قیمت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کمرے میں ایک ٹمٹماتا ہوا پیلا بلب جل رہا تھا، بستر کے کنارے ایک چھوٹا پنکھا رکھا تھا جس کی پنکھڑیوں پر رواں چپکا ہوا تھا، کمرے کی شمالی دیوار سے لگے دو پلنگ پڑے تھے، ایک دیوار کے ساتھ ایک برسوں پرانا شو کیس رکھا تھا جس میں پرانے برتنوں کا ڈھیر تھا جو مٹی میں اٹے ہوئے تھے، دوسری دیوار سے لگی الماری کے دونوں پٹ کھلے ہوئے تھے اور فرش پر کچھ چیتھڑے بکھرے پڑے تھے۔

ایک تن خمیدہ لڑکی شائستہ اپنے پلنگ پر اوندھی پڑے تھی۔ اس کی شلوار گھٹنوں تک چڑھی ہوئی تھی اور اس کا دامن اس کی ناف پر سے سرکا ہوا تھا۔ اس نے اپنے کولہوں کے نیچے ایک تکیہ ٹکا رکھا تھا، پلنگ کے بان اس کے لاغر اور بودے جسم میں گھسے جاتے تھے، اس کا دوپٹہ اس کے ماتھے پر بندھا ہوا تھا اور بخار کے مارے اس کی پیشانی گویا سلگ رہی تھی۔ اس کی بھنووں سے ٹپکتا ہوا پسینہ اس کے پپوٹوں پر جم رہا تھا۔ آنکھوں کے مردک ڈھیلے کسی تذبذب بھری اور دھندلی نگاہوں سے دروازے کو تک رہے تھے، شاید کسی کے انتظار میں ہوں۔

اتنے میں شکیل کمرے میں داخل ہوتا ہے، اور شوکیس کی طرف بڑھتا ہے۔ اپنا بقچہ شوکیس کے اوپر رکھتا ہے، اور گلاس میں پانی نکالتا ہے۔ شائستہ اپنی نیم باز آنکھوں سے شکیل کی طرف دیکھتی ہے،

شائستہ، ”شکیل! تو دن بھر کہاں رہا؟“

شکیل اپنے بقچے میں سے ایک تھیلی نکالتا ہے اور شائستہ کے برابر والے پلنگ پر جا بیٹھتا ہے۔ اس کے کرتے پر تیل کی چکنائی جمی ہوئی ہے، جیسے اس نے اپنے دامن سے اپنے ہاتھ پوچھے ہوں۔ وہ پسینے میں شرابور تھا اور اس کے گریبان کے قفل کھلے تھے۔

شکیل : میں، میں کہاں رہتا۔ گیا تھا سیٹھ کے کارخانے۔ تو میری حالت نہیں دیکھ رہی؟
شائستہ:کیا ہوا؟ کچھ بندوبست ہوا؟ سیٹھ کیا کہتا ہے؟
شکیل: کیا کہے گا وہ کمبخت۔ کہتا ہے کہ مہینے کی تیس سے پہلے کسی ملازم کو ایک دھیلا نہیں گا۔

شائستہ: تو نے اسے میری حالت نہیں بتائی؟ اسے نہیں بتایا کہ آج ہفتہ ہونے کو آیا ہے اور میرا بخار نہیں اترتا۔ گلے میں ایسی خراش ہے کہ جیسے کوئی پھانسیں چبھو رہا ہو، آنکھوں کا پانی خشک ہو گیا ہے، اور بخار کی تپش سے میرا سارا بدن بھن رہا ہے۔

شکیل: ارے بتایا تھا، تو کہتا ہے کہ جوروں کا بدن اتنا ہی جل رہا ہے تو کسی سرد خانے میں چھوڑ آ۔
یہ سنتے ہی شائستہ کے چہرے پر مایوسی سی چھا جاتی ہے اور نا امیدی اس کی آنکھوں میں تیرنے لگتی ہے۔

وہ سوچنے لگتی ہے اس کی جان فقط چند روپیوں کی خاطر کیسی مجبور ہے، شکیل ہر چند دوڑ دھوپ کر رہا ہے، لیکن اس کا روزینہ یا تو پیٹ کی گرمی بجھا سکتا تھا یا ماتھے کی۔ اس کا ایک ہاتھ بھوک اور دوسرا رنجوری کے ہتھکڑیوں میں جکڑا ہوا تھا۔ غربت سے دھکے بدن کو مرض کی گرمی کیا جھلسا سکتی ہے۔

شائستہ: شکیل۔
شکیل: بول۔
شائستہ: کیا اب گھر میں کچھ ایسا نہیں جسے بیچ کر میری دوا کا بندوبست ہو سکے؟

شکیل: دیکھ تو، صبح نکلتے وقت پوری الماری چھان ماری تھی کہ شاید کوئی چونی ہی نکل آئے، لیکن سب کھو کر۔

شائستہ اپنی مجوف آنکھوں سے چو طرفہ نظر پھراتی ہے، شاید اسے یوں لگ رہا ہو کہ کمرے کہ در و دیوار جن کی سفیدی تک جھڑ چکی تھی، اس سے یہ کہہ رہے ہیں کہ کچھ صبر کر جا، ہمیں یوں کوسنے نہ دے کہ ہماری رنگت میں وہ ہیبت کہاں جو قبر کی چار دیواری میں ہوگی۔

شکیل تھیلی کھولتا ہے، اور اس میں سے ایک چپڑیلی روٹی اور سبزی نکالتا ہے اور شائستہ سے کہتا ہے، ”لے، کچھ کھا لے۔ تازی روٹی اور سبزی لایا ہوں۔ کارخانے سے تو گیہوں کا ایک ذرہ بھی باہر نہیں جاسکتا، بس میں نے اپنا کھانا کسی طرح اس تھیلی میں ڈال لیا اور دوسروں کی نظروں سے بچاتا ہوا تیرے لیے لے آیا ہوں“ ۔

شکیل شائستہ کو سہارا دیتا ہے، وہ دیوار سے گردن ٹیک کر بیٹھ جاتی ہے۔ شکیل روٹی کا نوالہ توڑتا ہے اور شائستہ کی منھ کی طرف بڑھاتا ہے۔ شائستہ بڑی نقاہت سے اپنی زبان باہر نکالتی ہے اور نوالے کو بغیر چبائے ہی نگلنے کی کوشش کرتی ہے، اسے ایک زوردار پھندا لگتا ہے اور نوالہ اس کے منھ سے باہر آ جاتا ہے، شکیل اس کی کمر سہلاتا ہے اور شائستہ بے خود ہو کر دوبارہ لیٹ جاتی ہے۔ شکیل اپنے رومال سے اس کے آنسو صاف کرتا ہے، اور اس کا سر اپنی گود میں رکھ لیتا ہے۔ شکیل کی تھوڑی کا پسینا شائستہ کی گرم پیشانی پر گرتا ہے تو اسے اور تکلیف ہوتی ہے۔ وہ درد سے مسلسل کراہ رہی تھی اور شکیل اس کے سرہانے بیٹھا اپنی بے بسی پر آنسو بہا رہا تھا۔

رات کے دوسرے پہر اچانک شائستہ کی آنکھ کھلی، اسے کچھ پیاس محسوس ہوئی تھی، اس نے برابر والی چارپائی ٹٹولنی شروع کی لیکن شکیل کو وہاں نہ پایا۔ اس نے انگوٹھوں سے اپنی آنکھیں ملیں اور بدن کو سرکانا شرع کیا۔

کمرے کا بلب بھی بجھ چکا تھا شائستہ کو آنکھوں میں ماندگی کے باعث نہ کچھ دکھائی پڑتا تھا نہ کچھ سجھائی۔

اس نے اپنی چارپائی سے شکیل کے چارپائی پر خود کو سرکایا، اور شوکیس کی طرف بڑھنے کے لیے اپنے الجھے ہوئے پائنچوں کو ٹھیک کیا، اپنے دامن کو اپنے زانوؤں پر پھیلایا اور اپنا قدم چارپائی سے نیچے کی طرف بڑھایا۔ اس کا پاؤں کسی کانچ سے ٹکرایا، اس نے اپنے پیروں کو کچھ سدھایا تو اسے یہاں ایک شیشے کی بوتل معلوم پڑی، اس نے ہاتھ بڑھا کر اس بوتل کو اٹھایا۔

شیشے کی کھنکھناہٹ کو پاکر شکیل نے اچانک کمرے کی لائٹ جلا دی، وہ شوکیس کی دیور سے لگا سدھ کھڑا تھا، بوتل سے شراب کی بو آ رہی تھی، اور شکیل کی مونچھیں اس بوتل کے اندر موجود عرق سے نم تھیں۔

شائستہ نے اپنی بوجھل سے آنکھوں سے شکیل کی طرف دیکھا، شکیل شائستہ کی طرف بڑھنا چاہتا تھا، لیکن شائستہ کی نظروں نے اسے جامد کر دیا تھا۔ شائستہ نے بوتل کو الٹا، اپنی زبان اس کے نیچے لگا دی، چند دو ایک قطرے ٹپکے شائستہ کے ہاتھ سے بوتل چھوٹ گئی، اس نے شکیل کی طرف دیکھا اور صرف اتنا کہا، ”میری جان کی قیمت اس بوتل کے چند قطروں سے زیادہ نہیں تھی“ ۔

شائستہ کی ناک سے خون ٹپک پڑتا ہے، شکیل اپنا رومال اس کے منھ پر رکھتا ہے اور کمرے کی بتی پھر بجھا دیتا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

علی اکبر شاہدی کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments