مناط ( افسانوی مجموعہ )۔

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بعض اوقات زندگی کے بکھیڑوں سے ضروری اور من پسند کاموں کے لیے وقت نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایک بک ریڈر کا خواب پر آسائش کمرہ ہرگز نہیں ہوتا۔ وہ تنہائی اور سکون کے چند لمحات کا آرزو مند ہوتا ہے تاکہ کوئی تیسرا اس کے اور کتاب کے درمیان مخل نہ ہو۔

راحت میں جو حائل ہو وہ راہ کا کانٹا ہے۔

ہماری طرف کچھ دن سے ایک کانٹا نہیں بلکہ کانٹوں کی طویل قطار لگی تھی۔ اس لیے مطربہ شیخ کی کتاب جو کافی دن پہلے موصول ہوئی۔ پڑھنے کا موقع نہیں ملا۔

مطربہ شیخ تبصرہ نگاری میں جانا پہچانا نام ہے۔ بہت کم وقت میں مطربہ نے اپنی محنت اور لگن کے بل بوتے پر اپنی الگ شناخت بنائی ہے۔ مطربہ شیخ نے اپنے قلمی سفر کا آغاز مختلف سوشل ایشوز پر بلاگ اور کالم اور افسانہ لکھنے سے کیا۔ کچھ عرصہ سے وہ کتابوں پر بہت عمدہ تبصرے اور وی لاگز بنا رہی ہیں۔ تبصرہ نگاری ایک ایسا فن ہے جس پر بہت کم لوگوں کو عبور ہوتا ہے۔ اور مطربہ کا شمار صف اول کے تبصرہ نگاروں میں ہوتا ہے۔ گھر اور جاب کی ٹف روٹین کے ساتھ اپنے شوق کی آبیاری کرنا بہت ہمت کا کام ہے۔

مطربہ نے اپنے افسانوی مجموعے کا نام ”مناط“ بہت منفرد رکھا ہے۔ ”مناط“ اکیس افسانوں اور بارہ مختصر افسانچوں پر مشتمل ہے۔ مختلف معاشرتی اور عورت کی نفسیات پر لکھے یہ افسانے پڑھتے ہوئے کہیں بھی بوریت کا احساس نہیں ہونے دیتے۔ مطربہ نے عورت کی نفسیات اور مسائل کو نہایت باریک بینی سے بیان کیا ہے۔

منٹو کے مطابق ”ہمارے افسانوی ادب میں جن عورتوں کا ذکر کیا گیا ہے، ان میں سے اسی فیصدی ایسی ہیں جو حقیقت سے کوسوں دور ہیں“ ۔

بیس فیصد جو حقیقت سے قریب ہیں وہ پڑھنے والوں کو ”مناط“ میں نہالہ، ردابہ اور حمیرا کے کرداروں میں دکھائی دیں گی۔ ہمارے سماج میں عورت اپنی زندگی سمجھوتے اور صبر کے سہارے گزارتے اپنی ذات کا نام و نشان بھول جاتی ہے۔ کڑوے سیب، ابراہیم اور ردابہ، باکرہ ایسے افسانے ہیں۔ جن میں عورت کے نفسیاتی و جنسی مسائل کو نہایت باریک بینی سے بیان کیا گیا ہے۔ مطربہ کا مشاہدہ اور مطالعہ ان کے افسانوں سے جھلکتا ہے۔ ”کڑوے سیب“ سائیکوسس کی مریضہ پر لکھا گیا ہے۔

اس کے علاوہ مناط، نوادرات، اور پرانا گد بھی بولڈ انداز سے لکھے گئے بھرپور جرات مندانہ افسانے ہیں۔ ”لڈو کی ٹوپی، جرات، شبن کی دلہن اور ذات کی کٹیا انسانی رویوں اور جذبات کی بہترین عکاس ہیں۔ مطربہ نے اپنے افسانوی مجموعے میں جن موضوعات اور مسائل کا احاطہ کیا ہے۔ وہ معاشرے کی تلخ سچائیوں پر مبنی ہیں۔ بہت سے لکھنے والے اپنے اردگرد کے تلخ حقائق سے نظریں چراتے ہیں۔ مناط میں شامل ہر افسانہ اپنے عہد کا نوحہ ہے۔

بارہ مختصر افسانچوں میں بھی مصنفہ کی جزئیات نگاری کمال کی ہے۔ ایک مختصر افسانچہ ”بت“ پڑھیے۔

میں مرنے کے بعد دفن کر دیا گیا۔ صدیوں قیامت کا انتظار کرتا رہا۔ لیکن قیامت نہ آئی، حتیٰ کہ عورتیں بے پردہ پھرنے لگیں۔ مرد گانے اور ناچنے لگے۔ لیکن قیامت آنے کا انتظار طویل ہوتا گیا۔ میں چپ چاپ اندھیری قبر میں پڑا رہا اور مٹی کا بت بن گیا۔

ایک دن اچانک زمین ہلی، میں نے شکر کیا کہ قیامت آ گئی اب میں اس اندھیرے سے نجات پانے والا ہو۔ لیکن یہ کیا ہوا، روشنی میں آتے ہی بستی والے میرے جسم پر ہتھوڑے برسانے لگے، میں چیختا رہا۔ لیکن کسی نے میری نہ سنی، مجھے ریزہ ریزہ کر دیا گیا، حالانکہ میں ایک بے جان بت ان کو کبھی نقصان نہ پہنچا سکتا تھا۔ کیونکہ بستی میں بچے کھانے والے آزاد گھوم رہے تھے۔

مطربہ کے ادبی سفر اور پہلی کتاب کی کراچی کے ادبی حلقوں میں پذیرائی کے لیے مبارک باد اور نیک خواہشات۔

کتاب حاصل کرنے کے لئے ڈسٹری بیوٹر کا نمبر
03439444888
ہے۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments