بیوی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دنیا کی وہ عورت جسے آپ کبھی امپریس نہیں کر سکتے وہ آپ کی بیوی ہے۔ اور دنیا کی وہ عورت جسے آپ فوراً متاثر کر سکتے ہیں وہ بھی بیوی ہی ہے مگر کسی اور کی۔

ہم مگر سمجھتے تھے کہ یہ مقولہ ہمارے باب میں فٹ نہیں بیٹھتا۔ بڑے بڑے موضوعات پر سنجیدہ سوال کر کر کے ہم نے اکثر و بیشتر سب سے زیادہ مرعوب آج تک صرف اپنی بیگم کو ہی کیا تھا۔ کیونکہ دیگر تمام گرہستن عورتوں کی طرح ان بیچاری نے کبھی ہمارے تبحر علمی کی گہرائی کی کراس ویریفیکیشن نہیں کی تھی۔ ایسا نہیں ہے کہ انہیں ہماری ہر بات آمنا و صدقنا ہے بلکہ ان کی طبیعت ادھر نہیں آتی۔

ان کے نزدیک کتابیں وقت کا ضیاع ہیں۔ جتنی دیر انسان کتابیں پڑھنے میں برباد کرتا ہے اتنا وقت پیسہ کمانے کے لئے کسی عملی کاروبار میں صرف کرے تو ایک درجن عرفان صدیقیوں کو ہائر کر کے ”اللہ تعالی ’کے فضل و کرم“ سے بڑی بہترین تقاریر و کتب لکھوا سکتا ہے۔ عطا الحق قاسمیوں کو پی ٹی وی کا چیئرمین لگوا سکتا ہے اور جاوید چوہدریوں سے اپنے حق میں پورے پورے پروگرام کروا کر اپنے بچوں کو ہمہ وقت باوضو اور اپنے سمدھی کو درود پاک کا ورد کروا سکتا ہے۔

آپ بے حد پریکٹیکل خاتون ہیں۔ آپ کے نزدیک کتابوں کی صدی کب کی تمام ہوئی۔ اکیسویں صدی میں کتابیں بالکل اسی طرح ارریلیونٹ ہیں جیسے یوول نواح حراری کے لئے مذاہب عالم۔

کبھی کبھی ہماری قابلیت کا امتحان لیتی رہتی ہیں۔ ایک دن بولیں
اتنا مطالعہ کرتے ہو، یہ تو بتاؤ کہ ذہانت کے کتنے درجے ہوتے ہیں؟

بس ہمیں موقع مل گیا۔ ہم نے مادام مونٹیسوری سے لے کر سگمنڈ فرائیڈ تک اور ڈینئیل گولیمین سے لے کر کارل سیگن تک کے پرمغز مضامین سے ایک طولانی بھاشن جاری کیا۔ انہوں نے پندرہ بیس منٹ تحمل سے برداشت کیا آخر میں سر پیٹ کر چنگھاڑیں

”خلاصہ میرے باپ خلاصہ“
ہم نے کہا تین درجے ہیں۔
فطین
ذہین
غبی۔
کہنے لگیں ٹھیک ہو گیا غبی صاحب۔ بہت شکریہ۔

آج اور ابھی فقیر کے کپڑے استری کر رہی تھیں، فرمانے لگیں آپ یہاں بیٹھ کر کوئی کتاب چاٹ لو میں اتنی دیر کپڑے استری کر لوں۔ مجھے اکیلے ڈر لگتا ہے۔

ہم بیٹھ گئے۔ اچانک بولیں۔

”یہ استری کی نچلی سطح پر جو ایک کٹاؤ سا بنا ہوتا ہے اس کا کیا کام ہے؟ آخر یہ کسی وجہ سے بنایا گیا ہو گا؟“

ہم نے نظریں اخبار سے اٹھائیں تو فقط زبان سے اتنا ہی نکلا
”گڈ کوئسچن“ ۔

یہ الفاظ عموماً اس وقت ہمارے منہ سے نکلتے ہیں جب ہمیں سوال کا جواب قطعی معلوم نہ ہو۔ ہم سوچ میں پڑ گئے کہ کیا کہانی گھڑیں۔

کہنے لگیں،
نہیں معلوم؟
ہم نے کہا نہیں نہیں۔ سوچتے ہیں۔ ساتھ ساتھ شرمندہ ہوئے جاتے تھے۔
آخر خوب سوچ کر کہا
”بھئی ہو سکتا ہے کہ استری کو کسی سٹینڈ پر ٹکانے کے واسطے بنایا ہو۔“

”بھلا اس میں اتنی جگہ ہے بھی سہی کہ یہ استری کا وزن اٹھائے۔ عقل کے ناخن لو۔ سٹینڈ کا اس سے کیا لینا دینا۔“

آخر ہچکچاتے شرماتے ہم نے ہار مان لی۔
کہنے لگی ادھر آؤ ہم دکھائیں اس کا مقصد۔
اور پھر یہ دوسری تصویر میں بٹن پر رکھ کر بتایا کہ اس کا مقصد یہ ہے۔
ہم نے واہ کہہ کر داد دی۔
انہوں نے جواباً
”ایڈا توں فطین“ کہہ کر موصول کی۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments