میری آڈیو لیک ہونے پر میرے ساتھ امتیازی سلوک کیا جا رہا ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

میری تازہ لیک ہونے والی آڈیو کو کورٹ وغیرہ میں لے جانے یا کسی قسم کی تحقیق کرانے کی کوئی ضرورت ہے نہ فائدہ۔ میں اپنی ریٹائرڈ زندگی کے پر سکون لمحات عدالتوں میں دھکے کھا کر ضائع نہیں کرنا چاہتا۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ ایک تو یہ کہ میرے سے زیادہ پاکستانی اعلی عدلیہ کو کوئی نہیں جانتا۔ میں خوب واقف ہوں کہ پاکستان کی اعلی عدلیہ انصاف دینے پر اپنا وقت اور انرجی ضائع نہیں کرتی۔ جو بتایا جاتا ہے وہی کرتی ہے۔ اگر کسی کو انصاف ملا ہے تو سامنے آئے۔ تو پھر مجھے آپ پاگل سمجھتے ہیں کہ کورٹ جانے کا مشورہ دے رہے ہیں۔

دوسری بات یہ ہے کہ اس آڈیو میں کون سی کوئی نئی بات ہے جو پہلے بچہ بچہ نہیں جانتا۔ پاکستان میں عدالتوں سمیت سب کام اسی روٹین سے چل رہے ہیں۔ اس لیے اس آڈیو کو اتنی اہمیت دینا اور اس پر شور مچانا ملک دشمنوں کا کام لگتا ہے۔ لیکن وہ سمجھتے نہیں ہیں ایسی چھوٹی چھوٹی باتوں سے پاکستان کو بدنام نہیں کیا جا سکتا۔ اور خاص طور پر عدلیہ کا مزید کچھ نہیں بگاڑا جا سکتا۔ عالمی سطح پر 126 نمبر سے نیچے اور کہاں جائیں گے۔ اور اگر 126 سے تھوڑا اور نیچے چلے بھی گئے تو کیا ہو جائے گا۔

اور مسلم لیگ نواز والے بھی ویسے ہی شور مچا رہے ہیں۔ میری عدالت نے تو بہت سافٹ سے کام کیے ہیں۔ پاکستان کے وزیراعظم کو نوکری سے نکالنا کون سی نئی بات ہے۔ ہمیں کہا گیا کہ وزیراعظم کو نکال دو اور ہم نے نکال دیا۔ ہر کسی کو اپنی نوکری عزیز ہوتی ہے۔ اس میں اتنا چیخنے چلانے والی کون سی بات ہے۔ ہم نے نہ ان کو ملک بدر کیا اور نہ پھانسی دی ہے۔ اگر عدالتوں نے کچھ مہینے انہیں جیل میں رکھا ہے تو پھر لندن بھی تو بھجوایا ہے۔ یا شاید سب کچھ عدالتوں نے نہیں کیا۔

آپ نے جسٹس نسیم حسن شاہ کا ٹی وی انٹرویو نہیں سنا۔ انہیں کہا گیا تھا کہ وزیراعظم کو پھانسی پر لٹکا دو اور انہوں نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی پر لٹکا دیا۔ شاہ صاحب کی ویڈیو کا تو فورنزک کرانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔ اس پر کسی نے شور نہیں کیا۔ لے لو کوئی ایکشن اگر لے سکتے ہو تو۔

کل کی بات ہے جنرل مشرف نے کہا تھا کہ اس کے حق میں فیصلہ لینے کے لیے جنرل راحیل شریف نے عدالت کا بازو مروڑا تھا۔ اب جنرل مشرف کی ویڈیو کا فورنزک کرانے کی تو کوئی ضرورت نہیں تھی۔ انہوں نے انکار کیا نہ راحیل شریف یا اس زمانے کے ججوں نے۔ کسی نے کوئی شور نہیں کیا کہ جنرل راحیل شریف یا عدالت کے ججوں کو کچھ کہا جائے۔ بس سبھی شکریہ ہی ادا کرتے رہے۔

جب کوئی جج ان کی بات نہیں مانتا تو اس کے ساتھ کیا ہوتا ہے یہ بھی سب کے علم میں ہے۔ جسٹس فائز عیسی اور جسٹس شوکت عزیز صدیقی کو تو آپ بھی جانتے ہوں گے۔ اس سے پہلے بھی کچھ نافرمان ججز ہو گزرے ہیں۔ سب کے ساتھ یہی ہوا، بے روزگار رہے یا وکیل بن گئے۔

نوے کی دہائی میں ہونے والے فیصلوں پر بھی کوئی تبصرہ ہونا چاہیے۔ جنرل اسلم بیگ نے بھی بیان جاری کیا تھا کہ انہوں نے عدالت کو کہا تھا کہ برطرف سیاسی حکومت کے کیس میں کیا فیصلہ کرنا اور کیا نہیں کرنا۔ کچھ ججوں نے جذبات میں آ کر انہیں عدالت بلا لیا اور پوچھا کہ جناب آپ اپنی بات کو سچ ثابت کرنے کے لیے گواہ پیش کریں تو انہوں بتا دیا کہ ان کا یہ پیغام (حکم پڑھا جائے ) وسیم سجاد عدالت لے کر گئے تھے۔ سب خاموش ہو گئے۔ کسی نے کچھ بھی نہیں کہا کیونکہ یہ سب کچھ ایک روٹین ہی تو ہے وطن عزیز میں۔

میری ایک آڈیو پر اتنا شور میرے ساتھ امتیازی سلوک ہے۔ ہاں اس امتیازی سلوک پر میں تم سب لوگوں کو معاف کرتا ہوں۔ کیونکہ میں ایک بڑے دل اور چھوٹے دماغ کا آدمی ہوں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

سلیم ملک

سلیم ملک پاکستان میں شخصی آزادی کے راج کا خواب دیکھتا ہے۔ انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند۔

salim-malik has 297 posts and counting.See all posts by salim-malik

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments