جلی ہوئی کشتیوں کا سپہ سالار


غضب کی سردی تھی اس دن۔ طوفانی رات کے بعد لندن شہر کے بہت سارے درخت گر گئے تھے۔ طوفان کا زور ٹوٹ چکا تھا مگر ابھی تک سرد ہوائیں سائیں سائیں کر رہی تھیں اور وقفے وقفے سے پھوار بھی پڑتی تھی۔ موسم کی خبریں یہی تھیں کہ یہ ویک اینڈ اس سال کے کر اب ویک اینڈ میں سے ایک ہو گا۔ انگلستان میں جمعہ کی شام سے ویک اینڈ شروع ہوجاتا ہے۔ سارے ہفتے خوب کام کرنے کے بعد جمعہ کی صبح سے ہی لوگ (Thanks God it is Friday [TGIF]) کے نعرے مارنے لگتے ہیں۔

ہر ایک کا اپنا پروگرام ہوتا ہے۔ خاص طور پر اسپتالوں میں سناٹا ہوجاتا ہے۔ ہر کوئی غائب ہوجاتا ہے۔ صرف ہفتہ اتوار کو کام کرنے والے لوگ رہ جاتے ہیں۔ وہ ایک ایسا ہی سرد ویک اینڈ تھا اور ہم سب لوگ بارنٹ میں رشید بھائی کے گھر جمع ہوئے تھے۔ اس سرد اور ڈپریسنگ ویک اینڈ پہ یہی کیا جاسکتا تھا۔ صبح سے ہم لوگوں کی چنڈال چوکڑی وہاں جمع ہو گئی تھی۔ کو رائی ڈن سے توفیق باہم سے حمید بارکنگ سے سہیل اور امجد اور برمنگھم سے کمال وغیرہ سب آئے تھے۔

بھابھی نے زبردست کھانے پینے کا انتظام کیا تھا، پکوڑے، دہی بڑے، چاٹ، بریانی، قومہ سب کچھ پک رہا تھا۔ صبح کا آغاز آلو بھری روٹیوں کے ناشتے سے ہوا تھا۔ رشید بھائی نے بتایا تھا کہ وہ امیتابھ بچن اور ریکھا کی مشہور فلمیں کہیں سے لائے ہیں، ساتھ میں کراچی ٹی وی کے کچھ مشہور پروگرام اور معین اختر کا بھی ایک ویڈیو تھا۔ کالج لائف میں تو معین اختر کے لطیفے بہت اچھے لگتے تھے اور ہمارا گروپ اس کے ہر فنکشن میں ضرور جاتا تھا مگراس زمانے میں لطیفے لطیفے ہوتے تھے اب لطیفوں میں بھی تبلیغ ہوتی ہے اور اگر تبلیغ ہی سننی ہے تو مولانا اسرار اور مولانا بدر میمن کی تبلیغ کیوں نا سنی جائے۔

باہر کی غضب کی سردی کے باوجود اندر کا ماحول گرما گرم تھا۔ ہم سب لوگ سٹنگ روم میں بیٹھے ہوئے امیتابھ بچن کی فلم ”دیوار“ دیکھ رہے تھے۔

فلم میں جس وقت امیتابھ بچن کو اس کا چھوٹا بھائی بتا رہا تھا کہ چاہے اس کے پاس دنیا جہان کی دولت ہو، بنگلہ ہو، مکان ہو، گاڑی ہو مگر اس کے پاس ماں نہیں ہے۔ یہ اس فلم کا زبردست سسپنس سے پر جذباتی سین تھا۔ ہم سب لوگ بہت غور سے دیکھ رہے تھے کہ عین اسی وقت گھر کی گھنٹی بجی تھی، ڈنگ ڈانگ، ڈانگ ڈانگ اور پھر رشید بھائی کی چھوٹی بیٹی عذرا آئی تھی ”ابو نوید انکل آئے ہیں۔“

اسی وقت وڈیو فلم روک دی گئی تھی۔ رشید بھائی نے کہا تھا ”نوید بھائی زیادہ نہیں رکیں گے۔ ان کی بات سنتے ہیں، پھر فلم چلے گی۔“ ہم لوگوں کو تھوڑی کوفت تو ہوئی تھی مگر اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں تھا۔ سٹنگ روم کے سارے بلب جلا دیے گئے تھے اور نوید بھائی کو عذرا اپنے ساتھ ہی لے کر اندر آئی تھی۔ یہ میری ان سے پہلی ملاقات تھی۔ دبلے پتلے، سرخ و سفید رنگ والے نوید بھائی بھی ڈاکٹر تھے۔ ان کا ذکر کئی دفعہ ہوا تھا مگر کسی نہ کسی وجہ سے ان سے ملاقات نہ ہو سکی تھی۔

رشید بھائی نے کئی دفعہ ان کا ذکر کیا تھا۔ وہ سٹن کے علاقے میں فیملی فزیشن تھے اور پاکستان سے تقریباً بیس سال پہلے آئے تھے۔ انہوں نے چیک کا کوٹ پہنا ہوا تھا۔ باہر کی تیز ہوا سے ان کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ کوٹ اور چمکتی ہوئی شاندار سی داڑھی پر بارش کے قطرے موتیوں کی طرح چمک رہے تھے۔ ان کے قد اور ان کے رنگ پر ان کی داڑھی سج رہی تھی۔ میں نے سوچا تھا کہ اگر میں نے کبھی داڑھی رکھی تو ایسی رکھوں گا۔ مجھے لگا تھا میں نے انہیں کہیں دیکھا ہے۔

ایک قسم کی انسیت اور شناسائی کا احساس تھا ان کے چہرے پر۔ ان کی آنکھیں چمکیلی تھیں۔ آنکھوں کے چاروں طرف پتلی پتلی لاتعداد لکیریں تھیں جیسے سوچنے والوں کے چہروں پر ہوتی تھیں۔ گو کہ ان کے آنے سے امیتابھ کی فلم کا خوبصورت سین روک دیا گیا تھا جس کی کوفت تو دل میں تھی مگر کمرے میں ان کے داخل ہوتے ہی ایک خوشگوار سا احساس در آیا تھا۔ بعض لوگوں میں ایک خاص کشش سی ہوتی ہے، ایک سحر سا ہوتا ہے۔ یہ لوگ کچھ نہ بھی کہیں تو لوگ ان کی طرف متوجہ ہو جاتے ہیں۔ ان سے بات کرنے کی ایک خواہش ہوتی ہے۔ ان کے لیے کچھ کرنے کی کسک سی ہوتی ہے۔ وہ ایسے ہی آدمی تھے۔

وہ جلدی میں تھے۔ بھابھی نے جلدی جلدی کچھ پکوڑے اور دہی بڑے بھجوائے تھے جن کو انہوں نے چکھا ضرور، مگر وہ رکے نہیں تھے۔ انہوں نے ہم لوگوں سے ڈسٹرب کرنے کی معافی چاہی تھی اور بتایا تھا کہ وہ یہ پورا ہفتہ بنگلہ دیش میں ایک تنظیم کے لیے چندہ جمع کر رہے ہیں جو غریب آبادیوں میں فری اسکول چلا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ تھا کہ مسلمان ملکوں میں تعلیم کا پھیلانا بہت ضروری ہے اور جب تک تعلیم نہیں پھیلے گی اس وقت تک کچھ بھی نہیں ہو سکے گا۔ خیرات سے معیار زندگی تو شاید تھوڑا بہتر ہوجاتا ہے مگر دور رس فائدے نہیں ہوتے ہیں۔

توفیق نے ہنستے ہوئے کہا تھا ”مگر نوید صاحب اگر تعلیم پھیل گئی تو خدا اور اسلام کو کون مانے گا۔ آپ تو بہت غلط کام کر رہے ہیں۔ لوگ جاہل رہیں گے تبھی مذہب کو مانیں گے۔“

نوید بھائی بڑی طمانیت سے مسکرائے تھے۔ شاید آپ صحیح کہہ رہے ہوں اور شاید غلط بھی۔ بلکہ میرا خیال یہ ہے کہ آپ غلط کہہ رہے ہیں کیونکہ آج مسلمان ملکوں میں جہالت ہے لہٰذا عملی طور پر اسلام کے علاوہ سب کچھ ہے۔ نوید، عمران، احمد، افضل، نعمان، اشرف جیسے ناموں کا کیا فائدہ ہے۔ تعلیم اور اسلام تو ساتھ ساتھ چلتے ہیں بلکہ بغیر تعلیم کے آپ اچھے مسلمان ہو ہی نہیں سکتے ہیں۔ ”انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا تھا۔

یہ میرے لیے بھی نئی بات تھی اس سے پہلے کہ میں کچھ کہتا رشید بھائی نے کہا تھا ”نہیں، نوید بھائی آپ صحیح کہہ رہے ہیں۔ آپ بتائیے کہ بنگلہ دیش کی اس تنظیم کے لیے اور کیا کرنا ہے۔“ انہوں نے پچاس پونڈ کا ایک چیک لکھتے ہوئے کہا تھا۔

انہوں نے کہا تھا کہ انہوں نے خود تصدیق کرلی ہے، یہ تنظیم ایمان دار لوگ چلا رہے ہیں اور ان کی مدد کرنی چاہیے۔ ہم سب نے کچھ نہ کچھ چندہ دیا تھا۔ توفیق نے بھی بیس پاونڈ دیے تھے کہ تعلیم تو بہر حال ضروری ہے اور ہم سب ہنس دیے تھے۔ نوید بھائی نے ہم سب لوگوں کے پتے اور فون نمبر لکھے تھے اور سب سے ہاتھ ملا کے چلے گئے تھے۔ باہر ویسی ہی سرد ہوا چل رہی تھی جس میں اب شدید بارش بھی شامل ہو گئی تھی۔

ہم لوگوں نے فلم تھوڑی پیچھے کر کے پھر چلا دی تھی۔
دس دن کے بعد ڈاک سے مجھے نوید بھائی کا شکریے کا خط ملا تھا اور میرے بیس پونڈ کی رسید۔

انہوں نے لکھا تھا کہ سترہ ہزار تین سو پونڈ جمع کر کے انہوں نے بنگلہ دیش بھیج دیے ہیں اور کوئی بھی عطیہ دینے والا فرد جب چاہے ان اسکولوں سے تصدیق کر سکتا ہے۔ مجھے ان سے اسی قسم کے کسی خط کی امید تھی۔ نہ جانے کیوں مجھے ایسا لگا کہ نوید بھائی اتنے اجلے ہیں کہ سچ مچ کے نہیں ہوسکتے۔ اتنا اجلا تو صرف جھوٹ ہوتا ہے۔ ضرور ان میں بھی کہیں نہ کہیں کھوٹ ہو گا۔

پھر میں تقریباً انہیں بھول ہی گیا تھا کہ ایک روز ان کا فون آیا تھا۔ وہ سخت پریشان سے لگ رہے تھے۔ انہوں نے بتایا تھا کہ برطانیہ کے پاسپورٹ والے چند سرجنوں کی ضرورت ہے جنہیں وہ ساتھ لے کر بیروت جانا چاہتے ہیں تین چار ہفتے کے لیے۔ وہاں فلسطینیوں کے کسی اسپتال میں اسرائیلی بموں کے بے شمار زخمی علاج کے لیے پڑے ہوئے ہیں۔ میں سرجن بھی تھا اور میرے پاس برٹش پاسپورٹ بھی تھا مگر میرے پاس چھٹی نہیں تھی، میں نے دو دن بعد انہیں بتانے کے لیے فون کیا کہ میں نہیں جا سکوں گا مگر دو اؤں کے لیے کچھ پیسے بھیج رہا ہوں۔ انہوں نے بتایا تھا کہ چار گورے اور چار پاکستانی اور ہندوستانی ڈاکٹر ان کے ساتھ جا رہے ہیں اور انہوں نے کافی کچھ سامان جمع کر لیا ہے۔

میں نے کہا تھا ”نوید بھائی بیروت میں تو بہت جھگڑا ہے اپنا خیال رکھیے گا“ وہ ہنس دیے تھے۔

تقریباً ایک ماہ بعد میں نے گارڈین اخبار میں پڑھا تھا کہ برٹش ڈاکٹروں کی ایک ٹیم بیروت کے ایک فلسطینی اسپتال میں کام کر کے واپس لندن پہنچی ہے۔ اسی رات میں نے انہیں فون کیا تھا۔ انہوں نے بڑی تفصیل سے بتایا تھا کہ بیروت میں کیا حالات ہیں؟ کس طرح سے زخمی بچے کیمپوں میں پڑے ہوئے ہیں۔ وہ لوگ وہاں بہت کام کر کے آئے تھے۔ میں نے وعدہ کیا تھا کہ اگلی دفعہ میں بھی چلوں گا۔

مزید پڑھنے کے لیے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

Latest posts by ڈاکٹر شیر شاہ سید (see all)

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

ڈاکٹر شیر شاہ سید کی دیگر تحریریں

صفحات: 1 2 3 4

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments