ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابتدائے عشق ہے روتا ہے کیا
آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا
ابھی تو شروعات ہیں اور لگتا ہے ہماری سیاسی قیادت ہمارے ساتھ مخول کا طویل کھیل کھیلنے چل پڑی ہے، یہ بات کوئی اہمیت نہیں رکھتی کہ مرکز میں کون حکمران ہے اور صوبوں میں حکومت کا ٹھیکہ کس کے پاس ہے سب ہی یکسو ہو کر اس سمت دوڑتے نظر آتے ہیں جدھر رخ ہواؤں کا ہے، اپنے شہد سے میٹھے دوست کی بھی فی الحال کوئی خاص ضرورت نہیں ہے کہ ہم نے اپنے تمام امراض سے چھٹکارا پانے کے لئے کڑوا گھونٹ نہیں پوری بوتل پینے کی تیاری پکڑ لی ہے۔

جب یہ ارادہ باندھ ہی چکے تو ضروری ہے کہ ہاتھ باگ پر ہوں اور پاہے رکاب میں، بظاہر شور مچانے والی اپوزیشن جماعتیں ابھی جمہوریت کی محبت میں بہت کچھ ارشاد فرمائیں گی تاہم حکومت اور اس کے ”اتحادی“ جو فیصلے کر چکے ہیں یا جنہیں کرنے والے ہیں اس میں روڑے اٹکانے کا ان کا کوئی ارادہ نہیں اور نہ ہی فی الحال یہ اپوزیشن جماعتیں حکومت حاصل کر کے آبیل مجھے مار کی دعوت مبارزت دیں گی، آپ نہ مانیں اور ہمیں بھی ابھی کامل یقین نہیں مگر حالات و آثار سے لگ رہا ہے کہ صرف کلبھوشن یادیو کیس کے حوالے سے ہی بین الاقوامی تقاضے پورے نہیں کیے گئے، یہ جو ووٹنگ مشین کا چکر چلایا جا رہا ہے یہ بھی نئے عمرانی معاہدے، صدارتی نظام اور سات سمندر پار کے پردیسیوں کو حکومت میں غالب حیثیت یا غلبہ دینے کے ایجنڈے کی طرف دوڑ دھوپ ہے۔ اپنے سب پہ بھاری نے کہا ہے کہ بیچ کسی اور نے بویا پھل کوئی اور کھائے گا۔ کیا سمجھے!

مستقبل کی پیشن گوئی کرنے والوں نے کسی زمانے میں بتایا تھا کہ ”بلاول ہمارا ہو گا“ تب زیادہ توجہ نہیں دی تھی کسی نے حالانکہ پنڈی سے تعلق کی بنا پر اپنے پیر صاحب آف پگاڑا کی ہر پیشن گوئی کو لے کر لوگ وزیراعظم تک بن جاتے تھے، اب مشینوں کی حکومت آئے گی او ر ضروری نہیں کہ یہ دوسرا دور عمرانی ہو بہرحال ایک اور ”عمرانی“ دو ر ضرور ہو گا جہاں مشینوں کے ذریعے دو تہائی اکثریت کی نیلامی میں حصہ لینے والے نئے عمرانی معاہدے پر پیش رفت کے لئے ضمانت ضرور دیں گے جو ضمانت دے گا بسم اللہ بصورت دیگر ضمانت ضبط کروائے گا۔

حکومت کی خواہش میں کوئی ایک تو نہیں سب ہی امیدوار ہیں، بلاول ہو یا مریم نواز، اپنے مولانا کے برخوردار ہوں یا مشر آف ولی باغ کے فرزند ارجمند سب نے بیان حلفی جمع کرانے ہوں گے کہ پرانی سیاست گری ہی نہیں یہ جو 73 ء کا آئین ہے یہ بھی اس مشینی دور سے ہم آہنگ نہیں، دو تہائی اکثریت کے بدلے نیا عمرانی معاہدہ۔ وہ بھی جس میں صدارتی نظام کے لئے لمبی چوڑی گنجائش ہو۔ جو راضی اسی پر فیاضی باقی سب ماضی، اپنے وزیر اطلاعات نے بھی یہی کہا ہے کہ شریف ہو یا زرداری قصہ پارینہ۔

یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہا ایوان بالا میں ”سرکار“ نے اپنے ہرکاروں کی نصف تعداد پوری کرلی ہے، تھوڑی بہت کسر تو ”وہ“ ویسے بھی پوری کرلیتے ہیں دو تہائی اکثریت ایوان زیریں میں جب ”مشینی“ انداز سے پوری کر لی جائے گی تو ایوان بالا پورے کا پورا حکام اعلیٰ و بالا کا۔ کسی قانون کو پاس کرانے کی بات آئے تو چوں چرا کرنے والے تین میں ہوں گے نہ تیرہ میں، وہی سول سوسائٹی کا بینر اٹھائے پارلیمنٹ کے باہر شور شرابا ڈال کر گھر کی راہ لیں گے، اس کی دیواروں سے سر ٹکرانے والے دیوانوں کی ویسے بھی روز بروز کمی ہوتی جا رہی ہے۔ آپ نے دیکھا نہیں ووٹ کی عزت مانگنے والوں کو بھی جب ذاتی عزت ملنے لگتی ہے تووہ ہمارے ووٹ کی ایسی تیسی کرنے کو تیا رہو جاتے ہیں۔ بات نہ بنے تو پھر جذباتی نعرے لگانے لگتے ہیں۔ دو تہائی اکثریت کے انعام کے بدلے وہ بھی باقی کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے پر تیار ہو گئے تو حیرت چہ معنی دارد؟

سوال یہ ہے کہ ساری تیاری کس کے لئے ہو رہی ہے ہر داخلی بحران کے ڈانڈے خارجی سطح پر ہماری مشکلات سے جڑے ہوئے ہیں، کل پرسوں ہی تو انکل سام نے ہمیں اس فہرست میں ہی رکھنے کے فرمان کی تجدید کی ہے جو بقول انکل کے مذہبی آزادی کی خلاف ورزیوں کے مرتکب ممالک پر مشتمل ہے، ذرا تحقیق کر لیں مذہبی آزادیوں کی خلاف ورزی کی رپورٹ ہمارے خلاف کیوں درج کی گئی ہے؟ اس شکایت کو رفع کیے بغیر خارجہ محاذ پر ہماری کامیابی کا سوال ہی پید انہیں ہوتا اور سوال پیدا کرنے کے لئے ضروری ہے کہ دو تہائی اکثریت دلانے والی مشینوں کا سہارا لیا جائے۔

ادھر فنانشل ایکشن ٹاسک فورس نے بھی ہم کو راہ راست پر لانے کا تہیہ کیا ہوا ہے اور دو تہائی اکثریت کے خواہاں حلقوں کے خیال میں اندر باہر کے تمام مسائل سے نکلنے کا راستہ نیا عمرانی معاہدہ ہی ہو سکتا ہے، لگتا ہے پہلے عمرانی دور میں اسی کی تخم ریزی کی گئی ہے اور نئے دور میں اس کی جانب اب مشینی پیش رفت دیکھنے کو مل سکتی ہے اور یہ قطعی ضروری نہیں کہ اس نئے دور میں بھی ہم کو عمران سیریز حصہ دوئم پڑھنے پر مجبور کیا جائے۔ فی الحال تو سیاسی جماعتوں کے لئے کھلی پیش کش ہے ”جو بڑھ کر اسے تھام لے مینا اسی کا ہے“ ۔ بیچ جس نے بھی بویا ہے پھل صرف اسی نے کب کھایا ہے؟


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments