کہروڑ پکا کی نیلماں (5)


فون پر سعید کا میسج تھا بتا رہا تھا وہ اسلام آباد پہنچ گیا ہے۔ وکیل سے کل بات کر کے طلاق کے کاغذات تیار کرنے کا کہہ دے گا۔ والدین کی اور اپنی مسلسل بے عزتی سے تنگ آ گیا ہے اس کے والدین بھی پوتے کی عدم موجودگی سے نالاں ہیں۔ باقی تفصیلات ملنے پر۔ ہم دوستوں کی طرح بچھڑیں گے۔ ترکی میں گھومو تو مجھے تصویریں ضرور بھیجنا۔ تمہاری دوسری شوہر گڈی تم سے ملنے اڑ کر پہنچ جائے گی۔

اس کے والدین کی پوتے کی عدم موجودگی والی بات کا طعنہ سن کر نیلم کا خون کھول اٹھا۔ اس کا دل چاہا کہ اس فون کر کے مغلظات سنائے۔ اس نے جواب میں صرف اتنا لکھا

Ready to pay all court expenses for the divorce.

Buy some good balls with your savings. Though I doubt these can even make a half man out of you

(کورٹ میں طلاق کے جملہ اخراجات میں ادا کروں گی۔ تم کسی سے اچھے سے بالز خرید لینا۔ مجھے پھر بھی شک ہے کہ اس کے باوجود وہ تمہیں نیم مرد بنانے میں کامیاب ہو پائیں)

نیلم نے یہ اچھا کیا کہ سعید کا نام دیکھ کر میسج نہیں پڑھا ورنہ ارسلان تیز آدمی ہے۔ بھانپ جاتا۔ وہ اسے ہرگز نہیں بتائے گی کہ ترکی میں کیا سرپرائز اس کا منتظر ہے۔ وہ جہاز سے اتر کر اداکاری کرے گی اس کا جائزہ لے گی۔ یوں بھی جو کچھ ہوا۔ وہ برا ہوا ہے۔ اب وہ اس دنیا میں اکیلی ہے۔ وہ اس میسج میں جو ایک حتمی فیصلہ ہے اس کے بارے میں اسے کچھ نہیں بتائے گی۔ اس کو ایک ماڈل کی والدہ نے کسی فیشن شو کے دوران بتایا تھا کہ۔ اپنی کمزوریاں دوسروں پر عیاں نہ ہونے دو۔ لوگ تمہاری مشکلات کو سمجھنے میں اتنی دل چسپی نہیں رکھتے جتنی ان سے فائدہ اٹھانے میں رکھتے ہیں۔ کمزور انسان ایک جلتے ہوئے گھر کی طرح ہوتا ہے جسے ہر کوئی لوٹ کر بھاگنا چاہتا ہے۔

وہ ارسلان کو اپنا دوست بنائے گی۔ اس ایک میسج نے اسے بہت بڑے اخلاقی بند ہن سے آزاد کر دیا ہے۔ سعید کی الزام تراشی نے، اس کی مکاری نے، وہ رہی سہی مدافعت جو اس نے اس کے حوالے سے ترکی کے لیے بچا کے رکھی تھی۔ وہ کرچی کرچی ہو گئی ہے۔ وہ اگر اسے استنبول سے باہر لے گیا تو وہ جدا کمرے کی بھی ضد نہیں کرے گی۔ وہ اس تعلق کو صرف عورت مرد کے چوکھٹے میں جڑ کر دیکھے گی۔ انسانی رشتے کے ویو فائنڈر سے اس کو فریم کرے گی۔ شادی وہ بعد کی بات ہے

سر دست وہ اسے سعید گیلانی کی اس کمینگی کے بارے میں کچھ نہیں بتائے گی۔ وہ اسے کچھ اور پرکھ لے۔ بس کچھ اور Clinical tests پھر مریض کو وہ مکمل صحت یابی کے سرٹیفیکٹ کے ساتھ گھر جانے کی اجازت دے دی گی۔

جائزہ، جائزہ جانچ پڑتال، پرکھنا۔ نیلم کو لگا کہ وہ ارسلان کے ساتھ بلاوجہ زیادتی کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ جو کچھ ہو رہا ہے اس میں اس بے چارے کو کوئی قصور نہیں۔ یہ تو اتنا اچھا آدمی ہے کہ اس کی خاطر دوستی میں چار دن اور تین راتیں اس کے ساتھ ترکی گھومے گا۔ یہ تو اس کی پروگرام آئی ٹینری میں شامل نہ تھا۔ پورے پچیس منٹ بعد جب وہ واپس نکل کر اپنی نشست کی طرف جا رہی تھی۔ نیلم نے آخری نفسیاتی طبی معائنے پر اسے یوں راغب کیا کہ وہ بہت کم سوال پوچھتا ہے ایسا کیوں ہے؟ کیا وہ ایک غیر دل چسپ شخصیت کی مالک ہے۔ ؟ یہ ایک خلاف توقع باؤنسر تھا

ایسا ہرگز نہیں بلکہ جب وہ جب اپنے anti۔ glare lenses اور عمر کا بتا کر اسے جا رہی تھی وہ سوچ رہا تھا کہ اس میں ایسی لبھاؤ، اتنی ادا اور اداکاری ہے، وہ خود کیوں ماڈل نہیں بنی۔ کیا یہ پیشہ برا ہے؟

نہیں مجھے جزئیل بنڈ چین بہت اچھی لگتی ہے۔ بڑی کامیاب اور سمجھدار ماڈل ہے۔ چوتھائی صدی تک ماڈلنگ کی دنیا پر چھائی رہی۔ چودہ برس کی عمر میں برازیل کے ایک چھوٹے سے قصبے سے ماڈل بننے کے لیے گھر سے نکلی تھی۔ آج بھی سپر ماڈل ہے۔

ماڈل کی زندگی پر اس کی کتاب Lessons۔ My Path to a Meaningful Life میں بہت دل چسپ باتیں درج ہیں۔ وہ کبھی پارٹیوں پر نہیں جاتی تھی

شوز کے بعد پارٹیاں ہی بربادی کا سامان ہیں۔ دن بھر کی محنت کے بعد اسے اپنے کتے Vida، کے ساتھ کھیلنا اور کتاب پڑھنا بہت اچھا لگتا ہے۔ میں ایک مشہور ماڈل Anyelika Perez سے ملی تھی کسی نے مجھے بتایا کہ اس بے چاری کا محنت سے ایسا حال ہوتا تھا کہ کمر میں تکلیف ہوجاتی تھی اور یہ آئس بکس پر لیٹ جاتی تھی۔ میرا مسئلہ تو یہ تھا کہ میں بہت Contextual حوالے سے برطانیہ آئی۔ پرانے خیالات کا حامل ایک جوائینٹ فیملی والا گھرانا ہے۔ اس میں کسی قسم کے ایڈونچر کی گنجائش نہیں۔

نیلم نے پہلی دفعہ دیکھا کہ کچھ دیر کو ارسلان کی آنکھ لگ گئی۔ اس نے جتانا مناسب نہ سمجھا۔ جب وہ جاگا تب بھی وہ چپ رہی۔ اس نے اپنا آئی پیڈ نکالا اور چشمہ لگایا تو ارسلان کو پہلی دفعہ لگا کہ آج رات کی ملاقات بس اتنی۔ وہاں سے مگر سوال آ گیا کہ وہ سوتا کب ہے۔ کوئی خاص عادت۔ اس نے کہا وہ بہت علی الصبح اٹھتا ہے۔ اس لیے وہ جلد سو جاتا ہے۔ پارٹیوں کی یا دیگر تقریبات کی دعوت ہو تب بھی نہیں جاتا۔ اکثر تو وہ ٹی وی پر خبر نامہ دیکھتے دیکھتے سو چکا ہوتا ہے۔ اوشا اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے بستر کی طرف لے جاتی ہے۔ وہ اور اس کا بیٹا گھر میں باہر مہمانوں کے کمرے میں سوتے ہیں۔ اس کا کتا ملنگی باہر اور افریقین گرے پیرٹ کمرے میں ہی سوتے ہیں۔ نیلم کو اوشا کی یہ دست درازی اچھی نہیں لگی۔ وہ اسے اپنے بھائی اور ماں کے پاس سونے کا کہے گی۔ میں دیکھتی ہوں حضرت مجھ سے پہلے کیسے سوتے ہیں اور ہم دوستوں کی پارٹیز میں بھی جائیں گے۔ صبح کو آپ کا کیا معمول ہوتا ہے؟ یہ دوسرا سوال تھا۔

فجر کی اذان سے کچھ دیر پہلے اٹھ کر میں ذکر اذکار کرتا ہوں تلاوت اور نماز سے فارغ ہو کر مرغیاں پالی ہیں ایک آدھ ایک دیسی مرغ ڈربے سے باہر نکال کر اس کو پکڑنے کی کوشش کرتا ہوں اس کے بعد کراٹے کے کاتھاز۔ براؤن بیلٹ ہوں۔

نیلم کو مرغ والی بات بہت عجب لگی اس کا دل چاہا کہ وہ اس سے اس عجیب ورزش کا پوچھے مگر اسے لگا کہ ایک دفعہ اس کی آنکھیں پھر بند ہو گئی ہیں، بے چارہ کرٹسی میں نیند کے باوجود سونے کی اجازت نہیں مانگ رہا۔ اس نے خود ہی سوچا کہ اگر انجیلا پارک جو کوریا کی گالف چمپئین تھی اپنے شوق کی وجہ سے گالف کلب لے کر نزدیکی قبرستان میں چلی جاتی تھی اور وہاں قبر تا قبر پریکٹس کر کے چیمپئن بن گئی تو مرغے کے پیچھے جان کھپانا بھی کوئی تربیت کا مرحلہ ہو۔ ان بیوروکریٹس اور بزرگوں کی حرکات کا کچھ پتہ نہیں کہ یہ کس کے پیچھے کیوں بھاگتے ہیں۔ ارسلان سے وہ پوچھتی تو وہ کہتا کہ یہاں کیماڑی کراچی میں ایک بزرگ تھے۔ ان کی بیٹھک مین گدے اور سفید چادر بچھی رہتی تھی سالک ساتھ کے کمرے میں دروازے سے لگ کر بیٹھتے تھے۔ مسئلہ دریافت کرنے پر بزرگ کمرے میں بچوں کی طرح قلابازیاں لگاتے تھے کچھ دیر سانس بحال ہوتی تو وہ سوالات کا جواب دیتے تھے۔

ذرا دیر میں اس کی آنکھ کھلی تو اس نے ارسلان کو کہا کہ وہ سو جائے وہ تھک گیا ہو گا۔ حضرت بھی جیسے آدھی روٹی پر دال لیے بیٹھے تھے (دہلی کی عورتوں کے محاورے میں آسرا نہ کرنا) پیر لمبے کیے اور قلندر کی طرح ڈھیر ہو گئے۔

نیلم کو جب یہ یقین ہو گیا کہ وہ واقعی دنیا و مافیا سے بے خبر چھوٹے بچوں کی طرح منھ کھولے سو رہا تو وہ اس کی نشست پر آئی اور انگلی اس کے منھ میں ڈال کر جلدی سے کھینچ لی۔ نیلم کو لگا کہ سویا ہوا مرد گود کے بچے کی طرح ہوتا ہے۔ عورت کو پیار ہو تو اس سے زیادہ بے ضرر اور کنٹرول کرنے میں آسان کوئی اور وجود نہیں۔ اسے لگا وہ صبح تک اسے دیکھتی رہے تب بھی اس کا دل نہیں بھرے گا

بے چارہ۔ چلو اس کی کوئی مدرنگ کرتے ہیں اس نے اپنا ٹرینچ کوٹ اس کے گارمنٹ بیگ سے نکالا اور اس پر ڈال دیا کی امیر مقام خوشبو بھی سونگھتے رہیں گے اور اس کی گرماہٹ سے لپٹ کر سوتے بھی رہیں گے۔ رات کی خنکی کے پیش نظر اپنا کیپ پہن لیا اور شال سے ایک طرح سے پشت پر جمالی اور اپنے آئی پیڈ پر ہیلن میکڈونلڈ کی مشہور کتاب ایچ از فار دی ہاک پڑھنے لگی۔ ایک بیٹی نے اپنے مرحوم باپ کی یاد میں باز کو سدھانا سیکھا۔ یہ وہ داستان تھی۔

(جاری ہے)

Facebook Comments HS

صفحات: 1 2 3

اقبال دیوان

ہمارے جگر جان ،اقبال دیوان پہلے کبھی افسر ہوتے وہ بھی ایسے کوئی خاص نہیں بس چھوٹے موٹے۔اللہ نے عزت رکھی ۔ اللہ بخشے خیر سے ریٹائر ہوگئے۔ ایسا ہی کچھ ہوتا ہے اس طرح کہ کاموں میں۔ ایک بات اچھی ہے کہ میمن ہونے کے باوجود لکھنے پڑھنے سے کبھی دل نہیں چرایا اور دھندے کو دھرم نہیں جانا۔ ان دنوں گزر اوقات کے لیے ایک آرٹ اسکول میں مصوری سیکھنے جاتے ہیں۔فگر ڈرائینگ اور واٹر کلر میں دل چسپی ہے گوآتے دونوں ہی نہیں۔ مگر خوش ہیں کہ ہیں تو کسی کی نگاہ میں۔اولاد امریکہ یورپ بلاتی ہے مگر وہ راج کپور کی طرح گا کر ٹرخا دیتے ہیں کہ جینا یہاںمرنا یہاں اس کے سوا جانا کہاں۔ میری لندن تو کیا پاکستان میں بھی کوئی جائداد نہیں کروں گا کیا اگر ہوگیا ناکام ، بس سایہ دیوار ہے یہیں رہنے دو۔

iqbal-diwan has 123 posts and counting.See all posts by iqbal-diwan