ اٹھارہ سال گھوم رہے تھے۔ وہ اب پرسکون ہوئے تو عرض کیا۔

چوہدری صاحب آپ کو یاد ہے جب آپ میرے پاس آنا شروع ہوئے تھے تو تھوڑے عرصے بعد ہی فون اٹھا کر پاس رکھ لیتے۔ آپ کس کس سے باتیں کرتے یہ تو معلوم نہیں مگر کیا موضوع تھے سنائی دیتا تھا۔ آپ کا ہر فون بچوں کے بارے ہوتا۔ فلاں بچے نے فلاں امتحان دیا ہے۔ پتہ کریں پیپر کس کے پاس گئے ہیں۔ فلاں کا فلاں پیپر کمزور ہوا ہے نمبر لگوانے ہیں۔ فلاں کا فلاں دن پریکٹیکل امتحان آپ نے لینا ہے، آپ کا بچہ ہے خیال رکھئے گا۔ فلاں نے ماشاءاللہ اتنے اعلی نمبر لئے، مبارک ہو اور پھر اس کے بعد فلاں نے وہاں اپلائی کیا ہے کوئی سورس نکالیں۔ فلاں نے فلاں کورس کیا ہے اب آگے آپ کا مشورہ ہے۔ فلاں فلاں اچھی جگہ پوسٹنگ ہو گئی ہے۔ فلاں کا فلاں جگہ تبادلہ کروانا ہے یا ہو چکا ہے۔ فلاں کی ترقی کے لئے سفارش کرنی ہے۔ چند سال قبل تک ایسے ہی فون کیا کرتے تھے نا آپ اور کبھی لگاتار کئی گھنٹے ”

” ہے تو ایسا ہی۔ بات تو درست ہے“ ان کی آواز دھیمی ہو چکی تھی۔ عرض کیا ”آپ یہ کس لئے کرتے تھے۔ اسی لئے نا کہ آپ کے بچے ایک سے بڑھ ایک آگے نکلیں ان کا مستقبل سنورے ان کا نام بنے وہ ترقی کے زینے تیزی سے چڑھیں اور آپ کا نام روشن کریں۔ کتنی قربانیاں کی ہیں منتیں کی ہیں تعلقات بنائے نبھائے اور جواباً آپ کو بھی کم تو نہیں کرنا پڑا ہو گا۔ یہ سب کیوں کیا جب کہ آپ کو علم تھا کہ آپ کے اگائے پر اور اڑنا سیکھنے کے بعد ان کے گھونسلہ چھوڑ دینے کا امکان بہت زیادہ ہے کہ آپ کے شہر یا فیصل آباد ہی سہی ان کی مستقل تعیناتی لازم نہیں۔

اور جب اسی راہ پر چلتے شفقت کو اونچی چھلانگ کا موقع ملا تو آپ خود راہ کا پتھر بنیں، یہ کیسے زیب دیتا ہے۔ جب ساری عمر یہ سب کوشش محنت قربانی منت ترلہ آپ نے ان کے بہتر مستقبل کے لئے کیا تو لازماً ان کے دور ہو جانے کے امکان کی سوچ آپ کو آتی بھی ہوگی اور آنی بھی چاہیے۔ تو اب افسوس کس بات کا۔ آپ کی اس تمام محنت اور قربانی نے آخری اسی قربانی پہ آنا تھا۔ لہذا خوش دلی سے اسے قبول کریں۔ پھر اب فاصلے سمٹ رہے ہیں سب بچے مع اپنے بچوں کے آپ کے پاس آتے جاتے ہیں اور یہ بھی ان میں شامل ہو جائے گا اور یہ وقفوں سے ملنے کی زیادہ خوشی انشاءاللہ اداسی کا مداوا بن جائے گی۔ بلکہ اب پوتوں پوتیوں نواسوں نواسیوں کے مستقبل کی راہوں کے تعین اور رہنمائی پر دھیان لے جائیں۔ اور خدا سے اپنے اور بچوں کے لئے دعا میں لگ جائیں۔ ”

میں دوسرے گاہکوں مصروف ہو چکا تھا اور وہ ٹھوڑی پہ ہاتھ رکھے سوچ میں گم تھے۔ اچانک اٹھے مسکراتے پھر گلے ملے۔ ”تم نے میری آنکھیں کھول دیں۔ ہاں سب کچھ ایسا ہے اور میں اس کی راہ میں روک نہیں بنوں گا اور خوش دلی سے وداع کروں گا ان کی ماں کو بھی انشاءاللہ سمجھا ہی لوں گا“

شفقت کو کامرہ گئے ایک برس سے بھی کم ہوا ہو گا کہ ایک روز اچانک آ پہنچا اور خوشی سے بتایا کہ میں پھر واپس آ چکا ہوں اور سابقہ ادارے میں کامرہ سے کچھ کم مگر بہتر شرائط اور سہولتوں کے ساتھ جاب مل چکا۔ الحمد للہ۔ چوہدری صاحب کی شگفتگی بھی لوٹ چکی تھی کہ گھر کی رونق پھر بحال ہو گئی اور ٹرانسپورٹ بزنس بھی بیٹا سنبھال چکا تھا۔

چوہدری صاحب چند برس بعد اللہ کو پیارے ہو گئے۔ میں کینیڈا منتقل ہو گیا اور کوئی سات آٹھ برس قبل شفقت کہیں سے میرا فون نمبر ڈھونڈ ڈھانڈ اپنے بچوں کے لئے کینیڈا یا امریکہ کی کسی یونیورسٹی میں داخلہ کی کوشش اور پتہ کر کے بتانے کا کہہ رہا تھا

بچوں کا اس طرح گھونسلے چھوڑ جانے کی راہیں خود دکھاتے بعد کی تنہائی ایک قدرتی عمل ہے گو یہ ایک اصول یا روایت نہیں کہہ سکتے کہ ہر خاندان کے اپنے اور بچوں کے حالات کے مطابق کہانیاں مختلف ہوتی ہیں اور ہر کوئی اپنے ذہن اور سوچ کے مطابق فیصلہ یا گزارا کرتا یا کرنا پڑتا ہے۔ اور اس کے مختلف رنگ دوست احباب میں نظر آتے رہتے ہیں۔

ڈھلتی عمر میں ایسے یا اس سے ملتے جلتے یا الٹ یا کسی اور رنگ میں ابھرے مسائل کا، کہ ہر گھر میں مختلف نوعیت اور پس منظر یا پیش منظر یا وجوہ نظر آتی ہیں کوئی قابل تشفی حل یا راستہ مجھے تو نظر نہیں آیا۔ کوئی دوست بتا سکیں تو نوازش۔

میری نظر میں تو ساری عمر اولاد کے آرام کا ہر لمحہ قربان کرنے والدین کو بڑھاپے میں بھی اس قربانی کے لئے تیار رہنا چاہیے گو ایسی مثالیں بھی ہیں کہ بچوں نے ماں باپ اور خاندان کے لئے اپنا مستقبل قربان کیا اور ایسی بھی کہ پاس رہتے بھی والدین سے حسن سلوک سے نہ رہ سکے (گو اس میں بھی بعض اوقات تالی صحیح بجانے میں کوتاہی ہوتی ہے) اور ایسی بھی کہ والدین نے وسائل ہوتے اپنے انتہائی شاندار مستقبل کی سیڑھیاں چڑھتے فرمانبردار ہونہار بچوں کو بجائے خود ان کے پاس مستقل یا وقفوں سے جا رہنے کے محض والدین کی خدمت فرض کے نعرہ لگاتے انہیں سب کچھ چھوڑ آنے پر مجبور کیا کہ ہم نے تو تم کو بڑھاپے کا سہارا بننے کے لئے پالا پوسا۔ بہر حال یہ دنیا ہے۔ یہ زندگی کے میلے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments