پاکستان میں غربت اور غذائی بحران

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  


کیا ہم کمزور آبادیوں کو غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کرنے کے لئے فوڈ ڈسٹری بیوشن نیٹ ورک کو دوسرے چینلز تک بڑھا سکتے ہیں

کرونا 19 نے بلاشبہ دنیا کے 221 ممالک میں ایک بحران پیدا کیا ہے جس کے نتیجے میں 245 ملین تصدیق شدہ کیسز سامنے ہے اور 4۔ 5 ملین اموات واقع ہوتی ہیں۔ اس صورت حال میں صنعت اور دیگر شبہ زندگی کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ خاص طور ر صنعت کے شعبے سے وابستہ افراد اپنی ملازمتیں کھو دینے کے بعد بہت سے مسائل کا شکار ہیں۔ پاکستان میں اکتوبر 2021 تک 28000 اموات کے ساتھ 1.27 ملین طریق شدہ کیسز درج ہوئے۔

اس غیر یقینی صورت حال کی وجہ سے سینکڑوں افراد خوراک رہائش اور بنیادی ضروریات سمیت بہت سے مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔

خوراک کی عدم تحفظ کا شکار پاکستان کو صحیح خوراک کی امداد کی اشد ضرورت تھی۔ کرونا کی وجہ سے ملازمتوں سے نکالے ہوئے افراد کے لئے یہ ایک مایوس کن صورت حال تھی۔ کوئی روزگار نہ ہونے کی وجہ سے لوگ اس بات کا یقین نہیں رکھتے تھی کہ اگلا کھانا کہاں سے لے کر کھائیں گے۔

حکومت پاکستان نے مشکل کی اس گھڑی میں اپنی قوم کے ساتھ ذمہ داری کا ثبوت دیتے ہوئے اس بات کو بھی یقینی بنایا کہ صنعت کے شعبہ کی مدد کے ساتھ ساتھ وبائی مرض پر قابو پایا جائے۔

2020 کے دوران حکومت پاکستان نے فزیکل سنیملس پیکج (1.2 ٹریلین رپیس) کی منظوری دی اور ریڈ ریڈ گرانٹ ریڈ ریڈ آبادی کے لئے کرونا کے اثرات کو کم کرنے کے لئے فنڈز کی فراہمی سپلیمنٹری فنڈ کے لئے 100 بلین روپے محفظ کیے۔

اس کے علاوہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کے لئے 200 ملین کی نقدی امداد کا اعلان کیا۔ اقتصادی کے منصوبے کے تحت حکومت پاکستان نے 1.2 ٹریلین کے ( 8 ملین امریکی ڈالر) کرونا سے پیدا ہونے والے چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے ریلیف پیکجز کے ذریعے خرچ کیے جائیں گے۔ اس ریکوری پلان کے تحت یومیہ اجرت پر کام کرنے والوں کو ریلیف دینے کے لئے 200 ارب مخصوص کئے گئے ہیں۔

کم آمدنی والے خاندانوں کو نقد رقم کی منتقلی کے لئے 150 بلین روپے جبکہ زرعی شعبے کے مالی معاونت کے لئے 100 بلین روپے کے فنڈز جاری کے گئے۔

اس کے ساتھ گندم کی فوری خریداری کے لئے 280 بلین روپے کا اعلان کیا۔ ضرورت مندوں کے لئے قومی امدادی کوششیں جیسے احساس پروگرام پنجاب ریلیف پیکج پاکستان وبائی امداد سمیت دیگر پروگرامز کو شروع کیا ہے۔ ان تمام پروگرامز کا مقصد متاثرہ افراد کی بحالی ہے جس میں دسترخوان فوڈ وین راشن اور ہنگامی نقد رقم کی تقسیم شامل ہے۔ مزید بحران غیر سرکاری ادارے بھی اپنا فعال کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان سب کوششوں کے باوجود کرونا سے بری طرح متاثر ہونے والے لوگ خصوصاً خواتین اور بچوں میں غذائی قلت پر قابو پانا مشکل ہے۔

کرونا سے پہلے تقریباً 20 % آبادی غذائی قلت کا شکار تھی اور 5 سال سے کم عمر 45% بچوں کے نشو و نما متاثر تھی۔

بڑے پیمانے پر فوڈ فورٹیفیکیشن کو سب سے پائیدار اور موثر حل کے طور پر تسلیم کیا گیا ہے۔ فوڈ فورٹیفیکیشن، غذائی قلت پر قابو پانے کے لئے ایک بہترین حکمت علمی ہے۔ عالمی سطح پر اس بات کو یقینی بنایا گیا ہے نجی شعبے کے اشتراک سے آبادی کے بڑے حصے کو مائکرو نیوٹریشن فراہم کی جائے گی۔ پاکستان میں فوڈ ڈسٹری بیوشن نیٹ ورکس ترجیحی حل کے کے طور پر کام کریں گی۔ جن میں دسترخوان لنگر خانے اور کام کی جگہ پر خانہ فراہم کرنے والے کینٹین شامل ہیں۔ تمام جگہوں پر تقسیم کیے خانے والے کھانے کا بڑا حصہ روٹی پر مشتمل ہے۔ جو کہ مقامی فلور ملز سے منگوایا گیا آٹا سے تیار کی جاتی ہے۔ مائیکرو نیوٹریشن کو فراہمی کا معیار اور حفاظت کے ساتھ یقینی بنایا جائے تو پہلے سے قءم شدہ فوڈ نیٹ ورکس کے ذرے معاشرے کے کمزور طبقوں کو غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کر سکتے ہیں۔

پاکستان گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے تعاون سے ایک پروجیکٹ شروع کیا گیا تھا۔ تاکہ کرونا کے دوران اور بعد میں کمزور آبادیوں کے لئے اعلی معیار کی خوراک فراہم کی جا سکے۔

اس معاہدے کے تحت مائیکرو نیوٹریشن اور فورٹیفائید گندم کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اس بات کو یقینی بنایا جائے کہ لوگوں کو نہ صرف صحت بخش اور معیاری کھانا کھلایا جائے بلکہ غذائیت سے بھرپور غذائیں بھی دی جائیں۔ اب تک اس پروجیکٹ کے تحت تقریباً 6۔ 5 ملین ضرورت مانند مرد خواتین کو کھانا فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ 1000 گھرانوں میں راشن کی تقسیم کو بھی یقینی بنایا ہے۔ وقت کے ساتھ لوگوں کی صحت میں مثبت تبدیلی دیکھنے کے بعد یہ پروجیکٹ دوسرے آنے والے منصوبوں کے لئے ایک مثال ہو گا۔

نیشنل فورٹیفکٹوں الائنس اور دیگر سرکاری تنظیمیں فورٹیفیکیشن کی اہمیت اور افادیت کو سمجھتے ہوئے اس قسم کے منصوبوں کو آگے بڑھانے کے قابل ہو جائیں گے۔

عالمی ادارہ صحت کا 16 ممالک تجزیہ اس بات کی تصدیق کرتا ہے کے بنیادی غذا کی فورٹیفیکیشن سے آئرن کی کمی کے خطرے کو 35 % تک کم کیا جا سکتا ہے۔ اس بات کو مدد نظر رکھتے ہوئے کے پاکستان میں گندم کا آٹا بنیادی غذا ہے اور اسے روٹی بنانے کے لئے استعمال کیا جاتا ہے اور روٹی پاکستان کی آبادی کا بنیادی خوراک کا اہم ترین حصہ ہے۔ اس لئے گندم کے آٹے کی فورٹیفیکیشن کی ضرورت ہے اس طرح منصوبے حکومتی کوششوں کے لئے رول ماڈل ثابت ہو سکتے ہیں۔

دیگر ریگولیٹری ایجنسیوں کو فورٹیفیکیشن پروگرام کو سپورٹ کرنے کے ساتھ ساتھ مزید بڑھانے کی بھی ضرورت ہے تاکہ وقت کے ساتھ غذ ای قلت بچائی جا سکے۔ ایم ای ٹی میں عبدل لطیف جمیل پاورٹی ریڈکشن لیب کی طرف سے کی گئی بحث سے پتا چلتا ہے کہ روز مرہ زندگی کی سرگرمیوں کو پورا کرنے کے لئے غذائیت سے بھرپور خوراک اہمیت کی حامل ہے۔ اس لئے فورٹیفکٹوں پروگرام کی حوصلہ افزائی کی جائے تاکہ آبادی کے اکثر حصہ کو غذائیت سے بھرپور خوراک فراہم کی جائے اور تمام افراد کی صحت کی نشو و نما میں حصہ ڈال سکیں

نور ہما ​​کنیئرڈ کالج سے فوڈ اینڈ نیوٹریشن میں ایم فل ہیں اور فی الحال رزق میں ریسرچ اسسٹنٹ کے طور پر کام کر رہی ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

نور ہما کی دیگر تحریریں
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments