نوبل انعام یافتہ ادیب البرٹ کیمو کے دو آدرش۔ سچ اور آزادی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

البرٹ کیمو ایک لکھاری ہی نہیں ایک فلاسفر ’ایک جرنلسٹ اور ایک سماجی کارکن بھی تھے۔ وہ نومبر 1913 میں فرنچ الجیریا میں پیدا ہوئے۔ وہ ابھی ایک سال کے ہی تھے کہ ان کے والد کا انتقال ہو گیا اور وہ غربت کے سائے میں پلے بڑھے۔

کیمو کو نوجوانی سے ہی ادب اور فلسفے میں گہری دلچسپی تھی۔ وہ یونانی فلسفیوں کے ساتھ ساتھ دوستاوسکی ’فرانز کافکا اور فریڈرک نیٹشے جیسے لکھاریوں سے بھی متاثر تھے۔

کیمو جوانی میں کمیونسٹ تحریک کے ساتھ وابستہ ہو گئے لیکن جب انہوں نے روس میں کمیونسٹ انقلاب کے نتائج دیکھے تو اس نظام سے دلبرداشتہ ہو گئے۔

جب جرمنی نے فرانس پر حملہ کیا تو کیمو زیر زمین جرنلسٹ بن گئے اور ایک فرضی نام سے ایک احتجاجی اخبارCOMBATمیں لکھنے لگے تا کہ گرفتاری سے بچ سکیں۔ اس فرضی نام سے انہوں نے۔ ایک جرمن دوست کے نام چار خطوط۔ لکھے جس میں انہوں نے آزادی و خود مختاری کے بارے میں اپنے خیالات و نظریات رقم کیے۔

کیمو کو جن تخلیقات کی وجہ نوبل کا ادب کا انعام ملا ان میں THE STRANGER AND THE PLAGUEناول اور مقالوں کے مجموعے THE MYTH OF SISYPHUS AND THE REBEL سر فہرست ہیں۔ میں آپ کی خدمت میں البرٹ کیمو کی دسمبر 1957 کی نوبل تقریر کی تلخیص و ترجمہ پیش کرنا چاہتا ہوں۔ فرماتے ہیں

’ میں نوبل کمیٹی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں جس نے مجھے اس انعام کے قابل سمجھا۔ ہر انسان اور خاص طور پر ہر لکھاری کے دل کے نہاں خانوں میں یہ خواہش کہیں چھپی ہوتی ہے کہ اسے جانا اور پہچانا جائے لیکن یہ انعام میری ادبی کاوشوں سے کہیں زیادہ ہے۔ میں اس تکلیف دہ سچ سے بھی واقف ہوں کہ میں جس جبر کے عہد میں زندہ ہوں اس میں بہت سے مجھ سے بہتر ادیبوں کو خاموش کر دیا گیا ہے۔

میں ایک ایسے ملک اور ایک ایسے دور میں سانس لے رہا ہوں جہاں چاروں طرف دکھی انسان دکھائی دیتے ہیں۔ میں ایک فنکار اور ایک لکھاری ہونے کے ناتے ان کے دکھوں کو کم کرنے کی کوشش کرتا ہوں کیونکہ میں ادب اور فن کے حوالے سے ایک انفرادی اور اجتماعی نظریہ رکھتا ہوں اور آج وہ نظریہ آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔

میں ایک فنکار ہوں۔ فن میری مجبوری ہے۔ یہی فن مجھے دوسروں انسانوں اور ان کے دکھوں اور سکھوں کے ساتھ جوڑتا ہے۔ ایک لکھاری جانتا ہے کہ وہ عام لوگوں سے مختلف ہوتے بھی ان جیسا ہے۔ ہر فنکار انفرادی خواب بھی رکھتا ہے اور اجتماعی خواب بھی۔ اسی لیے ادب عالیہ تخلیق کرنے والے لکھاری زندگی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اس پر فتوے نہیں لگاتے۔ عظیم لکھاری اور فنکار عوام کو امید دلاتے ہیں کہ ایک دن سچ اور انصاف کی فتح ہوگی۔ عظیم لکھاریوں کی ہمدردیاں ظالموں اور جابروں اور آمروں کی بجائے مجبوروں ’محروموں اور مظلوموں کے ساتھ ہوتی ہیں۔

ایک لکھاری اپنی تنہائی میں اپنے خیالات اور جذبات اور تصورات اپنے ذہن سے کاغذ پر منتقل کرتا ہے لیکن وہ اس تنہائی کی خاموشی میں دور دراز کے ان اجنبی لوگوں سے جڑا ہوتا ہے جنہیں جبر کی طاقتوں نے خاموش کر دیا ہوتا ہے۔ وہ ان کے خاموش دکھوں کو اپنی تخلیقات کے لفظوں میں ڈھال کر دوسروں تک پہنچاتا ہے۔

لکھاری کا کام بڑی ذمہ داری کا کام ہے۔ ہر لکھاری کے کندھوں پر دوہری ذمہ داری ہے۔ اس کے سامنے دو آدرش ہوتے ہیں۔ سچ اور آزادی۔ اگر ایک لکھاری ان دو آدرشوں سے وفادار ہے تو اسے ان مقاصد کے لیے انتھک محنت کرنی پڑتی ہے اور وقت آنے پر قربانی دینی پڑتی ہے۔

اگر لکھاری جینوئن ہے مخلص ہے اور سچ اور انصاف کے ساتھ وفادار ہے تو اس کی تخلیقات اسے عوام سے جوڑ دیتی ہیں۔ وہ عوام کا ہمدرد بن جاتا ہے اور ان کے دکھوں کو سکھوں میں بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔ جینوئن لکھاری جھوٹ سے دور رہتا ہے اور جبر کے خلاف آواز اٹھاتا ہے۔

میری نسل کے انسانوں پر بڑے سخت دن گزرے ہیں۔ انہوں نے عالمی جنگوں کی تباہ کاریاں ’ہٹلر کا ظلم اور ایٹم بم کے خطرات دیکھے اور سہے ہیں۔ میرے لیے اس دور میں ایک لکھاری ہونا عزت اور فخر کی بات ہے تا کہ میں اپنی تخلیقات سے عوام و خواص کے دکھی دلوں میں امید کی شمع جلا سکوں۔

ہمارے عہد کے جبر اور ظلم نے بعض لوگوں اور لکھاریوں کو اتنا دکھی کر دیا کہ انہوں نے یاسیت کو گلے لگا لیا اور موت میں پناہ لی لیکن ہمارے دور میں ایسے لکھاری بھی ہیں جنہوں نے دوسرے جنم اور نئی زندگی کی آس دلائی۔ وہ موت اور مایوسی کے خلاف نبرد آزما ہو گئے۔ انہوں نے عوام کو بہتر زندگی کے خواب دکھائے۔

ہر نئی نسل اپنی پچھلی نسل سے بہتر زندگی کے خواب دیکھتی ہے۔ ہماری نسل کی کوشش یہ ہے کہ وہ اجتماعی خود کشی سے بچ سکے۔ ہماری نسل کی بدقسمتی کہ ہمیں خونی انقلابوں ’دیوانی ٹیکنالجیوں‘ مردہ خداؤں اور بوسیدہ نظریوں کا سامنا ہے۔ ہمارے عہد میں ایسے کم فہم رہنما بر سر اقتدار آ گئے ہیں جن کی رگوں میں محبت اور دانائی کی بجائے نفرت اور تعصب کا خون دوڑتا ہے۔ ہمیں ایسے حکمرانوں سے نبٹنا ہے اور عوام کو ایک پرامن زندگی کا خواب دکھانا ہے اور پھر اس خواب کو شرمندہ تعبیر کرنا ہے۔

میں اپنا نوبل انعام ان دوستوں ’ساتھیوں اور لکھاریوں کے نام کرتا ہوں جو سچ اور آزادی کے آدرشوں کے لیے دن رات محنت شاقہ سے کام لیتے ہیں۔ ہر مخلص اور سنجیدہ لکھاری جانتا ہے کہ سچ پراسرار ہے اور آزادی خطرناک کیونکہ وہ قربانی مانگتی ہے۔ ہم میں سے وہ کون لکھاری ہیں جو یہ قربانی دینے کے لیے تیار رہتے ہیں۔ میں بہت سے لکھاریوں کو جانتا ہوں جنہیں جبر کے خداؤں نے خاموش کر دیا ہے۔ میں ان کا مقروض ہوں۔

یہ میری خوش بختی کہ میں آزادی سے لکھ سکتا ہوں لیکن میں ان ساتھیوں کو بھلا نہیں سکتا جنہیں لکھنے کے امکانات سے محروم کر دیا گیا۔

میں یہ انعام ان ساتھیوں کے نام کرتا ہوں جنہیں اپنے آدرشوں کی وجہ سے خاموش کر دیا گیا اور انہوں نے اپنے سچ اور ہماری آزادی کے لیے ان گنت قربانیاں دیں۔

میں ایک دفعہ پھر نوبل کمیٹی کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں اور سب کے سامنے اپنے سچ کے ساتھ وفاداری کا وعدہ کرنا چاہتا ہوں وہی وعدہ جو ہر جینوئن لکھاری ہر روز اپنی تنہائی میں اپنے ساتھ کرتا ہے۔ ’

۔ ۔ ۔ ۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر خالد سہیل

ڈاکٹر خالد سہیل ایک ماہر نفسیات ہیں۔ وہ کینیڈا میں مقیم ہیں۔ ان کے مضمون میں کسی مریض کا کیس بیان کرنے سے پہلے نام تبدیل کیا جاتا ہے، اور مریض سے تحریری اجازت لی جاتی ہے۔

dr-khalid-sohail has 482 posts and counting.See all posts by dr-khalid-sohail

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments