کہروڑ پکا کی نیلماں (5)
اس تنگ سے بیڈ روم میں لہرا لہرا کر گاتی
یو ون (جوانی) کی رت جب آتی ہے
تھوڑے بھنورے ہوتے ہیں
تھوڑی مستی ہوتی ہے
بڑے طوفان ہوتے ہیں
ان میں کشتی ہوتی ہے
کلیوں کا چمن تب بنتا ہے
ایسا کرتے وقت وہ سینے پر سے ہاتھ ہٹا لیتی اور اپنی پینٹی اس کے منھ پر اچھال دیتی
جس پر سعید زچ ہو کر انگریزی میں کہتا Will you ever grow up۔ Stop this silly antics
وہ کہاں کی مڑنے والی تھی، بدستور چھیڑتے ہوئے کولہے اس کی طرف کر کے انہیں لہرا کر کہتی
شلپا سا فگر، بے بو سی ادا
ہے میرے جھٹکے میں پھلمی مجا
ہائے تو نہ جانے
آئٹم یہ عام ہوئی

جواب میں وہ f.k you کہہ کر دوسری طرف منھ پھیر لیتا تو اپنی برہنگی سے بے نیاز لیٹ کر وہ اسے طعنہ دیتی کہ
”تم سے ہونا ہوانا کچھ نہیں بس گالیاں دے کر خوش ہو جاؤ موئے گفتار کے غازی“ ۔
وہ اسے کہتا کہ ”اوکے آئی ایم گے۔ اب خوش۔“
تو وہ اسے کچھ دیر کو اگنور کر کے کہتی ”ہے سعید“
جس پر وہ مڑ کر پوچھتا۔ ”۔ اب کیا“
تو وہ اپنی درمیانی انگلی بند مٹھی سے باہر کھینچ کر کہتی
”ڈارلنگ تیرے لیے“
یہ وہ آخری تنکا ہوتا جس پر اپنا کمفرٹر جاکر لاؤنج میں صوفے پر جا پڑتا۔ ایسا چونکہ مہینے کے وسط میں یا آخر میں ہوتا اس لیے اس پر بہت آتش بازی نہ ہوتی۔ سعید کو پتہ ہوتا کہ یہ اس کے ovulation days ہیں۔
ویسے بھی جب وہ برہنہ سوتی تو سعید پر کوئی خاص اثر نہ ہوتا۔ وہ نیند میں بھی لائن آف کنٹرول کو کراس نہ کرتا۔ کبھی وہ اسے سویا ہوا دیکھ کر سوچتی کہ وہ یہ بستر ایک ایسی پلیٹ ہے جس میں وہ تو گرما گرم مصالحے دار دانتوں کی آغوش میں کٹ مرنے والے سیخ کباب کی طرح پڑی ہے اور سعید گیلانی کشمیری کوئی ٹھنڈا ٹھار بے جوڑ سلاد پتہ اور کھیرے کا اداس قتلہ ہے۔ جا اپنی حسرتوں پر آنسو بہا کر سوجا۔
آئیں اس رات کی طرف لوٹ چلیں۔

ارسلان نے کچھ دیر پہلے نوٹ کیا تھا کہ نیلم نے گھٹنے پیٹ کی جانب سمیٹ کر ایک بلند سا اسٹینڈ بنا کر اپنے ہاتھ اور چہرہ ایسا جما لیا تھا۔ جیسے کوئی بہت قیمتی کیمرہ کسی ٹرائی پوڈ پر پڑا ہو اور وہ اسے دیکھے جا رہی تھی۔ اب یہ وجود ملفوف و دل نشین مکمل طور پر ایک ہی صوفے پر سمٹا ہوا تھا
یہ ہی وہ لمحات دید بانی تھے جب اسے سعید گیلانی کی جنسی بے اعتنائی یاد آئی تھی۔ اس کے باوجود وہ اپنی جگہ بہت خوش اسلوبی سے نسب تھی۔ اس لمحہ تعطل میں ارسلان نے بھی سوچا کہ اس کی آنکھوں میں لگاؤٹ کا کاجل یوں گھل مل گیا ہے کہ کبھی لمحات وصل آئے تو وہ کہے گی Âll yours Sir۔ Your very obedient servant in my own pay and grade and until further orders۔ Take me all۔ بھی اسے ہلکا سا زور لگا کر کھسکانے کا فیصلہ کیا اور کہنے لگا ”نیلم آپ جب آپ مجھے دیکھ رہی تھیں تو میں نے ایک عجیب بات نوٹ کی۔“
نیلم کو لگا کہ اسے کسی نے کسی بہت اہم ایونٹ کے masquerade ball (وہ محفل رقص جہاں شرکا ماسک پہن کر آتے ہیں ) میں رقص کے لیے دعوت دی ہو۔
وہ شرارت سے کہنے لگی I am all eyes and ears ’[میں ہمہ تن گوش ہوں ]
’آپ جب ہنستی ہیں تو آپ کی آنکھوں میں مسکراہٹ کا اظہار آپ کے لبوں سے پہلے ہوتا ہے‘ ۔ نیلم کے لیے وجدان کے بعد وہ پہلا مرد تھا جس نے اتنی سنجیدگی سے، اس قدر ر لگاوٹ سے اسے دیکھا تھا۔ یہ جرات بھی کی کہ اس مختصر سے عرصۂ رفاقت میں اس کا تذکرہ بھی برملا کر دیا۔ وہ ہنسی تو ارسلان کو لگا کہ کسی ماہر گٹارسٹ نے بے دھیانی میں بہت کمال کی Strumming کی ہو (کئی تاروں کو ایک ساتھ چھیڑنا) ۔
اس کی تعریف اور اپنی ہنسی سے دھیان ہٹانے کے لیے نیلم نے کہا مجھے ’اکثر یہ سوچ کر عجیب سے گوز بمپس (گوز بمپس بطخ کی کھال والے دانے۔ اردو میں رونگٹے کھڑے ہونا مگر یہ خالصتاً خوف کی کیفیت کا عکاس ہے جب کہ انگریزی میں لطف و حیرت کی کیفیات سے بھی اس کا تعلق ہے) ہوتے ہیں کہ ”اگر میرے میاں استنبول میں ہوئے تو آپ کی کیا کیفیت ہوگی؟“ ۔
”میں آپ سے کچھ فاصلہ رکھ کر چلوں گا بالکل اجنبی کی طرح“ ۔
اور اگر سعید پاکستان چلے گئے ہوں گے تو؟
Then your wish is my command [ایسی صورت میں آپ کی خواہش میرے لیے حکم کا درجہ ہوگی) ’ہم بیوروکریٹس تو پاکستان میں یوں بھی الہ دین کا جن سمجھے جاتے ہیں۔ ارسلان نے جواب دیا
نیلم نے چھیڑا کہ I hope Aladin has the right lamp this time۔ Can not afford to be a loser again[ مجھے امید ہے کہ میرے پاس الہ دین والا صحیح چراغ ہے۔ میرے لیے دوبارہ شکست قابل قبول ہوگی۔
’ٹرسٹ می‘ کہہ ’کر ارسلان نے ہاتھ بڑھایا تو نیلم ہاتھ ملانے کے لیے ایسے جھکی کہ شال ادھر ادھر ہو گئی اور ٹی شرٹ میں مرغابیاں پھڑپھڑانے لگیں۔
I trust this gentleman۔ Everyone starts somewhere۔ [مجھے آپ سے شریف آدمی پر بھروسا ہے۔ ہر کسی کو کہیں نہ کہیں سے اسٹارٹ کرنا ہوتا ہے )
on my honor۔ ارسلان نے بھی بہت سنجیدگی سے جواب دیا تو وہ کہنے لگی
Long night۔ But tell me a story نیلم نے مطالبہ کیا
کیسی کہانی؟ ارسلان نے سوال کیا۔
ویسی نہیں اک لڑکی کو دیکھا تو ایسا لگا۔
ارسلان نے کہا

چلیں ایک ٹی پکل کہانی ہے۔ تکون والی مگر دل کو بہت برماتی ہے۔ میرے ایک ملنے والے تاجر واقف کار ہیں ان کی صاحبزادی کو اپنے ایک ہم جماعت لڑکے سے اسکول کے زمانے سے عشق تھا۔ بہت مر پڑ کر اس بات پر رضامند ہوئے کہ لڑکا کچھ اچھی نوکری کرے گا۔ شادی تب ہوگی۔ میرے پیچھے پڑے رہتے تھے کہ اس کو کسی ملٹی نیشنل میں لگوا دوں۔ میں نے کہا یہ ملٹی نیشنل والا مال نہیں ملا شلوار، کڑھے ہوئے کرتے، پان، سر پر جالی دار ٹوپی۔ آپ اسے اپنے مٹھائی کے کاروبار میں ڈالو۔ ان کا خیال تھا کہ شادی سے پہلے یہ سب کچھ ہو گا تو تاجر برادری میں اس کی کوئی وقعت نہیں رہے گی۔ ان دہلی والوں کی طرف گھر دامادیوں بھی برا سمجھا جاتا ہے۔ اس جوڑے کا نام جواد اور زارا سمجھ لیں۔ زارا کا ناک نقشہ اور قد گفتگو مزاج سبھی اچھے ہی تھے۔ اوسط سے بڑھ کر۔
ایک دن ان دونوں کو پتہ چلا کہ ان کے اسکول کا ایک دوست محمد علی جو امریکہ گیا تھا وہ واپس آ گیا ہے اس نے ایم بی اے تو کر لیا مگر یہاں واپس آ کر اسپتال میں زیر علاج ہے۔ زندگی موت کی کشمکش میں مبتلا۔ کینسر کا عارضہ ہے۔
جواد اور زارا عیادت کی خاطر اسے دیکھنے گئے۔ زارا سے اس کی زیادہ واقفیت تھی کہ وہ بزنس اسکول میں بھی ساتھ تھے۔ مشترکہ دوستوں کے ہاں میل جول بھی رہتا تھا۔ اسے علم نہیں تھا کہ زارا اور جواد کی منگنی ہو چکی ہے۔ محمد علی نے عجب فرمائش کی کہ اگر جواد کچھ دیر کو باہر چلا جائے تو وہ زارا سے مرنے سے پہلے کچھ کہنا چاہتا ہے۔ جواد یوں تو بہت ڈارک سا لڑکا ہے مگر یہ سوچ کر کہ اسے اپنی منگیتر پر پورا بھروسا ہے وہ چلا گیا۔ بعد کی کہانی زارا نے اپنی بہن کو، بہن نے ماں کو۔ ماں نے باپ کو اور باپ نے کسی اور کو سنائی جہاں سے مجھ تک پہنچی۔ محمد علی نے کہا کہ وہ زارا پر کر اسکول کے زمانے سے کرش رکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ اس کی جواد سے منگنی ہو گئی ہے۔ طالب علم ساتھیوں میں ایسی بات کہاں چھپتی ہے۔ کیا وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے گلے لگا سکتا ہے۔
زارا نے اسے گلے لگایا کچھ دیر اس کا ہاتھ تھامے بیٹھی رہی۔ جواد آیا تو دونوں چلے گئے۔ تین دن بعد محمد علی کا انتقال ہو گیا۔ اس واقعے کے بعد ذاا نے عجب ضد پکڑی ہے کہ وہ مزید تعلیم کے باہر جانا چاہتی ہے۔ منگنی بھی توڑ دی ہے اور جواد سے ملنا جلنا بھی چھوڑ دیا

کہانی کے بیان میں نیلم نے دیکھا کہ ایک یا دو دفعہ ارسلان کی آنکھیں لمحہ بھر کو بند ہوئیں۔ جیسے نیند نے اس اچک لینے کی کوشش کی ہو۔ اس نے جتلانے سے گریز کیا۔
ارسلان میاں نے لاکھ ’ٹرسٹ می‘ کہا ہو مگر وہ جو ماضی کی مشہور امریکی اداکارہ مے ویسٹ نے کہا تھا
، English and Bodyٰ I speak two languagesتو حضرت کو پرکھنے کا نازک مرحلہ آ رہا ہے۔ اب کچھ دیر میں ڈھیر ہو جائیں گے۔
اسی اثنا میں ایک میسج اس کے آئی فون پر مچلنے لگا
ارسلان کو حیرت ہوئی کہ یہاں رات ڈھائی بجے کس کو نیلم کی یاد آئی مگر اس سے پہلے کہ وہ سوال پوچھتا نیلم کہنے لگی My Guddi۔ Sleelpless in Brimingham
اسے تنگ کرنے کے لیے نیلم نے ایک دفعہ یوں باتھ روم بریک مانگا کہ اپنا آئی پیڈ اور چارجر نکال کر اسے دیا اور کہنے لگی کہ وہ اس کو چارج پر لگا دے۔ جب اس نے میز پر اپنا پڑھائی کا چشمہ رکھ کر وہ آگے بڑھ گئی مگر ایک جان لیوا ادا سے مڑ کر واپس آئی اور اٹھلا کر کہنے لگی
well me under 30۔ These are with anti۔ glare lenses۔ So dont give up on me۔ Like my last drink my last visit to loo is like a child’s visit to the zoo [ارے میں تو تیس برس سے کم کی ہوں۔ دل چھوٹا نہ کریں۔ یہ روشنی کی چکا چوند سے نمٹنے کا سامان ہے۔ میرا آخری جام کی طرح میرا باتھ روم کا اخری دورہ بھی کسی بچے کے زو کے دورے جیسا ہوتا ہے۔
مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

