اقتدار کا نیلام گھر اور پھولوں کے ہار


اگر باز آ جائیں تخم ریزی سے تو اگلے دو تین عشرے ہم اس فصل کو کاٹنے سے بچ سکتے ہیں بصورت دیگر جو مزاج یار میں آئے ہمارا کیا ہے روز مرتے ہیں روز جیتے ہیں تاہم تیرا کیا بنے گا کالیا، جتھوں کے ہاتھ زمام کار آ گیا ایسے ہی پورے کا پورا جیسے مغرب کی جانب ہمسائے میں، تو اس دھرتی پر بنے محلات کو خالی چھوڑنے سے پہلے کتنے لوگوں کو ہنگامی طور پر ہیلی پیڈ تیار کرنے پڑیں گے۔ ہماشما کی بابت مت سوچیں امریکی جہازوں سے لٹکنے کی مشق ہو یا ائر پورٹ پر عالم بالا کو اڑانے کی کارروائی موت سے عام آدمی کو کب رستگاری ہے۔

پرانی سیاسی قیادت سے جان چھڑانے کے شوق میں جس نئی پود کی پرورش کی جا رہی ہے وہ صرف ہمارا مسئلہ تو ہو گا نہیں، دنیا کو بھی ہول لگا رہے گا۔ افغانستان میں کیا تھا صرف جان پر اور جانوں سے کھیلنے کے شوقین اور پہاڑوں کی ایک نہ ختم ہونے والی پناہ گاہیں، یہاں سے خود کو درپیش خطرات کا سدباب کرنے دنیا کیل کانٹوں سے لیس چلی آئی تھی کامیاب ہوئی یا ناکام یہ الگ موضوع ہے فی الحال تو یہاں کے شاگردوں اور ان کے ”استادوں“ نے جو سبق ہمارے ہاں کے طفل مکتبوں کو پڑھانا شروع کیا ہوا ہے یہ نصاب لاگو ہو گیا تو ہول آتا ہے، صرف ہمیں نہیں دنیا کو ہم سے زیادہ کہ بہرحال افغانستان کے پڑوسی کے پاس موجود ایٹمی اثاثوں کے خطرے میں پڑ جانے کی فکر ہم سے پہلے دنیا کو لگ جاتی ہے۔

یہ بدگمانی تو ہونی ہی نہیں چاہیے کہ کابل سے براستہ پش اور اسلام آباد تک رسائی کے خواہش مندوں کو کھلی چھوٹ دی جائے گی تاہم اس سے انکار بھی کوئی کیسے کرے کہ بیچ اس شہر کے جہاں سے حاکم حکومت کرتے ہیں دیدہ دلیری سے سفید پرچم لہرانے والوں نے ادھر ہم ادھر تم کے نعرے لگائے اور بات ایک مرتبہ پھر منت سماجت تک پہنچی۔ یہ کابل سے چلنے والی ہواؤں کا اثر ہی ہے کہ ہمارے ہاں صاحب الرائے خواتین و حضرات کو اپنے اگلے دو اڑھائی عشرے یرغمال نظر آرہے ہیں۔

نعشیں وہ بھی درجن بھر کے قریب اٹھانے کے بعد کامیاب مذاکرات کا ثمر یہی تھا کہ جیل سے رہا ہونے والوں کو صیاد بھی مبارک باد دینے دوڑے چلے ہیں اور سنا ہے کہ اب دو نہیں کئی جماعتوں کے درمیان مبارک باد دینے کا مقابلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ اپنے گزشتہ بلاگ میں اگلے سیاسی مرحلے کی تیاری کے ضمن میں عرض کی تھی کہ دو تہائی اکثریت کے نیلام گھر میں شرکت کی خواہش مند بہرحال تمام سیاسی جماعتیں ہیں اور اب یہ بھی راز نہیں رہا کہ قانون کی دھجیاں اڑانے کے بعد اس کے رکھوالوں کی نعشیں گرا کر سیاسی عمل میں شرکت کا جو اجازت نامہ بزور بازو لیا گیا ہے یہ مستقبل کے اس سیاسی سیٹ اپ کی تیاری ہی ہے جو نئے عمرانی معاہدے کی راہ ہموار کرے گا بلا سے عمران خانی کی چاہے اس میں گنجائش ہی نہ ہو۔

مذہبی سیاسی جماعتیں پنجاب سے نئی سیاسی اٹھان میں اپنے لئے ایک بھرپور موقع دیکھیں گی، جذبات سے کھیلنے کے لئے ان کے پاس ایک سے بڑھ ایک نعرہ پڑا ہے، ہماری اس سیاسی لاٹ کو کبھی کسی نئے نعرے کی ضرورت ہی نہیں پڑی، عدم سے وجود میں آتے ہیں یہ ہمیں اپنی من پسند تربیتی عمل سے گزارنے پر بضد ہیں۔ کار سرکار میں مصروف جماعت نے تو اپنے پتے شو کرنے شروع کر دیے ہیں، اس کی پیش قدمی دیکھ کر بڑے میاں نہیں تو چھوٹے میاں کو ضرور ہول آنے لگے ہیں وہ بھی سلسلہ جنبانی کی راہیں تلاش کر رہے ہیں کہ پنجاب ہاتھ سے گیا تو مولانا کا اچار بنانا ہے، آپ نے دیکھا مولانا سے چھوٹے میاں بدک جانے کا پھر بہانہ ڈھونڈ رہے ہیں۔ نیلام گھر میں شرکت کی انہیں جتنی خواہش ہے شاید ہی اپوزیشن جماعتوں میں اور کسی کو ہو۔

ادھر مولانا نے بہت کوشش کر لی کہ وہ دو انتہاؤں میں توازن قائم کیے کھڑے رہیں نہ تو بندوق اٹھانے پر تیار ہوئے نہ ہی کبھی لبرل ازم کے پرچم برداروں کے رنگ میں مکمل رنگے نظر آئے۔ اب شاید وہ بھی اکتا گئے ہیں، سابق صدر کے بعد ان کو مسلم لیگ کی سیاست میں بھی چالاکیاں نظر آنے لگی ہیں، سیاست نام ہی چالاکی کا ہے تاہم مولانا صاحب حکومت سے دو دو ہاتھ کرنے کے لئے جس قافلے کا ہراول دستہ بنے ہوئے ہیں وہ ان ہی سے ہاتھ کا ”موقع“ ڈھونڈ رہے ہیں، ایسے میں مولانا بدک گئے تو کہاں جائیں گے، پنجاب میں انہیں فطری اتحادی ہاتھ آ جائے تو شاہ احمد نورانی کے فرزند کی انہیں کیا ضرورت؟

اپنا اور ہمارا مستقبل خدائی فوجداروں کے ہاتھ میں سونپنے کو ، کیا اے این پی اور پیپلز پارٹی بھی نیلام گھرمیں بولی دیتی نظر آئیں گی، بلاشبہ دریا پار کرنے کے بعد انہیں ایک اور دریا کا سامنا ہے، ان کے لباس اب تک سرخ رو ہیں خون آلود نعشیں دفنانے کے بعد تاہم سپر ڈال دینے کا وقت کہاں آیا ہے۔

خیبرپختون خوا میں عوامی نیشنل پارٹی نے قربانی کی جو لازوال داستان رقم کی ہے کسی جماعت کی قیادت بھی اس صوبے کے لوگوں پر پڑنے والی افتاد کے وقت اس کی طرح وار اپنے سینے پر سہتی نظر نہیں آئی تاہم ان عہد ساز قربانیوں کو دوام بخشنے یا سیاسی طور پر کیش کرنے کے لئے اس جماعت کی موجودہ قیادت ذہنی طور پر یکسو نظر نہیں آ رہی۔ کسی زمانے میں قدآور شخصیات کی حامل یہ جماعت اپنی بقا کی جنگ ہی نہیں لڑ رہی اسے اپنے نظریے اور منشور کا تحفظ بھی کرنا ہے۔ اپنے نظریے یا منشور کے خلاف اس کا ”خدائی فوجداروں“ سے ہاتھ ملانا مشکل ہو گا تاہم ان کے بیانیے کی مزاحمت وہ کر پائے گی ایک اور دریا کو پار کرنے کی سکت اس جماعت کی نئی پود کے ہاتھوں میں ہے یہ ہم نے دیکھنا ہے۔

قومی سطح پر پیپلز پارٹی ہی اپنے لبرل بیانئے کے ساتھ مزاحمت کی علامت ثابت ہو سکتی ہے، اس کی تاریخ بھی قربانیوں سے عبارت ہے، تاہم دیکھا گیا ہے کہ خیبر پختون خوا میں اس جماعت کی مقامی قیادت اپنے نظریے کے خلاف اس سیٹ اپ سے بھی ایڈجسٹمنٹ کی راہیں تلاش کرتی پھرتی ہے جو اس کے منشور اور قیادت کو اپنی قربان گاہ کی بھینٹ چڑھانے کا شدت سے خواہش مند ہے۔ یہ ایڈجسٹمنٹ اگر اپنی بقا کے لئے ضروری بھی ہے تو اس بیانیے سے جان نکالنے کا باعث بھی بن رہی ہے جو بھٹو نے پھانسی کا پھندا چوم کر اپنایا تھا اور جس کے لئے بے نظیر بھٹو اپنے باپ کی حقیقی وارث ثابت ہوئیں تھیں۔ اب یہ وراثت پیپلز پارٹی سنبھالے گی یا اس نے بھی پھولوں کا ہار لے کر مبارک باد کے لئے جانا ہے؟

Facebook Comments HS