رکشے والا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اسے اچھی کہیں یا بری، لیکن اپنی عادت ہے کہ انباکس یا واٹس اپ پہ کچھ موصول ہو تو میسج دیکھنے سے گریز کرتی ہوں۔ اگر میسج سین بھی کر لوں تو پڑھتی کم ہی ہوں۔ اور اگر کوئی تصویر یا ویڈیو ہو تو یہ اپنے بس سے باہر کی بات ہے کہ میں وہ ویڈیو یا پوسٹ دیکھوں، اس کی ایک وجہ تو میری سستی ہے اور دوسری وجہ یہ بھی ہے کہ کچھ نامعقول لوگ ہوتے ہیں جو دوسروں کو غیر اخلاقی ویڈیوز بھیج دیتے ہیں، اس لیے میری کوشش ہوتی ہے کہ میں ویڈیوز یا پوسٹس ڈاؤن لوڈ نہ کروں۔

کچھ دن پہلے ایک پوسٹ موصول ہوئی، جس کو حسب عادت بنا ڈاؤن لوڈ کیے ڈیلیٹ کر دیا۔ ایسا دو بار ہوا، میں نے پوسٹ ڈیلیٹ کی اور میسج بھیجنے والے کو کوئی رپلائی نہیں دیا۔ لیکن بھیجنے والا بھی اپنی دھن کا پکا تھا۔ اس نے رپلائی نہ کرنے کے باوجود ایک بار پھر کچھ سینڈ کر دیا۔ تیسری بار اسی آئی ڈی سے ایک ویڈیو کلپ آیا، اس سے پہلے کہ میں اسے بنا دیکھے ڈیلیٹ کرتی۔ لیکن few words، not lengthy نے توجہ اپنی طرف مبذول کروائی۔

اس میسج نے مجھے جواب دینے پہ مجبور کر دیا۔ میں نے ویڈیو دیکھے بنا سوالیہ نشان بھیجا کہ آخر مسئلہ کیا ہے۔ تو ان صاحب نے ایک اور ویڈیو کلپ بھیج دیا۔ جسے ڈیلیٹ کرتے کرتے رک گئی کہ دیکھوں تو آخر کیا ہے اس میں۔ ویڈیو کلپ دیکھنے کی دیر تھی کہ میرا شمار کسی کے متاثرین میں ہو گیا۔ یہ کہانی کسی کی زندگی کی کہانی تھی۔ یہ کہانی کسی امیر سخی کی کہانی نہیں جس کے پاس خدا کا دیا بہت کچھ تھا اور اس نے ضرورت سے زائد لوگوں میں بانٹنا شروع کر دیا۔

یہ ایک ایسے شخص کی کہانی تھی جسے پڑھ کر میں خود حیران ہو گئی تھی، کہ کیسے پیارے لوگ اس دنیا میں موجود ہیں۔ میرا ان صاحب کی عظمت کو سلام کرنے کو جی چاہا۔ کہ صبر شکر کرنے کی ایسی پیاری ادا ہر کسی میں نہیں ہوتی۔ اور جن میں ہوتی ہے روشنی وہیں سے پھوٹتی ہے۔ یہ کہانی ایسے شخص کی ہے جس کے پاس ضرورت کا بھی پورا نہیں تھا لیکن اس نے اپنی ضرورتوں کو پس پشت ڈال کر دوسروں کی مدد کا بیڑہ اٹھالیا۔ یہ ویڈیو ایک بے اولاد جوڑے کی داستان تھی۔

محترم طارق جاوید صاحب لاہور میں رکشہ چلاتے ہیں اور گزشتہ تیس برسوں سے بے اولادی کا دکھ سہ رہے ہیں۔ ہر شادی شدہ جوڑے کی طرح انھیں بھی اولاد کی خواہش تھی۔ دعا اور دوا دونوں کیں، لیکن کوئی دعا مستجاب ہوئی نہ کسی دوا نے اثر کیا۔ ان کی سب سے خوبصورت بات یہ ہے کہ تیس سال سے بے اولادی کا دکھ سہنے والا یہ جوڑا خدا سے شکوہ کناں نہیں ہوا، بلکہ اس کی رضا میں راضی ہو گیا۔ بے شک ہر کام میں خدا کی مصلحت ہوتی ہے۔

کہتے ہیں جب کسی نیک کام کا ارادہ کریں تو خدا خود مدد کرتا ہے۔ کچھ ایسا ہی معاملہ محترم طارق جاوید صاحب کے معاملے میں دیکھنے میں آیا۔ طارق جاوید صاحب کے بقول وہ خود بالکل ان پڑھ ہیں لیکن دوسروں کو علم و ہنر کی تربیت دینا ان کی خواہش بن گیا۔ یہ صاحب خود رکشہ چلا کر بمشکل گزر بسر کر رہے تھے، بے اولادی کے دکھ نے انھیں پریشان کر رکھا تھا۔ تبھی انھوں نے اس پریشانی سے نجات حاصل کرنے کا سوچا۔ انھوں نے اندھیرے میں چراغ جلایا اور اپنے ارد گرد رہنے والوں کے لیے روشنی کر دی۔

طارق جاوید صاحب massive grooming system کے نام سے بادشاہ روڈ، اکبر چوک لاہور میں ایک ادارہ چلا رہے ہیں۔ یہاں بچوں اور بچیوں کو مختلف ہنر مفت سکھائے جاتے ہیں۔ یہ کورس کمپیوٹر، دینی تعلیم، سلائی کڑھائی میک اپ، کوکنگ اینڈ بیکنگ پر مشتمل ہیں۔ دن کے وقت بچیاں ہنر سیکھتی ہیں۔ اور رات میں بچے۔ ایک وقت میں اسی کے قریب بچے بچیاں مختلف ہنر سیکھتے ہیں۔ اب تک تین ہزار کے قریب بچے بچیاں ہنر سیکھ کر عملی زندگی میں قدم رکھ چکے ہیں۔

یہ اپنی طرز کا واحد ادارہ ہے، جو گزشتہ گیارہ سالوں سے کسی کی بھی مدد کے بغیر کام کر رہا ہے۔ طارق جاوید صاحب رکشہ چلا کر اور ان کی اہلیہ سلائی کا کام کر کے اس ادارے کے اخراجات پورے کرتے ہیں۔ ان لوگوں نے خلق خدا کی خدمت کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں ہیں۔ ان کے ایک عزیز جو آئی ٹی میں ایم فل کر چکنے کے بعد اب پی ایچ ڈی کر رہے ہیں وہ اور کچھ خواتین اساتذہ اس نیک کام کو آگے بڑھانے میں ان کی مدد کرتے ہیں۔ کوئی شک نہیں کہ یہ دنیا ان ہی جیسے لوگوں کی وجہ سے قائم ہے۔ ایسے لوگ ہمارے معاشرے کے روشن ستارے ہیں۔ جو اپنی ضروریات کو روک کر دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ غریب بچے بچیوں کو ہنر سکھانے والے یہ لوگ خود مشکلات کا سامنا کر کے دوسروں میں آسانیاں بانٹ رہے ہیں۔

ہم اکثر معاشرے کے تاریک پہلووں کو ڈھونڈتے ہیں اور پھر ان تاریک پہلووں کو دنیا کے سامنے لاکر سرخرو ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔ اور خوش ہوتے ہیں کہ یہ دریافت ہماری ہے، ہم نے اپنے حصے کا کام کیا ہے۔ ہم اس ٹوہ میں لگے رہتے ہیں کہ کہاں کچھ غلط ہو رہا ہے۔ لیکن تاریکیوں کے تعاقب میں اکثر ہم روشنی کرنے والے جگنوؤں کو بھول جاتے ہیں۔ جو اپنے حصے کی روشنی کرتے جاتے ہیں، خاموشی سے کام کرتے ہیں اور کسی پر احسان بھی نہیں جتاتے۔ ایسے لوگ ہمارے معاشرے کے روشن ستارے ہیں۔

ایسے درویش صفت لوگوں کو دنیا کے سامنے لانا ہمارے ذمہ قرض بھی ہے اور فرض بھی۔

یہ لوگ ہمارے ہیروز ہیں جو محدود وسائل کے باوجود بنا صلے کی تمنا کے کام کرتے ہیں۔ ایسے نایاب لوگوں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی اس کار خیر میں حصہ ڈالنا چاہے تو ان صاحب سے 042 36885494

0309 4525798 ان نمبرز پر رابطہ کر سکتا ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments