کیا آپ البرٹ کیمو کے ناول ”اجنبی“ سے آشنا ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب درویش کو یہ احساس ہوا کہ بیسیوں ناول اور افسانوں کے مجموعے پڑھنے کے بعد بھی وہ ادب عالیہ کے رموز و اسرار سے پوری طرح واقف نہیں تو اس نے فیصلہ کیا کہ وہ نئے ناولوں کے مطالعے کے ساتھ ساتھ ماضی میں پڑھے ہوئے ناولوں کو دوبارہ پڑھے لیکن اس دفعہ زیادہ سنجیدگی سے پڑھے تا کہ ادب عالیہ کے راز اور عظیم ادیبوں کے اسرار جان سکے۔ چنانچہ درویش نے ایک اتوار کی شام ’ایک دختر خوش گل محبوبہ کے ساتھ گزارنے کی بجائے‘ اپنی کٹیا میں خاموشی اور تنہائی کے ساتھ گزاری تا کہ دانائی کی کچھ باتیں سیکھ سکے۔ اس نے سبز چائے بنائی اور اپنی زنبیل میں سے ایک ناول نکالا جو البرٹ کیمو کا ادب کا نوبل انعام یافتہ مشہور ناول
THE STRANGER
تھا۔

ناول پڑھنے سے پہلے درویش کو خیال آیا کہ وہ البرٹ کیمو کی مادری زبان فرانسیسی سے ناواقف ہے اسے لیے وہ اس ناول کا ترجمہ پڑھنے لگا ہے جسے STUART GILBERT نے فرانسیسی سے انگریزی کے قالب میں ڈھالا ہے۔ درویش کو یاد آیا کہ وہ ایام جوانی میں اسی ناول کا ایک اور ترجمہ THE OUTSIDER کے نام سے بھی پڑھ چکا ہے۔ درویش نے جب اپنی فرانسیسی دوست سے اس ناول کا ذکر کیا ’جس نے وہ ناول فرانسیسی میں پڑھ رکھا تھا‘ تو اس نے کہا کہ اس ناول کا انگریزی میں تیسرا ترجمہ
THE FOREIGNER
بھی ہو سکتا ہے۔

درویش نے ہمیشہ مترجموں کو بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے کیونکہ اس کی نگاہ میں مترجم دو ملکوں ’دو تہذیبوں‘ دو ثقافتوں اور دو ادبی روایتوں کے

درمیان پل تعمیر کرتے ہیں اور ہمیں انسانیت کی یکتائی اور انسانی تاریخ کی مشترکہ اقدار کا احساس دلاتے ہیں۔ تراجم عالمی ادب میں اضافہ کرتے ہیں اور ہماری توجہ اس بات ہر مرکوز کرتے ہیں کہ ساری دنیا کا ادب دانائی کا اجتماعی ورثہ ہے جسے درویش COLLECTIVE WISDOMکا نام دیتا ہے۔

درویش یہ سوچ کر دکھی ہو گیا کہ البرٹ کیمو بھی اس کے دو اور محبوب ادیبوں سعادت حسن منٹو اور مصطفیٰ زیدی کی طرح جوانی میں ہی دار فانی سے کوچ کر گیا اور پھر اسے مصطفیٰ زیدی کا یہ شعر یاد آ گیا

؎ اب جی حدود سود و زیاں سے گزر گیا
اچھا وہی رہا جو جوانی میں مر گیا

درویش اس بات پر کافی دیر تک غور کرتا رہا کہ ایسا کیوں ہے کہ بعض ادیب ’شاعر اور دانشور جوانی میں جسمانی طور پر فوت ہو جاتے ہیں اور بعض ایسے بدنصیب ہوتے ہیں کہ جسمانی طور پر زندہ ہونے کے باوجود تخلیقی طور پر فوت ہو جاتے ہیں۔ پھر وہ ساری عمر اپنی جوانی کے پہلے ناول یا پہلے دیوان کا ذکر کرتے رہتے ہیں اور نئے مشاعروں میں پرانی غزلیں دہراتے رہتے ہیں۔ جوانی کے بعد ان کے ذہن کی کوکھ سے کوئی نیا خیال‘ کوئی نیا جذبہ اور کوئی نیا آدرش پیدا نہیں ہوتا۔ درویش اپنے قریبی دوستوں کو بتاتا ہے کہ ایسے شاعر ادیب اور دانشور تخلیقی مینوپاز کا شکار ہو گئے ہیں۔

درویش نے جب البرٹ کیمو کا ناول۔ اجنبی۔ پڑھ لیا تو اس نے اپنے آپ سے پوچھا کہ اس ناول میں ایسی کیا خصوصیات ہیں جو اسے ماضی کے دیگر ناولوں سے متمیز کرتی ہیں اور اسے جدید ادب کا نوبل انعام یافتہ بناتی ہیں۔ درویش نے جب اس حوالے سے ناول پر غور کیا تو اسے احساس ہوا کہ البرٹ کیمو نے نہ تو شہزادوں اور شہزادیوں کے بارے میں ’نہ امیروں اور سرمایہ داروں کے بارے میں اور نہ ہے نیکوں اور پارساؤں کے بارے میں ناول لکھا ہے۔ اس نے معمولی انسانوں کے بارے میں ایک غیر معمولی کہانی تخلیق کی ہے اور اپنی کہانی میں وہ کردار بھی شامل کیے ہیں جنہیں لوگ عزت و احترام کی نگاہ سے نہیں دکھتے۔ ان کرداروں میں طوائف اور دلال‘ مجرم اور قاتل سبھی شامل ہیں۔ کیمو نے ان عوامی کرداروں میں اسی طرح انسانیت کی خوشبو تلاش کی جس طرح سعادت حسن منٹو ویشیا میں عورت تلاش کیا کرتا تھا اسی لیے اس نے کہا تھا۔

’۔ ہر عورت ویشیا نہیں ہوتی لیکن ہر ویشیا عورت ہوتی ہے۔ ‘

یہی خصوصیت فنکار اور ناول نگار کی عظمت کی نشاندہی کرتی ہے اور اس کے انسان دوست ہونے کی ترجمانی کرتی ہے۔ درویش کے ذہن میں یہ دلچسپ خیال آیا کہ دونوں البرٹ کیمو اور سعادت حسن منٹو 1940 کی دہائی میں دنیا کے مختلف براعظموں میں ایک ہی طرح کی کہانیاں لکھ رہے تھے۔

درویش نے اپنے ادیب ’شاعر اور دانشور دوستوں کو بتایا کہ۔ اجنبی۔ ایک ایسا ناول ہے جس کا ہیرو موسیو میورسو اس دنیا میں رہتے ہوئے بھی اپنے آپ کو اجنبی‘ غریب الدیار اور غیر محسوس کرتا ہے کیونکہ اس کے دنیا سے جذباتی رشتے مجروح ہو چکے ہیں اور وہ دوسرے انسانوں سے قریبی اور جذباتی رشتوں سے محروم ہو چکا ہے۔

ناول کا آغاز ایک تار سے ہوتا ہے جس میں ایک بزرگوں کے ریٹائرمنٹ ہوم کا ڈائرکٹر ہیرو میورسو کو بتاتا ہے کہ اس کی والدہ کا انتقال ہو گیا ہے ۔ ہیرو پر اس خبر کا کوئی خاص اثر نہیں ہوتا۔ نہ وہ روتا ہے ’نہ آنسو بہاتا ہے اور نہ ہی دکھی ہوتا ہے۔ وہ اگلے دن بس پکڑ کر فرض نبھانے ریٹائرمنٹ ہوم چلا جاتا ہے تا کہ اپنی والدہ کی تجہیز و تکفین کی رسوم میں شامل ہو سکے۔ وہ ریٹائرمنٹ ہوم میں لوگوں سے ملتا تو ہے لیکن جذباتی فاصلہ برقرار رکھتا ہے۔

وہ واپس آ کر روزمرہ کے معمولات میں کھو جاتا ہے۔ والدہ کی موت سے اگلے دن وہ اپنی ایک پرانی سہیلی میری سے ملتا ہے ’ساحل سمندر پر جاتا ہے‘ نہاتا ہے ’پھر ایک مزاحیہ فلم دیکھتا ہے اور واپس آپ کر اپنی نئی محبوبہ سے ہمبستری کرتا ہے۔

پھر اس کی اپنے ایک ہمسائے ریمنڈ سے ملاقات ہوتی ہے جس کا ایک طوائف سے جھگڑا ہو جاتا ہے اور وہ پولیس کو بلا لیتی ہے۔ ہیرو اس دوست کی مدد کرنا چاہتا ہے اور پولیس کے دفتر جا کر اس کے حق میں بیان دے دیتا ہے۔ ریمنڈ ہیرو کو بتاتا ہے کہ اس عورت کا ایک عرب جاننے والا ہے جو اسے نقصان پہنچانا چاہتا ہے وہ ہیرو میورسو کو محتاط رہنے کا مشورہ دیتا ہے۔ پھر ریمنڈ ’ہیرو میورسو اور اس کی محبوبہ کو اپنے ایک دوست کے کاٹیج میں دعوت دیتا ہے جو وہ قبول کر لیتے ہیں۔

کاٹیج جاتے وقت انہیں کافی دور دو عرب دکھائی دیتے ہیں اور ریمنڈ ہیرو میورسو کو بتاتا ہے کہ ان میں سے ایک عرب ریمنڈ کا دشمن ہے۔

ریمنڈ جب اپنے دوست اور ہیرو میورسو کے ساتھ سیر کے لیے جاتا ہے تو انہیں ساحل سمندر پر وہ دونوں عرب مل جاتے ہیں۔ ان کے درمیان ہاتھا پائی ہوتی ہے اور ریمنڈ عرب دشمن کے چاقو سے زخمی ہو جاتا ہے۔ جب اس کے منہ سے خون بہنے لگتا ہے تو اس کا دوست اسے ڈاکٹر کے پاس لے جاتا ہے۔

ہیرو میورسو بغیر سوچے سمجھے ایک دفعہ پھر اکیلے سیر کے لیے جاتا ہے اسے اتفاق سے پھر وہی عرب مل جاتا ہے۔ جب عرب چاقو نکالتا ہے اور سورج کی شعائیں اس کی آنکھوں پر ڈالتا ہے تو وہ دھوپ کی تپش سے گھبرا کر فائر کرتا ہے اور وہ عرب ہلاک ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد ہیرو میورسو اس عرب کو چار اور گولیاں مارتا ہے۔

ناول کے دوسرے حصے میں ناول نگار ناول کے ہیرو کو عدالت میں لے جاتا ہے جہاں وہ جج ’وکیل استغاثہ اور وکیل صفائی کے تعصبات کی زد میں آ جاتا ہے۔ وکیل استغاثہ ہیرو میورسو کے سب جاننے والوں کو عدالت میں بلاتا ہے اور وکیل صفائی کے بیان کو نظر انداز کرتے ہوئے ثابت کرتا ہے کہ میورسو نے سوچ سمجھ کر دیدہ و دانستہ ایک سنگین قتل کیا ہے۔ جج اور جیوری اس کے خلاف فیصلہ سناتے ہیں کہ شہر کے چوراہے میں اسے سولی پر چڑھایا جائے اور اس کا سر قلم کر دیا جائے۔

کیمو نے اسی دور میں اس ناول کے ساتھ ایک مقالوں کی کتاب THE MYTH OF SISYPHISبھی لکھی ہے جس میں وہ قاری کو بتاتا ہے کہ ہمارے ارد گرد نجانے کتنے لوگ ایسے ہیں جن کے لیے زندگی کی ہر خوشی اور ہر غم ’ہر دکھ اور ہر سکھ بے معنی ہو چکا ہے۔ جب زندگی بے معنی ہو جائے تو یا انسان خود کشی کے بارے میں سوچنے لگتا ہے اور یا کسی امید کو گلے لگا لیتا ہے۔

کیمو نے اپنے ناول میں کئی اہم موضوعات پر اپنا موقف بیان کیا ہے۔

اس نے انسانی رشتوں کی نفسیات پر روشنی ڈالی ہے۔ وہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہیرو میورسو کا اپنی ماں سے رشتہ اس کے ریٹائرمنٹ ہوم جانے سے پہلے ہی ختم ہو چکا تھا۔ اس کے لیے اس کی ماں مرنے سے پہلے ہی مر چکی تھی۔ یہ علیحدہ بات کہ اس کی ماں نے ریٹائرمنٹ ہوم جا کر ایک نئی زندگی کا آغاز کیا تھا ’کچھ دوست بنائے تھے‘ کچھ سہیلیاں بنائی تھیں اور پیریز نامی ایک لنگڑاتے ہوئے دلچسپ اور ہمدرد مرد کو اپنا محبوب بھی بنایا تھا۔ ہیرو

میورسو کی ان سب لوگوں سے والدہ کی وفات کے بعد ملاقات ہوئی تھی لیکن سرسری سی ملاقات کیونکہ ہیرو نے ان میں کچھ زیادہ دلچسپی نہ لی تھی۔

کیمو نے ہیرو اور اس کی محبوبہ کے رشتے کی نفسیات کو بھی اجاگر کیا ہے۔ محبوبہ ایک روایتی عورت ہے جو ہیرو سے شادی کرنا چاہتی ہے اور ہیرو اسے خوش کرنے کے لیے شادی کا وعدہ بھی کر لیتا ہے لیکن دل سے نہیں صرف اس کا دل رکھنے کے لیے۔

کیمو ناول میں بتاتا ہے کہ اس کا ہیرو ایک دہریہ ہے لیکن جب جج کو اس بات کا پتہ چلتا ہے تو وہ اسے نہ صرف بدکردار سمجھنے لگتا ہے بلکہ اسے نیکی اور مذہب کی تبلیغ بھی کرنے لگتا ہے جس سے ہیرو بہت حیران بھی ہوتا ہے اور پریشان بھی۔ ہیرو کو سمجھ نہیں آتا کہ اس کے جرم کا اس کے نظریے اور ایمان سے کیا تعلق ہے۔ ہیرو کو وکیل استغاثہ بھی مجرم کے ساتھ ساتھ پاپی ثابت کرنا چاہتا ہے تا کہ جیوری اسے سخت سزا دے۔

کیمو ہمیں ناول میں بتاتا ہے کہ کس طرح۔ ایک جج۔ ایک عدالت۔ ایک جیوری اور ایک پادری ہیرو میورسو کی مل کر کردارکشی کرتے ہیں۔

کیمو ہمیں بتاتا ہے کہ کس طرح
؎ کسی کے سچ کسی کو جھوٹ لگتے ہیں
کس طرح روایتی لوگ مل کر اس کے خلاف صف آرا ہو جاتے ہیں اور اس پر دائرہ حیات تنگ کر دیتے ہیں۔

ہیرو میورسو کو اندازہ ہوتا ہے کہ کہانی کا مرکزی کردار ہونے کے باوجود وہ اس کہانی سے دھیرے دھیرے جدا کر دیا گیا ہے۔ اسے ایک اجنبی اور ایک خارجی بنا دیا گیا ہے۔ اسی لیے کہانی کا نام

THE OUTSIDER….THE STRANGER…THE FOREIGNER
رکھا گیا ہے ۔

ہیرو میورسو جب موت کا انتظار کر رہا ہوتا ہے تو وہ اپنی زندگی کے آخری دنوں کو بامعنی بنانے کے بارے میں سوچتا ہے اور خواہش کرتا ہے کہ جب اسے سولی پر لٹکایا جائے تو بہت سے لوگ آئیں اور چیخ چیخ کر اسے گالیاں دیں اور اس کے خلاف نفرت کا اظہار کریں۔ کیمو اپنے ناول۔ اجنبی۔ میں دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں کے دوران ہمیں بتاتا ہے کہ کسی معاشرے میں تعصب اس حد تک بڑھ سکتا ہے کہ ایک راندہ درگاہ انسان کو نفرت میں بھی افادیت ’اہمیت اور معنویت دکھائی دینے لگتے ہیں۔

کیمو کا یہ ناول۔ اجنبی۔ بے معنویت کی کوکھ سے جنم لینے والا ایک بامعنی ناول ہے جسے ادب اور فلسفے کے ہر سنجیدہ قاری کو ضرور پڑھنا چاہیے۔

۔ ۔
ترجمہ۔ البرٹ کیمو کے ناول۔ اجنبی۔ کی ادبی دیگ سے چند دانے چکھنے کے لیے حاضر خدمت ہیں۔
۔ ۔
صفحہ 1۔ میرے دوست سیلستے نے موت کی خبر سن کر کہا
ماں کے محبت بھرے رشتے سے بہتر دنیا میں کوئی اور رشتہ نہیں ہوتا۔
صفحہ نمبر 5۔ دربان نے پوچھا
’کیا تم کفن میں اپنی ماں کا چہرہ نہیں دیکھنا چاہتے؟
میں نے کہا ’نہیں‘

صفحہ 11۔ اس عورت نے سسکیاں بھرتے ہوئے کہا کہ تمہاری ماں ساری دنیا میں اس کی واحد سہیلی تھی۔ اس کے مرنے کے بعد وہ بالکل تنہا رہ گئی ہے۔

صفحہ 14۔ ریٹائرمنٹ ہوم کے ڈائرکٹر نے کہا ’تھومس پیریز اور تمہاری ماں یک جان دو قالب ہو گئے تھے۔ لوگ انہیں دیکھ کر خوش ہوتے تھے اور تمہاری ماں کو اس کا منگیتر سمجھتے تھے‘ ۔

صفحہ 51۔ سالیمانو کا کتا مر گیا تو میں نے کہا ایک اور کتا خرید لو۔ کہنے لگا نیا کتا پہلے کتے کی جگہ نہیں لے سکتا کیونکہ میری بیوی کی وفات کے بعد وہ میرا دوست بن گیا تھا۔

صفحہ۔ 59۔ لنچ کا کوئی مقررہ وقت نہیں ہوتا۔ جب بھوک لگے اسی وقت کھانا کھا لینا چاہیے۔
صفحہ 65۔ جب میں نے گولی چلائی تو میں نے اس دن کا پرسکون توازن درہم برہم کر دیا۔

صفحہ۔ 77۔ میرے وکیل صفائی نے مجھ سے پوچھا کہ تم اپنی ماں کے جنازے میں لاتعلق کیوں تھے۔ ؟ میں نے کہا اس بات کا میرے قتل کرنے سے کیا تعلق ہے؟

کہنے لگا میں جج سے کہوں گا تم نے جذبات پر قابو پا لیا تھا
میں نے کہا یہ بات درست نہیں ہے
کہنے لگا یہ بات جج کو مت بتانا
صفحہ۔ 79۔ جج نے پوچھا کیا تم خدا پر ایمان رکھتے ہو
میں نے کہا نہیں

اس نے کہا یہ کیسے ممکن ہے ہر انسان خدا پر ایمان رکھتا ہے وہ بھی جو انکار کرتا ہے۔ انسان کی زندگی میں معنی خدا پر ایمان کی وجہ سے ہیں۔ اگر خدا پر ایمان نہ ہو تو زندگی بے معنی ہو جاتی ہے۔

کیا تم چاہتے ہو کہ میری زندگی بے معنی ہو جائے؟
میں نے جج سے کہا ان باتوں کا آپس میں کوئی تعلق نہیں تم فضول باتیں کرتے ہو
جج نے کہا تم بہت بڑے پاپی ہو میں تمہاری مغفرت کی دعا کروں گا۔

صفحہ 88۔ جب جیل میں کئی ماہ گزر گئے تو مجھے اپنی والدہ کی بات یاد آئی کہ انسان کو جلد یا بدیر ہر چیز کی عادت ہو جاتی ہے۔

صفحہ 90۔ انسان اپنے تصور سے اپنے ذہن میں ایک دنیا آباد کر سکتا ہے۔ وہ آزادی کے ایک دن کی تفاصیل سوچ سوچ کر قید میں سو سال گزار سکتا ہے۔

صفحہ۔ 92۔ قید میں وقت کا احساس بدل جاتا ہے ہفتے ’مہینے اور سال غائب ہو جاتے ہیں صرف گزشتہ کل اور آئندہ کل باقی رہ جاتے ہیں۔

صفحہ۔ 108۔ وکیل استغاثہ نے بڑی چالاکی سے میرے خلاف کیس بنایا۔ کہنے لگا۔ یہ کیسا مجرم ہے جس نے اپنی ماں کی وفات کے ایک دن بعد ایک عورت سے ہمبستری کی اور ایک مزاحیہ فلم دیکھی۔

اس انسان کا ضمیر مردہ ہو چکا ہے۔ اسے اپنے جرم پر نہ کوئی ندامت ہے نہ خجالت۔ یہ انسان صرف جسم ہے اس میں روح موجود نہیں بلکہ یہ تو اب انسان

بھی نہیں رہا۔ یہ انسانیت کے نام پر کلنک کا ٹیکہ بن چکا ہے۔ یہ ننگ انسانیت ہے اسے سخت سزا ملنی چاہیے۔

صفحہ۔ 116 جج نے پوچھا تو میں نے کہا میں جب گھر سے نکلا تھا تو میری کسی عرب کو قتل کرنے کی کوئی نیت نہیں تھی۔

جیوری نے فیصلہ سنایا کہ مجھے شہر کے چوراہے میں سولی پر چڑھایا جائے اور میرا سر قلم کر دیا جائے۔
صفحہ۔ 140۔ میرے دل نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ چاروں طرف پھیلی کائنات انسانیت سے بالکل لاتعلق ہے۔
۔ ۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 482 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments