یوسف پرواز کا شعری مجموعہ ”نقد دل“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Dr Shahid M shahid

شاعری حساس اور دل موہ لینے والا عرش بریں کا وہ عظیم تحفہ ہے، جس کا دروازہ ان لوگوں پر کھلتا ہے جو اپنے افکار و نظریات اور قلبی احساس کو ادب کی پھلواری میں اس طرح سے جاتے سجاتے جیسے ایک باغبان اپنے گلشن کو خوبصورت بنا تا ہے اسی طرح جو شاعری یا فن پارہ اپنے ماحول اور معاشرے کی آب و ہوا خوشگوار نہ بنائے وہ اپنے فکری اور فنی محاسن کی لاج بھی نہیں رکھ سکتی۔ بلاشبہ شاعری اصناف ادب کا وہ تازہ شگوفہ ہے، جسے شاعر اپنے تخیل کی بدولت قلب و ذہن کو آسودہ کرتا ہے تاکہ قاری اس سحر میں جکڑ کر اپنائیت کے داخلی اور خارجی مشاہدات کو زندگی کا حصہ بنائے۔ بلاشبہ شاعری جذبات و خیالات کا وہ شگفتہ اور خوبصورت سنگم ہے جو قلم کو صحت مند زبان بخشتا ہے اور جذبات کو پگھلا کر رکھ دیتا ہے۔

ضروری نہیں شاعری جسمانی خد و خال کی نمائش کا احاطہ کرے اور جس میں بناؤ سنگار، چال ڈھال، حسن و ادا کی شوخیاں اور نسوانیت کا اظہار ہو بلکہ شاعری روح و قلب کا وہ روحانی احساس ہے جو ہوا کا تازہ جھونکا بن کر خوشبو کو فضا میں بکھیر دیتا ہے۔ اگرچہ شاعری قوس قزح کے رنگوں جیسی ہوتی ہے، جس کی روشنی اور رنگ زندگی کی تصویر دکھاتے ہیں اگرچہ قوس قزح بارش کے بعد آنکھوں کو بھلی اور دل کو شگفتہ بناتی ہے۔

ماحولیاتی فضا کا ایک خوبصورت پہلو یہ بھی ہے یہ خاموشی کے عالم میں پیدا ہو کر تخلیق کے رنگ
بکھیرتی اور اپنی تر و تازگی کا احساس دلاتی ہے۔
ہر شاعر کا اپنا اسلوب، پر چار، تراکیب، تشبیہات اور استعاروں کو استعمال کرنے کا طریقہ ہوتا ہے جس میں

اس کی آزاد مرضی اور فطرت کی رعنائیاں شامل ہوتی ہیں جس سے شاعری کا حسن نمایاں اور تخیل کی بلند پروازی اسے دوسروں سے ممتاز بناتی ہے۔

اسی طرح کی خوبیوں اور خصوصیت کا حامل شاعر جو علم و ادب سے وابستہ، روح پرور اور پروقار شخصیت کا مالک ہے جو اپنے نام اور فن کی لاج سے بخوبی واقف ہے۔ وہ نام فرزند فیصل آباد جناب یوسف پرواز صاحب کا ہے، جن کی فن و شخصیت علم و ادب کے خزانے سے پر ہے۔

یوسف پرواز اکیسویں صدی کا وہ سپوت ہے جو چھوٹی بحروں میں غزلیات کو آفاقی صداقتوں میں بیان کرنے کا ہنر رکھتا ہے، ان کی غزلیات سے قاری متاثر ہوئے بغیر اپنا دامن چھڑا نہیں سکتا۔ کیونکہ ان کی شاعری میں احساسات و جذبات کا بہت زیادہ رچاؤ ہے۔ کبھی کبھی زندگی میں ایسا ہوتا ہے، جہاں انسان کو فکر و حکمت کی گتھیاں سلجھا نہ سکیں، چاند کی چاندنی جذبات پیدا نہ کر سکے اور سورج کی تپش احساسات اور جذبات کو توانائی مہیا نہ سکے وہاں پھر فلسفہ زندگی کی ترجمان شاعری بن جاتی ہے۔ جس کے الگ الگ موضوعات نئی نئی کونپلوں کے ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔ شاعری کے کئی رنگ و روپ ہوتے ہیں جو مجموعی صورتحال کی زبان بن کر دل سے جنم لیتے ہیں۔

اسی طرح کچھ موضوعات ذاتی تجربات کی کوکھ سے جنم لے کر جذبات کی وہ آواز بن جاتے ہیں جس سے کلام میں ندرت اور شائستگی پیدا ہوجاتی ہے اور خیال جب تک دل و دماغ پر اپنا اثر نہ چھوڑے وہ سمندر کی گہرائی معلوم نہیں کر سکتا۔

فاضل دوست اپنی شاعری میں کائنات کی صداقتوں کا پرچار کچھ یوں کرتے ہیں۔
تاروں کا فاصلہ تو زیادہ نہیں ہے دور
کہتے ہیں کہ نگاہ کی حد آسمان ہے

بے شک یوسف پرواز نے شعر و سخن کے ذریعے محبت کے وہ نغمے گنگنائے ہیں جس کی سر اور آواز سریلی ہے۔ ان کی شاعری کانوں میں اس طرح رس گھولتی ہے جیسے خزاں میں بہار کی آمد شروع ہوجاتی ہے۔ اگر شاعری کی روح میں محبت کے جلوے نہ ہوں تو دل اداس اور پریشانی کے عالم میں مبتلا رہتا ہے جو قارئین کے لئے بوریت اور بے چینی کا باعث بنتا ہے۔

یہاں ان کی شاعری کا یہ انداز بیان پڑھیں
وہ محبت کی شاعری کس زاویے پر دکھاتے ہیں۔
محبت کا ثمر پایا ہے اتنا
مسرت سے صداقت بانٹتا ہوں

بلاشبہ محبت ستائش اور عبادت کے درجہ میں زیر زبر کا کام دیتی ہے جو ان کی سادگی و سلاست کا کماحقہ انداز قاری کے دل میں جاگزیں ہو جاتا ہے۔

کائنات کی خاموش زبان ہے جسے سمجھنے کے لئے ایک شاعر اس سے گفتگو کر کے زندگی کے رنگوں کو شاعری میں منعکس کرتا ہے۔ جس سے زندگی کے عناصر امیدوں کے محل میں پوری تہذیب کو اجاگر کر دیتے ہیں۔

ان کا شب و روز کی بابت یہ خوبصورت شعر پڑھیں۔
دن کو آئے یا رات کو آئے
دیپ دل کا جلا کے رکھا ہے

اگرچہ اثر پذیری نصیحت کی وہ چابی ہے جو دل کے بند دروازے اور ذہن کی بند کھڑکیاں کھول دیتی ہے۔ اس سے سماجی اور معاشرتی ہم آہنگی فروغ پاتی ہے۔

وہ ہوا کے دوش پر موسم کی لہروں کو دل پر کس طرح گراتے ہیں اس شعر کی موسم پر گرتی بجلی دیکھئے۔
بہت گھمبیر موسم ہو رہا ہے
ہوا کی منزلیں تبدیل کردے

فاضل دوست یوسف پرواز نے اپنے اس شعری مجموعہ میں سیرت اور صورت کے درمیان ایک تصویر تراشی ہے جو نقد دل کا عظیم تحفہ ہے جس کی خوشبو اور مہک کتاب کے اوراق سے آ رہی ہے۔ میں انہیں کتاب کی اشاعت پر دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں یہ کتاب علمی و ادبی حلقوں میں شرف قبولیت حاصل کرے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments