یہ شلوار ٹرینڈ کیا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں شلوار ٹاپ ٹرینڈ بن گیا ایک ٹک ٹاکر علینہ خان نے گھر کی چھت کے اوپر شلوار اتار کر کیٹ واک کرنے کی ایک ویڈیو اپلوڈ کر دی جو بہت زیادہ وائرل ہو کر ٹویٹر پر ٹاپ ٹرینڈ کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔ یہ ٹک ٹاکر اٹھارہ ہزار فالورز کو اپنی توجہ کے سحر میں مبتلا کر چکی ہیں اور یہ سلسلہ رفتہ رفتہ دراز ہونے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ سوشل میڈیا کی خبروں کے مطابق لوگوں میں غم و غصہ کی لہر دوڑ چکی ہے۔

اب یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ غصہ کی لہر کے ساتھ بھی یہ ویڈیو پاکستان میں ٹاپ ٹرینڈ کیسے بن گئی؟ جب ہم انٹرنیٹ پر سرچنگ کر رہے ہوتے ہیں یا ٹی وی پروگرام دیکھ رہے ہوتے ہیں تو جو چیز ہمیں اچھی نہیں لگتی اسے سامنے سے ہٹا دیتے ہیں یا ریموٹ کے ذریعے سے چینل تبدیل کر لیتے ہیں۔ ایسا کرنے کا اختیار آپ کے اپنے ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ پورن سائٹس یا فحش فلم آپ پر کوئی جرمانہ یا ٹیکس وغیرہ نہیں لگاتی اگر آپ اسے نظر انداز کر کے آگے بڑھ جائیں گے۔

انسانی نفسیات کو انسان سے زیادہ کمپیوٹر جاننے لگتا ہے جو آپ کی ہسٹری کے مطابق آپ کو موسٹ ٹرینڈنگ دنیا میں گھسا دیتا ہے اور آپ سر پکڑ کر بیٹھ جاتے ہیں کہ کیا دیکھیں اور کیا چھوڑیں۔ بات کرنے کا مقصد یہ ہے کہ اس ویڈیو کو دیکھنے والی نگاہیں ملی ہیں تو یہ ٹاپ ٹرینڈ پر پہنچی ہے۔ ہم ایک ایسی ذہنیت کے مالک ہیں جو تھیٹر میں سیکسی ٹھمکے پیسے دے کر لطف اٹھانے کے بعد باہر نکل کر اس ہجوم کا حصہ بھی بن جاتے ہیں جو تھیٹر کو بند کرنے کا مطالبہ لے کر سڑکوں پر ببانگ دہل اس قسم کے نعرے لگا رہے ہوتے ہیں کہ (فحاشی بند کرو، ننگا ڈانس بند کرو، رنڈی خانہ بند کرو، وغیرہ) علینہ کو اتنے زیادہ فالوورز چند سیکنڈ میں اسی معاشرہ سے ملے ہیں جس کی اصلاح کا ٹھیکہ چند باغیرت لوگوں نے اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھایا ہوا ہے۔

اب رہا یہ سوال کہ علینہ کا اس ویڈیو کو بنانے کے پیچھے مقصد کیا ہے یا وہ یہ سب کچھ توجہ حاصل کرنے کے لیے ایک مائنڈ گیم کے طور پر ایک شارٹ کٹ ٹائپ سٹنٹ کر رہی ہے ماجرا کچھ بھی ہو مگر ہمارے عوام کا خام میٹیریل جو ان کے ذہنوں میں لاوے کی طرح پکتا رہتا ہے وہ ایک ٹیلنٹ بن کر سامنے آنے لگا ہے۔ یہ وہ ذہنیت ہے جو ان جیسے واقعات پر اپنے پرہیز گارانہ اور عالمانہ قسم کے خیالات کا اظہار کرنے کے لیے بالکل تیار رہتے ہیں۔ انہوں نے اس ٹرینڈ کی ویڈیو بار بار انجوائے کرنے کے بعد ٹویٹر پر اپنے فرمان جاری کرنا شروع کر دیے ہیں۔ سب سے پہلے تو وقار ذکا نے کیا کہا ہے وہ جان لیجیے۔

( مذہب میں اس چیز کی بالکل گنجائش نہیں ہے اور اگر آپ کے گھٹنے اتنے زیادہ کالے ہوں کہ جنہیں دیکھ کر الٹی ہونے کو ہو تو آپ کو شلوار اتار کر ایسی حرکات نہیں کرنی چاہیے )

وقار ذکا نامی اس بندے کو آپ یوٹیوب پر سرچ کر لیجیے نیکڈ پوز میں آپ کو لڑکیوں کے ساتھ سویمنگ کرتے ہوئے نظر آئے گا۔ غیرت بریگیڈ کا حصہ ہونے کے باوجود اس کی شریف نگاہ اتنی تیز ہے کہ لڑکی کے گھٹنوں تک کو غور سے دیکھ کر اپنی رائے بھی دے ڈالی۔ ہماری منافقت کا ذرا لیول چیک کریں کہ برائی کی عمیق نظری میں بھی ہمارا کوئی ثانی نہیں ہے۔ ایک صاحب نے ٹویٹر پر یہ جملے کسے کہ (شلوار پہن لو کہیں نازک جگہ میں ڈینگی مچھر نہ گھس جائے ) ایک صاحب نے کور فل کینڈی اور کورلیس کینڈی کی تصویر شیئر کر ڈالی اور کہا کہ جس طرح کھلی کینڈی پر چیونٹیوں نے حملہ کیا ہوا ہے بالکل اسی طرح ننگے جسم کو مرد بھنبھوڑتے ہیں۔

اس کے علاوہ اتنے زیادہ اخلاقی بھاشن چل رہے ہیں جن کا تذکرہ کرنا یہاں مناسب نہیں مگر علینہ نے ایک بات تو صاف کر دی کہ جس معاشرے کا ہم حصہ ہیں وہاں کیا چلتا ہے؟ اس معاشرے میں موسٹ ٹرینڈنگ کیا چیز ہے؟ اس نے چند گھنٹوں میں ہزاروں فالورز حاصل کر کے ہمارے منافق معاشرے کا حقیقی چہرہ دکھا دیا۔ اس نے برائے نام قسم کے اخلاقی ضابطوں کا چند سیکنڈ میں پردہ چاک کر کے رکھ دیا۔ اس نے چند لمحوں کے لیے اپنی شلوار اتار کر ہماری پرہیز نگاہی کو تار تار کر کے ہمارا حقیقی چہرہ ہمارے سامنے کر دیا۔

اب رہا یہ سوال کہ علینہ نے ایسا کیوں کیا؟ اس کے پیچھے اس کے مقاصد کیا ہیں؟ یہ ہم وقت پر چھوڑ دیتے ہیں کچھ دنوں تک سب کچھ واضح ہو جائے گا۔ یہ بات طے ہے کہ کسی بھی قسم کے انتہا پسندانہ رویے چند دنوں میں نہیں بنتے بلکہ اس کے پیچھے صدیوں کا جبر ہوتا ہے۔ تم کیا جانو عورت کے اس ڈر کو جس کے ساتھ وہ پیدا ہوتی ہے بلکہ یہ ڈر اس کی گھٹی میں شامل ہوتا ہے، یہ ڈر ہر اس عورت کا ہے جو اپنی زندگی کے ساتھ لڑ رہی ہے اور بڑے ہونے تک اسی ڈر کے ساتھ جینے کی اسے عادت سی ہو جاتی ہے۔

جب وہ عمر کی پختگی کی طرف بڑھتی ہے تو اسے اس بات کا ڈر ہوتا ہے کہ کہیں وہ اپنے ماں باپ کے لیے بوجھ نہ بن جائے۔ جب شادی ہوتی ہے تو اسے ڈر لگا رہتا ہے کہ سسرال والے اسے اچھے سے اپنائیں گے یا نہیں؟ شوہر کا پیار ملے گا یا نہیں؟ جب ماں بنتی ہے تو اسے پھر ایک اور لڑائی لڑنا ہوتی ہے اپنے بچے کی صحیح طور پرورش کرنے کی۔ جب ساس بنتی ہے تو پھر اور طرح کے ڈر کا سامنا کرنا پڑتا ہے، حالات سے لڑتے لڑتے عورت مر جاتی ہے مگر اس کی جنگ ختم نہیں ہوتی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب جنسی درندے معصوم بچوں کی موجودگی میں زبردستی شلوار اتار کر گینگ ریپ کرتے ہیں تو کیا اس وقت بھی اسی قسم کا ردعمل دیکھنے کو ملتا ہے؟ اس وقت تو معاشرتی منافق یہ کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ عورت رات کے وقت اکیلے گھر سے باہر کیوں نکلی، عورت نے بھڑکیلا لباس کیوں پہنا ہوا تھا۔ ہم عورت کو انسان سمجھنا کب شروع کریں گے؟


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments