جسٹس کھوسہ نے سسیلین مافیا اور گاڈ فادر کسے کہا تھا؟
نیوز روم سے کورٹ رپورٹنگ کے لیے نکلنے والے رپورٹر کو ایڈیٹر ایک ہدایت سختی سے کیا کرتا ہے کہ جو عدالت میں بیٹھے جج صاحب کہیں اسی کو رپورٹ کرنا ہے، اپنی طرف سے ایک حرف چھوڑ نقطہ بھی شامل نہیں کرنا ہے اور وہ ایڈیٹر کی ہدایات پر حرف بہ حرف عمل کرتا ہے لیکن المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں کچھ عرصہ سے بہت سے عناصر کورٹ کے تقدس کا بالکل بھی خیال نہیں کر رہے ہیں اور وہ کورٹ کی تشریحات من مرضی سے کرتے نظر آرہے ہیں اور وہ ایسی باتیں بھی معزز جج صاحبان سے منسوب کرتے پھر رہے ہیں جو کہ یا انہوں نے کی ہی نہیں ہیں یا پھر ان باتوں کا وہ مطلب نہیں جو کہ ایسے شرپسند عناصر نے لیا ہوا ہے، مثال کے طور پر جسٹس آصف سعید کھوسہ کے حوالے سے ایک بات کہی جاتی ہے کہ انہوں نے سسیلین مافیا اور گاڈ فادر کے القابات سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے لیے استعمال کیے تھے، حالانکہ جب اس بات کا زیادہ ہی شوروغوغا ہوا اور بار بار جسٹس کھوسہ کا نام اس حوالے سے لیا جانے لگا تو انہوں سپریم کورٹ کے رجسٹرار کی طرف سے میڈیا کے لیے ایک وضاحت جاری کروا کر سب اخبارات میں شائع کروائی تھی کہ
”سسیلین مافیا اور گاڈ فادر کے الفاظ کسی سیاستدان وغیرہ کے لیے نہ تھے بلکہ یہ صرف ایک ناول کا ذکر کرتے ہوئے بولے گئے تھے“
جسٹس کھوسہ کی اس وضاحت کے بعد بات ختم ہو جانی چاہیے تھی اور ان القابات کو ان کی ذات سے منسوب کر کے پکارنے سے یکسر اجتناب کرنا چاہیے تھا لیکن آج بھی ان الفاظ کو میاں نواز شریف پر تھوپا جاتا ہے اور اس حوالے سے جسٹس کھوسہ کا حوالہ ڈٹ کر دیا جاتا ہے، خاص طور پر حکومتی زعماء اس حوالے کو جانتے بوجھتے ہوئے نہایت دیدہ دلیری اور ڈھٹائی سے استعمال کرتے ہیں، کیا یہ توہین عدالت نہیں ہے؟ آخر ایک غلط بات اعلی ترین عدلیہ کے ایک جج سے کیسے منسوب کی جا سکتی ہے؟
اور پھر ان حالات میں کہ وہ جج صاحب اس بات سے ہاتھ بھی ہٹا چکے ہیں اور کھلے عام کہہ چکے کہ ان کا اشارہ سابق وزیراعظم کی طرف بالکل بھی نہیں تھا اور نہ ہی ان کا مقصد کسی اور کی کردارکشی تھا؟ صاف نظر آ رہا ہے کہ یہ ساری مہم ایک پلاننگ کے تحت چلائی جا رہی ہے اور اس کا نشانہ نہ صرف اعلی ترین عدلیہ اور جسٹس کھوسہ ہیں بلکہ سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اصل ٹارگٹ ہیں، کیا اعلی عدلیہ کو اپنے ایک جج کے حوالے سے اس طرح کی باتیں منسوب کرنے کا نوٹس نہیں لینا چاہیے؟
کیا ایسے غلط حوالے دینے والے جیل کی سلاخوں کے پیچھے نہیں ہونے چاہئیں؟ حیرت ہوتی ہے کہ کیسے اتنی جرات سے کچھ لوگ اور چند میڈیا گروپ والے غلط بیانیاں کر رہے ہوتے ہیں اور انہیں روکنے والا کوئی بھی نہیں ہے؟ قانون کی ہلکی پھلکی سی واقفیت رکھنے والے بھی جانتے ہیں کہ ایسے معاملات خاصے حساسیت لیے ہوتے ہیں اور اگر بروقت کچھ باتوں کا تدارک نہ کیا جائے تو معاشرے میں اداروں کی تقدیس کا عمل متاثر ہو سکتا ہے جو کہ انارکی کا باعث بن جایا کرتا ہے اور انگریز کہتے ہیں کہ
”وقت پر نہ لگنے والا ایک ٹانکا بعد میں نو ٹانکے لگوانے کا باعث بن جاتا ہے“



کھوسہ صاحب محترم کو بیک وقت ناول نگار اور ایک اعلی عدالت کا منصف بننے کا شوق تھا۔ ڈیڑھ لائن کے فیصلے کیلئے موصوف تین صفحات کا ناول ساتھ تحریر فرماتے تھے۔
اس فیصلے سے پہلے خادم کا خیال تھا کہ کھوسہ صاحب کا قانون کے حوالے سے علم گو سطحی سا ہی ہے مگر ادب اور خاص طور پر انگریزی ادب پر انکی گرفت خاصی مضبوط ہے اس فیصلے کیبعد واضح ہو گیا کہ موصوف یہاں بھی فارغ اور پیدل نکلے، بھیا کبھی مافیا کنگ بھی عدالت میں جج کے سامنے پیش ہوتے تھے؟ وہاں تو جج ہی بھاگ لیا کرتے تھے۔ اور اب انکا یہ کمہنا کہ سیسلین مافیا شریف خاندان کے لیے استعمال نہیں کیا تو اسے کہتے ہیں عذر گناہ بدتر از گناہ۔ ایک شخص اپنے غسلخانے میں نہا رہا تھا کہ اسے شک گزرا کہ کوءی تاک جھانک کر رہا ہے اس نے کھڑکی کی طرف دیکھا تو اسے اپنا ملازم نورا کھڑا دکھاءی دیا بولے ابے او ناہنجار یہ تو کیا کر رہا ہے یہاں کھڑا؟ بولا معافی چاہتا ہوں میں سمجھا بیگم صاحبہ نہا رہی ہیں ۔ جج صاحب شہباز شریف کے سابق سالا شریف رہ چکے ہیں انہین اس طلاق کا دکھ تھا اور انہوں نے گن گن کر بدلے چکاے۔
مجھے تو یہ سمجھ آتی ہے کہ سب بیماریوں کی جڑ مراعات و اختیارات کی زیادتی ہے۔