”ہمارے درد کا جالب مداوا ہو نہیں سکتا“

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

موجودہ حکومت کو اقتدار میں آئے تین برس گزرچکے ہیں۔ اس کی آمد سے قبل ہی نواز شریف صاحب سپریم کورٹ کے ہاتھوں کسی بھی عوامی عہدے کے لئے تاحیات نا اہل قرار پانے کے بعد احتساب عدالت کی وجہ سے جیل جا چکے تھے۔ اقتدار سنبھالنے کے بعد عمران حکومت نے احتساب کے عمل کو مزید جارحانہ بنایا۔ خواجہ سعد رفیق، شاہد خاقان عباسی، شہباز شریف اور خواجہ آصف کے علاوہ نون لیگ کے دیگر کئی سرکردہ اراکین کرپشن کے سنگین الزامات کے تحت گرفتار ہوئے۔ انہیں اعلیٰ عدالتوں سے ضمانت کے حصول تک کئی مہینے جیل میں گزارنا پڑے۔ پیپلز پارٹی کے بھی آصف علی زرداری سمیت کئی رہ نما کڑے احتساب کی زد میں ہیں۔ احتسابی عمل کی گہماگہمی ہی مگر حکومت کا واحد ہدف نہیں ہونا چاہیے تھی۔

میرے اور آپ جیسے عام پاکستانی کے لئے بھی حکومتوں کو کچھ کرنا ہوتا ہے۔ اس کی جانب کماحقہ توجہ نہیں دی جا رہی اور ہمیں مہنگائی اور بے روزگاری کے طوفان کے سپرد کر دیا گیا ہے ۔ اس طوفان کی بابت دہائی مچاؤ تو گزشتہ حکومتوں کی بدعنوانی کی داستانیں سنائی جاتی ہیں۔ ہمیں یہ باور کروانے کی کوشش ہوتی ہے کہ ہم مبینہ ”چور اور لٹیروں“ کے کرتوتوں کا خمیازہ ادا کر رہے ہیں۔ اس دلیل پر غور کریں تو اکثر یہ گماں ہوتا ہے کہ بحیثیت قوم ہمیں ماضی کی حکومتوں کے کردہ یا ناکردہ گناہوں کا اجتماعی کفارہ ادا کرنا پڑرہا ہے۔ عام شہریوں کی بے پناہ اکثریت کا اگرچہ ان حکومتوں کی پالیسی سازی میں کوئی کردار ہی نہیں تھا۔

میرے اور آپ جیسے شہریوں کے سانجھے دکھ عمران حکومت کا بھی درد سر نہیں ہیں۔ اس کے اولین وزیر خزانہ جناب اسد عمر صاحب تھے۔ سیاست میں آنے سے قبل ایک بہت بڑی کاروباری کمپنی کے مدارالمہام رہے۔ امید دلائی گئی کہ وہ پاکستانی معیشت میں بھی رونق لگادیں گے۔ وہ مگر قومی خزانہ خالی ہوجانے کی دہائی مچاتے رہے۔ ہمارے ہاں جب بھی قومی خزانہ خالی ہوا تو ہر حکومت نے فی الفور عالمی معیشت کے نگہبان ادارے آئی ایم ایف سے رجوع کیا۔ اسد عمر صاحب کی غیرت نے مگر یہ گوارا نہیں کیا۔ ان کے لیڈر یعنی عمران خان صاحب ویسے بھی اپوزیشن کے دنوں میں آئی ایم ایف سے رجوع کرنے کے بجائے خودکشی کرنے کی بڑھکیں لگاتے رہے تھے۔ آئی ایم ایف سے گریز کو ممکن بنانے کے لئے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات جیسے برادر ممالک سے سہارے ڈھونڈنے کی کوشش ہوئی۔ دیرینہ دوست چین سے بھی تعاون کی درخواست ہوئی۔

بالآخریہ حقیقت تسلیم کرنا پڑی کہ دوست وبرادر ممالک آئی ایم ایف کا متبادل نہیں ہوسکتے۔ اسد عمر کو فارغ کر دیا گیا۔ ان کی جگہ ڈاکٹر حفیظ شیخ وزارت خزانہ کے منصب پر بٹھادیے گئے۔ انہوں نے آئی ایم ایف سے ایک معاہدہ کیا۔ اس معاہدے کے تحت تیارہوئے نسخے کو ستمبر 2022 تک استعمال کرنا ہے۔ اس کے عوض ہمیں مختلف اقساط میں بالآخر 6 ارب ڈالر ملیں گے۔ مذکورہ رقم کے حصول کے لئے چند شرائط پرعملدرآمد مگرضروری ہے۔

دیانت داری کا تقاضا تھا کہ ماضی کی حکومتوں کو ہماری مشکلات کا واحد ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے عمران حکومت اس موقف پر ڈٹی رہتی کہ آئی ایم ایف کی عائد کردہ شرائط پر کامل عمل درآمد کے علاوہ کوئی اور راستہ موجود نہیں ہے۔ سرجھکائے لہٰذا ماضی کی خطاؤں کا خمیازہ بھگتو اور اچھے دنوں کا انتظار کرو۔

رواں مالی سال کا بجٹ تیار کرنے کے لئے تاہم شوکت ترین صاحب کو ڈاکٹر حفیظ شیخ کی جگہ وزیر خزانہ بنا دیا گیا۔ اپنا منصب سنبھالتے ہی وہ کامل اعتماد کے ساتھ یہ دعویٰ کرنا شروع ہو گئے کہ پاکستان کی معیشت بحال ہو چکی ہے۔ اپنا بجٹ پیش کرتے ہوئے انہوں نے اعداد و شمار کے ذریعے کہانی یہ بھی سنائی کہ ہماری معیشت کے عالمی نگہبانوں کے اندازوں کے برعکس ہماری معیشت میں معجزانہ دکھتی بڑھوتی ہوئی ہے۔ نمو کی اس شرح کو اب آگے بڑھانا ہو گا۔ اس کے لئے لازمی ہے کہ آئی ایم ایف کے ایسی شرائط کو رد کر دیا جائے جو ترین صاحب کی دانست میں شرح نمو کو بڑھنے نہیں دیں گی۔ بجلی اور گیس کے نرخوں میں اضافہ اس ضمن میں کلیدی برائی ٹھہرائی گئی۔

علم معیشت کی مبادیات سے بھی نابلد ہوتے ہوئے میں اس کالم میں خبردار کرتا رہا کہ شوکت ترین صاحب کو بالآخر اسی راہ پر سفر کرنا ہو گا جو حفیظ شیخ صاحب نے آئی ایم ایف کی رہ نمائی میں ڈھونڈی تھی۔ میرے بیان کردہ خدشات کا تمسخراڑایا گیا۔ کئی افراد کو گماں یہ بھی ہوا کہ میں جہالت کی وجہ سے مایوسی نہیں پھیلارہا۔ میری یاوہ گوئی کی وجہ وہ ”لفافے“ ہیں جو ماضی کے حکمرانوں سے ملتے رہے ہوں گے۔ شوکت ترین صاحب رواں ہفتے کا آغاز ہوتے ہی البتہ حفیظ شیخ کی بنائی راہ پر لوٹ آئے ہیں۔ عمران حکومت مذکورہ واپسی کو سراہتی نظر آ رہی ہے۔ خیبرپختون خواہ سے سینٹ کی ایک نشست خالی کروالی گئی ہے۔ پنجاب سے ابھرے ترین صاحب کو وہاں سے منتخب کروانے کا ارادہ ہے۔

ان کی مشفقانہ سرپرستی عندیہ دے رہی ہے کہ عمران خان صاحب بجلی، گیس اور پیٹرول کے نرخوں میں مزید اضافے کو دل وجان سے آمادہ ہیں۔ 550 ارب روپے کے اضافی ٹیکس بھی لگائے جائیں گے۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے آئی ایم ایف کے گورنر کی خودمختاری بھی یقینی بنائی جائے گی۔ میری اور آپ کی آمدنی میں اضافے کی کوئی امید مگر دلائی نہیں جا رہی۔

نا امیدی کے اس موسم میں پاکستان کے اسلام آباد سمیت بڑے شہروں میں جرائم کی شرح خطرناک حد تک بڑھ رہی ہے۔ اسلام آباد کے ایف ٹین جیسے پوش علاقے میں مسلم لیگ (نون) کی سینیٹر نزہت عامر صاحبہ کے ہاں دن دھاڑے ڈاکہ پڑا۔ ڈکیتی کی ایسی کئی وارداتیں مسلسل ہو رہی ہیں۔ میڈیا میں لیکن ان پور کماحقہ توجہ نہیں دی جا رہی۔ ساری توجہ یہ سمجھانے کو مرکوز کردی گئی ہے کہ حال ہی میں ثاقب نثار سے منسوب جو آڈیو لیک ہوئی تھی وہ کون سے ”ٹوٹے“ جوڑ کر بنائی گئی تھی۔

فواد چودھری صاحب کو ہمارے ”لبرل“ دوست دور حاضر کا جی دار عقل پرست شمار کرتے ہیں۔ چند ہی روز قبل انہوں نے ایک مذہبی تنظیم پر غیر ملکی فنڈنگ سے ملک میں انتشار پھیلانے کا الزام لگایا۔ مذکورہ الزام کی ٹھوس پیروی کے بجائے اس تنظیم کو رام کرنے کے لئے مگر مفتی منیب الرحمن صاحب کی فراست سے رجوع کرنا پڑا۔ اب غیر ملکی فنڈنگ کا الزام چودھری صاحب نے عاصمہ جہانگیر کی یاد میں قائم ہوئی ایک تنظیم پر لگادیا ہے۔ ہماری ریاست وحکومت کے پاس اگر اس ضمن میں ٹھوس ثبوت موجود تھے تو اس کا فرض تھا کہ ہمارے چیف جسٹس صاحب کو ان کی بابت بروقت آگاہ کرتی۔ وہ انہیں دیکھنے کے بعد حال ہی میں اسی تنظیم کی جانب سے لاہور میں ہوئے اجتماع میں شرکت سے غالباً اجتناب برتتے۔ چند ہائی کورٹس کے معزز چیف جسٹس بھی شاید ایسا ہی رویہ اختیار کرتے۔

حقائق مگر دور حاضر کی سیاست کا درد سر نہیں رہے۔ یہ بیانیوں کی لڑائی بن چکی ہے۔ بنیادی مقصد اس جنگ کا ٹھوس معاشی حقائق سے ہماری توجہ ہٹاکر ریگولر اور سوشل میڈیا پر فروعی معاملات کے حوالے سے ایک دوسرے کی بھد اڑانا ہے۔ ”ہمارے درد کا جالبؔ مداوا ہو نہیں سکتا“ ۔
بشکریہ نوائے وقت۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments