کاش آج افتخار چوہدری چیف جسٹس ہوتے


پاکستان کی عدالتی تاریخ درخشاں ناموں کی ایک کہکشاں ہے۔ جسٹس منیر، جسٹس مولوی مشتاق، جسٹس قیوم، جسٹس عبدالحمید ڈوگر اور ایسے ہی بے شمار نام ہماری تاریخ میں جھلملا رہے ہیں۔ لیکن اگر کوئی بھی ذی شعور محب وطن پاکستانی دماغ کو معمولی سا بھی استعمال کرے تو وہ اس بات کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے گا کہ ہماری عدالتی تاریخ کا روشن ترین ستارہ کوئی دوسرا نہیں بلکہ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری ہیں۔

آپ شاید ان مشکوک جذبہ حب الوطنی رکھنے والے لوگوں کے گروہ سے تعلق رکھتے ہوں جو صرف لکھے ہوئے قانون پر چلنے کی بے جا ضد کرنے والوں کو ہیرو مانتے  ہوں کہتے ہوں کہ جسٹس اے آر کارنیلئیس، ایم آر کیانی، سعید الزماں صدیقی، وجیہہ الدین، وغیرہ عدلیہ کے ہیرو ہیں۔ مگر ہمیں غیر جانبداری سے کام لیتے ہوئے یہ ذہن میں رکھنا چاہیے کہ جسٹس کارنیلئیس اور جسٹس کیانی نے اپنے دیگر تمام اچھے فیصلوں کے باوجود ملک کو کرپشن سے پاک کر دینے والی پاکستان کی پہلی صاف شفاف ایوبی حکومت کے خلاف کچھ معاندانہ رویہ اختیار کیا تھا اور اس کی ویسے حمایت نہیں کی تھی جیسا اس کا حق ہے بلکہ الٹا اس کے خلاف مشکلات کھڑی کرتے رہے تھے اور مصر تھے کہ قانون بندوق سے بالاتر ہے، اس وجہ سے ان دونوں کا نام اس فہرست میں شامل کرنا ممکن نہیں ہے۔ جمہوریت کو کسی بھی وجہ سے کرپشن کے خاتمے میں رکاوٹ ڈالنے پر ترجیح نہیں دی جانی چاہیے۔

چیف جسٹس افتخار چوہدری کو سنہ 1999 میں صدر مملکت رفیق تارڑ نے بلوچستان ہائیکورٹ کا چیف جسٹس مقرر کیا ہی تھا کہ ایک امتحان آ گیا۔ جنرل پرویز مشرف نے مارشل لا لگا دیا۔ اس وقت سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کے کئی معزز جج صاحبان نے حالات کی نزاکت کو نہ جانا اور پی سی او کے تحت حلف اٹھانے سے انکار کر دیا۔ آپ کو حیرت ہو گی کہ ان میں چیف جسٹس آف پاکستان سعید الزماں صدیقی، جسٹس مامون قاضی، جسٹس ناصر اسلم زاہد، جسٹس وجیہ الدین احمد اور جسٹس منیر شیخ جیسے جج صاحبان کے نام شامل تھے جن کا موقف تھا کہ وہ آئین اور قانون پر چلیں گے۔ لیکن اس وقت جسٹس افتخار چوہدری صاحب نے اپنے جذبات اور قانون کو خود پر غالب نہ آنے دیا اور نہایت دانشمندی سے کام لیتے ہوئے پی سی او پر حلف اٹھا لیا۔ اگر کوئی بھی ذی شعور شخص غور کرتے تو اس معاملے میں ان کی تعریف کیے بغیر نہیں رہ سکتا ہے۔ اگر ایسے دیانت دار ججوں کو جنرل مشرف بندوق کی نال پر گھر بھیج دیتا، تو قوم اور ملک کو انصاف دینے کے لئے انتہائی نا اہل افراد بھرتی کر لئے جاتے جو قانون کی بجائے جنرل مشرف کے اشارہ ابرو پر فیصلہ کرتے مگر جسٹس چوہدری نے فراست سے کام لیتے ہوئے ایسا نہ ہونے دیا۔

ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کے خلاف اس حکمت عملی کا نتیجہ یہ نکلا کہ افتخار چوہدری صاحب کو 2002 میں سپریم کورٹ کا جج تعینات کر دیا گیا۔ اب ایک اور امتحان درپیش تھا کہ تعیناتی قبول کرنے کے لئے ایک مرتبہ پھر جنرل مشرف کے غیر آئینی لیگل فریم ورک آرڈر کو قبول کیا جائے یا انکار کر دیا جائے۔ جسٹس چوہدری اس کڑے امتحان سے بھی سرخرو نکلے اور حلف اٹھا لیا۔ لیکن سر منڈاتے ہی اولے پڑے والی کہاوت ایسے ہی تو نہیں بنی ہے۔

ابھی حلف اٹھایا ہی تھا کہ کسی شریر سیاست دان نے سپریم کورٹ میں پیٹیشن دائر کر دی کہ جنرل مشرف کا لیگل فریم ورک آرڈر غیر آئینی ہے۔ آئین میں ترامیم کا ایک طریقہ کار موجود ہے مگر اس ایل ایف او کے ذریعے غیر آئینی طریقے سے ترامیم کی جا رہی ہیں اس لئے اسے منسوخ کیا جائے۔ سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے یہ پیٹیشن سنی۔ بینچ میں جسٹس افتخار چوہدری کا نام نمایاں تھا۔

خوب غور کرنے کے بعد بینچ نے فیصلہ کیا کہ جنرل پرویز مشرف کو عوام کی بھلائی، کاروبارِ ریاست کو چلانے، اور چیف ایگزیکٹو کے اعلان کردہ اہداف کو حاصل کرنے کے لئے کوئی بھی قانون بنانے یا آئینی ترامیم کرنے کا حق تین سال کے لئے دیا جاتا ہے۔ ہماری اپنی رائے میں تین سو سے زائد کرپٹ اور گمراہ عوامی نمائندوں پر منصفانہ اور پاک صاف آئین بنانے کے معاملے پر بھروسہ کرنا غلط ہے اور کوئی ایسا شخص ہی اس معاملے میں انصاف کر سکتا ہے جسے ووٹ لینے کی حاجت نہ ہو۔ عوام کی بھلائی کا جذبہ ہی ایسا عظیم فیصلہ کرنے کا محرک تھا جو پاکستان کی تاریخ کے عظیم ترین مقدمات میں شامل ہو گیا۔ مولوی تمیزالدین کی اسمبلی بحالی  کی درخواست اور ذوالفقار علی بھٹو کے مقدمہ قتل کے کیس کے بعد یہ وہ مقدس ترین فیصلہ تھا جسے اتنے احترام سے دیکھا جاتا ہے کہ اس کی نظیر کو کسی دوسرے کیس میں استعمال نہیں کیا جاتا مبادا اس کے تقدس میں کمی آ جائے۔ اپریل 2005 میں جسٹس چوہدری اس اہم بینچ کا بھی حصہ تھے جس نے سترہویں آئینی ترمیم اور صدر جنرل پرویز مشرف کے وردی اتارنے کی پیٹیشن کو رد کر دیا۔

جسٹس چوہدری کے دل میں عوام کی بھلائی کا جذبہ موجزن دیکھتے ہوئے جنرل پرویز مشرف نے انہیں جون 2005 میں چیف جسٹس آف پاکستان بنا دیا۔ اب ایسا ہوا کہ جنرل مشرف کے وزیراعظم شوکت عزیز عوام کی بھلائی کے لئے سٹیل مل کی نجکاری کرنا چاہتے تھے تاکہ یہ ادارہ قومی خزانے کو نقصان پہنچانا بند کر دے۔ کیس جسٹس چوہدری نے خود سنا تو انہوں نے اس کے خلاف فیصلہ دے دیا۔ جنرل مشرف کے دل میں گرہ سی پڑ گئی۔ اسی اثنا میں چند شریر عناصر نے جسٹس چوہدری کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں درخواست بھی دے دی اور کچھ من گھڑت سے ثبوت دے ڈالے۔ نو مارچ 2007 کو پاکستان کی تاریخ کے اس عظیم ترین چیف جسٹس کو جنرل مشرف نے آرمی ہاؤس میں بلا کر معطل کر دیا۔

اس موقعے پر جسٹس افتخار چوہدری کو پہلی مرتبہ شبہ ہوا کہ جنرل مشرف عوام کی فلاح میں دلچسپی نہیں رکھتے بلکہ وہ اقتدار پر قابض ایک غاصب ہیں۔ جسٹس چوہدری کے حق میں ایک ملک گیر تحریک چلی جس کے دوران 12 مئی 2007 کو کراچی میں خوب قتل و غارت بھی ہوئی اور 48 افراد جان سے گئے۔ بعد میں 9 اپریل (2008) کو کراچی کے طاہر پلازا میں وکلا کے دفاتر پر حملہ کر کے دس افراد کو زندہ جلا دیا گیا۔ 12 مئی کے مقدمے کا آج تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا مگر اسی تحریک کا نتیجہ تھا کہ بے نظیر بھٹو کی واپسی ہوئی اور جنرل مشرف کو رخصت ہونا پڑا۔ پھر چوہے بلی کا کھیل ہوا اور بالآخر آصف زرداری کو مجبور ہو کر جسٹس افتخار چوہدری کو چیف جسٹس بنانا پڑا۔

وکلا کی اس عظیم تحریک کے نظام انصاف پر گہرے اثرات پڑے۔ تحریک کی کامیابی کے بعد وکیل قانون کی سربلندی کے لئے میدان میں نکل آئے۔ اگر کچہری میں کہیں کوئی پولیس والا ان کو انصاف کا دشمن دکھائی دیتا تو اس کا موقعے پر ہی انصاف کر ڈالتے۔ چھوٹے موٹے مجسٹریٹ یا سیشن جج وغیرہ وکلا کی حق بات سننے سے انکار کرتے ہوئے زیادہ قانون بگھارنے کی کوشش کرتے، تو وکلا ان کو منہ توڑ جواب دیتے۔ اور ان کی بے غرضی دیکھیے کہ جج سے انصاف لینے کی خاطر اپنا جوتا تک گنوانے کا رسک لے لیتے حالانکہ سب پاکستانی جانتے ہیں کہ اگر معمولی سی اچھی حالت والا جوتا بھی کوئی پھینک کر مارے، تو اس کی واپسی کا امکان کم ہوتا ہے۔

اب عوامی حمایت کے بعد افتخار چوہدری صاحب دوبارہ چیف جسٹس بنے تو انہوں نے انصاف کے جھنڈے گاڑ دیے۔ پرانے زمانے کے منصفوں اور منصف مزاج حاکموں کے بارے میں سنا ہے کہ وہ رات کو گلیوں میں گھوم پھر کر عوام کا حال جانتے تھے اور انصاف کرتے تھے۔ آپ نے اگر الف لیلہ پڑھی ہو تو اس میں خلیفہ ہارون الرشید کی اسی صفت پر کئی کہانیاں بھی پڑھی ہوں گی۔ چیف جسٹس افتخار چوہدری ایک جدید ذہن کے شخص تھے۔ وہ خود گلیوں میں پھرنے کی بجائے ٹی وی کا ریموٹ پکڑ کر بیٹھ جاتے تھے اور نیوز ٹکر دیکھنا شروع کرتے تھے تاکہ دکھی عوام کی حالت جان سکیں اور انصاف کر سکیں۔ وہ ان اساطیری ججوں میں سے ایک تھے جو اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ”انصاف صرف ہونا ہی نہیں چاہیے، انصاف ہوتے ہوئے دکھائی دینا بھی چاہیے“۔ بلکہ وہ تو انصاف کے دکھائی دینے پر اتنا زیادہ یقین رکھتے تھے کہ ہر وقت ٹی پر نظر آنا چاہتے تھے۔

جہانگیر بادشاہ کا انصاف مشہور ہے، حالانکہ وہ تو فریادی کے زنجیر ہلانے پر ہی حرکت میں آتا تھا۔ جسٹس چوہدری نے تو ٹی وی کے ٹکر دیکھ کر زبردستی انصاف فراہم کرنا شروع کیا تو کرپٹ سیاستدانوں کے ہوش اڑ گئے۔ کبھی ٹکر چلا کہ ائیرپورٹ کے سکینر میں شراب کی بوتل دکھائی دی ہے تو اسی پر ایسا ایکشن لیا کہ سب کو عبرت حاصل ہوئی۔ اس زمانے میں چیف جسٹس افتخار چوہدری کے دبدبے کا یہ عالم تھا کہ ہمارے محلے میں لوگوں نے مٹی کے تیل کو بھی بوتل میں لے جانا بند کر دیا تھا اور بے پیندے کے لوٹے میں لے جاتے تھے۔ کہتے تھے کہ جج صاحب کو پتہ چل گیا کہ ہم بوتل لے جا رہے ہیں تو وہ ازخود نوٹس لے لیں گے اور ہماری تو کوئی ضمانت بھی نہیں ہونے دے گا۔

کچھ لوگوں نے نیوز ٹکر دیکھ کر چیف جسٹس کے انصاف کی فراہمی کے جذبے کا غلط فائدہ اٹھانے کی کوشش بھی کی مگر ناکام رہے۔ عمران خان نے الیکشن میں دھاندلی کے خلاف کیس کر دیا اور ٹی وی پر بھی خوب بولے، مگر چیف جسٹس افتخار چوہدری نے صاف بتا دیا کہ عدالت مقدمات میں گردن گردن تک ڈوبی ہوئی ہے اس لئے غیر اہم معاملات کے لئے قانونی طریقہ کار کا انتظار کیا جائے۔ باری آنے پر فیصلہ ہو جائے گا اور صرف عوامی مفاد کے مقدمات کو ہی ترجیحی بنیاد پر سنا جاتا ہے۔ اب آپ خود ہی انصاف سے کام لیں، الیکشن کا مینڈیٹ چرانا عوامی مفاد کا معاملہ ہے یا ایک اداکارہ کا بھری ہوئی بوتل لے کر ہوائی سفر کرنا؟ جسٹس چوہدری نے ہمیشہ درست فیصلہ کیا۔

ہم آج کی غیر یقینی دیکھتے ہیں تو بے طرح سے چیف جسٹس افتخار چوہدری کا سنہرا زمانہ عدل یاد آتا ہے۔ اگر ان کے زمانے میں یہ پاناما وغیرہ کے ٹکر چلتے تو 3 اپریل 2016 کو یہ سٹوری ریلیز ہونے کے بعد سے ہی روزانہ بنیاد پر سماعت کر کے انصاف کی فراہمی کی جا رہی ہوتی۔ چیف جسٹس افتخار چوہدری کا نام جب بھی تاریخ میں آئے گا تو مورخ یہ بات تسلیم کرنے پر مجبور ہو جائے گا کہ نیوز ٹکر کا انصاف ان کی بدولت ہماری تاریخ و روایت کا حصہ بن چکا ہے۔ زمانہ قبل از افتخار میں جج نہیں ان کے فیصلے بولا کرتے تھے۔

تاریخ اشاعت: 18 جولائی 2017

 


اسی بارے میں
کاش آج افتخار چوہدری چیف جسٹس ہوتے

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ Telegram: https://t.me/adnanwk2 Twitter: @adnanwk

adnan-khan-kakar has 1482 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

1 Comment (Email address is not required)
Oldest
Newest Most Voted
Inline Feedbacks
View all comments