ریاست مدینہ میں قرآنی سیپارے مہنگے ہو گئے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب سے ریاست مدینہ کے وزیراعظم نے یہ فیصلہ صادر فرمایا ہے کہ تعلیمی اداروں میں قرآن بھی لازمی مضمون کے طور پر پڑھایا جائے گا اس وقت سے سپاروں کی قیمتیں بھی آسمان سے باتیں کرنے لگی ہیں اور آخری اطلاعات آنے تک یہ بات سامنے آئی ہے کہ اب سپارے مارکیٹ سے ختم ہوچکے ہیں اور جو مل رہے ہیں وہ دگنی قیمت پر مل رہے ہیں۔ اس قلت پر اہل ایمان و اسلام کی دانشور کلاس سر جوڑ کر بیٹھ چکے ہیں اور غور و خوض جاری ہے کہ (اس سازش میں کس بیرونی طاقت کا ہاتھ ہے؟) جو ہمیں بد نام کرنے کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ یہ کفار ہمیں دنیا کے پاور ہاؤسز سے تو دیس نکالا دے چکے تھے مگر اب یہ ہمارے مذہب کے پیچھے پڑ چکے ہیں اور جو چیز ہماری روحانی طاقت میں بہت زیادہ اضافہ کرتی ہے یعنی قرانی سیپارے اس سے بھی ہمیں محروم کرنا چاہتے ہیں۔ پہلے ہمارے خلاف سازش کر کے ان سپاروں کی قیمتیں بڑھوانے میں اہم کردار ادا کیا اور اب مارکیٹ سے ہی صفایا کر دیا۔ حالانکہ ہم نے تو ریاست مدینہ کو مضبوط بنانے کے لیے تحریک لبیک کا تعلق انڈیا سے ثابت ہونے پر اور اس دہشت گرد تنظیم کا ملک دشمن سرگرمیوں میں ملوث ہونے کے بعد اس پر پابندی لگا کر اسے کالعدم قرار دینے میں بھی کسی تذبذب سے کام نہیں لیا تھا۔

یاد رہے کہ اس دہشت گرد تنظیم نے گھیراؤ جلاؤ کے علاوہ تقریباً دس پولیس والوں کو بھی ہلاک یا شہید کر دیا تھا، اب ان دونوں اصطلاحات میں اختلاف ہو سکتا ہے کیونکہ مرنے اور مارنے والے دونوں مسلمان ہیں اس کے متعلق اہل ایمان کے علماء ہی بہتر تشریح کر سکتے ہیں۔ اس تنظیم کو کالعدم قرار دینے کے بعد پھر کفار نے ہمارے خلاف سازش کردی، سڑکیں بلاک ہو گئیں اور اہل ایمان ہاتھوں میں ڈنڈے اور پتھر لیے سڑکوں پر پھر آن دھمکے اور اس کی وجہ سے ریاستی کاروبار میں بہت زیادہ خلل آنے لگا۔

ہم نے ایک بار پھر ریاست مدینہ کو مضبوط بنانے کے لئے نعرہ مستانہ لگا کر میدان میں کودنے کا فیصلہ کیا اور اس بار ریاست مدینہ کو مضبوط بنانے میں مفتی منیب نے بھی بہت بڑا سہارا دیا مولا ان کو خوش رکھے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ ہم نے ایک بار پھر یوٹرن مار کر تحریک لبیک کے سات خون معاف کر کے قومی دھارے میں شامل کرنے کا فیصلہ کیا، قومی املاک کو نقصان پہنچا تو کیا ہوا وہ تو ہم نے ایک سو چھبیس دن کے دھرنوں میں خوب پہنچایا تھا اور ویسے بھی عوام پر زور زبردستی کے ٹیکس لگا کر خسارہ پورا کر لیں گے۔

دوسری بات یہ ہے کہ پولیس والے مارے گئے تو کیا ہوا یہ تو ریاست کے تنخواہ دار لوگ ہیں ان کے مرنے سے کیا فرق پڑتا ہے۔ ان سب کارروائیوں کے باوجود ریاست مدینہ کو مضبوط بنانے کے لیے ہم نے اسی کالعدم اور دہشت گرد تنظیم کی طرف پیغام محبت دینے کے لئے دوستی کا ہاتھ بڑھادیا اور انہیں گلے لگا کر یہ ثابت کر دیا کہ ہم ایک ہیں پہلے انہیں کالعدم اور دہشت گرد تنظیم ڈیکلیئر کر کے ہم سے بہت بڑی غلطی ہو گئی تھی۔ ریاست مدینہ کو مضبوط بنانے کے لئے چودھری اعجاز لاہوری خادم حسین رضوی مرحوم کے فرزند ارجمند سعد حسین رضوی کی رہائی پر پھولوں کا گلدستہ لے کر نفس نفیس سرکار سعد رضوی کے دولت کدہ پر بڑے ادب و احترام کے ساتھ پیش ہوئے اور سننے میں آیا ہے کہ آئندہ الیکشن میں سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر بھی بات ہوئی اور آخر میں یہ اعلان بھی کیا گیا کہ ( وی آر آن دی سیم پیج ) ۔

اس ساری ملاقات کے بعد ایک بات تو بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ اقتدار کی راہوں کو مضبوط بنانے کے لیے سب کچھ صحیح اور جائز ہوتا ہے۔ طاقت فری میں نہیں ملتی بلکہ اس کے لیے ہزاروں سمجھوتے کرنا پڑتے ہیں چاہے اس کی قیمت عوام کے جان و مال سے بھی ادا کرنا پڑے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اہل ایمان کا دانشور طبقہ اس بات کا سراغ لگانے میں مصروف ہے کہ کفار ہمارے خلاف ہی کیوں چالیں چلتے رہتے ہیں؟ اور وہ ہمیشہ ہی کامیاب کیوں ہو جاتے ہیں؟

اب رمضان کا مہینہ بھی آنے والا ہے اور اس مہینہ میں خورد و نوش کی قیمتیں ایک دم سے بڑھ جائیں گی۔ یہ کفار بہت چالاک ہیں ہمارے خلاف سازش کر کے ہمارے مبارک اسلامی مہینہ میں افطار و سحر میں استعمال ہونے والی چیزوں میں اضافہ کر دیتے ہیں اور خود کرسمس یا ہیپی نیو ائر منانے کے لیے اپنے ملکوں میں قیمتیں سستی کر دیتے ہیں تاکہ غریب طبقہ بھی کرسمس کی خوشیوں میں شریک ہو سکے۔ یہ کفار کبھی نہیں چاہتے کہ ہم آخرت میں کامیاب ہو جائیں یہ ہم سے جلتے ہیں اس لیے انہوں نے ہمیں دنیا کی صفوں سے تو کک اوٹ کیا ہی ہے مگر اب یہ ہماری عاقبت بھی خراب کرنا چاہتے ہیں۔ خدا غارت کرے ان اہل کفار کو جو ہمیں مصلحت پسندانہ فیصلے لینے پر مجبور کرتے رہتے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments