جب قوانین عدم مساوات کو فروغ دیتے ہوں: اس کا کیا حل ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جب کسی ملک میں عدم برداشت کا راج ہو تو اس تنگ نظری کو قوانین میں داخل کر کے جائز بنانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ میرے خیال میں اب وہ وقت آ گیا ہے کہ ہم سب کو مان لینا چاہیے کہ بد قسمتی سے ہم نے پاکستان میں ایک تنگ نظر معاشرہ قائم ہونے دیا ہے۔ اصول تو یہ ہے کہ آئین اور قوانین میں انسانی حقوق کو تحفظ دیا جائے لیکن بد قسمتی سے کئی ممالک ایسے قوانین بھی بنائے جاتے ہیں جن میں تعصب کو تحفظ دیا جاتا ہے۔ اور نسل یا عقیدہ کی بنا پر ملک کو مختلف طبقات میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اور ایک طبقہ کو باقی طبقات پر برتری دلائی جاتی ہے۔ اور آخر کار ایسے قوانین بنتے ہیں جو کہ مظلوم کی بجائے ظالم کی مدد کرتے ہیں۔

اور جب کوئی ان مظالم کے خلاف آواز اٹھائے تو جھٹ یہ فتویٰ صادر کیا جاتا ہے کہ یہ تو ہمارے آئین اور قانون میں درج ہے۔ اور جو اس کے خلاف آواز اٹھائے وہ ہمارے آئین اور قانون کا غدار ہے۔ اور گردن زدنی ہے۔ پکڑو اور مارو اس غدار کو۔ کوئی یہ نہیں سوچتا کہ آئین اور قانون انسان بناتے ہیں۔ اگر کسی ملک میں ظالمانہ قوانین بن گئے ہیں تو ضرورت اس بات کی ہے کہ ان قوانین کو تبدیل کیا جائے نہ کہ جو ان کے خلاف آواز اٹھائے ہاتھوں میں لٹھ پکڑ کر اس کی خوب تواضع کی جائے۔

جب سپین میں مسلمانوں کی حکومت ختم ہوئی اور کیتھولک بادشاہ فرڈیننڈ کے دور کا آغاز ہوا تو 31 مارچ 1492 کو ملکہ ازابیلا اور بادشاہ فرڈیننڈ نے ایک مشترکہ حکم جاری کیا کہ سپین کی حدود میں یہودی مذہب سے وابستہ کسی شخص کو رہنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ اس قانون کی بنیاد پر زبردستی لاکھوں یہودیوں کا مذہب تبدیل کر کے انہیں عیسائی بنایا گیا۔ اس کے بعد یہ سلسلہ یہاں پر رکا نہیں۔ کیتھولک حکمرانوں نے مسلمانوں کی خبر لینی شروع کی اور پہلے غرناطہ میں مسلمانوں کے تمام شہری حقوق ختم کر دیے گئے اور 1501 میں یہ اعلان کیا گیا کہ غرناطہ کو مسلمانوں سے پاک کر دیا گیا ہے۔

اور 1502 میں ملکہ ازابیلا نے یہ قانون جاری کیا کہ قشتالہ کی حدود میں اسلام پر پابندی لگائی جاتی ہے اور اس قانون کی بنیاد پر مسلمانوں پر تشدد کر کے انہیں مسیحی عقائد قبول کرنے پر مجبور کیا گیا۔ جب مسلمانوں سے فراغت ہوئی تو مذہبی عدالتیں بنا کر انکویزیشن کا آغاز کر دیا گیا اور ہاتھ دھو کو مسیحی شہریوں کے پیچھے پڑ گئے اور ہزاروں مسیحی افراد کو زندہ جلا دیا۔ یہ سب مظالم قوانین بنا کر ان کی بنیاد پر کیے جا رہے تھے۔ لیکن کیا یہ قوانین ان مظالم کو جائز ثابت کر دیتے ہیں؟ ہر گز نہیں۔ دوسرا سبق یہ ہے کہ اگر تنگ نظری کا راستہ پوری قوت سے نہ روکا جائے تو آخر کوئی بھی اس کے نتائج سے محفوظ نہیں رہتا۔

اب نازی جرمنی کی مثال لیتے ہیں۔ ہٹلر نے ایسے قوانین بنائے جس میں نسل پرستی کو تحفظ دیا گیا تھا۔ جس طرح سپین میں مذہب کی بنیاد پر شہریوں کو تقسیم کیا گیا تھا، اسی طرح جرمنی میں نسل کی بنا پر شہریوں کو تقسیم کیا گیا۔ ستمبر 1935 میں یہ قانون منظور کیا گیا کہ صرف جرمن نسل یا اس کی قریبی نسلوں کے افراد ہی اس ملک کے حقیقی شہری بن سکتے ہیں۔ اس طرح یہودیوں اور جپسی نسل کے لوگوں کو بہت سے شہری حقوق سے محروم کر دیا گیا۔

جرمن خون اور اس کے وقار کی حفاظت کے لئے یہ قانون منظور کیا گیا کہ کوئی جرمن نسل کا شہری، غیر جرمن نسل کے شہریوں سے شادی نہیں کر سکتا اور ان کے درمیان شادی کے بغیر جنسی تعلق بھی غیر قانونی ہو گا۔ یہ قوانین نازی پارلیمنٹ رائسٹاک نے منظور کیے تھے۔ کیا یہ دلیل قبول کی جا سکتی ہے کہ یہ پارلیمنٹ کا فیصلہ تھا۔ اس لئے یہ ایک جمہوری فیصلہ تھا۔ لہذاٰ اس کو غلط قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ظاہر ہے کہ انسانی عقل یہ بودی دلیل قبول نہیں کی جا سکتی۔

اب ذرا قریب کے زمانے میں جنوبی افریقہ کے نسل پرست نظام کی مثال لیتے ہیں۔ اس دور میں جو بھی مظالم ہو رہے تھے وہ قوانین کی آڑ میں کیے جا رہے تھے۔ 1913 میں یہ قانون بنایا گیا کہ زمین کی ملکیت کا فیصلہ بھی چمڑی کا رنگ دیکھ کر ہو گا۔ یہ قانون بنایا گیا کہ سیاہ فام چمڑی کے لوگ صرف 8 فیصد زمین کے مالک ہو سکتے ہیں۔ پھر 1936 میں حاتم کی قبر پر لات مار کر یہ حد 13 فیصد تک بڑھا دی گئی۔ حالانکہ اس ملک کی بھاری اکثریت سیاہ فام تھی۔

1950 میں یہ قانون بنایا گیا کہ تمام شہری اپنے آپ کو رجسٹر کروائیں اور یہ اندراج بھی کروائیں کہ ان کا تعلق کس نسل سے ہے۔ اور 1953 میں یہ قانون بنایا گیا کہ مختلف سہولیات میں مختلف نسل کے لوگوں کا حصہ مخصوص کیا جائے گا۔ اس کا مقصد ان سہولیات میں سفید فام لوگوں کا زیادہ حصہ مخصوص کر کے سیاہ فام شہریوں کی حق تلفی کو قانونی تحفظ دینا تھا۔

شہریوں میں تفریق اور ان پر مظالم کا یہ بھیانک سلسلہ ظالمانہ قوانین کی آڑ میں چلایا جا رہا تھا۔ کیا یہ قوانین ان مظالم کا جواز بن سکتے ہیں؟ ایسا نہیں ہے۔ آخر کاریہ قوانین ان ممالک اور ان کے نظام کو بھی لے بیٹھے۔ اور آخر کار کیتھولک چرچ کو انکویزیشن پر معافی مانگنی پڑی۔ ہٹلر جرمنی کو کھنڈر بنا کر دنیا سے رخصت ہوا اور جرمنی کو یہودیوں سے معافی مانگنی پڑی۔ اور جنوبی افریقہ کے سفید فام لوگوں کو نیلسن منڈیلا کی صدارت اور شہریوں کی برابری قبول کرنی پڑی۔

پاکستان کے آئین کی شق 2 میں لکھا ہے کہ ”اسلام پاکستان کا مملکتی مذہب ہو گا۔“ سب سے پہلے اس بات کا ذکر ضروری ہے کہ مذہب افراد کا ہوتا ہے۔ ہر شخص اپنے ضمیر کے مطابق کسی مذہب کو قبول کرتا ہے۔ میں یہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ مملکت کے مذہب کے کیا معنی ہیں؟ قرآن مجید میں بھی ان لوگوں کا ذکر ہے جو کہ ایمان لائے اور ان لوگوں کا ذکر ہے جنہوں نے انکار کیا۔ کسی حکومت کا کوئی ذکر نہیں جو ایمان لائی ہو۔

اور ہر ملک میں مختلف مذاہب کے لوگ آباد ہوتے ہیں۔ جب ایک مذہب کر سرکاری مذہب قرار دیا جاتا ہے تو آخر کار اس کا یہ نتیجہ برآمد ہوتا ہے کہ دوسرے مذاہب کے لوگوں کو دوسرے درجہ کے شہری کا درجہ دے دیا جاتا ہے۔ اس طرح ملک کے شہریوں میں تفریق کرنے کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے۔ اس کے ساتھ آئین کی شق 25 میں یہ اعلان بھی کیا گیا ہے کہ تمام شہری قانون کی نظر میں برابر ہیں۔ لیکن جب ایک مذہبی کو مملکتی مذہب قرار دے دیا جاتا ہے۔

تو پھر دوسرے مذاہب سے وابستہ افراد برابر کے شہری نہیں رہ سکتے۔ جس طرح پاکستان میں صدر اور وزیر اعظم کے عہدوں کے لئے شرط ہے کہ وہ مسلمان ہوں۔ اگر آئین کے مطابق ہندو اور مسیحی احباب برابر کے شہری ہیں تو پھر وہ ان عہدوں پر فائز کیوں نہیں ہو سکتے۔ اگر وہ ان عہدوں پر فائز نہیں ہو سکتے تو وہ برابر کے شہری کس طرح کہلا سکتے ہیں؟

جب اسمبلی میں 1973 کے آئین پر بحث ہو رہی تھی اور آئین کی یہ شق پیش ہوئی کہ پاکستان میں مملکتی مذہب اسلام ہو گا تو فوری طور پر مذہبی سیاسی جماعتوں کی طرف سے اس کو بنیاد بنا کر ایک کے بعد دوسرا مطالبہ پیش کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔

مفتی محمود صاحب نے 5 مارچ 1973 کو یہ مطالبہ کیا کہ چونکہ سرکاری مذہب اسلام ہے اس لئے آئین میں یہ درج ہونا چاہیے کہ کوئی چیف جسٹس، کسی مسلح فوج کا سربراہ بلکہ کسی بھی کلیدی عہدے پر کوئی غیر مسلم مقرر نہیں ہو سکتا۔ 9 مارچ کو مولوی صدر الشہید صاحب نے یہ مطالبہ پیش کیا کہ آئین میں اس شق کا اضافہ کیا جائے کہ مذہبی ماہرین کے تشخیص کردہ اسلامی اصول و فروغ کا تحفظ بقا اور اشاعت مملکت کا اولین فریضہ ہو گا۔ شہریوں کی طرز زندگی اور حکومت کا نظم و نسق اسلامی احکام کے تحت لازما ہو گا۔

گویا مملکت ان کے مذہبی ماہرین کی کوئی غلام ہو گی اور ہر شہری کو خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہو اسے اسلامی طرز زندگی اپنانی ہوگی۔ اور 14 مارچ کو غلام غوث صاحب نے یہ ترمیم پیش کردی جو شخص کسی آیت کریمہ یا کسی مسلسل حدیث نبوی ﷺ کی مقبول عام توضیح یعنی تشریح کو بھی ماننے سے انکار کرے اسے بھی مرتد اور غیر مسلم قرار دے دینا چاہیے۔ ان کے ذہن نا رسا میں یہ نکتہ نہیں آیا کہ یہ فیصلہ کون کرے گا کہ کون سی تشریح مقبول عام توضیح کہلانے کی مستحق ہے۔

اس کا مطلب یہ نکلتا ہے کہ جو مسلمان وزیر اعظم یا صدر ان حضرات کی تشریح کو بھی تسلیم نہیں کرے گا وہ اپنے عہدے سے محروم کر دیا جائے گا کیونکہ وہ اب مرتد ہو گیا ہے۔ یہ ترامیم منظور نہیں ہوئیں لیکن اس ذہنیت کے کے کیا نتائج برآمد ہو سکتے ان پر کسی تبصرہ کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر تعصب کو بے لگام چھوڑ دیا جائے تو کوئی بھی اس سے محفوظ نہیں رہ سکتا۔

خلاصہ کلام یہ کہ اگر پاکستان میں عدم رواداری کی فضا ختم کرنی ہے تو سب سے پہلے آئینی طریق کے مطابق ملک کے قوانین میں حقیقی مساوات پیدا کرنی ہو گی۔ اگر بنیاد ہی درست نہیں ہو گی تو اس پر تعمیر عمارت کس طرح قائم رہ سکتی ہے۔ اگر پاکستان کے آئین میں یہ لکھا ہوا ہے کہ تمام شہری برابر ہیں تو سب سے پہلے ملک کے قوانین میں اس بات کو یقینی بنانا چاہیے کہ تمام شہریوں کو برابر کے حقوق حاصل ہوں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments