دیوار گریہ کے آس پاس ( قسط 1 )


مصنف: کاشف مصطفے
تدوین و ترجمہ: محمد دیوان اقبال

ہم نے زندگی میں بہت سی کتابیں پڑھیں اور کئی کتابوں کے سحر میں مہینوں مبتلا بھی رہے مگر یہ خیال کبھی نا آیا کہ باقی دنیا بھی اس کو پڑھے۔ دیوان اقبال صاحب کے ہم فین ہیں کہ پہلے ان کی ’جسے رات لے اڑی ہوا‘ ( ان کی دوسری کاوش ابھی تک پڑھ نہیں پائے) اور پھر یہیں پر ان کے کالم پڑھ کر عش عش کرتے رہے ہیں سو جب ہمیں پتہ چلا کہ ڈاکٹر کاشف مصطفے کی کتاب کا ترجمہ انھوں نے کیا ہے اور پڑھنے کے لئے دستیاب ہے تو پھر اندھا کیا چاہے؟

اب جب گوہر مقصود ہاتھ آیا اور اسے ’عرض مصنف‘ سے شروع کیا تو احساس ہوا کہ واسطہ تو بہت ہی اعلی چیز سے پڑھنے والا ہے اور جب ”کیا کہے حال دل غریب جگر“ بقلم دیوان صاحب پڑھا اپنے اس خیال پر خود ہی مہر ثبت کر دی تھی۔

اب تک ہم نے صرف 54 صفحات پڑھے ہیں اور اس سست رفتاری کی وجہ ہمارا غبی یا کند ذہن ہونا نہیں (پلیز یقین کریں ) بلکہ ہر صفحے کو کئی مرتبہ پڑھنا ہے (بات تو پھر کند ذہنی پر آ رہی ہے ) بہرحال اب جب کہ ہم ایک صفحے کو دوبارہ اور سہ بارہ پڑھتے ہیں اور ان تمام مقامات کو چشم تصور میں لاتے ہیں بلکہ کوشش ہوتی ہے کہ ڈاکٹر صاحب والی کیفیت بھی اپنے پر طاری کرٖیں مگر گناہوں کا بوجھ ہمیں کپکپا دیتا ہے اور ویسے بھی

کتھے مہر علی کتھے تیری ثنا
گستاخ اکھیاں کتھے جا اڑیاں

مشرق وسطی اور اس کی تاریخ سے ہمارے دل کے تار ہمیشہ سے بندھے ہیں، یہ نبیوں اور پیغمبروں کا کا خطہ ہے۔ اللہ تعالی کی بے پناہ کرم نوازی اور معجزوں کی حامل سرزمین ہے مگر یہاں اسرائیل ہے جو مسلم دنیا کے دل میں گھسے خنجر کی مانند ہے اور اس کے مقدس ترین حصوں پر قابض ہے۔ ہماری دلی تمنا ہے کہ دنیا سے جانے سے پہلے ان تمام مقامات کو دیکھنے کی سعادت حاصل کریں خاص طور پر یروشلم مگر ہو گا تو وہی جو اللہ تعالی کو منظور ہے۔

ہم نے جتنے صفحے اب تک پڑھے ہیں تو اس پہ بات کرتے ہیں، یہ ہمارا زندگی کا پہلا اور اکلوتا ریویو ہے اور اگر آپ دیکھیں کہ جہاں بھی ہم انصاف نہیں کر پا رہے تو اس میدان کا طفل مکتب سمجھ کر معاف کر دیں پلیز۔

مصنف کاشف مصطفے ڈاکٹر ہیں اور دل کے بہت ہی پیچیدہ معاملات سے نبرد آزما ہوتے ہیں اور ظاہر ہے سیاحت میں ان کی دلچسپی کا اندازہ تو ہو گیا ہے۔ تل ابیب کے بن گوریاں ائرپورٹ (سابق پرائم منسٹر کے نام سے منسوب) سے وہ ”ویلکم ٹو اسرائیل سر“ کی دعوت کے بعد اپنی منزلوں کے بارے میں بالکل واضح ہیں۔ ائر پورٹ تو تل ابیب میں ہے مگر مسافر کو جافا کی جلدی ہے جو ایک تاریخ اپنے اندر سموئے ہے۔ جافا اور تل ابیب میں راولپنڈی اور اسلام آباد والا تال میل ہے (ہمارا اندازہ ہے ) اور اس میں آپ سمجھ گئے ہوں گے کہ جافا راولپنڈی ہے۔ یہ دنیا کا دوسرا قدیم ترین شہر ہے پہلا دمشق ہے جو مسلسل آباد ہے۔

وہ رات مسافر کی تل ابیب میں ہی بسر ہوئی جہاں ان کی ایک یہودی کولیگ نے ڈنر پر بلایا اور اپنے ”بہت ہی یہودی شوہر“ سے ملوایا تو اس ملاقات اور گفتگو کو آپ بہت دلچسپ اور معنی خیز پاتے ہیں

اس ڈنر سے اگلی صبح مسافر اپنی منزل کی طرف رواں دواں تھا یعنی جافا جو قدیم ترین شہروں میں سے ایک ہے اور ایک روایت سینہ بہ سینہ چلی آتی ہے کہ طوفان نوح کے بعد اس شہر کو ان کے صاحبزادے یافت (ع) نے آباد کیا تھا اور حضرت داؤد (ع) اور ان کے بیٹے حضرت سلیمان (ع) کے دور میں بہت پھلا پھولا تھا۔

ڈاکٹر صاحب کے مطابق ایک روایت یہ بھی ہے کہ حضرت یونس (ع) کو مچھلی نے اسی شہر کے ساحلوں پر اگلا تھا۔ اللہ اکبر

اس مقام پر پھر اس معجزے کی یاد میں ایک مسجد البحر کے نام سے تعمیر کی گئی اور مسلمانوں نے گیارہ سو سال حکومت کی تھی۔ اس شہر کی تاریخ پڑھنے سے تعلق رکھتی ہے۔

اسرائیل انتظامی اعتبار سے تین زونز میں تقسیم ہے
زون اے : فلسطینی علاقہ جہاں باڑ اور دیوار کے پیچھے کیمپوں میں انسانیت سسکتی ہے۔
زون بی : فلسطینی کام کاج کے لئے آسکتے ہیں مگر ٹھہر نہیں سکتے۔

زون سی : فلسطینیوں کا داخلہ بالکل منع ہے مگر کچھ مسلمان نسل در نسل ابھی بھی وہاں رہتے ہیں لیکن باقی سب مسلمان جافا میں رہتے ہیں۔

جافا کی وہ شام بے حد حسین اور سو گوار تھی اور سمندر کی لہروں میں سورج گویا خون کی سرخی لئے اتر رہا تھا۔

مصنف کو یروشلم کی کشش اپنی طرف کھینچ رہی تھی سو اگلی صبح وہ عازم سفر تھے۔

یروشلم یعنی مطلب ہے جس کا ( امن کا گہوارہ) اور یہ نام حضرت داؤدء نے فتح کرنے کے بعد رکھا اور زمانہ ہے حضرت عیسیٔ کے آنے سے ہزار سال پہلے کا اور مصنف جب ہوٹل پہنچنے کے لئے یروشلم کی گلیوں سے گزر رہے تھے تھے تو ان کا حیرت انگیز مشاہدہ قاری کو مسمرائز کرتا ہے۔

شہر کی سلطان سلیمان سٹریٹ تو راجہ بازار کی طرح تھی مگر باریک باریک شریانوں جیسی گلیاں ضرور ادھر ادھر شریر بچوں کی طرح بھاگتی ہوٰ نظر آ رہی تھیں۔ مصنف کو وہ ہوٹل مل گیا جہاں ٹھہرنا تھا اور ہوٹل کے مالک نے پاکستانی اور مسلمان ہونے پر خاص محبت کا مظاہرہ کر کے مسافر کا دل جیت لیا تھا مگر بے چین سیاح کو آرام کہاں کہ سامان رکھتے ہی سوئے اقصی ہوئے۔ ہوٹل مالک نے راستہ سمجھایا جو سیدھا محبوب کے دل میں اترنے کی طرح ہی سمجھ لیں۔ آدھ کلو میٹر چلتے ہوئے تین چیک پوسٹس آئیں مگر کوئی خاص رکاوٹ پیش نا آئی تھی لیکن آخری پر روکا گیا کہ مسجد اقصی اب شاید کچھ ہاتھ ہی دور تھی تو وجہ معلوم ہوئی کہ غیر مسلم یہاں سے نہیں جا سکتے، ان کے لئے الگ راستہ ہے اور مختلف اوقات ہیں۔

بہرحال وہاں شناخت پریڈ ہونے کے بعد چند قدم لے کر ایک احاطے میں داخل ہوا جاتا ہے جو رقبے میں تو بڑا نہیں مگر تاریخ ہزار ہا سال پر محیط ہے۔

داخل ہوتے ہی نظر مسجد اقصی پر نہیں بلک سنہرے گنبد والی ایک شاندار عمارت پر پڑتی ہے جو قہبتہ الصخرہ کہلاتی ہے اور قبہ عربی میں ٹیلے کو کہتے ہیں۔

سنہری گنبد کے عین نیچے وہ چٹان ہے جہاں سے سردار دو جہاں ﷺ معراج پر تشریف لے گئے تھے۔ اسے مشرق وسطی کی سب سے مشہور نشانی کہا جاتا ہے اور معجزہ الہی دیکھئے کہ یہودیوں کی شناخت بھی مسلمانوں کی تعمیر شدہ عمارت ٹھہری جو عرب سے باہر مسلمانوں کی تعمیر شدہ پہلی کاوش تھی اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ یہ مسجد۔ نہیں ہے بس مسلمان یہاں نوافل ادا کرتے ہیں اور قرآن کی تلاوت کرتے ہیں اور مذہبی اعتبار سے اس کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ اہل یہود بھی اس چٹان کو بہت ہی اہم جانتے ہیں کیونکہ وہ اس کو دنیا کے آغاز کا مقام کہتے ہیں اور یوں بھی دونوں مذاہب کے لوگ ”کزنز“ ہی تو ہیں۔

قہبتہ الصخرہ بہت شاندار عمارت ہے اور اس کی تعمیر جس کھلے صحن میں ہوئی ہے اس کو حرم شریف کہتے ہیں اور یہاں سے کچھ دور ہٹ کر مسجد اقصی، کئی مدرسے اور مذہبی عمارتیں ہیں اور صحن یا احاطے پر قبضہ ہی مسلمان اور یہودی کا جھگڑا ہے کیونکہ یہ ہر لحاظ سے بہت اہمیت کا حامل ہے۔

لیکن یہاں پر ٹھہر جائیے یا دم لیجئیے کہ اب حاطم کرد صاحب بھی شامل ہو رہے ہیں جو تھے تو گائیڈ مگر اس سفر کے آخر تک وہ ڈاکٹر صاحب کے جگری یار بن گئے تھے۔ حاطم کے علم میں جب یہ بات آئی کہ مسافر دل کے معاملات کا ماہر ہے تو پھر بقول دیوان صاحب کے ”کو بہ کو پھیل گئی بات مسیحائی کی“ تو ہر روز شام کو وہ بیس تیس مریض بھی چیک کرنے لگے، ہے نا خوبصورت بات!

اب دوبارہ چلتے ہیں پھر اس عظیم الشان اور مقناطیسی کشش کی حامل عمارت کی طرف، جی ہاں ٹھیک سمجھے آپ قہبتہ الصخرہ مگر وہاں پتہ چلا کہ اس کو بھاری کینوس سے ڈھانپ دیا گیا ہے کیونکہ احاطے میں مرمت کا کام ہو رہا تھا۔ حاطم صاحب کے تعلقات کب کام آتے آخر؟ اللہ کی شان وہ راستے میں مسافر کو ”بیرالارواح“ یعنی روحوں کا کنواں دکھانے کے لئے رک گیا۔ یہودی عقیدے کے مطابق تابوت سکینہ یہیں محفوظ ہے اور روز قیامت سب روحیں یہاں جمع ہوں گی اور پھر آگے جائیں گی۔ اس کمرہ نما کنویں جا کر مسا فر گویا زمان و مکان کی قید سے آزاد ہو گیا۔

اس کے فرش پر ساڑھے چھ فٹ انچائی کی بے حد چکنی چٹان بطور پلیٹ فارم کے موجود ہے اور لمبائی، چوڑائی چودہ فٹ ہے، فرش پر جا نمازیں ہیں اور ان جا نمازوں کے درمیان ایک دائرہ نما سوراخ ہے گویا کسی سواری کی روانگی کا مقام ہے۔

اللہ اللہ!

وہ جسے چاہے نوازے۔ مسافر عین اس سوراخ کے نیچے ہے جہاں سے سردار دوجہاں ﷺ معراج کے لئے تشریف لے گئے تھے۔ مسافر نے اپنے احساسات اور جذبات کی جو کیفیت بیان کی ہے ان کو الفاظ میں ڈھالنا ممکن نہیں ہے مگر دعا ہے اللہ تعالی ہمیں بھی یہ سعادت نصیب کرے

باہر نکل حاطم نے اپنے سپیشل تعلقات کو بروئے کار لاتے ہوئے صخرہ کا کینوس ہٹایا کہ اس چٹان کی جھلک دیکھی جا سکے جہاں سے سواری آسمانوں کو روانہ ہوئی تھی۔

کینوس ہٹایا گیا اور مسافر بس مسمرائز ہو کر جہاں کا تہاں کھڑا تھا۔ ایک بزرگ قاری نے جو وہاں تلاوت میں مصروف تھے بتایا کہ

جب رسول اللہ ﷺ براق پہ سوار ہوئے تو چٹان مارے وارفتگی کے براق کے ساتھ ہی بلند ہونے لگی تو حضرت جبرائیل (ع) نے حکم الہی سے اپنی ہتھیلی اس پر رکھ کر اسے واپس لوٹا دیا مگر ان کے دست مبارک کا چٹان پر نشان محفوظ رہ گیا۔

اللہ اکبر

یوں تو سب کچھ واضح اور آسان لفظوں میں ہے مگر پھر بھی بعض اوقات سمجھنے میں قاری کو کنفیوژن ہوتی ہے اور خاص طور پر کتاب کے اس حصے میں تا وقتیکہ آپ بار بار پڑھیں اور ساری ڈیمونسٹریشن کا ایک تصوراتی خاکہ ترتیب دیں پھر جب آپ سمجھ جائیں تو سوائے وجد میں آنے کے آپ کے پاس کوئی آپشن نہیں ہے۔ اس کی مثال یوں ہے جو کہ انھی قاری صاحب کے بقول ہے کہ

” آپ یہ بات جان لیں کہ صخرہ کا زیریں فرش ہے وہ بیر الارواح کی چھت ہے اور بیر الارواح کا جو کنواں ہے اس کی نشانی آپ کو اس سوراخ سے دکھائی دیتی ہے جو بیرالارواح سے صخرہ کے بالائی فرش تک موجود ہے اور یہاں براق کے سموں کے نشان ہیں“

یہ کہہ کر انھوں نے جلدی سے کینوس دوبارہ پھیلا دیا کہ کچھ لوگ وہاں آ گئے تھے۔
باقی آئندہ

Facebook Comments HS