وقت کی اہمیت اور مقام!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس دنیا کی حیات ناکس اور ابدال کا مجموعہ ہے۔ ہر نیک اور بد انسان اس دنیا میں ایک مختصر مدت گزارتا ہے اور پھر ہمیشہ کے لئے رخصت ہو جاتا ہے۔ وہ اپنے اعمال کے نیک اور بد نقوش پارینہ عالم اجرام پر چھوڑ کر عالم ارواح کی طرف چلا جاتا ہے۔

انسان کو قدرت کاملہ کی طرف سے ویسے تو اس دنیا میں بہت ساری نعمتیں ملتی ہیں لیکن جو نعمت ایزدی اس دنیا میں سارے انسانوں کو برابر مقدار میں عطا ہوتی ہے وہ ہے ”وقت کی نعمت“ ۔

وقت ایک ایسی نعمت ہے جو دنیا کے ہر انسان کو ایک جیسی اور برابر مقدار میں ملتی ہے۔ یہ وقت کا استعمال ہی ہے جو انسان کو ناکس اور ابدال بنا دیتی ہے۔

بقول معروف سکالر جان سی میکسویل اگر ایک سیکنڈ کی اہمیت جاننی ہو تو اس اتھلیٹ سے پوچھیں جو مقابلے کی دوڑ میں ایک سیکنڈ سے ہار گیا ہو۔ ایک منٹ کی اہمیت کا پتہ اس شخص سے لگائیں جس کی فلائٹ اس کی ایک منٹ کی تاخیر کی وجہ سے نکل چکی ہو۔

اسی طرح قوموں کے عروج اور زوال کا راز بھی وقت کے درست استعمال میں مضمر ہے۔ کسی انسان کے قتل ہو جانے سے اتنا نقصان شاید نہیں ہوتا جتنا انسانوں کے وقت کو قتل کرنے سے ہوتا ہے۔

اس وقت جو کچھ ہمارے پاس ہیں وہ شاید اگلے لمحے ہمارے پاس نہیں ہو گا۔ وہ کل کبھی نہیں آئے گا جس کل پر ہم اپنے آج کو قربان کر دیتے ہیں۔

کاش کہ ہمیں لمحہ موجود کی طاقت اور اہمیت کا اندازہ ہماری موت سے پہلے ہو جاتا۔ ہم آج جس شخص سے بہت زیادہ پیار کرتے ہیں۔ ہم آج جس شخص کو بہت چاہتے ہیں شاید وہ کل کو ہمارے درمیان موجود ہی نہ ہو گا۔ پھر وہ کل کبھی بھی نہیں آئے گا جس کل پر ہم نے ان سے پیار کا اظہار کرنا تھا۔ ان کو یہ بتانا تھا کہ ہم ان سے کتنی محبت کرتے ہیں۔ وہ کل پھر کبھی بھی نہیں آئے گا جس کل پر ہم نے ان سے اپنی غلطیوں، اپنی کوتاہیوں اور زیادتیوں پر معافی مانگنی تھی۔ وہ کل پھر کبھی بھی نہیں آئے گا جس کل پر ہم نے اپنے کسی پیارے کی بیمار پرسی کرنی تھی۔ وہ کل پھر کبھی بھی نہیں آئے گا جس کل پر ہم نے اپنا کوئی بہت بڑا منصوبہ شروع کرنا تھا۔ ہم اکثر اپنے بہت سے کاموں میں حد سے زیادہ دیر کر دیتے ہیں تو پھر ہمارے پاس سوئے افسوس اور پچھتاوے کے اور کچھ نہیں بچتا۔

وقت پر کسی سے معافی مانگنے اور کسی کو معاف کردینے سے انسان کو دلی سکون اور فرحت ملتی ہے، ہماری بہت سی مشکلات آسان ہو جاتی ہیں، ہمارے دلوں کا بہت بڑا بوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔ ہماری بہت سے جسمانی اور ذہنی بیماریوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے لیکن وقت کا وہ لمحہ ہم پر بڑی آسانی کے ساتھ گزر جاتا ہے اور ہمیں اس لمحے کے گزرنے کا احساس تک نہیں ہوتا ہے۔

جب ہم وقت کو ضائع کر رہے ہوتے ہیں تو در حقیقت ہم وقت کو ضائع نہیں کر رہے ہوتے ہیں بلکہ وقت ہمیں ضائع کر رہا ہوتا ہے۔ ہم وقت کو نہیں گزار رہے ہوتے ہیں بلکہ وقت ہمیں گزار رہا ہوتا ہے۔ پھر وقت ہمیں بھکاری بنا دیتا ہے۔ ہمارے ہاتھوں کو خالی کر دیتا ہے۔ ہماری زندگی عذاب بن جاتی ہے۔

یہ وقت کا درست استعمال ہی ہے جو قوموں کو دنیا میں اعلی مقام دلاتا ہے۔ جو لوگ اور قومیں وقت کی عظمت اور قدر کو جانتی ہیں۔ ساری دنیا ان کی عظمت اور احترام کو تسلیم کرتی ہے۔ اقوام عالم ان کی قدردان ہو جاتی ہے۔

یہ وقت کا استعمال ہی ہے جو کسی کو احسن تقویم پر فائز کر دیتی ہے اور کوئی اسفل السافلین کے مقام کو پاتا ہے۔ یہ وقت ہی ہے جو کسی کو نوری اور کسی کو ناری بنا دیتا ہے۔ اب یہ اس انسان پر منحصر ہے کہ وہ قدرت کی عطاء کردہ وقت کے اس عظیم نعمت سے کس طرح مستفید ہونا چاہتا ہے۔

جاپان اور جرمنی کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ اتنی بڑی تباہی اور بربادی کے باوجود وہ قومیں آج بھی دنیا میں اعلی مقام رکھتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ وقت کا صحیح استعمال اور وقت کی قدر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آج ساری دنیا ان کے بنائی ہوئی ہر جیز کو آنکھیں بند کر کے خرید لیتی ہے۔ اس سے واضح ہے کہ انھوں نے ناصرف وقت کا درست استعمال کرنا سیکھا بلکہ وقت کو ایمانداری کے ساتھ استعمال کرنا بھی سیکھا۔ ہماری تنزلی اور پستی کی بھی سب سے بڑی وجہ وقت کی نا قدری اور وقت کو دو نمبری اور بے ایمانی میں ضائع کرنا ہے۔ اگر ہم یہی وقت ایمانداری اور دیانت داری میں لگاتے تو آج ہم بھی ساری دنیا میں قابل قدر ہوتے۔ آج ہمارے بنائے ہوئے اشیاء لوگ آنکھیں بند کر کے خرید رہے ہوتے۔

لیکن کیا کریں ہم تو ٹائم کو پاس کرنے والے لوگ ہیں۔ ہم اپنے وقت کا بیشتر حصہ ایمانداری کی بجانے بے ایمانی میں گزارتے ہیں۔

ہماری گندی گندی گلیاں، سڑکیں اور شہروں کی نالیاں بتا رہی ہوتی ہیں کہ ہمارے پاس ان کو صاف کرنے کے لئے بھی وقت میسر نہیں ہے۔ ہمارے گلیوں، شہروں اور نالیوں کی گندگی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ ہمارے اذہان عالیہ کتنے آلودہ ہیں۔ ہمارے لئے اس سے بڑا افسوس کا مقام اور کیا ہو گا کہ ہم صفائی کرنے والے کو ہی کوڑے والا سمجھ رہے ہوتے ہیں۔

ہمارے پاس ضائع کرنے کے لئے بہت سارا وقت پڑا ہے لیکن کام کرنے کے لئے وقت کا فقدان ہے۔ کامیاب اور ناکام لوگوں میں فرق صرف وقت کی قدر اور اس کے درست استعمال کا ہی ہے۔ جو لوگ اور قومیں وقت کا شعور نہیں رکھتیں وقت ان کو بری طرح مٹا دتی ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments