افسانہ – آخری اسٹیشن

ٹرین نے وسل دی اور پلیٹ فارم پر رینگنا شروع کر دیا۔ بوڑھے خیر دین نے ایک الوداعی نگاہ باہر کھڑے ہجوم پر ڈالی اور آنکھیں موند کر سر ٹکا لیا۔ جام پور کے اسٹیشن کو رفتہ رفتہ ٹرین پیچھے چھوڑ رہی تھی۔ ایک لمبا سفر خیر دین کا منتظر تھا۔ جس کی منزل آخری اسٹیشن تھی۔ یادوں کے پردے پر ایک مسکراتی، چھیل چھبیلی، شرمیلی سی شبیہہ ابھری۔ خیر دین مسکرایا، یہ سلمیٰ تھی۔ اس کی شریک حیات۔ شادی

Read more

بونوں کا شہر

میں چھوٹا سا تھا جب ماں کہا کرتی تھی کہ میرا یافع بہت بڑا آدمی بنے گا۔ میری بھولی ماں نہیں جانتی تھی کہ بڑے لوگوں کے اس شہر میں انسان بڑا آدمی نہ بن سکے تو آدمی کہلانا بھی مشکل ہوجاتا ہے کجا یہ کہ مجھ سا چھوٹا انسان! میں اماں، ابا کی اکلوتی اولاد تھا۔ بڑی دعاؤں، منتوں، مرادوں سے دس سال بعد ماں باپ کی جھولی میں آیا۔ ابا معمولی سے اسکول ماسٹر تھے پھر بھی میری

Read more

رنگ محل کے بے زبان جانور

وسیع و عریض شاندار کوٹھی، ”رنگ محل“ ، رنگ و نور اور خوشبوؤں، روشنیوں میں نہائی ہوئی تھی۔ وسیع مرکزی ہال میں سارے مہمان خوش گپیوں میں مصروف مختلف مشروبات سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ پس منظر میں موسیقی کی خوبصورت دھنیں بج رہی تھیں۔ ایک شاندار دعوت طعام اپنے پورے جوبن پر تھی۔ شہر کے سارے امرا، عمائدین اور معززین اس بڑی تقریب میں مدعو تھے۔ مگر کچھ اور بھی تھا جو اس دعوت کو خاص بنا رہا

Read more

اسیر خوف

” زیبی! بیٹا پاپا کے لئے سوپ بنا دو۔“ ماما نے مجھے تیسری مرتبہ آ واز دے کر کہا، وہ نومبر کی ایک اداس، تھکی ماندی سہ پہر تھی اور میں چائے کا مگ ہاتھ میں لئے جانے کب سے سوچوں میں گم بیٹھی تھی کہ ماما کی آ واز سنائی ہی نہ دی۔ انٹر کے امتحانات کے بعد میرے شب و روز آج کل گھر پہ ہی بسر ہو رہے تھے۔ اسکول بند ہونے کی وجہ سے گیارہ سالہ

Read more

گدھ جاتی

سورج سوا نیزے پر تھا، دھوپ میں اتنی سختی تھی جیسے جسم جلتے توے پر دھرا ہو۔ عادل نے بند آنکھیں کھولیں لیکن فوراً ہی نڈھال ہو کر بند کر لیں۔ صحرا میں بھٹکتے ہوئے اسے دوسرا دن تھا۔ سانس نس نس سے الجھتی تھی، اور روح پیاس کے کانٹوں پر گھسٹ گھسٹ کر تار تار ہوئی جاتی تھی۔ عادل سبحانی، تیس کے لگ بھگ ایک رپورٹر تھا۔ ہر لمحہ مصالحہ دار اور تہلکہ مچاتی اسٹوریز کی تلاش میں سرگرداں،

Read more