مولانا مکی الحجازی کے چٹکلے، سیکس زدہ ذہنیت اور گناہ بے لذت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مولانا مکی الحجازی ایک بڑے نامی گرامی عالم ہیں ان کا یوٹیوب چینل مذہبی دنیا کا مقبول ترین چینل ہے جس میں وہ مختلف لوگوں کی طرف سے بھیجی گئی پرچیوں پر درج شدہ سوال پڑھ کر ان کا جواب دینے میں مشغول پائے جاتے ہیں۔ وہ دینی مسائل پر گہری نگاہ رکھتے ہیں مگر ان کی وجہ شہرت بطور ”سیکس گرو“ یا ”میرج گرو“ ہونے کی زیادہ ہے۔ اگر آپ ان سے پوچھے جانے والے سوال پر غور کریں گے تو وہ زیادہ تر خواتین سے متعلقہ یا ان سے سیکس کرنے کے طریقہ کار پر مبنی ہوں گے۔

سوچنے والی بات یہ ہے کہ یا تو ان کے پیروکاران کی مزاح والی فطرت کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے شرارتاً ایسے سوال پوچھتے ہیں جو بالکل بے بنیاد اور خواتین کی تذلیل پر مبنی ہوتے ہیں یا پھر ان کے پیروکار ہی گاؤدی، کند ذہن اور غبی ہیں جو آڈلٹ ڈائپر جتنی فہم کے بھی مالک نہیں ہیں اور اس طرح کے گھٹیا سوال پوچھتے رہتے ہیں۔ پس منظر میں غور طلب بات یہ ہے کہ ان سوالوں کا لطف مکی الحجازی بھی خوب اٹھاتے ہیں اور ان کے پیچھے بیٹھے ہوئے سامعین بھی کھسیانی ہنسی کے ساتھ گناہ بے لذت میں شریک ہوتے اور شہوانیت ان کی نظروں میں اتری ہوتی ہے۔ اب غور طلب چیز یہ ہے کہ جب خواتین اس طرح کے سوال سنتی ہوں گی اور جواب دیتے وقت سامعین کی خرمستیوں پر غور کرتی ہوگی تو انہیں کیسا لگتا ہو گا؟ آگے بڑھنے سے پہلے آپ ان سے پوچھے جانے والے کچھ سوالات کا جائزہ لے لیں جو کہ ان کے بیانات سے نکالے گئے ہیں تاکہ آپ پوری بات بخوبی جان سکیں۔

کبھی کبھی اداسی چھا جاتی ہے مجھے کیا کرنا چاہیے؟
آئے دن گھر میں جھگڑے چلتے رہتے ہیں ہمیں کیا کرنا چاہیے؟
کیا عجوہ کھجور دل کے لئے شفا ہے سائنسی حوالہ سے بتائیں؟
میں نے اپنی بیوی کو 552 روپے حق مہر ادا کیے تھے کیا یہ کافی ہیں؟
میرے گھر والے میری شادی نہیں کروا رہے مجھے کیا کرنا چاہیے؟
قرآن کریم یاد کرتا ہوں مگر بھول جاتا ہوں مجھے کیا کرنا چاہیے؟
مجھے اپنی پسند کی شادی کروانے کے لیے کیا کرنا چاہیے؟
عورت کے ساتھ کھڑے ہو کر جماع کیا جاسکتا ہے؟
کیا آدمی اپنی بیوی کے ساتھ آگے یا پیچھے طرف سے جماع کر سکتا ہے؟
ایک ہی وقت میں تین بیویوں کے ساتھ جماع ہو سکتا ہے؟
کوئی آدمی اپنی بیوی کی شرمگاہ کو چوم سکتا ہے؟
کیا میاں بیوی بغیر کپڑوں کے سو سکتے ہیں؟
ماہواری کے دنوں میں بیوی سے ہمبستری ہو سکتی ہے؟
کیا میاں بیوی ایک دوسرے کا جسم دیکھ سکتے ہیں؟
کیا بیوی سے ہمبستری کرتے وقت لائٹ بند کرنا ضروری ہے؟
کیا بیوی کی شہوت جگانے کے لیے اٹکھیلیاں ہو سکتی ہیں؟
کیا بیوی شوہر کو ہاتھ سے فارغ کر سکتی ہے؟
کیا بیوی سے روزانہ ہم بستری ہو سکتی ہے؟
کیا سیلون والوں کی کمائی جائز ہے؟

یہ مولانا حجازی سے پوچھے جانے والے سوالات کی جھلک ہے اس سے آپ ہماری ذہنیت کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ یہ اس ذہنیت کے سوال ہیں جو یہ دعوی کرتے ہیں کہ بشمول مغلیہ دور ہم نے کئی ہزار سال تک کافروں پر حکمرانی کی ہے اب یہ علیحدہ بحث ہے مغلیہ دور ہماری گولڈن ایج کا حصہ بنتے ہیں یا نہیں مگر ان سوالات کا بغور جائزہ لے کر ہمیں اندازہ ضرور لگا سکتے ہیں کہ ہم اکیسویں صدی میں تاریکی میں کیوں ہیں؟ اگر ہم نے حقیقت میں دنیا کا نقشہ بدلنے میں کوئی کنٹریبیوٹ کیا ہے تو اس سرمائے کو زمین نگل گئی یا آسمان کھا گیا؟

ایسے لوگ دنیا میں کیا اہم کردار ادا کریں گے جنہیں ازدواجی حیثیت کو جینے کا سلیقہ نہیں آیا، جنہیں تیزی سے تبدیل ہوتی ہوئی دنیا میں یہ تک کا پتا نہ چلا کہ یہ سوالات کسی ایک بندے سے پوچھے ہیں یا یہ الگ الگ شعبہ کے سوالات ہیں؟ ان میں سے اکثر سوالات میڈیکل سے جڑے ہوئے ہیں جو کہ ایک میڈیکل ڈاکٹر بتا سکتا ہے اور زیادہ تر سوالات بے بنیاد ہیں جن کے پوچھے جانے کی کوئی منطق ہی نہیں بنتی ہے مگر حجازی صاحب منبر کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اور صرف ایک فرقہ کی کتابوں کے مطالعہ کی بنیاد پر آل راؤنڈر بن کر ہر قسم کا جواب اور نسخہ بتا رہے ہوتے ہیں۔

آپ غور کریں کہ اگر سیلون کی کمائی حرام ہے تو پھر سیلون والوں کو کیا کرنا چاہیے اپنی روزی روٹی بند کر کے من سلوٰی کا انتظار کرنا چاہیے؟ ازدواجی حیثیت میں اپنی لائف کیسے گزارنی ہے اس کا فیصلہ پارٹنر زیادہ اچھے انداز میں لے سکتے ہیں اور معلومات کے اس دور میں اگر کوئی جان بوجھ کر الو بننا چاہے تو اس کا کیا کیا جا سکتا ہے، سائنس و ٹیکنالوجی کی برکات سے فیض یاب ہو کر اپنی زندگی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔ لیکن ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ ہم آج بھی عورت کو سیکس ڈول سے زیادہ اہمیت نہیں دیتے اسی لئے ہماری سوچ کا دائرہ اسی سوال کے گرد گھومتا رہتا ہے کہ عورت سے جماع کیسے کرنا ہے؟ سیکس زندگی کا جز ہے کل نہیں، چند لمحات کو انجوائے کرنے کے بعد باقی کے لمحات جیتے جاگتے انسان کے ساتھ کیسے گزارنے ہیں اس کا ہنر آنا چاہیے۔ زندگی ایک آرٹ ہے جو ایک مرد اور عورت کے برابر کنٹری بیوشن کے بغیر خوبصورت نہیں ہو سکتی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments