ہتک عزت کا قانون ختم کر دیں!

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کہا جاتا ہے کہ کسی بھی مہذب معاشرے کی روح قانون و انصاف کا مضبوط نظام ہے۔ برطانوی وزیر اعظم چرچل کی یہ بات تو اب ایک قول اور اصول کا درجہ حاصل کر چکی ہے کہ اس نے دوسری جنگ عظیم کے دوران اپنے مشیران سے پوچھا تھا کہ ”کیا ہماری عدالتیں انصاف دے رہی ہیں؟“ ۔ مثبت جواب ملنے پر اس نے اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ہماری عدالتیں انصاف دے رہی ہیں تو ہمیں دنیا کی کوئی طاقت شکست نہیں دے سکتی۔ دیکھا جائے تو جنگ اور عدالتوں یا انصاف کا آپس میں کوئی جوڑ میل نہیں۔

چرچل کو تو اپنی فوج کے مورال پر سوال کرنا تھا، جنگی ہتھیاروں، گولہ بارود اور طیاروں کے بارے میں پوچھنا تھا۔ اپنی اور دشمن کی عسکری قوت کا موازنہ کرنا تھا لیکن اس نے عدل و انصاف کے بارے میں پوچھا۔ اس لئے کہ کسی ملک کے عوام اگر اپنے نظام قانون و انصاف پر اعتماد رکھتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ ان کے ساتھ نا انصافی نہیں ہو سکتی تو وہ بکھرے ہوئے افراد کا گروہ نہیں، ایک مضبوط، متحد اور یکجان قوم بن جاتے ہیں۔ ایسی قوتوں کو شکست دینا آسان نہیں ہوتا۔

ہمارے دین نے بھی انصاف کو زبردست اہمیت دی ہے۔ قرآن و حدیث میں عدل کی بہت زیادہ تلقین کی گئی ہے۔ ام المومنین حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے حضور ﷺ کے زمانے میں چوری کی۔ حضرت اسامہ نے لوگوں کے کہنے پر اس عورت کو معاف کر دینے کی بات کی تو آپ ﷺ نے فرمایا۔ ”اسامہ ٹھہرو! بنی اسرائیل ایسی ہی چیزوں سے ہلاک ہوئے۔ جب ان میں کوئی اونچے طبقے کا آدمی چوری کرتا تو اسے چھوڑ دیتے تھے اور اگر کوئی نچلے طبقے کا آدمی چوری کرتا اس کا ہاتھ کاٹ دیتے تھے۔

اگر اس عورت کی جگہ فاطمہ بنت محمد بھی ہوتی تو اس کا ہاتھ بھی کاٹ دیا جاتا“ ۔ سیدنا علی کا ایک مشہور قول ہے کہ کفر کی حکومت تو قائم رہ سکتی ہے لیکن ظلم کی حکومت قائم نہیں رہ سکتی۔ بلاشبہ ظلم کی سب سے گھناونی شکل یہ ہے کہ معاشرہ قانون کی سربلندی سے محروم ہو جائے اور انصاف پر لوگوں کا اعتماد اٹھ جائے۔

افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ اسلام کے نام پر بنے، اسلامی جمہوریہ کہلانے اور اب حکمرانوں کے مطابق ”ریاست مدینہ“ کا لقب رکھنے والی ریاست میں قانون اور انصاف کی پامالی، معمول بن چکی ہے۔ مجھے اس کا خیال ایک بار پھر شدت سے آیا جب میں نے کچھ ایسی خبریں پڑھیں کہ برطانوی عدالتوں نے جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگانے پر بعض پاکستانی ٹی۔ وی چینلوں یا شخصیات پر بھاری جرمانے عائد کیے ہیں اور انہیں کھلے عام معافی مانگنے کا حکم دیا ہے۔

ہمیں کچھ پتہ نہیں کہ اس وقت ملک کی عدالتوں میں جھوٹے اور بے بنیاد الزامات لگانے کے خلاف ازالہ حیثیت عرفی/ ہتک عزت کے قانون (Defamation Law) کے کتنے مقدمات کب سے زیر سماعت ہیں۔ ایسی خبر ہمارے ہاں کم ہی سننے میں آتی ہے جیسی خبریں برطانیہ یا دوسرے مغربی ممالک سے آتی رہتی ہیں۔ ہمارے ہاں اس سلسلے میں نہایت سخت قوانین موجود ہیں۔ کوئی شخص تحریری، زبانی یا کسی بھی طریقے سے، کسی دوسرے شخص کی حیثیت عرفی پر حملہ نہیں کر سکتا۔

الزام تراشی نہیں کر سکتا۔ بہتان نہیں لگا سکتا۔ ایسا کرتا ہے تو اسے جرمانے اور قید کی صورت میں کڑی سزا مل سکتی ہے۔ لیکن ہماری سیاست کا تو سارا کاروبار ہی جھوٹ، الزام تراشی اور دوسروں پر کیچڑ اچھالنے پہ چل رہا ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے پاکستان میں کسی پاکستانی کی عزت، کوئی قیمت نہیں رکھتی۔ کسی کے بارے میں جو جی چاہے کہہ لو۔ جتنا گندا اور گھناؤنا الزام لگا دو۔ دوسرا فریق عدالت چلا بھی جائے تو کیا ہو گا۔ سالوں اس کا فیصلہ ہی نہیں ہو گا۔ گویا کسی بھی شخص کی عزت و آبرو سے کھیلنا، اس کے نام کو گالی بنا دینا اور سرعام اس کی توہین کر دینا ہمارے ہاں ایک کھیل بن چکا ہے۔ جس کی سزا ہے نہ باز پرس۔

ایک انتہائی معتبر عالمی ادارے ”ورلڈ جسٹس پراجیکٹ رول آف لا انڈیکس“ نے 2021 کے بارے میں اپنی رپورٹ شائع کی ہے۔ اس رپورٹ میں دنیا کے 139 ممالک میں قانون و انصاف کی فرمانروائی کا جائزہ لیا گیا ہے۔ اندازہ لگائیے کہ اس فہرست میں پاکستان کا نمبر 130 ہے۔ یعنی صرف 9 ممالک ہم سے نیچے ہیں۔ جنوبی ایشیاء کے ممالک میں سے نیپال، سری لنکا، بھارت، بنگلہ دیش سب کا سکور ہم سے بہتر ہے صرف ایک ملک ہم سے نیچے ہے اور وہ ہے افغانستان۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کی کارکردگی کرپشن، بنیادی حقوق اور عوام کی سلامتی کے حوالے سے انتہائی ناقص ہے بلکہ بد ترین ممالک کی فہرست میں اس کا نمبر دوسرا ہے۔

یہ انتہائی افسوسناک صورتحال بلکہ شرمناک کہنا زیادہ مناسب ہو گا۔ اصل سانحہ یہ ہے کہ قانون کی رسوائی اور انصاف کا غیر یقینی ہونا، لوگوں کے دلوں میں رچ بس گیا ہے۔ شاید ہی کوئی شخص ہو جو اللہ کو حاضر ناظر جان کر یہ کہہ سکے کہ اسے پاکستان کے نظام قانون و انصاف پر مکمل اعتماد ہے۔ کچھ بھی ہو جائے، کوئی طاقت اس کے بنیادی حقوق پر حملہ نہیں کر سکتی۔ کسی کی مجال نہیں کہ اس پر کوئی جھوٹا مقدمہ درج ہو۔ پولیس یا کوئی بھی ایجنسی اور اتھارٹی، غیر قانونی طور پر اسے حراست میں نہیں لے سکتی۔

اگر ایسا ہو تو شہری یقین کے ساتھ کہہ سکے کہ عدالت اسے تحفظ دے گی۔ اسے فوری انصاف فراہم کرے گی۔ کسی کے دباؤ میں آئے بغیر آئین اور قانون کے مطابق فیصلہ کرے گی۔ جب کسی ریاست کے لوگ اپنے نظام قانون و انصاف پر اعتماد کھو بیٹھیں تو وہی کچھ ہوتا ہے جو ہمارے ہاں ہو رہا ہے۔ طاقت ور فرد یا گروہ یا طبقات، قانون کو اپنے ہاتھ میں لے لیتے ہیں اور کمزور، بے وسیلہ، غریب شخص، بے قصور ہوتے ہوئے بھی قانون کی چکی میں پستا رہتا ہے۔

آج میں صرف اس طرف توجہ دلانا چاہتی تھی کہ 2002 کا وہ قانون کہاں رہ گیا ہے جو کسی کی حیثیت عرفی یا عزت کو نقصان پہنچانے کو جرم قرار دیتا ہے۔ آرٹیکل 6 پر تو عمل کرانا مشکل ہے اور یہ بات سمجھ میں بھی آتی ہے لیکن defamation law یعنی ازالہ حیثیت عرفی والے قانون کو موثر بنانے اور دوسروں کی پگڑیاں اچھالنے والوں کو سزا دینے میں کون سی بات مانع ہے۔ اگر ایسا ہی ہے تو اس قانون کو مجموعہ تعزیرات میں سے نکال دیں تاکہ کسی کی عزت و آبرو پر حملہ کوئی جرم ہی نہ رہے۔

۔
بشکریہ روزنامہ نئی بات


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments