کارونجھر کے فطری منظر اور انچلشور کا آستان

ننگرپارکر کے شمال اور مغرب کی طرف دو میل کے فاصلے پر کارونجھر پہاڑ کی ٹکری کے بیچ میں انچلشور کا آستان ہے۔ اس آستان کو انچلاس بھی کہتے ہیں، یہاں مھادیو کا لنگ بنا ہوا ہے اور ساتھ میں تین چشمے قریبی علیحدہ علیحدہ ٹکری سے نکل کر بڑے پتھروں کے نیچے بہتے ہوئے آتے ہیں۔ جن کی وجہ سے آستان پر پورا سال پانی رہتا ہے۔ اس پانی کے ساتھ صدیوں سے وابستہ عقیدت کے مطابق ہندو لوگ بوتلوں میں یہ پانی بھر کے لے جاتے ہیں۔
بہتے ہوئے چشمے میں نہانا خوش قسمتی سمجھی جاتی ہے۔ سانوں رت میں جب کارونجھر کے سارے آبشار مست ہو کر بہتے ہیں، تب انچلشور کے چشمے کی دھارائیں پہاڑی سے اتر کر دور دور تک چلی جاتی ہیں ٹکری کے تلے صحرائی تالاب جب تنبورے کی طرح بجنے لگتا ہے، تب پورا علاقہ آدہی باسی لوگوں کا لوک گیت بن جاتا ہے۔ انچلشور کی اس بارانی ندی اور تالاب پر اب انچلشور ڈیم بنایا گیا ہے۔ انچلاس کے آستان پر حیدرآباد کے باسی دیوان سترام داس عامل (جو ننگرپارکر میں پولیس کا سب انسپیکٹر تھا) ایک مسافر خانہ بنوایا تھا، جہاں سادھو سنت اور فقیر آ کر رہتے ہیں۔ اور مندر کی صحن میں بیٹھ کر بھجن گاتے ہیں۔
بے بادل برسے دھارا، بن بجلی چمکے انت اپارا،
پیوے امرت پریمی پورا، تہاں پہنچے سورا
اوپر آستان تک ٹکری پر چڑھنے کے لیے 108 پگھتیوں (سیڑھی) بندھے ہوئے ہیں، حیدرآباد کے ایک عامل مختیار کار اپنے جوتوں سمیت اوپر چڑھا لیکن ان کے پھسلواں ہونے کے سبب اس کا پیر پھسل گیا اور وہ نیچے گر کے فوت ہو گیا، اسی جگہ پر اگنی سنسکار کیا گیا، ان کی یاد میں بنایا گیا چبوترا آج بھی موجود ہے،
کارونجھر کی فطری حسناکی میں انچلشور کے منظر دیکھنے جیسے ہیں۔ آستان کے قریب دو بلندیوں کے بیچ میں ایک قدرتی گھاٹ بنا ہوا ہے، جس میں ایک چھوٹی ٹکری پر ایک کھلی بیٹھک بنائی گئی ہے، یہاں سے پورے علاقے کا دیدار کیا جاتا ہے، گھاٹ پر محسوس ہوتا ہے، قصے اور کہانیوں میں بہتا ہوا صحرا کا دریا صدیوں یہاں آ کر سمندر میں ملتا تھا۔ اور نیچے ٹکری کے تلے پھولوں اور بیلوں کا صحرا نظر آتا ہے۔ مندر کے قریب سانوں رت کے نظارے دیکھنے کے لیے ملک بھر سے سیاح اور ماہر نباتیات صحرا کا رخ کرتے ہیں۔
مگر انچلشور کے استان پر بہت کم لوگ بادلوں کے ساتھ چل کر پہنچتے ہیں، اس جگہ کی سیاحتی حوالے سے کبھی پذیرائی نہیں ہوئی ہے۔ بہار رت میں بھی انچلشور کے رنگ آنکھوں کو ٹھنڈا اور عقل کو حیران کر دیتے ہیں۔ پھگن ماس کے چاندنی اگیارس کو اس آستان پر میلا لگتا ہے۔ اس آستان پر دھرامک لوگوں کو مکتی ملتی ہے یا نہیں لیکن فطرت کے رنگ دیکھنے والے لوگوں کو کونبھٹ نامی صحرائی درخت کی شاخ میں لٹکا ہوا چاند کے منظر اور انچلشور کے چشمے میں ستاروں کے عکس دیکھنے کا اچھا موقع مل جاتا ہے۔








