آپ کتنے عورت دشمن ہیں؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ہمارے یہاں اس بات کو کبھی تسلیم نہیں کیا جائے گا کہ معاشرہ عورت دشمن ہے۔ اس کے طور اطوار عورت دشمن ہیں۔ عورتوں سے شدید نوعیت کی پنہاں اور عیاں نفرت کی جاتی ہے۔ یہ نفرت تب بھی تھی جب پاکستان میں سماجی روابط کے ذرائع نہیں تھے، جب عورت مارچ بھی نہیں تھا، جب پڑھی لکھی خواتین کو بھی فیمنزم کا ادراک نہیں تھا۔ اب چونکہ یہ سب ہے تو میں بڑے اعتماد سے یہ کہہ سکتی ہوں کہ ہمیشہ کی طرح اب بھی عورت دشمنی پوری آب و تاب کے ساتھ موجود ہے۔

عورت دشمنی مردوں اور عورتوں دونوں میں باقاعدہ طور پر دکھنے کو ملتی ہے۔ کچھ واقعات بیان کر رہی ہوں تاکہ اپنے اس بنیاد پرستانہ نکتے کو ثابت کر سکوں۔ یہ بھی بتاتی چلوں کہ یہ واقعات بند کمروں میں کسی ایک یا دو عورتوں کے ساتھ پیش نہیں آئے، یہاں کا رواج اور معمول ہے جو میرے سامنے ہوئے اور جو باقیوں کے سامنے اور ان کے ساتھ ہوتے ہیں۔

کچھ روز قبل، میں نے ایک نوبیاہتا جوڑے کی تصویر کشی کی۔ چونکہ اب نئے شادی شدہ جوڑے بڑے اہتمام سے تصویر کشی کرواتے ہیں تو یہ ایک عام سی بات ہے۔ باغ جناح لاہور کے ایک مقام پر جب چند لڑکوں نے ایک نوجوان خاتون کو دلہن کے روپ میں دیکھا تو اس پر گالیاں اور نہایت بے ہودہ جملے کسنا شروع کر دیے۔ ایک انسان پنجابی زباں کی جتنی بے ہودہ گالیوں کا تصور کر سکتا ہے وہ تمام الفاظ اس دلہن کے لئے ان کم عمر لڑکوں نے کہے اور بھر پور اعتماد سے کہے۔ تب تک کہتے رہے جب تک دلہا اور دلہن ان کے غلیظ نظروں سے اوجھل نہیں ہوئے۔ یہ ایسا موقع تھا جب دلہا کچھ بھی کرنے سے قاصر تھا۔ وہ تمام لغویات جو اس دلہن کو سننے کو ملی صرف اس وجہ سے تھیں کہ وہ عورت تھی۔ جو برے القابات دلہے کو بھی سننے کو ملے وہ سب بھی عورت کی تذلیل پر ہی مبنی تھے۔

صدف (فرضی نام) میری ایک عزیزہ ہیں۔ خون کا نہیں تو احساس کا رشتہ ان سے ضرور ہے۔ ان کا نکاح ایک ایسے شخص سے طے پایا جو صدف سے کاروبار میں ”برکت“ کے لئے شادی کر رہا تھا۔ نکاح ہونے سے قبل ہی وہ ایک عدد خاتون کے ساتھ محبتیں بانٹتے پائے بھی گئے مگر پدرسری معاشروں میں مرد کا گناہ بھی عورت کے دامن میں جھونک دیا جاتا ہے۔ اب جب نکاح کی تاریخ طے پا چکی تھی ایسے میں بیٹی کی زندگی اس لئے بچائی جائے کہ ہونے والے شوہر کے ایک عورت سے مراسم ہیں؟

سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ صدف نے یہ جانتے ہوئے ایک ایسے شخص کو قبول کیا جو کسی اور عورت سے محبت کا دعویدار تھا۔ یہاں اس لڑکے کی رضامندی سے صدف سے نکاح ہوا تھا۔ نکاح کے کچھ ہی عرصے بعد حضرت بیوی کے حضور اپنی محبوبہ سے ویڈیو کالز کرتے رہتے۔ عورت کی مجال ہی کیا ہے کہ سر پر سوار اس انسانی خدا کو اف بھی کرے۔ جب جب اف کرنے کی جسارت کی گئی، میکے میں بھجوا دی گئی۔

ادھر میکے والے بھی بیاہی بیٹی کو جینے کا سرا نہیں پکڑاتے کہ کہیں بھولے سے عزت نفس اونچی نہ کر لے۔ صدف کے یہاں جب بیٹی ہوئی تو اس بات کا بھی ماتم ہوا کہ صدف کی وجہ سے بیٹی پیدا ہو گئی ہے۔ نکاح سے پہلے اور بعد میں ایک عورت سے مراسم قائم رکھنے والے شوہر میں اس قدر پدر سرانہ غرور تھا کہ وہ بیوی کے کردار پر یہ کہہ کر شک کرے کہ شادی کی رات بستر پر خون کی ایک آدھ ندی نہیں بہی۔ یہ طعنہ کئی ماہ تک صدف کے کانوں میں سیسہ پگھلاتا رہا اور وہ غم اور ندامت کے گھونٹ پیتی رہی۔ پردہ بکارت سے خون کی ندیاں بہتی ہیں نہ ضروری ہے کہ ایک چھینٹ بھی پڑے۔ مگر جو پردہ حقارت عورت کے وجود پر پڑ چکا ہے وہ آج بھی باقی ہے۔ ضروری نہیں کہ دشمنی کے اظہار میں کسی کے پاس کوئی ایٹمی توپ ہو یا بندوق ہو، دشمنی کا اظہار ہر اس امر سے واضح ہوتا ہے جس میں انسان کے احساس کی نفی کی جائے۔

سماجی روابط کے کسی ذرائع پر کسی عورت کی گھریلو یا جنسی تشدد کے باعث تکلیف یا موت کا حوالہ کیا دے دیا جائے، ایک نہیں سینکڑوں لوگ واقعہ بیان کرنے والی خاتون کی کردار، ایمان، اور انسانیت کشی پر اتر آتے ہیں۔ ایسے ایسے القابات اور خطابات دیے جاتے ہیں جن کا ایک ہوش مند انسان شعوری طور پر تصور کرنے سے قاصر ہوتا ہے۔ خدا بھلا کرے کہ پاکستانی قوم کو ترک جنگجووں کی تاریخ معلوم ہو گئی ہے جن کے نام اور تصویر لگا کر اپنے سماجی روابط کے اکاؤنٹس پر یہ لوگ پاکستان کی عورت سے اپنی فطرتی نفرت کا بھرپور پرچار کرتے ہیں۔

ترک جنگجووں اور دہشتگردوں کے نام سے بنے اکاؤنٹس اور روحانیت کے خود ساختہ علمبردار جس نہج کی عورت دشمنی اور انسان تلف رویوں کا اظہار کرتے نظر آتے ہیں اس کی مثال نہیں ملتی۔ ایک عورت کی موت جو اسی رواج اور سماج کے تعصب اور پرتشدد معمولات کی بنا ہر رونما ہوئی ہو، اس پر مذہب اور روایت کا لیپ کرنا عورت دشمن اطوار کا اظہار نہیں تو کیا ہے۔ جنسی تشدد کے واقعہ پر یہی لوگ جس بلا کی توہین متاثرہ خواتین سے جوڑتے ہیں، شیطان بھی شرما جائے۔

میری ایک عزیزہ تھیں، فرح خالہ۔ کس قدر خوبصورت اور دل کش تھیں۔ کتنا پیار اور خیال کرنے والی۔ بچپن میں ضدی تھیں تو کسی بڑے بوڑھے نے لڑکی ذات کی ضد کو جنات کا سایہ بتا ڈالا۔ کسی نے دیوانی کہا تو کسی نے اللہ والی۔ ان کے بھائی نے ان کی زبردستی عمر میں بیسیوں سال بڑے آدمی سے شادی کرا دی۔ بیٹی تھی، بھلا حیثیت ہی کیا ہوتی ہے ایک بیٹی کی؟ صرف یہی کہ معاشرے کی نظر میں اس سے شادی کے نام پر جان خلاصی کرنا لازم ہوتا ہے۔ بچپن میں ان پر روا ظلم کی داستان سنائی جاتی اور بس افسوس کیا جاتا تھا۔ شوہر تشدد کرتا تو الزام جنات پر ڈال دیتا۔ زخموں سے چور بہن گھر نما مکان سے نکالی جاتی مگر ان کی مالی امداد کرنا گوارا نہ ہوا البتہ محلے میں مسجد ضرور تعمیر کروا دی۔

گناہ تو یہ ہوا کہ پہلے ہی ایک عورت تھی، پھر اپنے نسوانی بدن سے ایک بیٹی پیدا کر دی۔ تشدد تو ان کا رہن سہن تھا۔ ایک دن شوہر نے سر بھی منڈوا دیا۔ کسی کو ذرا برابر تکلیف نہ ہوئی کہ ایسا ظلم کیونکر کیا۔ عورتوں کے خوشی سے بال کٹوانے اور بھنویں بنوانے پر جہنم کی نوید سنانے والوں میں سے کوئی ایک بھی نہ تھا جو اس مرد سے سوال بھی کرتا کہ بیوی کا سر کیوں منڈوایا ہے؟

سنگین جنسی اور جسمانی استحصال بھی وقت کے ساتھ جاری رہا۔ ایک بار نہیں، دو بار یا تین بار نہیں، سینکڑوں بار طلاق دی گئی۔ ہر بار وہ بختوں کی پھوٹی انسان، اسی مرد کے گھر زبردستی بھجوائی گئی۔ ہر بار تین طلاقیں لینے کے بعد گھر سے نکالی جاتی تو ہر بار واپس بھجوائی جاتی۔ گھریلو تشدد کے قوانین کے خلاف درس دینے والے وہی لوگ ہیں جن کے قریب سینکڑوں بار ملنے والی طلاقیں اس لئے بے معنی ہوتی ہیں کہ دینے والا مرد ہوتا ہے۔ اس سارے معاملے کے دوران خاندان کے کسی ایک باغیرت مرد کو اتنی ہمت نہ تھی کہ ’عزت‘ سمجھی جانے والی عورت کی امداد کی جاتی۔

کسی نے آگے بڑھ کر اس جنونی شخص سے استفسار کرنا گوارا نہ کیا کہ اس قدر تشدد کی کبھی قیمت ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔ سوال بھی کیوں کیا جاتا جب عورت کا کل مالک ہی اس کا ’شوہر‘ گردانا جاتا ہے۔ قصور تو اس میں ان عورتوں کا بھی ہے جو عورت کی آزادی کے خلاف اس لئے مارچ کرتی ہیں کہ شہر میں ایک جگہ عورت کی آزادی اور خودمختاری کے لئے مارچ ہوتا ہے۔

وہ عزیزہ، ہر بار تشدد کے بعد گھر سے نکالی جاتی، رات بھر گلی میں بنا چادر کے پڑی رہتی تھیں۔ یہاں کسی کو حجاب چادر برقعے کی فکر نہیں ہوتی۔ یہاں حجاب سب کے دلوں اور سینوں پر پڑ جاتے ہیں۔ کسی نے کبھی پولیس کو بلایا نہ کسی باغیرت محلے کے بزرگ کو جلال آیا جو یونیورسٹی کالج یا نوکری پر جانے والی لڑکی کو دیکھ کر آتا ہے۔ کسی نے اس مرد سے سوال کیا نہ سرزنش کی۔ ایوانوں اور حیا کے اداروں میں بیٹھے افراد کو ایسی عورتوں کے حجاب کی فکر ہوتی ہے نہ لباس کی۔

وہ تو موت کا بھلا ہو، ایسی انسانوں کو آجاتی ہے اور ان کو زندگی کی قید سے آزاد کرتی ہے۔ آج نجانے کتنے برس بیت چکے کہ وہ مر چکی ہیں، ان کی نومولود بیٹی بھی نہیں رہی۔ ان کا زخموں اور درد سے لیس وجود مٹی میں گھل چکا ہو گا مگر وہ شوہر نما مرد آج بھی زندہ ہے، شان و شوکت کے ساتھ زندہ ہے، معزز اور باوقار ہے۔ دنیا کو عورت کے لئے جہنم بنا کر کہتے ہیں کہ یہ دنیا ایک آزمائش ہے مگر یہ آزمائش عورت کے قاتلوں اور مجرموں کے لئے نہیں ہے۔ ان کو تو نواز دیا جاتا ہے۔

سماجی تشدد کے ہاتھوں مری عورتوں کی قبروں کے اوپر حیا اور فرمانبرداری کے حق میں نغمے لکھے جاتے ہیں۔ پھر مارچ کیے جاتے ہیں کہ عورت گھر کی زینت ہے۔ ایسی زینت، ایسے گھر، اور ایسے نظام کو گرا دینا چاہیے جہاں عورت کا چین موت میں مقدر ہو، جہاں اس پر ہونے والا ظلم اس کا زیور ہو۔

یہی عورت دشمنی ہے۔ انسانی خدائی کے گمان میں یہ سماج بہت آگے نکل چکا ہے۔ یہاں ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ عورت کی خوشی اس کا سکون، اس کی خودمختاری، رضامندی، آزادی نئی تہذیب کی کارستانی ہے؟ نئی تہذیب کے انڈے گندے ہیں؟ میں کہتی ہوں کہ آپ گندے ہیں، آپ کی پدر شاہی گندی ہے۔ آپ کی سوچ کو غسل درکار ہے۔ اس معاشرے کو وضو کرنے کی ضرورت ہے۔ اصل آسیب تو ان کو چمٹا ہے، جن تو ان پدر سروں کے نکالنے والے ہیں۔

پدر سرانہ انا کے غلیظ تالاب میں ڈوبے ہوئے اپنی حاکمیت کے چرچے خود لکھتے ہیں۔ میتوں کو دیکھ کر خوش ہونے والے اور مظلوموں کا تمسخر بنانے والے لوگ ہیں۔ ہم آپ کی مخالف ہیں اور رہیں گی۔ ایسے ہر گھر کو گرانا چاہیے جس کی بنیاد میں ایک کے سکون اور خوابوں کی میت دفن ہو۔

ہر خاندان میں چند عورتیں ایسی ہوتی ہیں جن کے جسم پر پڑے مار کے نشان ان کی شناخت بن جاتے ہیں۔ جن کے سر نہیں منڈھے جاتے یا جن کو کبھی بنا لباس کے گلی میں دھکیلا نہیں جاتا، وہ بھی بند کمروں میں تھپڑ کھاتی ہیں، کبھی گال پر، کبھی اعصاب تو کبھی اپنی عزت نفس پر۔ توہین کی کوئی وجہ بنانی بھی نہیں پڑتی، بس توہین ہوتی ہے۔ اس سے بڑھ کر عورت دشمنی کیا ہوگی کہ عورت غصے میں مرد کو کہے کہ وہ مرد نہیں عورت ہے؟ اس سے بڑھ کر ظلم کیا ہو گا کہ مرنے والی عورت کی میت کے پاس بیٹھ کر اس کی شادی میں غلطیاں تلاش کی جائیں؟ اس کی میت پر آنے والیوں میں ممکنہ بیوی ڈھونڈی جائے؟

یہ سماج عورت دشمن ہے۔ آپ کو اس تحریر سے ایذا پہنچے تو شاید آپ بھی عورت دشمن ہیں۔ ہمیں یہ بھی معلوم ہے کہ یہ وہی لوگ ہیں جو فخر سے مردوں کی محافل میں بیٹھ کر بیٹیوں کی کم عمری میں زبردستی شادیوں پر اتراتے اور داد وصول کرتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو تشدد کو اپنا جائز حق سمجھتے ہیں، جو ریپ کی تعریف اپنی ریپ کار سوچ کے تحت کرنے پر ایوانوں میں دلائل دیتے ہیں۔ یہ وہی ہیں جو بچیوں پر تاک لگائے بیٹھے رہتے ہیں۔ یہ وہی ظالم اور گمراہ ہیں جن کے قریب عورت اور مظلوم کی تکلیف ہی واحد پھل ہے جس کو توڑ توڑ کھاتے نہیں تھکتے۔

ہم آپ کو آپ کی جگہ پہنچائیں گی، آپ کے امتیاز، نفرت، منافرت کو آپ کے گلے کا ہی طوق بنائیں گی۔ آپ کی اپنی بیٹیاں آپ سے بغاوت کریں گی، آپ کی بہنیں آپ کو مسترد کریں گی، آپ کی بیویاں آپ سے جان خلاصی کرائیں گی۔ آپ کے پاس آپ کی ذات سے انتقام لینے والے آپ خود ہی بچیں گے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments