افسانہ – آخری اسٹیشن
ٹرین نے وسل دی اور پلیٹ فارم پر رینگنا شروع کر دیا۔ بوڑھے خیر دین نے ایک الوداعی نگاہ باہر کھڑے ہجوم پر ڈالی اور آنکھیں موند کر سر ٹکا لیا۔ جام پور کے اسٹیشن کو رفتہ رفتہ ٹرین پیچھے چھوڑ رہی تھی۔ ایک لمبا سفر خیر دین کا منتظر تھا۔ جس کی منزل آخری اسٹیشن تھی۔ یادوں کے پردے پر ایک مسکراتی، چھیل چھبیلی، شرمیلی سی شبیہہ ابھری۔ خیر دین مسکرایا، یہ سلمیٰ تھی۔ اس کی شریک حیات۔ شادی
Read more



