مریضانِ ڈپریشن اور معالج

کچھ دن پہلے ایک میم نظر سے گزری کہ کمپیٹیشن اتنا بڑھ گیا ہے کہ کسی کو اپنا دکھ سناؤ تو اگلا ڈبل سنانے بیٹھ جاتا ہے۔ سچ ہے آپ غلطی سے کسی کے سامنے اپنا دکھ درد شیئر کر دیں تو وہ اپنی دکھ بھری ایسی داستان چھیڑے گا کہ آپ اپنے درد کا سُر چھیڑنے پر دل میں خود سے یہ کہنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ آخر کچھ بتانے کی کیا ضرورت تھی؟ پھر دوست احباب کہتے

Read more

افسانہ نجو اور آپا

دوپہر کا وقت تھا۔ چھتی گلی میں سناٹے کا راج تھا۔ اس گلی کے تقریباً سب مکانوں کی آمنے سامنے سے چھتیں ملی ہوئی تھیں۔ اس لیے چھتی گلی کے نام سے مشہور ہو گئی۔ ابھی سارے گھروں کے دروازے بند تھے۔ سوائے نجو کے گھر کے۔ نجو کون تھی؟ کہاں کی رہنے والی تھی؟ کوئی ٹھیک سے نہیں جانتا تھا۔ وہ جب بھی اپنی کہانی سناتی تو ہر بار ایک نئی جگہ اور نئے رشتے کا اضافہ ہوا ہوتا۔

Read more

غیرت کا جنازہ

آج بہت عرصے بعد ایک دوست کی امی ملیں۔ لوگ کہتے ہیں بہت صبر والی خاتون ہیں کبھی کسی کے سامنے اپنی بیٹی کا ذکر نہیں کیا۔ نہ دعا میں، نہ کسی بات کو یاد کر کے اور نہ ہی کوئی ایصال ثواب کی نیت سے کسی محفل کا اہتمام کیا۔ بہت کم مائیں ایسی صابر اور غیرت مند دیکھی ہیں۔ لوگ ان کے صبر اور خاموشی کی عظمت کے گن گاتے۔ نجانے وہ کیسے بیٹی کا غم ضبط کیے

Read more

بعض مریضان شوگر کا گھر میں اور باہر رویہ

خدا شوگر کے مرض سے ہر ایک کو محفوظ رکھے۔ کم بخت بڑا نازک مزاج سا مرض ہے۔ جس کو موئی شوگر ہو جائے۔ اس کا مزاج بگڑتے پتا نہیں چلتا۔ پل میں تولہ پل میں ماشہ۔ ہمارے اپنے خاندان میں شوگر کے کافی مریض ہیں۔ ان میں سے کچھ مریض ایسے ہیں جو اپنے گھر جی بھر کر آئس کریم اور کوک کھائیں پئیں گے لیکن جیسے ہی کہیں کسی کے گھر جانا ہو تو شوگر یاد آ جاتی

Read more

زندگی اور موت کے درمیان چند تصویریں

زندگی اور موت کے درمیان چند تصویریں سر عمیر غنی کی یادداشتوں پر مبنی تیسری کتاب ہے۔ عمیر غنی کا نام فوٹوگرافی میں کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ اب تک ان کی تین کتب شائع ہو چکی ہیں۔ پہلی کتاب ”تصویر کا دوسرا رخ“ جو فوٹوگرافی پر مختصر مضامین پر مشتمل ہے۔ دوسری کتاب ”فوٹوگرافی“ (فنی اور تخلیقی پہلو) ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مختلف ادبی جرائد میں افسانے بھی لکھ رہے ہیں۔ زندگی اور موت کے درمیان چند تصویریں

Read more

ابا، بارش اور ہم

بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ بارش ہو اور ابا کے چہرے پر مسکراہٹ ہو۔ زیادہ تر وہ بارش سے پریشان ہی ہوتے ہیں۔ پھر ابا نہ کچھ ٹھیک سے کھاتے ہیں نہ مسکرا کر بات کرتے ہیں۔ کبھی بارش برستے زیادہ دن گزر جائیں تو یہاں سب چھوڑ چھاڑ کر اپنے دو تین جوڑے اور چائے کا سامان لیے فصل دیکھنے چل پڑتے ہیں۔ اس پریشانی میں یوں لگتا ہے وہ ہمارے پاس ہو کر بھی پاس نہیں ہوتے۔

Read more

نیلی آنکھوں والی گڑیا (قسط نمبر چار)۔

حاجی صاحب اور شمیم زینب تمہیں حاجی صاحب تو یاد ہو گے۔ وہی جو ہر وقت ہاتھ میں بڑی سی تسبیح لیے گھومتے تھے۔ وہ جب بھی حج پر یا زیارات پر جاتے تو ہماری طرف ضرور ملنے آتے۔ اور تمہارے سر پر ہاتھ کر حال چال پوچھتے۔ وہ جب خاص طور پر حج پر جانے سے ایک دو دن پہلے آ کر سب سے معافی مانگتے۔ تو ہم سب بچے حیران ہوتے آخر حاجی صاحب نے ایسا کون سا

Read more

نیلی آنکھوں والی گڑیا (قسط نمبر 3

چھ محرم کو گھر میں کوئی نہ ہوتا۔ سب عورتیں امام بارگاہ کے برآمدے میں اور مرد صحن میں بیٹھے مجلس سنتے۔ مجلس ختم ہونے کے بعد مرد آہستہ آہستہ باہر نکل جاتے اور عورتیں برآمدے سے صحن میں آ کر جھولے کے گرد دائرہ بنا کر مصائب شہزادہ علی اصغر پڑھتیں۔ فرحی آنٹی زمین پر بیٹھ کر جھولے سے لپٹ کر بہت گریہ کرتیں۔ انہیں دیکھ کر جو آنکھ نم نہ ہوتی اس آنکھ سے بھی آنسو رواں ہونے

Read more

مناط ( افسانوی مجموعہ )۔

بعض اوقات زندگی کے بکھیڑوں سے ضروری اور من پسند کاموں کے لیے وقت نکالنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایک بک ریڈر کا خواب پر آسائش کمرہ ہرگز نہیں ہوتا۔ وہ تنہائی اور سکون کے چند لمحات کا آرزو مند ہوتا ہے تاکہ کوئی تیسرا اس کے اور کتاب کے درمیان مخل نہ ہو۔ راحت میں جو حائل ہو وہ راہ کا کانٹا ہے۔ ہماری طرف کچھ دن سے ایک کانٹا نہیں بلکہ کانٹوں کی طویل قطار لگی تھی۔ اس

Read more

کتاب: وفا کے موتی

”وفا کے موتی“ کتاب اہل قلم اور اہل دل کے منتخب محبت ناموں پر مشتمل کتاب ہے۔ جس کا ترجمہ و ترتیب عابد میر صاحب نے کیا ہے۔ اس سے قبل عابد میر کی تین کتابیں جو افسانوں اور مختصر کہانیوں کی ہیں پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ حال ہی میں میر صاحب کی چھ کتابیں شائع ہوئی ہیں۔ جن میں سے ابھی ”وفا کے موتی“ پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ ایک وقت تھا۔

Read more

نیلی آنکھوں والی گڑیا (دوسری قسط)۔

بات ہو رہی تھی ڈائری کی جس کا ہر صفحہ زینب کے ذکر بنا ادھورا ہے کیونکہ میری ڈائری کے ہر لفظ کو وہ ہی دل جمعی سے سنتی تھی اور وہی میری ڈائری کا ہر ورق تھی۔ میں اپنی چھوٹی سے چھوٹی بات اس سے شیئر کرتی۔ لوگ ڈائری کے اوراق کو اپنے راز و من کی باتیں سونپ کر دل کا بوجھ ہلکا کرتے ہیں اور میں زینب کو سنا کرتی تھی۔ بہت عرصہ گزرنے کے بعد مجھے

Read more

نیلی آنکھوں والی گڑیا (ایک معذور بچی کی کہانی)

کہانی کیسے اور کہاں سے شروع کروں۔ بہت دن کہانی کی بنت میں گزر گئے۔ کچھ غیر ضروری تعداد جن کا کہانی کے کرداروں سے تعلق نہیں تھا۔ ان کی موجودگی نے ایک نئی کہانی جنم لی۔ وہ ایک الگ قصہ ہوا۔ اصل قصہ جو بیان کرنا ہے۔ اس کی خوشبو ہر سطر سے آنا ضروری ہے۔ اس لیے جو جیسا ہے ویسا ہی رہے اچھا ہے۔ زندگی کا ہر لمحہ بہت قیمتی ہوا چاہتا ہے۔ پل بھر کا بھروسا

Read more

بکرے کی چانپ اور مرغی کی ٹانگ

صبح مرغی کی شان میں دو پیراگراف لکھ رہی تھی کہ اتنے میں انڈیا سے بکرے کی آواز کانوں میں پڑی۔ پنڈال میں بکرا تو موجود نہیں تھا لیکن دولہا میاں بھیں بھیں کرتے پھرے۔ بے چارہ دولہا جو آنکھوں میں اور پیٹ میں نرم نرم اور چھوٹی چھوٹی گول بوٹی کے سپنے سجائے بارات تو لائے۔ لیکن وہاں بکرے کی چانپ کی جگہ مرغی کی ٹانگ نظر آئی۔ مرغی کی ٹانگ نظر آنے کی دیر تھی۔ دولہے میاں کے

Read more

سیکیورٹی کے غم

ایک وقت تھا ہم سیکیورٹی اور سیکیورٹی گارڈ کی اہمیت سے ناواقف تھے۔ اسکول میں ہماری ایک دوست ہوتی تھی۔ پہلی دفعہ اس کی زبانی گارڈ کا لفظ سنا۔ وہ جب بھی وقت ملتا۔ اپنے گھر کے لیے سیکیورٹی کی اہمیت بیان کرنا نہ بھولتی۔ ہم جیسی دو تین اور انتہائی دل جمعی سے سیکیورٹی کے متعلق معلومات سنتیں۔ ہمیں رات کے پچھلے پہر ہونے والی وارداتوں کی کہانیاں سننے کا شوق ہو چلا تھا۔ جب ایک نامعلوم سایہ جو رات بارہ بجنے کی دیر ہوتی تو چھت پر بھاگنا شروع کر دیتا۔ اس کے بھاری قدموں کی دھم دھم سے ہمارے معصوم دل دہل جاتے۔ وہ نامعلوم سایہ ہمیشہ چھت پر ہی بھاگتا دوڑتا رہا۔ بے چارے کی زندگی کا آدھا حصہ چھت پر دوڑیں لگاتے گزر گئی۔

پھر وہ ان گنت کتوں کے بھونکنے کی ڈراؤنی آوازیں جو رات دو بجے کے بعد سنائی دیتیں۔ یوں لگتا کتے بھونکتے ہوئے گھر کا گیٹ پھلانگ کر آ جائیں گے اور ہمیں کچا چبا لیں گے۔

Read more

بانجھ جوڑے اور بن مانگی نیک تمنائیں

پہلی خاتون: شادی کو کتنے سال ہو گئے ہیں؟ پانچ سال؟ ہائے پانچ سال ہو گئے! ابھی تک ایک بچہ بھی نہیں ہوا!؟ اب تک دو بچے ضرور ہو جانے چاہیے تھے! تم علاج نہیں کرواتیں؟ کس گائنا کالوجسٹ کے پاس جاتی ہو؟ ایک ڈاکٹر بتاتی ہوں، اس کے پاس جاؤ۔ وہاں میری بہو جاتی تھی۔ دو سال بعد اللہ نے پوتا دیا۔ تم بھی وہیں سے علاج کرواؤ۔

دوسری خاتون: یوں اداس کیوں بیٹھی ہو؟ سب کے ساتھ گپ شپ کرو۔ یوں الگ تھلگ بیٹھنے سے مزید ڈپریشن ہوتا ہے۔ اللہ نے چاہا، تو بہت جلد تمہیں اولاد کی نعمت سے نوازے گا۔ مایوس نہیں ہوتے۔

Read more

حلیمہ کی بیٹی

حلیمہ کو دیکھ کر سب کہتے۔ کیسی عورت ہے اپنی صحت کا خیال نہیں کرتی اور دن بھر محنت مشقت کرتے نہیں تھکتی۔ حلیمہ کو جو پہلی نظر دیکھتا تو یہ ضرور کہتا۔ ”دیکھو تنکا سی ہے، اس میں جان نام کی چیز ہی نہیں“ ۔ کچھ منہ پھٹ کہہ بھی دیتے۔ ”ہائے حلیمہ تم بچپن سے ایسی ہو کہ اب ڈائٹنگ کا شوق چرایا“ ۔ ”حلیمہ سب کی اپنے دبلے وجود کے متعلق باتوں کو ہنس کر ٹال دیتی“

Read more

سونی کلائیاں اور شوہر کی بیماری کا بوجھ

ہمارے گھر کے لان کے دائیں جانب ایک بڑا سا کمرا ہوتا تھا۔ جہاں میراں خالہ اپنے 9 بچوں اور شوہر کے ساتھ رہائش پذیر تھیں۔ ہم اکثر کہتے ان کے ہاں ہر سائز کا بچہ موجود ہے بڑی بیٹی کی شادی ہوئی تو ماں بیٹی دونوں کی طرف بیٹے ہوئے۔ بڑے بہن بھائی اپنے بھائی اور بھانجے کو سارا دن اٹھائے گھومتے اور جھولے میں ڈال کر لوری سناتے۔ میراں خالہ بچہ پیدا ہوتے ہی اسے ایک طرح سے

Read more

پہنو وہی جو جگ بھائے

یہ ڈریس کہاں سے لیا ہے؟ کتنے کا لیا ہے؟ کب لیا تھا؟ عید پر یا پھر کسی شادی پر؟ میرا بھی بالکل تمہارے جیسا ڈریس ہے لیکن اس کا کپڑا زیادہ اچھا ہے۔ ہمیشہ کوشش کی، کہ ایسے سوال کر کے وقت برباد کرنے والے لوگوں سے دور رہا جائے، جن سے نہ کچھ اچھا سیکھنے کو ملتا ہے نہ برا۔ البتہ معمولی سی معمولی بات میں بھی، اپنا بڑاپن کیسے جتایا جاتا ہے، یہ ضرور سیکھا۔ کچھ لوگوں

Read more

پیشہ ور رقص کرنے والا

کمرے میں مدھم موسیقی کے ساتھ ساتھ ایک بے چین روح خود آزاد پنچھی کے مانند اڑ رہی تھی۔ کبھی کبھی اس کے ہوش و حواس جواب دینے لگتے، خود پر اختیار کھونے لگتا۔ بچپن میں سب اس کا مورنی سا ناچ دیکھ کر سراہتے اور لطف اندوز ہوتے تھے۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ناچ اس کی ذات کا حصہ بنتا چلا گیا۔ جب تک وہ دن میں ایک دفعہ اپنا نشہ پورا نہ کرتا اس کو اپنا آپ

Read more