ادویات مہنگی موت سستی


پاکستانی عوام مختلف مصائب میں پھنسے دکھائی دیتے ہیں، ایک طرف غربت اور تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے تو دوسری جانب عام آدمی کے لئے علاج دسترس سے باہر ہوتا جا رہا ہے، حکومت نے متوسط اور غریب طبقات کو یکسر نظر انداز کرتے ہوئے ادویات کی قیمتوں میں بتدریج اتنا اضافہ کر دیا ہے کہ ایک عام سی گلا درد کی 4 روپے میں ملنے والی گولی اب 9 روپے میں فروخت ہو رہی ہے، اگر حکومت کے لئے ادویات کی قیمتوں میں اضافہ ناگزیر تھا تو اتنا اضافہ کیا جاتا کہ ادویات عام آدمی کی دسترس میں رہتیں، مگر عام آدمی کی بجائے دوا ساز کمپنیوں کا زیادہ خیال رکھا جا رہا ہے، حکومت نے عام آدمی کے لئے ادویات انتہائی مہنگی اور موت سستی بنا دی ہے۔

اگر دنیا کے بیشتر ممالک میں دکھا جائے تو علاج معالجہ کی سہولیات فری فراہم کی جاتی ہیں، جہاں ایسا نہیں، وہاں بھی ادویات عام آدمی کی دسترس میں ہوتی ہیں، مگر ہمارے ہاں اشیائے ضروریہ سے لے کر ادویات تک غریب کی دسترس سے باہر کی جا رہی ہیں، گزشتہ دو برس کے دوران 102 ادویات کی قیمتوں میں 2.53 سے 311.61 فیصد تک اضافہ کیا گیا ہے ، جبکہ ملک بھر میں دائمی امراض سے دو چار مریضوں کی ایک بڑی تعداد کا ذریعہ آمدن معمولی پنشن یا ای او بی آئی سے بڑھ کر کچھ نہیں، ان کے لیے بڑھتی مہنگائی میں فیصلہ کرنا مشکل ہو گیا ہے کہ قلیل آمدنی میں بیک وقت اشیائے ضروریہ اور جان بچانے والی ادویات میں سے کس کا انتخاب کریں، حکومت ایک طرف عوام کو رلیف دینے کی دعوے کرتی ہے تو دوسری جانب ادویات میں بار بار اضافہ کر کے عام آدمی سے جینے کی آس بھی چھین رہی ہے۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ ادویات کی دستیابی یقینی بنانے کے لیے قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جبکہ ادویات کی عدم دستیابی کی شکایات زبان زدعام ہیں، ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی (ڈریپ) جیسے ادارے اس لیے ہی بنائے جاتے ہیں کہ ادویات کی قیمتوں پر کنٹرول رکھیں اور مارکیٹ میں ان کی قلت پیدا نہ ہونے دیں، لیکن یہاں الٹی گنگا بہنے کے مصداق مارکیٹ سے جان بچانے والی اکثر دواؤں کی قلت اور ان کی قیمتوں میں اضافے کی شکایات سامنے آ رہی ہیں، کیو نکہ حکومتی نمائندوں سے لے کر اداؤں کے اعلی افسران تک سب آپس میں ملے ہوئے ہیں اور یہ گٹھ جوڑ ہی ادویات کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ عدم دستیابی کا باعث بن رہا ہے۔

حکومتی اداروں میں ڈرگ مافیا کی موجودگی سے انکار خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے، ادویات کی مصنوعی قلت اور قیمتیں بڑھانے کے حوالے سے بننے والی رپورٹ میں ایسے انکشافات سامنے آئے ہیں کہ جس سے ثابت ہوتا ہے کہ با اثر مافیا حکومت میں نہ صرف اہم کردار ادا کرتا ہے، بلکہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی تک ان کی باآسانی رسائی بھی ہوتی ہے، اس وجہ سے کئی مرتبہ از خود قیمتیں بڑھا دیتے ہیں، جس پر انہیں کوئی پکڑ نہیں ہوتی ہے، ڈرگ مافیا کے حوالے حکومت کو پیش کی جانی والی رپورٹس میں واضح طور پر بتایا گیا ہے کہ میڈیسن مافیا اتنا طاقتور ہے کہ اس کے آگے حکومتی ادارے بھی بے بس نظر آتے ہیں۔

حکومت کے ایوان سے لے کر ادارے کی بڑے عہدوں تک ہر جگہ ڈرگ مافیا کے خدمت گار بیٹھے ہیں، 45 ارکان پارلیمنٹ کی میڈیسن کمپنیاں ہیں، جب کہ سرکاری اسپتالوں کے اہم ذمہ داران ان کے عزیز ہیں، پرائیویٹ اسپتالوں کے مالکان ڈرگ مافیا کا نہ صرف حصہ ہیں، پاکستان کے اندر اکثر اسپتالوں میں ملنے والی ادویات بھی انہی مافیا کی کمپنیوں کی استعمال ہوتی ہیں، اس صورت حال میں حکومت اور اداروں سے فعال کردار ادا نے کی امید کرنا خود کو دھوکہ دینے کے مترادف ہے، حکومت گھبرانا نہیں کی تلقین تو کر سکتی ہے، مگر اپنی کابینہ میں بیٹھے ڈرگ مافیا کے نمائندوں اور اداروں میں ان کے حواریوں کے خلاف کاروائی کبھی نہیں کرے گی، کیو نکہ ایسا کرنے سے ان کے اپنے ہاتھ جلتے ہیں۔

تحریک انصاف قیادت اقتدار میں آنے سے قبل بہت بڑے بڑے دعوے اور وعدے عوام سے کیا کرتے تھے کہ غربت اور مہنگائی مافیا کا خاتمہ کریں گے، ملک میں تبدیلی لائیں گے، پوری قوم واقعی تبدیلی دیکھنے کے ساتھ محسوس بھی کر رہی ہے، حکومت ایک طرف بتدریج مہنگائی میں اضافہ کر رہی ہے تو دوسری جانب کرپٹ مافیا کے سامنے گھٹنے ٹیکتے ہوئے کھلی چھٹی دیے رکھی ہے، مہنگائی مافیا سے لے کر ڈرگ مافیا تک سب اپنی من مانیاں کر رہے ہیں اور حکومت خاموش تماشائی بن کر ان کا ساتھ دیے رہی ہے، حکومت کے دانت کھانے اور دکھانے کے الگ نظر آنے لگے ہیں، عوام کی تبدیلی کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا ہے، کیو نکہ عوام کے لئے اشیاء ضروریہ سے لے کر ادویات تک سب کچھ مہنگا اور موت سستی بنا دی گئی ہے۔

Facebook Comments HS