ایک وقت تھا ہم سیکیورٹی اور سیکیورٹی گارڈ کی اہمیت سے ناواقف تھے۔ اسکول میں ہماری ایک دوست ہوتی تھی۔ پہلی دفعہ اس کی زبانی گارڈ کا لفظ سنا۔ وہ جب بھی وقت ملتا۔ اپنے گھر کے لیے سیکیورٹی کی اہمیت بیان کرنا نہ بھولتی۔ ہم جیسی دو تین اور انتہائی دل جمعی سے سیکیورٹی کے متعلق معلومات سنتیں۔ ہمیں رات کے پچھلے پہر ہونے والی وارداتوں کی کہانیاں سننے کا شوق ہو چلا تھا۔ جب ایک نامعلوم سایہ جو رات بارہ بجنے کی دیر ہوتی تو چھت پر بھاگنا شروع کر دیتا۔ اس کے بھاری قدموں کی دھم دھم سے ہمارے معصوم دل دہل جاتے۔ وہ نامعلوم سایہ ہمیشہ چھت پر ہی بھاگتا دوڑتا رہا۔ بے چارے کی زندگی کا آدھا حصہ چھت پر دوڑیں لگاتے گزر گئی۔
پھر وہ ان گنت کتوں کے بھونکنے کی ڈراؤنی آوازیں جو رات دو بجے کے بعد سنائی دیتیں۔ یوں لگتا کتے بھونکتے ہوئے گھر کا گیٹ پھلانگ کر آ جائیں گے اور ہمیں کچا چبا لیں گے۔
Read more