سنیئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان نے وزارت سے استعفی دے دیا
پنجاب حکومت کے سنیئر وزیر خوراک عبدالعلیم خان نے وزارت سے استعفی دے دیا۔ تفصیلات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے اہم رہنما علیم خان نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیراعظم عمران خان سے آج ہونے والی ملاقات میں اُنہیں قائل کیا ہے کہ اپنے نیوز چینل سماء نیوز کے حوالے سے غیر جانبداری قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ میرے پاس کوئی حکومتی عہدہ نہ ہو لہذا بطور سینئر وزیر خوراک حکومت پنجاب اب میرا استعفی قبول فرما لیں۔
انہوں نے کہا کہ میں وزیراعظم کا ممنون ہوں کہ انہوں نے میری گزارش قبول کر لی ہے۔ میں اپنا استفعیٰ وزیراعلیٰ کو بھجوا رہا ہوں۔ اس سے قبل 11 ستمبر 2021ء کو بھی بتایا گیا تھا کہ سینئر صوبائی وزیر پنجاب عبدالعلیم خان نے وزارت سے مستعفی ہونے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
علیم خان نے استعفے میں مئوقف اپنایا کہ ذاتی مصروفیات کی بناء پر وزارت نہیں سنبھال سکتا، اس لیے استعفا قبول کیا جائے۔
سینئر صوبائی وزیر عبدالعلیم خان نے کہا کہ وزیراعظم سے 6 ماہ پہلے ملاقات ہوئی تھی۔ ملاقات میں مستعفی ہونے کی اجازت مانگی تھی۔ وزیراعظم نے مجھے انتظار کرنے کا کہا تھا، وزیراعظم کو بتایا تھا کہ میں ذاتی مصروفیات کی بنا پر ذمہ داری جاری نہیں رکھ سکتا، وزیراعظم جب بھی منظوری دیں گے میں کابینہ سے مستعفی ہوجاؤں گا، ابھی میں بطور وزیر کام کر رہا ہوں۔
واضح رہے کہ علیم خان کا نام پنڈورا لیکس میں بھی آیا تھا۔ پنڈورا لیکس میں نام آنے پر صوبائی وزیر عبد العلیم خان نے وضاحت پیش کی تھی۔ صوبائی وزیر عبد العلیم خان نے کہا کہ ہر دفعہ ان کی ایک ہی کمپنی کو آف شور لیکس قرار دے دیا جاتا ہے۔ آئی سی آئی جے کی جانب سے علیم خان کے نام آف شور کمپنی ظاہر کرنے پر پنجاب کے سینیئر وزیر علیم خان نے ٹویٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ ”الحمدللہ! کچھ نہیں چھپایا”، میری یہ آف شور کمپنی ایف بی آر میں ڈکلیئر ہے جبکہ الیکشن کمیشن کو اثاثوں میں یہ کمپنی پندرہ سال سے ظاہر کر رکھی ہے۔

