پاکستان کے نامور غزل اور پلے بیک سنگر ایم کلیم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


صبا مدینے اگر ہو جانا نبی سے میرا سلام کہنا
نہ اپنے دل سے مجھے بھلانا نبی سے میرا سلام کہنا

اپنی ابتدائی یادوں میں شبیؔ فاروقی صاحب کی لکھی یہ نعت اور اس سے جڑا ایک نام ایم کلیم بھی ابھرتا ہے۔ پھر میرا ریڈیو پاکستان کراچی کے ہفتہ وار بچوں کے پروگرام میں حصہ لینا اور وہاں کے نامور فنکاروں سے ملنا۔ ان میں ایک ہنستا مسکراتا چہرہ ایم کلیم صاحب کا بھی ہے۔ ایم کلیم صاحب کا پہلا مقبول عام گراموفون ریکارڈ ’ناکام رہے میرے گیت ناکام رہا میرا پیار تیری بنا کے کچھ ایسے ٹوٹے تار‘ ۔ اس کے بعد ’او گوری گھونگھٹ میں شرمائے۔

’ نے بھی ہلچل مچا دی تھی۔ پھر فلم ”چراغ جلتا رہا“ ( 1962 ) میں موسیقار نہال عبدااللہ کی موسیقی میں ان کی آواز میں جگر ؔ مراد آبادی کی غزل:‘ آئی جو ان کی یاد تو آتی چلی گئی، ہر نقش ما سوا کو مٹاتی چلی گئی ’، اور ملکہ ترنم نورجہاں کے ساتھ فضل احمد کریم فضلی کا لکھا یہ دوگانا‘ پھر ایسے خیالات آنے لگے کہ ہم خود بخود گنگنانے لگے ’پورے ملک میں ہٹ ہوا۔ اس کے بعد حالات مجھے پاکستان ٹیلی وژن کراچی مرکز کے شعبہ پروگرام میں لے گئے۔

1981 میں اپنے ایک پروگرام کی آڈیو ریکارڈنگ کے لئے شالیمار ریکارڈنگ کمپنی واقع محمدی ہاؤس، آئی آئی چندریگر روڈ گیا۔ یہاں میں نے ایم کلیم صاحب کو ریکارڈنگ اسٹوڈیو کو ساؤنڈ پروفنگ کرتے دیکھا۔ ہم نے خوشگوار ماضی کی باتیں کیں۔ وہ بہت خوش ہوئے۔ وہی پہلے والی مسکراہٹ قائم تھی۔ الوداع ہوتے ہوئے انہوں نے مجھے چائے پلوائی۔ یہ میری اور ایم کلیم صاحب کی آخری ملاقات تھی۔ پھر وہ اپنے بچوں کے پاس مملکت کینیڈا نقل مکانی کر گئے۔

سہیل محمود اور ایم کلیم:

عرصہ سے میں کھوج میں تھا کہ ماضی کے نامور فنکار ایم کلیم کے خاندان کے کسی فرد سے کوئی رابطہ ہو جائے تو ایک مناسب فیچر لکھا جا سکے۔ اتنا تو علم تھا کہ ایم کلیم صاحب مملکت کینیڈا نقل مکانی کر گئے تھے لیکن کوئی سرا ہاتھ نہ آیا۔ ایسے میں میرے جامعہ کراچی کے دوست سہیل محمود کام آئے۔ موصوف موسیقی سے نہ صرف شغف رکھتے ہیں بلکہ اپنے زمانے کے میوزک گروپ ’رین ڈراپس‘ کے سرگرم رکن تھے۔ گزشتہ سال یہ کراچی آئے تو موسیقی کی ایک نشست میں ان کو اپنی اسی پرانی فارم میں دیکھ کر بے حد خوشی ہوئی۔

سہیل محمود پیرس میں رہتے ہیں۔ ایک مرتبہ واٹس ایپ پر کہنے لگے کہ پیرس میں کسی شادی میں کینیڈا سے آئے ہوئے ایم کلیم کے بیٹے سعید کلیم سے ملاقات ہوئی۔ سہیل محمود ایم کلیم کے گھر کے قریب ہی مارٹن کوارٹرز کراچی میں رہتے تھے۔ وہاں سے پھر معاملات آگے بڑھے اور سہیل محمود نے مجھے ان کا نمبر دیا۔ پھر میری ان کے چھوٹے بھائی ندیم کلیم سے واٹس ایپ پر تفصیلاً گفتگو ہوئی جو پڑھنے والوں کے لئے پیش خدمت ہے :

ندیم کلیم کی اپنے والد کے بارے میں گفتگو:
” ندیم یہ بتائیے کہ کراچی میں کون کون نامور شخصیات آپ کے ہاں آتی تھیں؟“ ۔

” ہمارے گھر اس وقت کے مشہور سیاست دان جیسے عبد الوحید کٹپر، مولانا کوثر نیازی، پیار علی الانہ، پھر ریڈیو پاکستان کے زیڈ اے بخاری اور ریجنل ڈائریکٹر طاہر شاہ صاحب، جناب سلیم احمد، جناب قریش پور، اس وقت کے تقریباً تمام ہی بڑے شاعر حضرات جیسے نگار صہبائی اور اطہر نفیس آتے تھے۔ ہمارے گھر میں کرکٹ کی مشہور شخصیات کی آمد و رفت بھی رہتی تھی۔ فلم اور ٹیلی وژن کے اداکار جیسے شکیل، منور سعید، ٹیلی وژن پروڈیوسر آفتاب عظیم اور پولیس اور افواج پاکستان کے افسران۔

مجھے یاد نہیں کہ ہمارے بچپن میں کوئی ایک شام بھی ایسی گزری کہ جب والد صاحب گھر میں اکیلے ہوں! ان کے پاس کوئی نہ کوئی ضرور آتا تھا۔ ہم لوگ جہانگیر روڈ کے قریب مارٹن کوارٹر کراچی میں رہتے تھے۔ والد صاحب نے گھر کے سامنے لان بنوایا تھا۔ روزانہ شام کو کرسیاں لگتی تھیں۔ صفائی ہوتی اور پھر بیٹھک ہوتی تھی ”۔

” آپ کے والد کے ساتھ کون کون میوزیشن ہوا کرتے تھے؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔

” عیدو اجمیری ان کے مستقل طبلے والے تھے اور کبھی بہادر علی اور شجاع حسین بھی ہوتے تھے۔ عید و اجمیری پی آئی اے آرٹس اکیڈمی میں بھی تھے۔ ستار پر فدا حسین تھے“ ۔

” والد کے نگار ویکلی کے بانی الیاس رشیدی صاحب سے بڑے اچھے مراسم تھے۔ ہمارے گھر میں ساری زندگی روزنامہ مشرق اور نگار آتا رہا“ ۔

” مجھے یاد ہے جب میں میٹرک میں تھا تو اکثر ان کے ساتھ ریڈیو اسٹیشن جاتا تھا۔ کبھی کہتے تھے کہ خود ہی آ جانا۔ میں بس کے ذریعے اسکول سے واپسی پر ریڈیو چلا جاتا تھا۔ میں نے وہاں بڑی بڑی شخصیات کو دیکھا اور مہدی ظہیر صاحب، منی بیگم، اقبال بانو وغیرہ کی ریکارڈنگ بھی دیکھیں۔ پھر نیوز کاسٹر شکیل احمد صاحب، ایس ایم سلیم، سید ناصر جہاں کی بھی ریکارڈنگ دیکھیں۔ ناصر جہاں تو ہمارے پڑوسی بھی تھے۔ ہم نے محرم میں ان کی بہت ریکارڈنگ دیکھیں۔ میں اپنے والد کے ساتھ پروگرام آرگنائزر منظور جمال اور شفقت دارا کے پروگراموں میں بھی کافی گیا ہوں“ ۔

ایک سوال کے جواب میں ندیم صاحب نے کہا: ”گیت ’او گوری گھونگھٹ میں شرمائے۔ ‘ اور ’ناکام رہے میرے گیت۔ ‘ شمیم جعفری صاحب نے لکھے جو دونوں ہی بہت مقبول ہوئے۔ ان کی دھنیں اظہار جانی صاحب نے ترتیب دیں“ ۔

” موسیقی کے سلسلے میں آپ تمام بھائیوں میں کون کون والد صاحب کے نقش قدم پر ہے؟“ ۔

” مجھ سے بڑے بھائی نسیم کلیم مانٹریال میں ہوتے ہیں، انہوں نے والد صاحب کی زندگی ہی میں ان سے گانا اور ہارمونیم بجانا سیکھ لیا تھا اور ہارمونیم کے ساتھ گاتے ہیں۔ لیکن اس کو محض اپنے شوق کی حد تک محدود رکھا ہوا ہے۔ پھر سعید بھائی بھی یہ کام کرتے ہیں لیکن انہوں نے کوئی زیادہ مشق نہیں کی۔ رہا میں! میں تو کسی گنتی ہی میں نہیں ہوں۔ مجھے دوست احباب اکثر زور دیتے ہیں کہ گانا گاؤں۔ مجھے سر تال کی تمیز تو ہے لیکن محفلوں میں گانا میرے بس میں نہیں۔

سعید بھائی میں خود اعتمادی ہے وہ محفل میں بخوبی گا لیتے ہیں۔ ویسے اب تو لوگوں میں وہ پہلے والا ذوق بھی نہیں رہا جو ایک زمانے میں ایسی محفلوں میں دیکھنے کو ملتا تھا۔ لوگ غزل کے گلو کار اور اس غزل کے اشعار دونوں کا مزہ لیتے تھے۔ اب تو ایک آدھ ہی غزل کے بعد خواتین کی جانب سے آواز آتی ہے کہ بس بہت رونا دھونا ہو گیا اب کوئی ہلے گلے والا گانا ہو جائے۔ ”۔

” کراچی میں جب آپ سب بھائی ہائی اسکول میں آئے تو مستقبل سے متعلق والد صاحب کی کیا خواہشات تھیں؟ کیا وہ آپ لوگوں کو سرکاری ملازمتوں پر دیکھنا چاہتے تھے؟“ ۔

” والد صاحب کوئی اتنے زیادہ ملازمت /جاب کے حق میں نہیں تھے۔ وہ کہتے تھے کہ تم لوگ اپنا کچھ کرو حالاں کہ ہمارے خاندان میں بزنس کا اتنا رجحان نہیں تھا۔ تایا، چچا ماموں کوئی بھی اس طرف نہیں گیا تھا۔ والد صاحب بھی ساری زندگی ملازمت میں الجھے رہے۔ اس لئے وہ چاہتے تھے کہ ہم بھائی کسی اور چیز میں ہاتھ ڈالیں۔ اتفاق ایسا ہوا کہ 1963 / 1964 میں میرے سب سے بڑے بھائی نذر کینیڈا آ کر مانٹریال میں رہائش پذیر ہو گئے۔

انہوں نے یہاں اکاؤنٹنگ کی تعلیم حاصل کی اور امتیازی نمبروں سے کامیاب ہو کر طلائی تمغہ حاصل کیا۔ اور اس طرح پیشہ ورانہ زندگی میں بھی اعلیٰ مقام پایا۔ وہ وہاں ماشاء اللہ آسودہ ہیں۔ پھر انہوں نے دس سال کے بعد 1970 میں اپنے چھوٹے بھائی سعید کو وہاں بلوایا۔ 1978 میں میرے والدین کینیڈا گھومنے گئے۔ پھر 1983 میں ہم چار بھائی اور والدین تارکین وطن کی حیثیت سے مانٹریال منتقل ہو گئے ”۔

” جس طرح شان الحق حقی اور حمایت علی شاعرؔ صاحبان نے کینیڈا منتقل ہو کر آخری دم تک اپنی اور اپنے وطن کی پہچان رکھی کیا آپ کے والد نے بھی ایسا کیا؟“ ۔

” جی ہاں! میرے والد صاحب نے بھی ایسا ہی کیا۔ ایک مرتبہ محمد قوی خان۔ اطہر شاہ خان المعروف جیدی بھائی، اسماعیل تارا، زیبا شہناز، فرید خان وغیرہ کا پورا گروپ یہاں لائے تھے۔ میرے والد صاحب کو بھی مدعو کیا گیا۔ اس موقع پر انہوں نے ہال میں پروگرام دیکھنے والوں کے سامنے والد صاحب کو بہت اچھے طریقے سے متعارف کرایا اور ان کو اسٹیج کے بالکل سامنے جگہ دی۔ اسی طرح جب یہاں مہدی حسن کا بہت بڑا شو ہوا تو اس پروگرام کے پروموٹر نے خصوصی طور پر والد صاحب کو بلوا کر اگلی نشست پر بٹھایا۔

مہدی صاحب نے بھی کہا کہ میرے ساتھ کے ایک سینئیر آرٹسٹ یہاں سننے اور دیکھنے والوں میں بیٹھے ہیں تو سب لوگوں نے ان کے لئے تالیاں بجائیں۔ گلوکار شوکت علی نے تو پبلک کو والد صاحب کے اعزاز میں نشستوں سے کھڑا کرا دیا تھا۔ اس وقت کے پروموٹر کے لئے والد صاحب نے کچھ پروگرام بھی کیے۔ والد صاحب میں تھوڑی ’انا‘ بھی تھی۔ کبھی کسی پروموٹر کو دوسرے شہروں میں منعقد ہونے والے پروگراموں میں حصہ لینے کا خود نہیں کہتے تھے ”۔

سہگل میموریل ٹرسٹ:

” سہگل میموریل ٹرسٹ واقع بھارت کے کسی ذمہ دار کو علم ہوا کہ والد صاحب کی ان سے خاصی ملتی جلتی آواز ہے۔ اس پر وہاں سے والد کو بلوانے کا عندیہ دیا گیا۔ لیکن چوں کہ والد ریڈیو پاکستان کے سرکاری ملازم تھے لہٰذا انہیں بھارت جانے کی اجازت نہیں مل سکی۔ میں خود بھی ان کی اجازت کے سلسلے میں اسلام آباد گیا تھا لیکن تمام بھاگ دوڑ رائیگاں گئی“ ۔

گلوکاری کے ساتھ ایک اور مہارت:
” آپ کے والد صاحب ریڈیو پاکستان میں کس شعبے سے متعلق تھے؟“ ۔

” وہ شعبہ ’مینٹینینس‘ میں تھے۔ وہ اسٹوڈیو کو ساؤنڈ پروف کرنے کے ماہر تھے جبکہ اس میدان میں انہوں نے کہیں سے بھی کوئی ڈگری حاصل نہیں کی تھی۔ ریڈیو پاکستان کراچی کے اس وقت کے تمام تر اسٹوڈیو ان ہی کے ساؤنڈ پروف کیے ہوئے ہیں“ ۔

” کیا کینیڈا نقل مکانی کر جانے سے وہ مطمئن تھے؟“ ۔

” وہ کراچی کی محفلوں اور دوستوں کو یاد کرتے رہتے تھے۔ پاکستان میں تو ہمیں کہیں بھی کبھی بھی کوئی مشکل نہیں ہوئی۔ وہ خود یا ہمارے ساتھ کہیں چلے جاتے تو ان کو لوگ پہچان لیتے تھے۔ اسکولوں کالجوں میں داخلے کے لئے ہمیں کبھی کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔ پرنسپل باہر آ کر ان کو اپنے کمرے میں لے جاتے تھے۔ ہمیں تو کسی بھی کام کے لئے لائنوں میں نہیں لگنا پڑا۔ اکثر جگہوں پر فن اور آرٹ کے قدردان ہی ملے۔ پھر والد سے ملنے والوں کا ایک وسیع حلقہ تھا۔

والد صاحب کا اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد بھی کراچی میں بہترین وقت گزرتا تھا۔ یہاں کینیڈا میں انہیں یک دم تنہائی کا سامنا کرنا پڑا۔ ہم سب بھائی زندگی کی دوڑ میں بہت مصروف ہو گئے۔ بعض اوقات تو ہماری والد صاحب سے دوسرے دن کہیں جا کر ملاقات ہوتی تھی کیوں کہ دن کو کام اور رات کو پڑھائی۔ بعد کے دنوں میں تو والد صاحب بر ملا کہنے لگے تھے کہ ’میں کہاں آ گیا۔ ‘ ۔ وہ ہم بھائیوں کو کہتے تھے کہ ’تم ایک گھنے سایہ دار درخت کو اس کے مقام سے اکھاڑ کر دوسری

جگہ لگانے کی کوشش کر رہے ہو۔ ’۔
” آپ کی والدہ ان کے ساتھ ہی تھیں؟“ ۔

” جی ہاں! میری والدہ اب بھی ماشاء اللہ حیات ہیں۔ آج کل ہمشیرہ کے پاس ٹورنٹو گئی ہوئی ہیں، اگلے ہفتے آ جائیں گی۔ وہ الحمدللہ میرے ساتھ رہتی ہیں“ ۔

” ایم کلیم صاحب کی ریڈیو پاکستان کراچی میں ملازمت اور موسیقی کی محفلوں کی مصروفیت پھر طبیعت کی سختی۔ تو والدہ آپ بچوں کے ساتھ بہت شفیق رہی ہوں گی؟“ ۔

” والدہ کی شفقت کا تو کوئی نعم البدل ہی نہیں۔ ہم بہت لاڈ پیار سے پلے بڑھے“ ۔
” آخری زمانے میں والد صاحب کی صحت کے متعلق کچھ بتائیے“ ۔

” ان کا خیال تھا کہ شاید انہوں نے پاکستان میں کچھ غلط دوائیں لے لیں جس کی وجہ سے ان کو ذیابیطس کی شکایت لاحق ہو گئی جو وقت کے ساتھ بڑھتی گئی۔ پھر آگے چل کر اس کا اثر دل اور گردوں پر بھی ہوا۔ پھر ان کی بینائی بھی متاثر ہونے لگی۔ ٹھیک ہے یہ تمام تکالیف اور شکایتیں اپنی جگہ لیکن جب بینائی ہی نہ ہونے کے برابر رہ جائے تو یہ تکلیف سب پر بھاری محسوس ہوتی ہے۔ بہت افسوس ہے کہ میرے والد صاحب کے ساتھ یہ ہی ہوا اور وہ ذہنی دباؤ اور افسردگی کا شکار ہوتے چلے گئے۔

انہوں نے اپنی آنکھوں کی سرجری بھی کروائی لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکی بلکہ الٹا جو تھوڑ ابہت نور رہ گیا تھا وہ بھی جاتا رہا۔ اس وجہ سے وہ بہت پژمردہ رہنے لگے۔ ان کی سرگرمیاں بہت محدود ہو گئی تھیں۔ کچھ کہتے تو نہیں تھے بس بیٹھے سوچتے رہتے تھے۔ ہم پوچھتے کہ ابا! کیا سوچ رہے ہیں؟ تو کہتے ’میں دلی کی گلیوں میں گھوم رہا ہوں‘ ۔ یعنی اپنا بچپن! ”۔

” دلی سے یاد آیا کہ پھر تو ایم کلیم صاحب کی ریڈیو پاکستان کراچی والے استاد امراؤ بندو خان صاحب سے بڑی دوستی ہو گی کیوں کہ وہ دہلی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے؟“ ۔

” والد صاحب روزانہ ہی ریڈیو پاکستان جاتے تھے۔ ان پائے کے فنکاروں سے سارا دن ان کا میل جول رہتا تھا“ ۔

قصہ معین اختر کا:

” معین اختر کا ایک دلچسپ قصہ یاد آیا: ابا گرمیوں کے دونوں میں نیچے فرش پر بغیر کچھ بچھائے تکیہ لگائے سوتے تھے۔ ابا کو ساری زندگی کبھی کمر کی تکلیف نہیں ہوئی۔ کیوں کہ وہ ہمیشہ زمین پر سوئے۔ یہ 1975 اور 1980 کے درمیان کا دور ہو گا جب معین اختر تقریباً روزانہ دن کے دو ڈھائی بجے ہمارے گھر آتا۔ وہ واحد شخص تھا جو بغیر دستک، گھنٹی یا آواز دیے آتا اور سیدھا ان کے کمرے میں جا داخل ہوتا۔ جب کہ اور کسی کو ان کے آرام میں مخل ہونے کی قطعاً اجازت نہیں تھی۔ معین اختر ابا کے سرہانے زمین پر بیٹھ جاتا اور یہ دونوں گھنٹوں باتیں کرتے۔ والد صاحب کو اس پر غصہ نہیں آتا تھا کہ بغیر بتائے آ گیا۔ ابا اسے ہم سے زیادہ ’بچے‘ کی طرح سلوک کرتے تھے۔ وہ بھی بہت عزت دیتا تھا“ ۔

” آپ کے والد صاحب گھر میں کیسے تھے؟“ ۔

” ( قہقہۂ لگاتے ہوئے ) ہم ماشاء اللہ چھ بھائی اور دو بہنیں تھیں۔ ہم بچے گھر میں نظم و ضبط اتنا نہیں رکھتے تھے لہٰذا وہ ہم پر بہت غصہ ہوتے تھے۔ وقت کے ساتھ ساتھ جب بہنیں اور بھائی بڑے ہوئے تو غصہ بتدریج کم ہوتا گیا۔ لیکن الحمدللہ والد صاحب کی اس سختی کی وجہ سے ہم سب بھائیوں میں کوئی بھی خراب نہیں نکلا بلکہ آج مجھ سمیت میرے سارے بھائی اپنے میدانوں میں قابل ہیں۔ میں سمجھتا ہوں کہ انہوں نے ہماری پڑھائی یا کیرئیر کے معاملہ میں وہ سختی ہمارے مفاد میں کی۔

میرے سب سے بڑے بھائی نذر احمد، اکاؤنٹنگ کے شعبے میں سینئیر وائس پریزیڈنٹ کے درجے تک گئے ہیں۔ ان کے بعد سعید بھائی فائن آرٹس اور گرافکس کے شعبے سے منسلک ہیں۔ تیسرے نمبر پر نسیم کلیم بھائی ہیں وہ ہوائی جہاز بنانے والی کمپنی Bombardier Aviation میں پارٹس بناتے ہیں۔ یہ تیس پینتیس سال سے اسی کمپنی میں ہیں۔ پھر میرا نمبر آتا ہے ندیم کلیم۔ میں نے پاکستان سے مکینیکل میں ڈپلومہ کیا تھا۔ میں ’کاسٹنگ‘ کے شعبہ سے متعلق ہوں۔

پھر مجھ سے چھوٹے ایک بھائی سلیم کلیم تھے جن کا انتقال ہو گیا تھا۔ ان کے دو بچے ہیں جو ماشاء اللہ اب جوان ہیں۔ اس کے بعد سب سے چھوٹے بھائی اظہر کلیم نیو جرسی، ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں ہیں۔ یہ فارماسوٹیکل کمپنی میں سینئیر وائس پریزیڈنٹ ہیں۔ اس نے کیمسٹری میں گریجوایشن کی تھی۔ یہ فارماسوٹیکل کی تحقیق سے وابستہ رہے ”۔

ایک سوال پر ندیم کلیم نے بتایا : ”کراچی میں والد صاحب ریڈیو پاکستان کی ملازمت، شام کی محفلوں اور ریہرسلوں میں مصروف رہتے تھے۔ ہماری تعلیم اپنی جگہ لیکن ہم سب کی تربیت والدہ صاحبہ نے کی۔ گو کہ والد صاحب غصہ کر جاتے تھے لیکن کبھی والدین کے بیچ چیخ و پکار نہیں ہوتی تھی“ ۔

وقت گزرتا رہا اور 1994 کا سال شروع ہوا۔ نومبر کی 17 تاریخ تھی کہ پاکستان کے یہ نامور فنکار، ایم کلیم اپنے خالق حقیقی سے جا ملے۔ اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments