منٹو کا آدمی: اچھائی اور برائی کے تناظر میں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سعادت حسن منٹو کے ہاں آدمی کا تصور ادب کے دیگر شہسواروں کی نسبت بہت زیادہ مختلف پایا جاتا ہے۔ ادب کے تمام شہسواروں نے لکھا اور بہت خوب لکھا ہے مگر اس میدان میں اپنا زور قلم نہ آزمایا جو سب سے بنیادی اور انسانی جبلت کا نمایاں حصہ تھا۔ مگر سعادت حسن منٹو نے اپنے قلم کو، نظیر اکبر آبادی کے اس مصرعے کی تائید کرتے ہوئے کہ سب میں جو برا ہے سو ہے وہ بھی آدمی، اس میدان کے لئے مسخر کرتے ہوئے ان لوگوں کو اپنا موضوع بنایا جو غلیظ آدمی اور معاشرے کے لئے ناسور تصور کیے جاتے تھے۔

سعادت حسن منٹو نے جب معاشرے کے برے لوگوں پر قلم اٹھایا تو بغیر کسی تغیر و تبدل کے وہ سب کچھ لکھ ڈالا جو انہوں نے دیکھا یا ان لوگوں سے ملنے کے بعد محسوس کیا۔ منٹو نے جب اپنا قلم اپنی رائے کو شامل کیے بغیر لوگوں کے کردار پر اٹھایا تو مختلف انواع کے پردے جو لوگوں کے کردار پر پڑے ہوئے تھے اٹھے تو کئی زہد بدکار اور کی بدکار انسان کے روپ میں ابھرے۔

یہ سعادت حسن منٹو کا کمال ہے کہ انہوں نے بغیر کسی کی پرواہ کیے بے باکی کے ساتھ وہ سب کچھ لکھ ڈالا جو انہوں نے دیکھا، بے باکی کے ساتھ لکھنا ان کے لیے سزا کا باعث ضرور بنا، مگر وہ لکھتے رہے اور معاشرے کو بے نقاب کرتے رہے۔

انہوں نے خود یہ کہا ہے کہ ان کے کردار وہ لوگ ہرگز نہیں ہو سکتے جو کہ پاکیزہ اور نفیس ہوتے ہیں، بلکہ ان کے کردار وہ لوگ ہوتے ہیں جو معاشرے کی گندگی کو صاف کرتے ہیں۔ وہ خود اس کی مثال یوں پیش کرتے ہیں کہ آپ شہر میں خوبصورت اور نفیس گاڑیاں دیکھتے ہیں، یہ خوبصورت اور نفیس گاڑیاں کوڑا کرکٹ اٹھانے کے کام نہیں آ سکتیں۔ گندگی اور غلاظت اٹھا کر باہر پھینکنے کے لیے اور گاڑیاں موجود ہیں جنہیں آپ کم دیکھتے ہیں یا دیکھتے بھی ہیں تو فوراً اپنی ناک پر رومال رکھ لیتے ہیں۔

اگر ان گاڑیوں کا وجود ضروری ہے جو معاشرے کی گندگی صاف کرتی ہیں، تو پھر ان کرداروں کا وجود بھی ضروری ہے جو معاشرے کی غلاظت کو اٹھاتے ہیں۔ اور اگر یہ کردار نہ ہوتے تو ہمارے سب گلی کوچے لوگوں کی غلیظ حرکات سے بھرے ہوئے ہوتے۔ اس لیے سعادت حسن منٹو نے انہیں لوگوں کو اپنے افسانوں بلکہ سچی کہانیوں کا موضوع بنایا۔ ان کے افسانوں میں ہمیں ایسے کئی کردار ملتے ہیں جو افسانے کی ابتدا میں جس روپ میں نظر آتے ہیں آخر تک وہ روپ بدل چکا ہوتا ہے اور اسے پڑھتے ہوئے منہ سے ایک جملہ نکلتا ہے کہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کیا؟ اگر بات کریں سعادت حسن منٹو کے کردار بابو گوپی ناتھ کی تو وہ افسانے کی ابتدا میں نہایت غلیظ اور برا کردار ہے، مگر افسانے کی انتہا تک وہ ایک نفیس اور عمدہ کردار کے روپ میں ہماری نظر کے سامنے آتا ہے۔ ایسے اور کئی کردار منٹو کے افسانوں کی شان ہیں۔

جب سعادت حسن منٹو نے معاشرے کے غلیظ تصور کیے جانے والے کرداروں کو موضوع سخن بنایا تو ان کے خلاف لوگوں کی مخالفت کا ایک طوفان سا کھڑا ہو گیا، مگر انھوں نے بس اتنا کہتے ہوئے کہ ہر عورت ویشیا نہیں ہوتی لیکن ہر ویشیا عورت ہوتی ہے، تمام لوگوں کا منہ بند کر دیا اور اپنے کرداروں کو امر کرتے رہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments