ماحولیاتی تبدیلیاں اور طبقاتی سوال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ماحولیاتی تبدیلیوں کا شمار آج کی دور میں ہمارے سیارے کو لاحق بہت بڑے خطرات میں ہوتا ہے اور اب اس بات کا ادراک عوامی سطح پر بھی ہونے لگا ہے۔ اس ہفتے منظر عام پر آنے والی ایک سروے رپورٹ کے مطابق برطانوی عوام موسمیاتی تبدیلیوں کو کووڈ 19 اور معاشی معاملات سے بھی زیادہ پریشان کن مسئلہ سمجھتے ہیں۔ ویسے تو ماحولیاتی بحران انسانیت کا اجتماعی مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے حکومتوں، اداروں اور عام افراد نے اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی بحران سے جڑا طبقاتی سوال بھی اپنی جگہ اہم ہے اور اب اس حوالے سے عالمی سطح پر ماحولیاتی انصاف کا مطالبہ زور پکڑتا جا رہا ہے۔

اس تناظر میں حال ہی میں گلاسگو میں منعقد ہونے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس کے دوران ترقی پذیر ملکوں کے کئی سفارتکاروں اور ماحولیاتی کارکنوں کی جانب سے امیر ملکوں پر یہ بحران پیدا کرنے کی ذمہ داری عائد کرتے ہوئے مطالبہ کیا گیا کہ ترقی یافتہ دنیا کو نہ صرف موسمیاتی تبدیلیوں کے شکار غریب ملکوں کی مدد کرنی چاہیے بلکہ گرین ہاؤس گیسز کا اخراج کم کرنے کے لیے بھی انہیں بھرپور انداز میں پہل کرنی چاہیے

ماحولیاتی تبدیلیوں کے حوالے سے طبقاتی انصاف کے سوال کو سمجھنے کے لیے اس بات کا جائزہ لینا ضروری ہے کہ تاریخی طور پر گرین ہاؤس گیسز کے اخراج کے بڑی حد تک ذمہ دار کون سے خطے اور ممالک ہیں اور اس اخراج کے نتیجے میں جنم لینے والا ماحولیاتی بحران کن ملکوں یا خطوں کو سب سے زیادہ متاثر کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر کاربن اخراج میں افریقی ملکوں کا مجموعی حصہ صرف تین فیصد ہے۔

اسی طرح اقوام متحدہ کے انسانی ترقی کے انڈیکس میں نیچے کی سطح پر رہنے والے ممالک کا کاربن اخراج بہت کم ہے جبکہ اس کے مقابلے میں انسانی ترقی کے عوامل کی مناسبت سے انڈیکس میں اوپر کی سطح پر دکھنے والے امیر ملکوں کا اخراج نہ صرف اس وقت زیادہ ہے بلکہ تاریخی طور پر بھی گرین ہاؤس گیسز کے اخراج میں ان کی شراکت داری بہت زیادہ رہی ہے۔

اس حوالے سے حال ہی میں معروف ماحولیاتی کارکن گریٹا تھنبرگ نے ایک تحقیقی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں لکھا تھا کہ دنیا کے دس فیصد امیر لوگوں کے کاروباری مفادات اور پرتعیش طرز زندگی کی وجہ سے ہونے والا کاربن اخراج ہی اقوام متحدہ کی جانب سے مقرر کردہ درجہ حرارت میں ڈیڑھ ڈگری اضافے کی ریڈ لائن عبور کرنے کے لیے کافی ہے اس لیے دنیا کی باقی آبادی کچھ بھی کر لے کوئی فرق نہیں پڑنے والا۔ کیوں کہ امیر طبقے کے کاربن فٹ پرنٹس پر تکلف کھانے پینے کے لوازمات سے لے کر کاربن ہیوی سفر، غیر ضروری چیزوں اور خدمات کے استعمال پر مبنی طرز زندگی کی وجہ سے بہت زیادہ ہیں۔ واضح رہے کہ کاربن فٹ پرنٹ کی اصطلاح کسی بھی فرد، ادارے، آبادی، پروڈکٹ وغیرہ کی وجہ سے ہونے والے کاربن اخراج کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

لیکن اس اخراج کے نتیجے میں برپا ہونی والے موسمیاتی تبدیلیوں سے سب سے زیادہ متاثر ترقی پذیر ممالک ہو رہے ہیں۔ شدید موسمی اثرات اور ان کے نتیجے میں ہونے والی تباہی سے نبرد آزما ہونے کے لیے ضروری وسائل نہ ہونے کی وجہ سے غریب ملکوں کی آبادیاں شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ اقوام متحدہ کے مہاجرین کی حوالے سے ہائی کمشنر کی مطابق صرف ایک افریقی ملک سوڈان میں آنے والے سیلاب کی وجہ سے لاکھوں افراد بے گھر ہو گئے ہیں اور ایک اندازے کے مطابق گذشتہ سال دنیا بھر میں تین کروڑ لوگ شدید موسمی حالات کی وجہ سے متاثر ہوئے جن میں بڑی تعداد کا تعلق ترقی پذیر ممالک سے تھا۔

اس حوالے سے کم آمدنی والی ملکوں کا موقف ہے کہ ان پر گرین ہاؤس گیسز کا اخراج فوری طور ختم کرنے کے لیے اصرار کرنا نا انصافی ہے کیوں کہ فوری طور پر ایسا کرنے سے ان کے اپنے لوگوں کو بجلی کی فراہمی، تعلیم، صحت، بنیادی ڈھانچے جیسی ضروری سہولیات فراہم کرنے کے منصوبے متاثر ہوں گے ۔ جبکہ دنیا کے امیر لوگ اسی طرح زیادہ سے زیادہ چیزوں، خدمات اور توانائی کے استعمال پر مشتمل پر تعیش زندگی گزارتے رہیں گے جس سے ماحولیاتی بحران بدستور شدت اختیار کرتا رہے گا۔

دوسری جانب ترقی یافتہ ممالک کے لوگوں کو زندگی کی بنیادی سہولیات پہلے ہی حاصل ہیں اور غریب ملکوں کے مقابلے میں امیر ممالک اپنے لوگوں کے معیار زندگی کو زیادہ متاثر کیے بغیر کاربن اخراج کو کم کر سکتے ہیں اور اپنے پاس موجود ٹیکنالوجی کی مدد سے توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دے سکتے ہیں۔

اس تناظر میں گرین ہاؤس گیسز کا اخراج کم کرنے کے لیے انصاف پر مبنی شڈیول ترتیب دینے کی بات کی جا رہی ہے جس کے مطابق ترقی یافتہ ممالک اپنی معیشت کو فوری طور پر متبادل توانائی کے ذرائع پر منتقل کریں اور پھر ترقی پذیر ملکوں کے لیے ان کی انسانی ترقی کی بنیادی ضروریات کو مدنظر رکھ کر ٹائم فریم ترتیب دیا جائے اور اس مقصد کے حاصلات کے لیے ان کی مدد بھی کی جائے۔ اس حوالے سے حال ہی میں سو سے زیادہ نوبل انعام یافتہ شخصیات نے ایک خط کی ذریعے انصاف پر مبنی فوسل فیولز نان پرولیفیریشن معاہدے کی ضرورت پر زور دیا ہے جس کے ذریعے فوسل فیولز پر انحصار ختم کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے لوگوں کی توانائی کے متبادل ذرائع تک رسائی کو بھی یقینی بنایا جائے۔

اسکے علاوہ ایک کم کاربن اخراج والا انسانی معاشرہ تشکیل دینے کی کوششوں کے دوران معاشرے کے مختلف طبقات کے مسائل اور مفادات کو مد نظر رکھنا بے حد ضروری ہے۔ اس سلسلے میں ذاتی کاربن بجیٹ، ٹارگیٹڈ ٹیکس اپروچ اور زیادہ اخراج کرنے والوں کی حوصلہ شکنی سمیت کئی تجاویز منظر عام پر آ رہی ہیں۔

اس وقت افریقہ اور ایشیا کے کافی سارے ترقی پذیر ملکوں کی غریب آبادیاں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے آنے والی قدرتی آفات کا سامنا کر رہی ہیں۔ ان متاثرین کی مشکلات کم کرنے کے لیے قائم کیے گئے فنڈ کے لیے رقوم کی فراہمی کے علاوہ ترقی یافتہ ملکوں کی یہ بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ غریب ملکوں کا فوسل فیولز پر انحصار کم کرنے اور ان ملکوں کے پاس قدرتی طور پر موجود شمسی اور ہوا کی توانائی کے بے انتہا وسائل کو بروئے کار لانے کے لیے فنی اور مالی امداد فراہم کریں تاکہ فوسل فیولز کے استعمال سے چھٹکارے کے ساتھ ساتھ دنیا کے غریب ممالک کی توانائی کی ضروریات بھی پوری ہو سکیں


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments