اسیر فیس بک کا گریہ

رات کافی بیت گئی تھی جب میری آنکھ کھلی۔ دماغ کی تختی پر کچھ ابھر رہا تھا اور پھر یک دم مولانا اکبر الہ آبادی کا شعر کوندا۔ جسے میں نے دیوار مہرباں پر چپکایا اور آنکھیں موند کر خواب خرگوش میں چلا گیا۔ صبح کو جب کار جہاں سے فرصت ہوئی تو حیرت کا گھونسا لگا۔ دیوار مہرباں کا نام تھا نہ نشان تھا۔ جیسے میری برقی دیوار کا کوئی ٹھور ٹھکانہ ہی نہ ہو۔ جانے کیوں زنگر چاچا کی دکان برقعہ میں چھیچھڑے کھا رہی تھی۔
ڈھونڈ ڈھانڈ کے تھکا تو ادھر ٹاپا ٹوہیا، ادھر تحقیق کی، ادھر تفتیش کی، کنج کاوی کا کوئی فائدہ نہ ہوا تو پریشانی نے آن گھیرا، خدایا! معاملہ کیا ہے۔ ابھی ٹھنڈی رات کو جب میں نیند سے بیدار ہو کر اس سمت بڑھا تھا تو اک نازنین داغ کا شعر گنگنا رہی تھی۔ ”شب وصال ہے گل کر دو ان چراغوں کو“ ۔ کافی دیر اس کی کومل سی آواز میں کھویا رہا پھر میں نے جلتی سکرین گل کر دی تھی۔ اب خدا معلوم میری برقی دیوار کہاں کھو گئی۔
اک چاتر کا دروازہ کھٹکھٹا کر معاملہ گوش گزار کیا تو ڈاڑھی کھجاتے ہوئے بولا: ضرور تمی نے پاپ کیا ہو گا۔ گھاگ آدمی ہو عین ممکن ہے کسی ایسی پوسٹ پر نیلا نشان دیا ہو جو برگر چاچا کے موڈ کے خلاف ہو۔ ناہیں، کا ہیولا میرے منہ سے نکلا اور سر نفی میں ہلنے لگ گیا۔ ایسا ہوا ہی نہیں۔ دوسرا گیانی جو اس بات چیت پر کان دھرے ہوئے تھا۔ کہنے لگا تمہارے آبلہ ہائے دہن کو آرام نہیں۔ یقیناً کوئی منہ سے کوئی ایسی بات پھوٹ گئی ہوگی جس پر تمہاری دیوار گرا دی گئی ہے۔
جب میں نہ مانا تو ایک نے کہا تم میں لچپن ہے، فاسق آدمی ہو ضرور افراط شوق میں کسی چینچل کی پائے کوبی پر واہ واہ کر گزرے ہو گے جو والیان فیس بک پر گراں گزری۔ پر میں نے تو کسی کا تھرکنا، پھڑکنا نہیں دیکھا تھا۔ پھر تم ہو بھی تو ”اخیر پسند“ ضرور کسی جگہ کمنٹوا کیا ہو گا۔ جس پر تمہیں قید الم میں رکھا گیا ہے۔ یا ممکن ہے تم نے دیوار بہ دیوار رہنے والے ”پٹھان ودیارتھی“ کے بارے کچھ لکھا ہو گا۔ یا کچھ پسند کیا ہو۔
ایک سن تمیز کو پہنچے ہوئے شخص نے تو حد ہی کر دی۔ کہنے لگے اور پہنو منٹو میاں کی جوتی۔ ضرور زور شباب کے ہاتھوں اسیر ہوئے ہو گے۔ لامحالہ بڑھتی جوانی میں صحبت داری پر کچھ لکھا ہو گا جو جنسی یا شہوانی جذبات کو ابھارنے کے زمرے میں آیا اور تمہیں قید کر دیا ہے۔ میں حیرت کا مجسمہ بنا انگلی منہ میں دابے سوچتا رہا۔ ایسی کوئی بھی بات نہیں ہوئی تو میری دیوار گریہ گئی کہاں؟ ضرور جوانی کے زور آور تقاضوں کے بوجھ تلے دبا ہوں مگر ایسا بھی نہیں کہ اشتہار بانٹتا پھروں۔ کوئی ایسی حالت ڈولت نہیں، چلت پھرت نہیں پھر قدغن کس باب میں لگی۔
جب سمجھ دانی میں کچھ نہ اترا تو سراسیمہ سا سوچتا رہا کہ معمہ کیسے حل ہو گا۔ آخر اک بھدی دان نے راہ سجھائی کہ میاں جو ہوا ہو گیا۔ ممکن ہے کچھ ہوا ہی نہ ہو۔ لیکن مجاور نے جمع تفریق کا سبق پڑھ رکھا ہے۔ جسے چاہے آزادی دے جسے چاہے قید کر دے۔ وجہ ناتمام ہو یا ازدحام ہو۔ اب بس اسے صفائیاں دے۔ رسوائی سے نجات پا اور اپنی دیوار حاصل کر۔ اس کے بعد مجاور کے روبرو پیش ہوا، عذر خواہی کا ٹوکرا جناب کے سر پر انڈیلا اور جان کی امان پائی۔ کورے کاغذ پر لکھے عرض داشت کا جواب دیا اور اپنی دیوار کے حصول میں کامیاب ہوا۔
میری کوئی غلطی تھی نہ حرکت، بس معاملہ یہ تھا کہ کچھ فکری دانشوروں کی طرح مجاور کے مقعد میں بھی جانوروں کی چوتھی قسم کے کسی تند مزاج کا زہر تھا۔ یوں ہی گوکھا کن کیڑے نکالنے میں خوش رہتا ہے۔ تو یہ مورکھ بھی خوامخواہ خجل خوار کرتا ہے۔ اس سب سے نجات ملی تو استحضار ہوا کہ بچھڑا کھونٹے کے بل ناچتا ہے۔ القصہ مختصر کہ میں چار دیواری کے بیچ قید عناصر سے آزادی پا چکا ہوں۔ سو جانو! میں تمہاری انگیا کی چڑیا اڑانے کو آ گیا ہوں کہ اب شام غم کی کوئی قید نہیں ہے۔

