معاشرتی ذمہ داری سے نا آشنا ہم گندے غلیظ لوگ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سیاسی وابستگی اور سیاست سے ورے ہم نے کبھی اپنی ذات میں جھانکنے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ ابن الوقت قسم کے لوگ جن کوئی نظریہ، کوئی خیال باقی نہیں۔ قوم کی تہمت تو ہم پر ہے لیکن کتنے ہیں جو اپنی ذات، اپنے بچوں، حد اپنے خاندان سے آگے سوچ پاتے ہیں۔ اپنے گھر کی بنیاد رکھنے کے لئے ہم ساتھ والے کا گھر اجاڑ دیتے ہیں۔ اپنے بچوں کے لئے ہر ناجائز ہمارے لئے جائز بن جاتا ہے۔ اپنا راستہ بناتے وقت ہم ہر آنے جانے والے کے لئے دیوار بن جاتے ہیں۔ مذہب بھی ہم صرف فتوی کشی اور نفرت پھیلانے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔ باقی اسلام امن کا دین، صفائی نصف ایمان، راستے کا حق ادا کرنا، وغیرہ وغیرہ بیسیوں رٹی رٹائی باتیں بحث کے لئے تو استعمال ہوتی ہیں عمل کے لئے نہیں۔

بات تلخ ہے لیکن کہے بنتی نہیں ہے بادہ و ساغر کہے بغیر کہ ہم بے ترتیبے، بے منزلے، بے قیمتے، بے ہدایتے لوگ ہیں ہیں جنہیں بلاوجہ طرح طرح کے بے ہودہ زعم ہیں۔ کوئی بھی حکومت ہو ہم ہر وقت اسے کوستے، گالیاں دیتے پائے جاتے ہیں۔ سوشل میڈیا کی صورت میں دل کی بھڑاس نکالنے اور اپنی ذمہ داری کو چار لفظوں تک محدود کر کے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ بڑا تیر مارا ہے۔ آپ نواز شریف دور کی اخباریں اٹھا کر دیکھ لیں، آپ پیپلز پارٹی دور کے بیانات سن لیں۔ ہر جگہ اپنے وقت کی حکومت مطعون نظر آئے گی۔

لیکن کہیں بھی ہم اپنی غلطیوں، اپنی کوتاہیوں، اپنی لغزشوں کو نہیں جانتے، نہ جاننا چاہتے ہیں۔ نہ ہمیں یہ شعور ہے کہ انفرادی غلطیاں مل کر اجتماعی فاش غلطی بنتے ہیں جو ہماری قومی زندگی اور ملی کردار کا آئینہ بن کر سامنے آتی ہیں۔

بطور وزیر اعظم عمران خان نے دو ایک احسن اقدامات کیے جو بہت بنیادی تھے لیکن ہماری اس طرف توجہ نہیں تھی۔ ان میں ایک (کم از کم) دارالحکومت میں پلاسٹک کے لفافوں پر پابندی اور دوسرا پبلک واش روم کی صفائی شامل تھی۔ چند ہفتے ان پر عمل ہوا لیکن اب پھر وہی کرتوت ہیں۔ ہم نے اسے محض حکومت کی طرف سے پابندی سمجھا، جیسے ہی حکومت کی توجہ دوسرے کاموں کی طرف ہوئی وہی اسلام آباد ہے، وہی لفافے ہیں اور وہی غلیظ واش روم ہیں۔ ہم نے اس پلاسٹک کے لفافے ( کچھ سٹورز بائیو ڈی گریڈایبل استعمال کر بھی رہے ہیں ) کے مضمرات کو سمجھ کر اسے ترک کرنا مناسب ہی نہیں جانا، ہمیں ادراک ہی نہیں کہ یہ لفافہ ہماری زمین، ہمارے نالوں، ہمارے پانی، ہماری آبی حیات کے ساتھ سب سے بڑھ کر ہماری آنے والی نسلوں کے ساتھ کر کیا رہا ہے۔

ہم چار لوگ بیٹھے ہوں تو اس بات کا رونا روتے ہیں کہ پی آئی اے دنیا کی بڑی ایئرلائن تھی اسے ہمارے حکمرانوں نے تباہ کر دیا۔ آپ یقین کیجئے اسے حکمرانوں سے زیادہ میں اور آپ نے مل کر تباہ کیا ہے۔ یہی حال ہر دوسرے ادارے کا ہے۔ آج ہی کی خبر تھی کہ اقبال کے شاہینوں نے پی آئی اے کے جہاز کو کس طرح نجاست زدہ کر دیا کہ جہاز کی بجائے ڈسٹ بن لگ رہا ہے۔ تصویر میں ان سیٹوں کو دیکھیں کس قدر غلیظ نظر آ رہی ہیں۔ ان سیٹوں پر بیٹھ کر ہمارے ملک میں ٹورسٹ آئیں گے؟

آپ کے پبلک واش روم استعمال کریں گے؟ آپ کے اڑتے لفافے جس گندگی کا مظاہرہ کر رہے ہوتے ہیں انہیں دیکھیں گے؟ بند ہوتے نالوں کی بو سونگھیں گے؟ آپ کی حماقتوں سے پھنسائی ٹریفک میں ایک گھنٹے کا سفر دس بارہ گھنٹے میں مکمل کریں گے؟ آپ کے ثقافتی دارالخلافے لاہور کی آلودہ فضا سے اپنے پھیپھڑوں کو تازہ کریں گے؟ آپ کے جعلی تیل میں پکے مردہ جانوروں کا گوشت کھائیں گے؟

ایک دفعہ مکرر عرض کردوں کہ اس سب کی ذمہ دار حکومت کم اور میں، آپ زیادہ ہیں۔ ہم معاشرے میں فرد کی ذمہ داری جیسے کسی مضمون سے آشنا ہی نہیں۔ نہ ہمارے گھروں میں ہماری تربیت ہوئی نہ تعلیمی اداروں میں اور زبانی کلامی ہم مہذب بنے پھرتے ہیں۔ حقیقت میں جس تیزی سے ہم انحطاط پذیر ہیں، واپسی کا سفر تو رہنے دیں، جانے کہیں بریک بھی لگے گی یا نہیں۔ ستر سال کا سفر اب تک تو رائیگانی کا شکار ہے کہیں یہ عمر بھر کا سفر رائیگاں نہ جائے۔ اگر اپنی بجائے دوسرے کو راہ راست پہ لانے کا ہمارا رویہ قائم و دائم رہا تو پھر ہماری داستاں بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments