وحید مراد کو بچھڑے 38 سال ہوۓ ہیں یا 38 دن؟


1983 کا سال تھا اور نومبر کا مہینہ, جب فلم بینوں کے دل کی دھڑکن جیسے رکنے لگی ہو، اُنھیں یہ افسوسناک خبر ملی کہ اُن کے دل کی دھڑکن، اُن کا من پسند چاکلیٹ ہیرو، اب پردہ سکرین پر، کبھی بھی، کسی نئی تخلیق، کسی نۓ کردار یا کسی نۓ انداز کے ساتھ اُن کے دلوں میں ہلچل برپا کرنے، جلوہ گر نہیں ہو سکے گا۔

آج اس بات کو تقریباً” 38 سال ہونے کو آۓ ہیں ( یعنی آدھی صدی میں کچھ برس کم )، مگر روایتی اور ( خاص طور پر ) سوشل میڈیا دیکھ کر بھلا کون یہ یقین کر سکتا ہے کہ عوام کا ہیرو، عوام سے دور ہوا ہے۔ عام فلم بین اور ناظرین تو ایک طرف، فلمی ناقدین اور مورخین خود محو حیرت ہیں کہ یہ وابستگی اور تعلق کی کون سی سطح ہے، جس نے ایسی بے مثل پزیرائی ممکن بنا دی۔ بات سالگرہ اور برسی تک رہتی تو پھر بھی سمجھ میں آتی، مگر یہاں تو معاملہ روز مرہ کا معمول دکھائی دیتا ہے، بلکہ اس سے بھی زیادہ دلچسپ صورت حال یوں ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ، محبت کے اس باب میں، شائد اضافہ ہی لکھا ہے، کمی نہیں۔

یہ عجب کمال ہے کہ جسے زندگی میں ( اداکاری کی دنیا میں ) نۓ اسلوب متعارف کرانے کا اعزاز دیا جاتا تھا، اُس نے بعد از حیات بھی ( فنکاری کی دنیا میں ) محبت اور عقیدت کے ایک نۓ اسلوب سے روشناس کرا دیا ہے۔ ہماری فلمی تاریخ، بلاشبہ ایسی مثال پیش کرنے سے قاصر ہے جب کسی ہیرو کو، اس کے بچھڑنے کے بعد اتنے تسلسل اور اتنی چاہت سے نوازا گیا ہو۔ خراج تحسین اور خراج عقیدت کی جو جو صورت اس معاشرے اور فنون لطیفہ میں مروج اور ممکن تھی، شائد ہی کوئی ہو، جسے اظہار کے لۓ برتا نہ گیا ہو۔

فلم انڈسڑی کے لۓ، پرستار اور ہیرو کے تعلق کی اس نئی ریت سے بجا طور پر اب یہ مثبت رجحان دیکھنے میں آرہا ہے کہ سوشل میڈیا پر، اور دوسرے فنکاروں سے لگاؤ کے اظہار میں بھی برابر اضافہ ہوا ہے۔ تصاویر اور تحاریر کے ساتھ ساتھ، باقی فنکاروں کی متحرک تصویری جھلکیاں بھی اب مقابلتا” پہلے سے زیادہ دیکھنے میں آرہی ہیں۔

یہاں اس بات کا تذکرہ نہ کرنا حقیقت پسندی سے گریز اور واقعات سے چشم پوشی ( اور زیادتی ) ہوگی کہ جس فنکار کے بارے میں یہ تاثر قائم کر دیا گیا تھا کہ وہ عوام کے دلوں سے نکل چکا ہے اور یہ مغالطہ اس قدر زبان زد عام تھا کہ بہت سے دانشوروں کی آرا پر بھی یہ اثر انداز ہو چکا تھا۔ اور تو اور، اگر کچھ ذمہ دار افراد کے بیانات کو مستند مان لیا جاۓ ( اور بجا طور پر ماننا چاہۓ ) تو حیرت انگیز امر یہ ہے کہ فنکار خود اس بارے میں شکوک کا شکار ہو چکا تھا۔

آج پرستاروں کی والہانہ ( اور دیرینہ ) محبت اس تردید کے لۓ کافی ہے کہ فلم بینوں نے تب، تواتر سے ریلیز ہونے والی کمزور فلموں، بے جان کہانیوں اور ہلکے کرداوں کو مسترد کیا تھا، وگرنہ آج روائیتی اور سوشل میڈیا، اس تذکرے سے یکسر خالی ہوتا، مگر صورت حال اس کے بالکل برعکس ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے باآسانی کیا جاسکتا ہے کہ میڈیا میں، آج سب سے زیادہ تذکرہ اور چرچا ہی اُس کا ہے، جس پر، پرستاروں سے محروم ہونے کی تہمت تھوپ دی گئی تھی۔

عقیدت، لگاؤ اور محبت کا یہ پھیلاؤ اس قدر ہمہ گیر نوعیت کا ہے کہ تعجب ہوتا ہے کہ کس کو، کس پہلو کے لۓ داد کا حقدار قرار دیا جاۓ۔ کتنی ہی انفرادی شخصیات اور کتنے ہی سوشل میڈیا کے گروپس اس تعلق کے نتیجے میں مسلسل سرگرم عمل ہیں اور اہنے ہیرو سے قربت کے اظہار کی، ایسی ایسی تگ و دو ہورہی ہے، جیسے اُن کا من پسند ہیرو آج بھی اُن کے درمیان موجود ہو۔ وزیولز اور انفارمیشن کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ اس طرح رواں ہے کہ کہیں کوئی بات، توجہ سے ہٹ کر، نمایاں ہونے سے رہ نہ جاۓ۔ جستجو کا وہ عالم ہے کہ ہر کوئی ایک دوسرے سے بڑھ کر کچھ کر دکھانے کا آرزومند ہے۔

یہ کہنا شاید مبالغہ نہ ہو کہ نۓ فنکار وں کو بھی شائد پرستاروں کی وہ چاہت میسیر نہیں جو 38 برس سے بچھڑے ہیرو کے حصے میں گزشتہ سال ہا سال سے مسلسل دیکھنے میں آرہی ہے۔ تجسس ( اور وابستگی ) کا یہ عالم ہے کہ سوشل میڈیا پر، پرانے جرائد، رسائل اور اخبارات کے تراشے اور حوالے یوں گردش میں ہیں جیسے یہ کل کی اشاعت میں شامل رہے ہوں جبکہ یہ حقیقت سب پر عیاں ہے کہ یہ سب کے سب ( تحریری مواد ) کئی کئی دہائیوں پرانی آرکائیو کا ثمر ہیں۔ پھر، یہ قیاس کرنا بھی مشکل نہیں کہ یہ تحاریر، تب، جب یہ اشاعت پزیر ہوئی ہوں گی انھیں شائد اتنی توجہ حاصل نہ ہوئی ہو گی، جتنا اس طویل وقفے کے بعد آج اُنھیں شوق سے دیکھا، چاؤ سے پڑھا اور لگاؤ سے، ایک دوسرے کو مختلف میڈیم، افراد، اور گروپس کے ذریعے تقسیم کیا جاتا ہے۔

یہی صورت حال وڈیو کلپس کی ہے جنہیں سوشل میڈیا پر اس تواتر سے اپ لوڈ کیا جاتا ہے، جیسے کسی نئی فلم کے تیار شدہ پرومو اور سانگز کی طے شدہ منصوبے سے پبلسٹی کی جاتی ہے۔ اس انتخاب میں بھی خاص بات یہ ہے کہ ہر کوئی اپنی تخلیقی اور حس جمالیات کے مطابق ترمیم واضافے سے خوبصورتی اور محبت کا رنگ بھرنے پر ہمہ وقت آمادہ نظر آتا ہے۔

38 سال کی اس سرگزشت میں، بات صرف پرستاروں اور فلم بینوں تک ہی محدود نہیں، عصر حاضر کے سماجی رابطوں کی نئی جہتوں میں بھی پاکستان فلم انڈسٹری کی شناخت کے طور پر اُنھیں تسلیم کیا گیا ہے ۔ اس کا اظہار 2019 میں اُن کی 81ویں سالگرہ پر گوگل کے طرف سے اُن کے خصوصی ڈوڈل doodle کے انتخاب سے ظاہر ہوا۔ یہ وہ اعزاز ہے جو اُس وقت، اُن کے علاوہ پاکستان کی جن شخصیات کو دیا گیا اُن میں عبدالستار ایدھی، ملکہ ترنم نور جہاں اور نصرت فتح علی خان شامل تھے۔ عرب نیوز کے مطابق، گوگل سرچ انجن نے اس کے ساتھ ساتھ اپنے سیکشن، گوگل آرٹس اینڈ کلچر میں سٹیزن آرکائو پاکستان کے نام سے اُن کے لۓ ایک صفحہ مخصوص کیا، جس کا مقصد اُن کی زندگی اور کامیابیوں کے حوالے سے معلومات فراہم کرنا تھا۔

اب اسے شخصیت کی جاذبیت اور دور رس کشش کہا جاۓ، یا پرفارمینس کے ان مٹ اثرات کہ بچھڑنے کی اس طویل مدت میں، ایک وہ نسل بھی اُن کے مداحوں میں آ شامل ہوئی ہے جس نے اُنھیں بڑی اسکرین پر غالبا” اس طور نہیں دیکھا جیسے اُن کے سینیرز کو موقع ملا مگر چھوٹی سکرین نے بھی اُن کے ذہنوں اور دلوں پر کوئی کم اثر نہیں چھوڑا کہ اب وہ بھی، اُن کے گنُ گانے ( اور اُنھیں سراہنے ) میں، اپنے سینیرز سے کسی طرح پیچھے نہیں۔ اس صف میں، فلم اور فنون لطیفہ سے دلچسپی رکھنے والے افراد ہی نہیں، جونیر فنکار اور تخلیق کار بھی اسُی جوش و خروش سے شامل ہیں۔

ہماری فلمی تاریخ، بجا طور پر اس غیر معمولی روایت پر جتنا فخر کرے کم ہے کہ ایک ہیرو نے اپنی شخصی خصوصیات اور فنی انفرادیت سے ہیرو کے مفہوم کو جو وسعت دی ہے، وہ ہمارے ہاں، ہمیشہ، مثال کی صورت، یاد رکھی جاۓ گی۔

Facebook Comments HS

2 thoughts on “وحید مراد کو بچھڑے 38 سال ہوۓ ہیں یا 38 دن؟

  • 21/11/2021 at 10:14 شام
    Permalink

    ماشاء اللہ ہر بار کی طرح اس دفعہ بھی الفاظ و افکار کا ایک حسین امتزاج ۔۔اللہ فکر و نظر کی بلندیاں قائم رکھے

  • 23/11/2021 at 4:25 شام
    Permalink

    بہت خوب مضمون اور مرحوم کی مقبولیت کا درست احاطہ کرتا ہوا۔۔۔ خرم علی شفیق صاحب نے تو اپنی تحقیق میں وحید مراد کی تحریر/ ڈائرکٹ کی ہوئی فلموں کی بنیاد پر ان کو ایک جمہوری ادیب ثابت کیا ہے ۔۔۔ ایک ایسا ادیب جس کی تخلیقات معاشرے کے تمام طبقات میں یکساں مقبول ہوں۔ آپ کا مضمون انفرادی طور پر اسی نظریے کی تصدیق کرتا نظر آتا ہے. بہت خوب۔

Comments are closed.