زاہد ڈار، شخصیت نہیں کیفیت

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

13 فروری، 2021 ء کو ہم لوگ جس وقت فیض کا جنم دن یاد کرنے میں مصروف تھے ایک دل خراش خبر ہماری سماعتوں سے ٹکرائی اور اس التباسی (virtual) دنیا میں ہماری نظر کے پردوں کو دھندلا کر گئی کہ مادھو (زاہد ڈار) اب اس جہان فانی سے کوچ کر گئے ہیں۔ اس خبر کو خوب پھیلایا گیا اتنا کہ جتنا شاید زاہد ڈار کی زندگی میں اس کے وجود کو تسلیم نہیں کیا گیا۔ مگر وہ جو کام کرنے آیا تھا وہ کرتا رہا اور کبھی بھی اس سے رکا نہیں، باز نہیں آیا، روگردانی نہیں کی بلکہ ہمیشہ ہی اپنی زندگی کو ایک ہی ڈگر پر رکھ کر روز ایک ہی راستے سے خراماں خراماں اپنی اماں کی جگہ یعنی پاک ٹی ہاؤس پہنچتا اور اپنی مخصوص ٹیبل پر بیٹھ کر ہمیشہ کی طرح کسی نہ کسی کتاب کی ورق گردانی میں مصروف ہوجاتا۔

نہ روزگار کی پروا، نہ عائلی زندگی کے جھمیلے، نہ دفتروں کے دھکے، نہ نوکری کی کچھ کچھ بس کتاب پڑھی اور واپس اپنے گھر جا کر سو گیا۔ پیٹ خراب ایک بار ہوا اور اس کی دوا اس نے ساری زندگی کھائی۔ سفید پاجامے پہنے، موٹے شیشے کی عینک لگائی اور خود کو سب سے ذہین گردانا۔ یہ زاہد ڈار کی شخصیت ہے۔ نہ جھول نہ کھوٹ نہ ہی کسی دنیاوی عیش کی ضرورت۔

ان کے والد ایک ترقی پسند اور جدید ذہن کے مالک انسان تھے اور یہ رنگ ہمیں نا صرف زاہد ڈار کی زندگی، خاندان بلکہ اس کی شاعری میں بھی نظر آتا ہے۔

اپنی ڈائری لکھنے میں اس نے کبھی کوتاہی نہیں کی۔ ہمیشہ ہی لکھتا رہا اور وہ اپنی ڈائریوں میں اپنی زندگی کے معمولات شاید اتنے نہ درج کرتا ہو جتنا کہ وہ اپنی اندرونی وارداتوں کو کیا کرتا تھا۔ ایک جگہ لکھتے ہیں :

”انسان کا سب سے بڑا مسئلہ دوسرے انسانوں کے ساتھ کسی نہ کسی قسم کا رابطہ قائم کرنا ہے۔ کوئی انسان تنہا زندہ نہیں رہ سکتا جو عملی طور پر کسی دوسرے انسان سے رابطہ قائم نہیں کر سکتے وہ خیالی سطح پر ایسا رابطہ قائم کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ بہت سا فن اور ادب ایسی ہی کوششوں کا عکاس ہے۔ میں بھی حقیقت کی دنیا میں دوسرے انسانوں کے ساتھ رابطہ قائم کرنے میں ناکام رہا ہوں۔ میں تحریر کے ذریعے اپنی تنہائی کے حصار کو توڑ کر دوسروں تک پہنچنے کی کوشش کرتا ہوں۔ میری یہ کوشش کسی حد تک کامیاب بھی رہی ہے۔ لیکن پوری طرح نہیں میں اب بھی اکیلا محسوس کرتا ہوں۔ “

ان کی نظمیں جدید زندگی سے جڑے موضوعات کی بھرپور عکاسی کرتی ہیں۔ جن میں ہم جدید انسان کی ذہنی اور جذباتی کشمکش اور واردات کو بخوبی دیکھ سکتے ہیں۔ جدید موضوعات کی نمائندہ نظموں میں۔ درد کا شہر، 1965 ء سے۔ بیمار لڑکا، واپسی، زوال کا دن، سر میں طوفان، میرا پاگل پن، تنہائی، لڑکوں کا گیت، جنسی بھوک، درد کا شہر اور چوہا نامہ شامل ہیں۔ ان کی دوسری کتاب۔ محبت اور مایوسی کی نظمیں، 1972 ء۔ کی اکتالیس نظمیں ”عورت اور میں“ کے عنوان سے ہیں، اس کے علاوہ ایک طویل نظم، اکیس مترجمہ نظمیں اور آٹھ پابند نظمیں ہیں۔

زاہد ڈار نے مغرب کے بڑے شاعروں کو پڑھا اور تراجم کیے جن میں ہرمن ہیس، پابلونرودا، اوکتاویو پاز، ڈیلن ٹامس، تھیوڈور ریدکے اور عالمی ادب کی نمائندہ شاعرات میں فروغ فرخ زاد، امرتا پریتم، نیلا پدمنا بھان اور الزبتھ سارجنٹ شامل ہیں۔ ان کے ترجمے کا ایک خوب صورت نمونہ جو کہ انہوں نے جرگ سٹائنر کی نظم سے ترجمہ کر کے تخلیق کیا پیش خدمت ہے :

*زندگی کا نصاب*
لوگ ایک خوش گوار زندگی بسر کرنا چاہتے ہیں،
وہ ٹیلی وژن دیکھنا اور کار چلانا چاہتے ہیں،
وہ چاہتے ہیں کہ کسی سرسبز علاقے میں ان کا ایک مکان ہو،
لوگ دوسروں کے کام آنا چاہتے ہیں،
وہ چاہتے ہیں کہ کسی اندھے کو سڑک پار کرائیں،
جب کہ ایک اندھا آدمی سڑک پار کرنے کا خواہاں ہو۔
لوگ چاہتے ہیں کہ دوسرے ان کے بارے میں اچھی رائے رکھتے ہوں،
وہ چاہتے ہیں کہ ان کی زندگی درد سے خالی ہو،
اور طویل ہو،
اور مرنے سے پہلے
وہ تھوڑا سا لافانی ہونا چاہتے ہیں۔

موضوعات میں یاسیت، بے معنویت، تنہائی، عورت کے قرب اور دوری دونوں کا خوف، یاس پسندی اور مغربی شعراء کا شعوری یا لاشعوری تتبع شامل ہیں۔ انہوں نے کافی بے عمل زندگی گزاری اور بے عملی اکثر ہی انسانوں میں ایک خاص قسم کے بڑے پن کا اظہار پیدا کر دیا کرتی ہے۔ جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ لوگ سامنے آپ کی خوشامد اور پیٹھ پیچھے آپ کی بد خوئی کرتے ہیں یہی کچھ زاہد ڈار کے مقدر میں بڑے بڑے لوگوں اور ناموں سے استوار تعلق میں لکھا گیا۔ ان کی اس لا تعلق سی شخصیت پر پھبتیاں کسی جاتی ہیں، ان کی کمزوریوں کا مذاق اڑایا جاتا ہے مگر اپنے اندر کی واردات کو تو زاہد ڈار نے بہت پہلے ہی اپنی ڈائری کے اوراق میں پھیلا ڈالا تھا۔ لکھا:

*ایک معمولی آدمی*
سچ پوچھو تو دھرتی مجھ کو بھاتی ہے۔
انسانوں کی باتوں سے تو لالچ کی بو آتی ہے۔
سچ پوچھو تو میں کوئی انسان نہیں،
دنیا کی تہذیب و ترقی پر میرا ایمان نہیں۔
غفلت ہو،
یا اس جیون کو موت کہو،
موت بھلی۔
ایسی بستی کی گلی گلی
چاند ستاروں سے بہتر ہے
سچ پوچھو تو طوفانوں میں چکر کھاتی ناؤ مجھ کو غیر آباد کناروں سے بہتر ہے
اسی طرح اپنی ایک نظم میں وہ اپنی لاچارگی اور بے بسی میں اٹی اپنی کیفیت کو یوں درج کرتے ہیں :
*چوہا نامہ*
میں ہمیشہ کی طرح کیچڑ میں لت پت آج بھی اس
شہر کی بدبو بھری گلیوں میں پاگل بلیوں کی
کھوج میں بھوکا پھرا کرتا ہوں لیکن بلیاں
نہ جانے کس مکاں میں کس کی رانوں
میں چھپی بیٹھی پڑی سوتی ہیں اب تو راستے خاموش ہیں
بلیوں کی کیا خطا گر میں یہاں بھوکا مرا کرتا ہوں
اس میں بھولی بھالی بلیوں کی کیا خطا ہے لوگ
کہتے ہیں بیچاری نرم و نازک چھاتیوں اور چاند
جیسے چوتڑوں والی الف۔ کہنے کو گو ملبوس۔
ننگی بلیاں نردوش ہیں
اور اب اک سوچ میرے دل میں آتی ہے
جگاتی ہے مرے شیطان کو جو مجھ سے کہتا ہے
کہ میں یہ بے نیازی چھوڑ دوں
سوچتا ہوں کیوں نہ میں اس شخص یا اس چیز
یا احساس یعنی خوف کو جو میرے سر پر آسماں
کی شکل میں چھایا ہوا ہے ’اپنی نفرت کا
نشانہ کور بینی کا بہانہ کر کے ٹھہراؤں گراؤں توڑ دوں
کیوں نہ میں اس شہر کی ان محفلوں میں
جو مری دشمن بنی ہیں روز جایا کروں آگ برسایا کروں
کیوں نہ میں ہاں کیوں نہ میں ہٹلر۔ مگر یہ
قہقہوں کی لہر سی کیسی؟ کہیں وہ بلیاں۔
اف کس طرف جاؤں چھپوں میں کیا کروں

”درد کا شہر“ کا پیش لفظ جیلانی کامران نے لکھا۔ وہ بھی زاہد ڈار کی طرح نئی شاعری کی تحریک کے نمائندہ شاعر تھے۔ انہوں نے اس پیش لفظ میں زاہد ڈار اور نئی شاعری کی تحریک کو ڈیفنڈ کیا اور ساتھ ساتھ اس شاعری پر ترجیحات بھی پیش کیں۔ یوں رقم طراز ہوئے :

زاہد ڈار کا شعری فکر اپنے تمام تر ارادوں کے باوجود ’تجربے‘ ہی کی دریافت پر رک جاتا ہے، اور تجربے کی تقدیس کو دولت اور نعمت سمجھ کر اپنے لیے دیوانگی کا لباس پسند کرتا ہے۔ اور یہ لباس شاعر کو خودکشی سے بچاتا ہے، اور جب خود کشی کا خطرہ ٹل جاتا ہے، تو اس وقت شاعر اپنے ماحول کو ایسی نگاہ سے دیکھتا ہے، جیسے اجنبی لوگ انجانی بستیوں کی طرف دیکھتے ہیں۔ یہ انداز نگاہ ایک طرف ”چوہا نامہ“ کو پیدا کرتا ہے، اور دوسری طرف ”پیار کی خواہش“ پر زور دیتا ہے۔ ”

مزید لکھتے ہیں :

” زاہد ڈار کا مجموعہ“ درد کا شہر ”نئی نظم کی تحریک میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے، کیوں کہ اس مجموعے کی نظموں کے ذریعے شاعر نے جس رہائی کو قبول اور اختیار کیا ہے، وہ جزوی اشتراک سے پیدا ہوتی ہے، یعنی ایک طرف شاعر اپنی نظموں میں جس عروضی سلسلے کو استعمال کرتا ہے، وہ بات چیت کے سانچوں کے زیادہ قریب ہے، اور اسی اعتبار سے نثر کے فنی سانچے سے بھی دور ہے۔ اس مسافت کی بناء پر“ درد کا شہر ”کی نظمیں نہ تو قدیم شعری اور عروضی مزاج کی نمائندگی کرتی ہیں اور نثری نظموں کے زمرے میں شامل ہیں۔ “

دوسری کتاب ”محبت اور مایوسی کی نظمیں“ کا پیش لفظ غالب احمد نے لکھا ہے اور اس پیش لفظ کا عنوان ”حقیقت، عورت اور مجازی لباس“ ہے۔ غالب احمد زاہد ڈار کی شاعری کو اس نظر سے دیکھتے ہیں، لکھا:

”زاہد ڈار نے ان پچیس سالوں میں شاعری کا جو سفر طے کیا ہے، وہ اس لحاظ سے بھی اہم ہے کہ اس میں جدید نظم جن تجرباتی مرحلوں اور منزلوں سے گزری ہے ان کی نشان دہی بہتر طور پرکی جا سکتی ہے۔ جدید نظم نے اس ارتقائی دور میں زاہد ڈار کا نام برصغیر پاک و ہند کے اردو ادبی حلقوں میں صرف جانا پہچانا ہی نہیں بلکہ مانا اور منوایا ہوا ہے۔ زاہد ڈار ان شاعرو‍ کے جھرمٹ میں اردو ادب میں نمودار ہوا جو اپنے آپ کو جدید تر اردو نظم کا دبستان قرار دیتے تھے اور اردو ادب میں نئی نسل کے حوالے سے سے پہچانے جاتے تھے۔“

مایوسی، اداسی، تنہائی، لایعنیت اور جدید ادب سے جڑی تمام جدید روایات زاہد ڈار نے ایک مکالمے کی صورت میں یا پھر ایک روداد کے طور پر اپنی نظموں کا حصہ بنا ڈالیں۔ وہ جدیدیت کی طرح ہی اس بات پر نوحہ کناں رہے کہ ہم اپنی اصل، اپنی جڑوں، اپنی روایات اور اپنی مادر بھومیوں سے دور نہ ہوں، نہ انہیں نظر انداز کریں اور نہ ہی پس پشت ڈال کر خود شہری زندگی کی آسودگیوں کا شکار ہو جائیں۔ روحانیت اور اپنی مٹی سے محبت ان کے مطابق انسان کا اثاثہ ہونا چاہیے اور اصل سکون اسی سے جڑنے میں ہے۔ اپنی نظم ”واپسی“ کے دوسرے حصے میں لکھتے ہیں :

میں نے سب کو چھوڑ دیا۔ میں لوٹ آیا
خاک سے ناتا جوڑ لیا، میں گھر آیا
روٹی پانی دودھ اور مکھن
میرا جیون
نانک دیو اور بلھے شاہ
سیدھی راہ
مجھ کو مٹی پیاری ہے
پیارا ہر نر ناری ہے
دن بھر محنت کرتا ہوں اور راتوں کو سوتا ہوں
میل ملاپ میں خوش رہتا ہوں، تنہائی میں روتا ہوں

زاہد ڈار کے ہاں ایک بہت نمایاں اظہار عورت کی ذات ہے۔ جسے وہ اس قدر شدت سے بیان کرتے ہیں کہ یہ بھی نہیں سوچتے کہ ان کے دشمن ان کے اس اظہار کو بے چارگی یا پھر ان کی عدم دسترس کا نوحہ کہیں گے۔ وہ اپنا اظہار کرتے ہیں اور برملا کرتے ہیں کہ اپنی دوسری کتاب میں پوری چالیس نظمیں عورت کے نام کر ڈالیں۔ وہ بالکل روایتی طور پر ہی عورت کا تصور اپنے دماغ میں لیے ہوئے ہیں جس کے مطابق عورت صرف ایک مخالف جنس یا پھر جنسی آسودگی کا سامان ہے۔ اس کی کسی قسم کی کسی خوبی یا صفت سے انہیں کوئی علاقہ نہیں وہ صرف جسم ہے اور اس جسم سے زاہد ڈار کو ڈر بھی ہے کہ وہ اس کے قرب کی تاب بھی نہیں لا سکے گا۔ ”عورت اور میں“ کی پہلی نظم میں ان کی دو سطریں ملاحظہ ہوں :

اگر لڑکیاں نہ ہوتیں تو میں مر جانا پسند کرتا
اگر کوئی لڑکی مجھے ہاتھ لگا دے تو میری موت واقع ہو جائے۔

اس تضادی بیان پر میری طرف سے تو ان کے لئے داد بنتی ہے کہ وہ اچھے خاصے عقل مند انسان ہونے کے باوجود اس قسم کے خیالات کا اپنی شاعری میں برملا اظہار کرتے رہے۔

زاہد ڈار نے اپنی شاعری کو نئی شاعری کی تحریکوں کے ساتھ شعوری طور پر جوڑا یا نہیں مگر ان کے حلقہ احباب میں یہ تمام لوگ شامل ضرور تھے جو زاہد ڈار کے ہم پیالہ و ہم نوالہ تھے۔

انتظار حسین نے زاہد ڈار پر ایک خاکہ لکھا اور زاہد ڈار کو ”فالتو آدمی“ کہہ کر پکارا۔ یہ نام ایک دوست ہی دوسرے دوست کو دینے کا مجاز ہو سکتا ہے۔ اس خاکے میں ان کی شخصیت کے بارے میں انتہائی مضحکہ خیز اور ناقابل یقین قسم کے واقعات بیان کیے گئے ہیں۔ مثلاً

¶بغل میں کتاب داب کر گھر سے نکلتا ہے اور کچھوے کی چال چلتا۔
¶۔ ٹی ہاؤس میں تو زاہد ڈار اس طرح ہوتا ہے جیسے بتیس دانتوں کے درمیان زبان۔

¶۔ ان حالات میں اس کے سوا اور کیا چارہ تھا کہ چائے بیچ میں چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہو اور ٹی ہاؤس کے باہر فٹ پاتھ پر کھمبے سے لگ کر کھڑا ہو جائے۔

¶ویسے یہ وضاحت کرنا بہت مشکل ہے کہ زاہد ڈار کے لئے آدمی کس طرح برے سے اچھا یا اچھے سے برا بن جاتا ہے۔

¶واقعہ یوں ہے کہ زاہد ڈار کو کردار کشی کے فن میں کمال حاصل ہے۔
¶زاہد ڈار نے تو شوق سے دو ہی روگ پالے ہیں عشق اور پیچش۔
¶پیچش کی ایک پیٹنٹ دوا لوموٹل زاہد ڈار پچھلے ساڑھے گیارہ سال سے استعمال کر رہا ہے۔

¶زاہد ڈار سے میرا پہلا تعارف صفدر ہی کے واسطے سے ہوا تھا۔ تعارف کیا اس نے تو اپنے حسابوں اپنے سر کی بلا میرے سر ڈال دی تھی۔

زاہد ڈار ایک بے پروا انسان کی طرح ان لوگوں کے خیالات اور الزامات کو روندتے ہوئے اپنی زندگی میں آگے بڑھتے رہے۔ ہر دن ایک جیسی روٹین اور بہت ساری کتابیں کا مطالعہ ان کی آخری زندگی تک ان کا ساتھی رہا۔ نظر آنا بند ہو گیا اور بڑھاپے نے کمزوری اور بیماری کی شکل میں ان کے جسم میں اپنے پنجے گاڑ دیے تھے تب ہی انہوں نے مطالعے کی میزوں کو چھوڑا۔ عجب آزادی کی زندگی انہوں نے گزاری بقول شمیم حنفی ”ہم جانتے ہی نہیں کہ ہمارے سے کتنا بڑا شاعر خامشی سے گزر گیا۔ جو کہ اگلے وقتوں کا شاعر ہے جو ابھی آئے بھی نہیں۔“


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments