گالیاں کھانے اور بد دُعائیں کمانے کے طریقے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اس وقت پورنوگرافی یا ننگی فلموں کا کاروبار سالانہ بارہ ارب ڈالر کماتا ہے۔ اس کی مقبولیت کا یہ عالم ہے کہ آپ کسی بھی موضوع پر کسی قسم کی فم دیکھنا چاہیں وہ کسی حد تک مفت اور زیادہ دورانیہ یا اچھی ریزولوشن پیسے دے کر مل جاتی ہیں۔ بونڈیج یا BDSM کے نام جو فلمیں ہوتی ہیں ان می تشدد دکھایا جاتا ہے۔ یہ تشدد ہاتھ پیر باندھ کر چابک سے مار کھانا، ٹانگوں کے درمیان نازک اعضاء کو مکے، لات یا بیس بال کے ڈنڈے سے مارنا شامل ہے۔

زیادہ تفصیل مناسب نہیں ہوگی۔ تاہم یہ یاد رکھیں دنیا کے ہر حصے میں ایسے لوگ پائے جاتے ہیں جو خود اذیتی کو انجوائے کرتے ہیں۔ اس میں جنسی تشدد بھی شامل ہے اور روزمرہ کے کاموں کے دوران بھی۔ ظاہر ہے آپ کو یہ لوگ نارمل تو نہیں لگیں گے لیکن واقعی یہ ہمارے درمیان موجود ہیں۔ ذاتی آزادی کے نام پر اگر آپ اپنے آپ پر تشدد کرنے کے لئے کسی کو کرائے پر لے آئیں تو آپ کوئی غیر قانونی کام نہیں کر رہے۔

جنسی تشدد، ہمارے ہاں اسی طرح دستیاب ہے۔ اور اس کے علاوہ پاکستان پر تشدد جنسی جنون کو مختلف قسم کے چمڑے کے تیار کردہ مخصوص لباس کے پڑے ایکسپورٹرز میں آتا ہے۔ اشرافیہ میں ایسی محفلیں بھی چلتی ہیں۔

یہ تو ہوا جسمانی جنسی تسکین حاصل کرنے کا ایک ذریعہ۔ اگر آپ کو جسمانی تشدد پسند نہیں تو آپ گالیوں اور بد دعاؤں کو نہایت آسانی سے حاصل کر سکتے ہیں۔ روزانہ گالیاں پسند کرتے ہیں تو اپنے گھر کے سامنے ایک بڑا سا سپیڈ بریکر بنا لیں۔ میں آپ کو ضمانت دیتا ہوں کہ اس سپیڈ بریکر پر سے گاڑی گزارتے ہوئے ڈرائیور اور دوسرے مسافر نہایت دور رس قسم کی ناگفتنی اچھال سکتے ہیں جن میں سے آپ کے اجداد سے رشتہ جوڑنے کے علاوہ آپ کی آنے والی نسل پیدا کرنے میں اپنا حصہ بھی آفر کر سکتے ہیں۔

اگر آپ کی خوش قسمتی سے آپ کے سپیڈ بریکر پر دفتر اور سکول کے اوقات میں موٹر سائیکلیں بھی گزرتی ہوں تو آپ گالیوں کے علاوہ بے شمار بد دعاؤں کے مالک بھی بن سکتے ہیں۔ جو یقینی طور پر پیچھے بیٹھی ہوئی طالبہ یا خاتون ورکر زمین پر گرتے ہی آپ کے حساب میں ڈال لیتی ہیں۔ اس طرح دین و دنیا دونوں کے حساب میں ضرور وزن بڑھ سکے گا۔

کچھ لوگوں کو اللہ نے بڑی قیمتی گاڑی سے نوازا ہو گا یا عوام ہی کے پیسوں سے خریدی بڑی بڑی سرکاری نمبر پلیٹ والی ہوں تو آپ کے وارے نیارے ہیں۔ آپ سڑک کے الٹی سائیڈ پر چلیں یا ایمبولینس سے سپیڈ کا مقابلہ کریں تو یوں سمجھیں پیچھے ٹریفک میں پھنسی گاڑیوں سے خاطرخواہ گالیوں سے لطف اندوز ہوں گے بلکہ ایمبولینس کے باسی اور رشتہ دار آپ کو اوریجنل بددعائیں بھی دے دیں گے۔

یہ بڑی بڑی گاڑیوں والے جب جمعے کی نماز کے لئے جاتے ہیں تو نہ صرف سڑک پر صفیں بچھاتے ہیں تاکہ اللہ کی طرف سے بھی شرطیہ اذیت ملے اور دوسری گاڑیوں کا رستہ بند کر کے عوام کے کوسنوں سے محظوظ ہوں۔

اس وقت بلدیاتی انتخابات کا غلغلہ ہے۔ کل میرے پاس ایک نوجوان اپنے چھ سالہ بچے کو لایا۔ بچے کا ہاتھ بری طرح زخمی تھا۔ ہم نے چند ہفتے پہلے اس کی سرجری کی تھی۔ لیکن اس میں شدید انفیکشن ہو گیا تھا۔ میں نے دو تین دفعہ تکرار کر کے اس کے والد کو کہا تھا کہ ایک ہفتہ بعد دوبارہ معائنے کے لئے تشریف لائے کہ ہم بچے کے زخم کے پراگریس دیکھ سکیں۔ لیکن وہ درمیان میں دو ہفتے غائب رہا۔ میں نے پوچھا کہ آپ وقت پر کیوں نہیں آئے۔

کہنے لگے ”ڈاکٹر صاحب آپ کو تو پتہ ہے الیکشن کے دن ہیں اور مجھے انتخابی مہم بھی چلانی پڑ رہی ہے“ مجھے غصہ تو بہت آیا لیکن میں اپنی کرسی سے اس کو ڈانٹ نہیں سکتا تھا۔ لیکن تھوڑی بہت لفظی گوشمالی ضرور کی۔ ”تمہارے خیال بس ایک تم ہی رہ گئے ہو جو اس قوم کو سدھارنے کے لئے بے تاب ہو۔ کیا تم سیاست پر اپنے بچے کو عمر بھر کی معذوری دینا چاہتے ہو؟ اس قوم کے غم میں گھلنے والے اور بھی بہت ہیں لیکن اس بچے کا باپ ایک ہی ہے۔ اگر اس بچے کی بددعا سے بچنا چاہتے ہو تو الیکشن کو گولی مارو اور اس کے علاج کی طرف توجہ دو “ میں نے اس کے کان پگھلا ہوا سیسہ ڈالا۔

اس پر یاد آیا کہ ماشاءاللہ ہمارے ہاں ان خود اذیت پسندوں کی بہتات الیکشن کی وجہ سے بھی ہے۔ پچھلے ہفتے کے دن دو چھوٹی چھوٹی جلسیاں جی ٹی روڈ کو کئی گھنٹے بلاک کیے رہیں۔ میں تو خوش قسمت تھا کہ میں نے جی ٹی روڈ کے دو تین چکر کاٹ کر رنگ روڈ کی راہ پکڑ لی۔ لیکن میرے جس دوست کے بیٹے کی شادی تھی وہ کھانے کے بعد بھی دو تین گھنٹوں تک وہاں سے نکل نہ سکے۔ لیکن یہاں بھی جلسوں کے سرغنوں کو خاطر خواہ گالیوں اور بد دعاؤں کی لذت حاصل ہوئی ہوگی۔

ہمارے تاجروں میں بھی ان BDSM سے تعلق رکھنے والے کم نہیں ہیں۔ دکان کو فٹ پاتھ تک بڑھانا، اور اس سے آگے دو تین قطار ریڑھیوں والوں کو ”کرایہ“ پر دے کر اذیت کی خود لذتی سے محظوظ ہوتے ہیں۔ اگر درمیان میں چند انچ کی جگہ رہ جائے تو وہاں اپنی دکان کا گند ڈال دیتے ہیں۔ یوں پیدل چلنے والوں کی گالیاں کھا کر خوش ہوتے ہیں۔ اور اگر ”خوش قسمتی“ سے کوئی خاتون وہاں پر پھسل جائے تو بد دعائیں بونس میں مل جاتی ہیں۔

یہ دوسروں کو تکلیف دینا اور خود گالیاں اور بددعائیں کھانے کی لت صرف بازاروں تک محدود نہیں۔ حیات آباد جیسے پوش ایریا میں بھی اچھے خاصے کھاتے پیتے لوگ جب تک گالیاں نہ کھائیں اور بد دعائیں نہ کمائیں، ان کو اپنی دولت ہیچ لگتی ہے۔ ہزار دو ہزار رقبے پر بنے ہوئے گھروں کے آگے چھ سات فٹ رستے کو خاردار تاروں سے ڈھک کے وہاں پھول پودے لگا دیتے ہیں۔ اب چونکہ اس سڑک سے دو گاڑیاں نہیں گزر سکتیں، اس لئے ہر دوسری گاڑی ایک ہارن کی شکل میں گالی اچھال دیتی ہے اور یوں مکان نشینوں کو تھوڑا بہت سکون مل جاتا ہے۔

یہ تو چند عام قسم کے کام ہیں جن سے آپ کو خود اذیتی کا تحفہ گالیوں اور بد دعاؤں کی صورت میں مل جاتا ہے۔ مجھے انتظار ہے کہ یہ لوگ ان معمولی بد معاشیوں کی بجائے سیدھے تھانے پہنچیں جہاں باقاعدہ تشدد کے کمرے بنے ہوں۔ ان کی چوتڑوں پر چمڑے کی پٹی سے سرخ رنگ کے نشان پڑ جائیں۔ ان کے منہ سے مسرت کی نکلنے والی چیخیں ریکارڈ کی جائیں۔ بلکہ ویڈیو بنائی جائیں تاکہ وہ گھر پر چلا کر کئی کئی بار لطف اندوز ہوں۔

ہم کمی کمین ان شرفاء کے مسائل کیا جانیں۔ تاہم گالیاں دینے اور بد دعاؤں میں انشاءاللہ ہمیں کسی پیچھے نہیں پائیں گے۔ آگے اللہ سے دعا ہے انہیں شدید سے شدید اذیت ملے اور یہ اذیت روحانی، جسمانی، مالی اور زبانی صورتوں میں زیادہ ملیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments