کیمبرائی کی جنگ: برطانوی اور جرمن افواج کے درمیان لڑائی جس میں پہلی بار ٹینک کارآمد ثابت ہوئے

گریگ واٹسن - بی بی سی نیوز

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

برطانوی فوج نے کئی برسوں تک قیمتی جانوں کے بدلے چھوٹی چھوٹی فتوحات حاصل کی تھیں۔ مگر ایک سو سال پہلے لڑی گئی کیمبرائی کی جنگ کو مغربی محاذ پر ’بڑی فتح‘ کی یاد کے طور پر جانا جاتا ہے۔

لیکن کیا برطانوی اور جرمن افواج کے درمیان ایسی لڑائی، جس نے دونوں فریقین کو بھاری نقصان پہنچایا، نے واقعی جنگوں کا رُخ جدت کی طرف موڑ دیا؟

لیفٹیننٹ کیپٹن الفریڈ برسکو اس جنگ کی تباہ کاریوں کو یاد کرتے ہیں جو اس جنگ میں اپنے ٹینک ‘ہاٹسپر’ کے اندر بیٹھے شریک تھے جب یہ اچانک خوفناک شدت اختیار کر گئی۔

‘ایک دم اچانک ایک خوفناک دھاڑ سنائی دی اور ٹینک ’ہاٹسپر‘ سر سے پاؤں تک لرز گیا۔ میں نے ٹینک کے دائیں حصے کو ہوا میں اُڑتے دیکھا، ہمارے ٹینک کا دائیاں حصہ تباہ ہو گیا تھا اور اگر وہ آخری گولہ ہمارے ٹینک کے مزید دو فٹ قریب گرتا تو میں اور میرے ساتھ موجود افسر یقینی طور پر اس دن مر جاتے۔‘

لیکن ان کے اردگرد دیگر جوان اتنے خوش قسمت نہیں تھے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ’ہمارے سیدھے ہاتھ پر جو ٹینک تھا اس کو بم لگا اور یہ آگ کے شعلوں سے روشن ہو گیا۔ میں نے صرف ایک شخص کو اس کے سائیڈ ڈور سے نکلتے دیکھا۔ ہماری بائیں جانب جو ٹینک تھا اسے بھی نشانہ بنایا جا چکا تھا۔ لیکن اس ٹینک سے میں نے کسی کو باہر نکلتے نہیں دیکھا۔‘

یہ برطانوی فورسز کے لیے ایک درد ناک اختتام تھا کیونکہ وہ چھ گھنٹوں میں اتنی پیش قدمی کر چکے تھے جو اس سے قبل پیشنڈیل کی جنگ میں تین ماہ میں بھی نہیں ہوئی تھی۔

20 نومبر کو کئی ماہ کی پلاننگ کے بعد دنیا کی سب سے بڑی ٹینک فوج جس میں 480 ٹینک شامل تھے، نے جرمنی کے سب سے طاقتور مورچے میں بمباری کر کے سات میل چوڑا اور چار میل گہرا گڑھا پیدا کر دیا تھا۔ یہ جگہ فرانس کے قصبے کیمبرائی کے پاس تھی اور بیلجیئم کی سرحد سے صرف پچیس میل دور تھی۔

امپیریل وار میوزیم میں کلیکشین ڈپارٹمنٹ کے ہیڈ برائن ہیمنڈ کہتے ہیں کہ ’یہ ایک زبردست کامیابی تھی۔ جب سے جنگ شروع ہوئی تب سے لے کر اس دن تک چرچ کی گھنٹی نہیں بجی تھی۔‘

وہ مزید بتاتے ہیں کہ ’وہ ٹینک، جو کہ تاریخ میں پہلی بار اس جنگ کے شروع ہونے سے صرف چودہ ماہ پہلے استعمال کیے گئے تھے، بھروسہ مند نہیں سمجھے جاتے تھے۔ کیونکہ پیشنڈیل میں کیچڑ میں وہ اتنے موثر ثابت نہیں ہوئے تھے اور انھیں جنگ زدہ علاقوں میں چلانا آسان نہیں تھا۔‘

ٹینک کور کے لیفٹیننٹ کینیتھ واٹن جنگ کی تفصیل کے بارے میں لکھتے ہیں ’ٹینک کے اندر آٹھ سیلنڈر ہونے کی وجہ سے آواز بہت زیادہ تھی۔ اس کے ساتھ دو عدد چھ پاؤنڈ کی بندوقیں بھی تیزی سے چل رہی تھیں اور میں مشین گن سے بار بار ڈرم خالی کر رہا تھا۔ مجھے ڈرائیور کو کوئی بھی آرڈر دینا ہوتا مجھے اس کے کان میں چیخ کر کہنا پڑتا۔ باقی سب کچھ ہم اشاروں میں ایک دوسرے سے کہہ رہے ہوتے تھے۔‘

لیکن یہ جنگ مختلف تھی۔

ڈاکمٹر ہیمنڈ کہتے ہیں کہ ’اس میں اصل چیز حیرت کا عنصر ہے۔ پورا ہفتہ گولہ باری نہیں ہوئی۔ ہر چیز کو راز میں رکھا گیا تھا اور یہ مکمل حکمتِ عملی کے ساتھ کیا گیا۔ ٹینک، پیادے، توپ خانے اور جہازوں کے اپنے اپنے کردار تھے۔‘

ٹینکوں کی مدد کے لیے انھیں ایک ہزار توپوں اور ایک لاکھ دس ہزار پیادوں کی طاقت دی گئی۔ اس کے ساتھ تین سو جہاز بھی ان کی مدد کے لیے مختص کیے گئے تھے۔

پچاس فٹ موٹی تاریں جنھیں روایتی حملے کے دوران کاٹنے میں کئی ہفتے لگ جاتے ٹینکوں نے چکنا چور کر دی تھی۔


Winston Churchill

Getty Images

میں جیسا کہ ہمیشہ سے کہتا آیا ہوں کہ 1915، 1916، اور 1917 کے ملٹری آپریشن غلط طریقے سے شروع کیے گئے تھے اور اس میں بہت جانی و مالی نقصان ہوا۔ اور میں اس سوال کا جواب دینے کا پابند ہوں کہ مزید کیا کیا جاسکتا تھا۔ تو میں کیمبرائی کی جنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہوں کہ یہ کیا جاسکتا تھا

ونسٹن چرچل


ہر کونے سے اسلحہ اور فوجی نکل رہے تھے۔ جرمن افواج پریشان ہو گئی تھیں اور پیش قدمی کرتے ہوئے فوجیوں نے اسے نہایت ہی آسان عمل بنا دیا تھا۔ فوج کے کمانڈر اس سے بہت ہی خوش تھے۔

اپنی یاداشت میں رائل فیلڈ آرٹلری کے میجر رچرڈ فٹ لکھتے ہیں کہ ‘وہ پہلا دن بہت ہی یادگار تھا، ہمیں پہلی بار جیتنے کا احساس ہوا۔‘

لیکن لڑائی اب بھی خوفناک انداز میں جاری تھی اور خندقوں میں چھپے میجر ولیم واٹسن بتاتے ہیں کہ ’خندقوں میں جو لکڑی لگی تھی وہ خون کی وجہ سے چکنی ہو گئی تھی۔ پندرہ سے بیس مردہ جرمن فوجی اس طرح بکھرے پڑے تھے جیسے نشے میں دھت افراد پڑے ہوئے ہوں۔‘

‘ایک سارجنٹ جس پر اس جگہ کی ذمہ داری تھی ہمیں باہر ملنے آیا، وہ سگار پی رہا تھا۔‘

لیکن کئی ماہ کی پلاننگ کے نتیجے میں انھیں حیران کر دینے والے حملے کے بعد جو برتری حاصل کی گئی اسے جاری نہ رکھا جا سکا۔ ٹینک خراب ہونا شروع ہو گئے اور فوجی تھکنا۔


یہ بھی پڑھیے

ڈنکرک کے فراموش کردہ فوجی جن میں بانیِ پاکستان کے معاون بھی شامل تھے

دنیا کی سب سے بڑی ٹینکوں کی جنگ کون جیتا تھا؟

پہلی جنگ عظیم: ہندوستانی فوجیوں کی غیر معمولی کہانیاں

بارود کی بو میں سپاہیوں کی حسن پرستی

ڈیبرا، ایک کھویا ہوا ٹینک

چھ سال تک ایک شخص نے کیمبرائی میں استعمال ہونے والے ٹینک کی تلاش کی۔ یہ ٹینک اس جنگ کی قیمتی یاداشتوں میں سے ایک ہے۔

فلیسکیورس کے گاؤں میں ڈیبرا نامی ٹینک ملا جو کہ ان چالیس ٹینکوں میں سے ایک تھا جو جنگ کے دوران تباہ ہوئے۔

Clockwise from left: Frank Heap, George Foot, Joseph Cheverton, William Galway, Fred Tipping

BBC

کیمبرائی میں رہنے والے فلیپ گورزنسکی بتاتے ہیں کہ ’ایک بوڑھی عورت نے مجھے بتایا کہ قریبی گاؤں میں جنگ کے بعد ایک ٹینک دفن ہوا پڑا ہے۔ بس پھر میں نے اسے ڈھونڈنے کی ٹھانی۔ میں نے ہر جگہ اسے تلاش کیا۔ میں شکار کرنے گیا اور مچھلیاں پکڑنے بھی۔ میری بیوی مجھ پر شک کرنے لگی۔‘

‘میں نے فضا سے بہت سی تصاویر لیں اور زمین کے اندر کے سکینز بھی۔ جس سے مجھے یہ پتا چلا کہ جانا کہاں ہے۔‘

‘جس دن ہمیں ڈیبرا ملا ایسا لگا کہ کوئی مقدس مزار مل گیا ہے۔ یہ اس جنگ کا ایک نشان تھا۔ یہ ایک لحاظ سے ان سارے لوگوں کو خراج تحسین تھا جو اس جنگ میں شامل ہوئے۔‘

تاریخ دان جان ٹیلر نے اس پر تحقیق کی اور انھیں یہ پتا چلا کہ 20 برس کے فرینک ہیپ اس جنگ میں زندہ بچ گئے اور انھیں فوجی اعزاز ملٹری کراس بھی ملا۔

لیکن لندن سے تعلق رکھنے والے بیس برس کے جورج فٹ، بیلفاسٹ کے 25 برس کے ولیم گیلوے، کیمبرج سے بیس سال کے جوزف شورٹن اور ناٹنگھم سے تین بچوں کے باپ 36 برس کے فریڈ ٹپنگ کی ہلاکت آگ کے شعلوں میں ہوئی۔

مسٹر ٹیلر کہتے ہیں ‘یہ ضروری ہے کہ ہم ان عام شہروں کے لوگوں کو یاد کریں۔ جنھوں نے انتہائی محدود حالات میں ناقابلِ یقین کارنامے انجام دیے۔‘

ڈیبرا، اب ایک میوزیم میں موجود ہے اور اس جنگ کی 100ویں سالگرہ کے موقع پر اسے عام لوگ دیکھ سکیں گے۔


ڈاکٹر ہیمنڈ کہتے ہیں کہ جرمن فوج کے پاس اپنے ٹینک نہیں تھے اور جب وہ ابتدائی طور پر چونک گئے تو اس کے بعد انھوں نے بہادری سے لڑائی کی۔

‘ٹریک کے بیچ میں گرینیڈ پھینکے جا رہے تھے، رائفلوں سے فائرنگ بھی ہو رہی تھی اور فوجی ایک دوسرے کے اتنا قریب آگئے تھے کے لڑائی کے دوران بندوقوں کا رُخ زمین کی طرف موڑنے کی کوشش کی جاتی۔ ایک اور ہفتے لڑائی جاری رہی لیکن اس میں ہزاروں لوگوں کی جانیں گئیں۔ برطانوی فوج پسینڈیل کی جنگ کے بعد اتنی تھک چکی تھی کہ اس کے پاس نہ تو اتنے فوجی تھے اور نہ ہی اتنے ٹینک یا بندوقیں کہ وہ دشمن کی کمزوریوں کا فائدہ اٹھاتے۔‘

پھر 30 نومبر کو جرمن فوجیوں نے آگ کے گولے پھینکنے والوں کے دستے کے ہمراہ حملہ کیا۔ دس دسمبر تک دونوں طرف سے افواج نے کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہیں کی تھی۔ برطانوی فوج کے چوالیس ہزار فوجی ہلاک ہوئے اور ساتھ ہی ایک سو اسی ٹینک بھی تباہ ہوئے۔ جرمن فوج کو بھی تقریباً اتنا ہی نقصان ہوا تھا۔

تو کیا اس سب کا کچھ فائدہ نہ ہوا؟

ڈاکٹر ہیمنڈ کہتے ہیں کہ ’حملے میں سپورٹ کی کمی کی وجہ سے اس کے امکانات کا اندازہ نہ لگایا جا سکا۔ لیکن یہی وہ حکمت عملی تھی جس کی وجہ سے 1918 میں مغربی محاز پر جرمن افواج بکھر گئی۔‘

’یہ جنگ کی تاریخ میں ایک کارنامہ ہے۔ یہ چونکا دینے والے حملے کے موثر ہونے کا ثبوت ہے۔ ہر ہتھیار کو اس مقصد کے لیے استعمال کرنا جس کے لیے وہ بنا ہے۔ یہ حکمتِ عملی گلف وار میں بھی استعمال ہوئی۔‘

‘اب ایک ایک ایسا وقت، جس میں مشین گن، خاردار تاریں، آرٹلری اور خندقوں سے جنگوں کے فیصلے ہوتے تھے، اختتام پذیر ہو چکا ہے۔‘


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 21779 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments