جب لنگور کے ہاتھ حور لگ جائے تو کیا نتیجہ نکلتا ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

”اصلی ہیرے کی پہچان ایک جوہری کو ہوتی ہے، بندر کے ہاتھ ماچس لگ جائے تو کچھ نہیں بچتا، بندر کیا جانے ادرک کا سواد“ پیشگی معذرت اگر میں نے کسی کہاوت کی ٹانگ توڑ دی ہو۔ یہ کہاوتیں ہم اکثر سنتے رہتے ہیں ان کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ اناڑی یا عطائی جو چیزوں کی حقیقت سے بے خبر ہوتے ہیں مگر دکھاوے کی ایکٹنگ بڑے کمال کی کرتے ہیں اور اکثر صورتحال کو بگاڑ دیتے ہیں۔ تنگ نظری اور شک کرنا یہ دو ایسے رویے ہیں جو بڑے بڑے خوبصورت رشتے کی چاشنی کو ختم کر کے آہستہ آہستہ نا خوشگوار خاتمہ کی طرف لے جاتے ہیں۔

بندہ سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ ایک لمبا عرصہ سے سکرین پر جو رومانٹک ایکٹنگ دیکھ رہے تھے کیا وہ سب کچھ غیر حقیقی یا پرینک تھا؟ اگر آپ اپنی خوبصورت شادی شدہ لائف کو سنبھالنے کی اہلیت نہیں رکھتے تو اسے سکرین پر انتہائی رومانٹک انداز میں پبلک کرنے کی کیا ضرورت ہے، جب ایسا ہوتا ہے تو آپ پبلک فگر بن جاتے ہیں اور پبلک پراپرٹی ہونے کی وجہ سے آپ کی نجی لائف یا آپ کے خیالات پر لوگ اپنی پسند و نا پسند کا اظہار کرنے لگتے ہیں۔

جی یہاں بات ہو رہی ہے ایک فیملی یوٹیوب چینل کی جسے ہشام اینڈ نائلہ چلا رہے تھے جو دونوں آئیڈیل جوڑے کے طور پر لوگوں میں کافی مقبول تھے۔ ہشام بذات خود باریش اور مذہبی ذہن رکھتے ہیں اور نائلہ بھی حجاب پہننے والی خاتون تھیں۔ اب وہ حجاب اپنی مرضی سے پہنتی تھی یا روایتی مجبوری؟ اس کا فیصلہ ہم نہیں کر سکتے۔ نائلہ کے مطابق حجاب اتارنے کے پیچھے ان کے سابق شوہر کی مکمل رضا مندی شامل تھی، اس کا کہنا تھا کہ اس خوش شکل چہرے کو کیش کروا لو تاکہ ہمیں زیادہ سے زیادہ ویوز ملیں۔

اس بریک اپ نیوز کو بھی سب سے پہلے ہشام نے بریک کرتے ہوئے کہا کہ ”نائلہ نے اپنا نام بنانے کے لئے مجھے استعمال کیا اور پھر لعنت بھیج کر چھوڑ دیا“ ہمارے معاشرے کا یہی مکروہانہ چہرہ اور مردانہ برتری سے لبریز ذہنیت کا صدیوں سے یہ پختہ خیال ہے کہ عورت مرد کے بغیر نامکمل ہے اور اس کی اپنی کوئی آزادانہ پہچان بالکل نہیں ہے اور وہ اپنی پہچان بنانے میں مرد کی محتاج ہے۔ اسی ذہنیت کا مظاہرہ ہشام نے بھی کیا اور بریک اپ کے بعد اپنے باریش چہرے کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اور مذہبی کارڈ استعمال کرتے ہوئے اپنے وی لاگ میں لوگوں کو نصیحت کر ڈالی ”شادی کرنے کے لئے دونوں کی سوچ کا ایک جیسا ہونا بہت ضروری ہے ورنہ یہ تعلق زیادہ دیرپا نہیں ہوتا“ اور تبلیغانہ انداز کا بھرپور استعمال کرتے ہوئے کہا کہ ”اپنی شریک حیات کے ساتھ مذہب پر کبھی کمپرومائز مت کرو“ اس کے علاوہ اپنی چھوٹی بیٹی کے نام ایک مغموم سا بیان ریکارڈ کروانے کے بعد لوگوں کی ہمدردی سمیٹ لی۔

دوسری طرف نائلہ نے حجاب اتار کر جب اپنی آزادانہ زندگی گزارنے کا فیصلہ کیا تو گٹر زدہ ذہنیت نے ان کی کردار کشی شروع کر دی بھلا اس سماج میں کوئی عورت اپنی آزادانہ حیثیت کے ساتھ اور ایک مرد کے تعاون کے بغیر ایک بھرپور زندگی جینے کا فیصلہ کیسے کر سکتی ہے؟ عورت اگر مرد کے ساتھ ( یس مین) والا کردار نہ نبھائے تو رنڈی اور اگر وہ اکیلی رہ کر خود مختار بننے کی کوشش کرے تو طوائف یا بازاری عورت، اس کا مستقبل تو مرد سے ہی وابستہ ہے اس کی آزادانہ حیثیت تو صفر ہے۔

اسی ذہنیت کا مظاہرہ نائلہ کے ساتھ ہوا اور معاشرتی ٹھیکیداروں نے خوب کردار کشی کی اور حجاب اتارنے کے پیچھے ہزاروں فرضی کہانیاں بنا ڈالی۔ اس ساری صورتحال میں ہشام احمد اعوان ان باریش چہرہ ہونے اور مخصوص مذہبی فقروں کا استعمال کر کے ایک معصوم کریکٹر بننے میں کامیاب ہو گیا اور ایک خود مختار زندگی کو جینے کی کوشش کرنے والی لڑکی کی انتہائی گھٹیا انداز میں کردار کشی کی گئی اور اس کے لباس تک پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔

اس کا جرم صرف عورت ہونا ہے اور اسی وجہ سے اسے اس مردانہ سماج سے وہ سب کچھ سننا اور سہنا پڑا جس کا سامنا عورت کو صدیوں سے ہے اور ایک بات تو بالکل صاف ہو جاتی ہے کہ اس معاشرے میں صرف عورت کو ہی اپنا کریکٹر سرٹیفکیٹ پیش کرنا پڑتا ہے جب کہ آدمی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ ہم ایک ایسے سماج کا حصہ ہیں جہاں پر معاشرے سے اپنے متعلق این او سی یعنی ”نو اوبجیکشن سرٹیفکیٹ لینے کے لیے داڑھی رکھ لیں ، حجاب پہن لیں اور تمام حرام زدگیوں کے بعد عمر کے آخری حصے میں فریضہ حج ادا کر لیں یا ماتھے پر تین محراب سجا لیں تو معاشرتی نظر میں آپ دودھ کے دھلے ثابت ہو جاتے ہیں۔

اکثریت کی یہ عادت ہوتی ہے کہ وہ وہی دیکھتے ہیں یا دیکھنا چاہتے ہیں جو انہیں نظر آ رہا ہوتا ہے، ان پرہیز گارانہ چہروں کے پیچھے جو اصل چہرہ چھپا ہوتا ہے وہ اوپر بیان کیے گئے پرہیزگاری کے لبادے اس اصل چہرے کو کیموفلاج کر دیتے ہیں۔ اب نائلہ اپنی دس سالہ میرج لائف کی کہانی اور جبری سمجھوتوں کا تذکرہ جس انداز میں بھی کرے گی اس کا کوئی یقین نہیں کرے گا کیونکہ وہ ایک آزادانہ زندگی جینے کا فیصلہ لے چکی ہے اور سماجی پرہیزگاری کے لبادے یعنی حجاب کو بھی ترک کر چکی ہے۔

اب اس کے پاس پرہیزگاری کا کوئی لبادہ نہیں رہا جسے پہن کر منافقانہ انداز میں پنے کردار کی پاکیزگی پیش کرے اور لوگ فوری طور پر اس کی باتوں پر یقین کر لیں۔ دوسری طرف ہشام باریش ہے اور مذہبی اصطلاحات کو بھی بڑے اچھے سے جانتا ہے، مرد ہونے کے ساتھ اور ایکسٹرا مذہبی بونس کے ساتھ اپنے سمارٹ کارڈ کھیل کر ناقابل تسخیر رہے گا مگر عورت کیا کہلائے گی سماجی ڈکشنری میں اس کے واضح شواہد موجود ہیں آپ ہمت کر کے جائزہ لے سکتے ہیں۔

نائلہ کا یہ جملہ بھی بہت ہی قابل غور ہے جو اس رشتے میں چھپی ہوئی تیزابیت اور جبری رویے کو بالکل صاف کر دیتا ہے۔ وہ کہتی ہیں کہ جب کبھی ہمارے درمیان تلخ کلامی ہوتی تھی تو ہشام مجھے اکثر کہا کرتا تھا“ کہ تم میرے متعلق جو کچھ بھی لوگوں کو بتاؤ گی وہ یقین بالکل نہیں کریں گے کیوں کہ میں ایک باریش آدمی ہوں اور لوگ میرا ہی بھروسا کریں گے ”آپ دیکھیں کہ بظاہر یہ دونوں مل کر یوٹیوب چینل چلا رہے تھے مگر حقیقی کمانڈ کس کے ہاتھ میں تھی اس کا اشارہ نائلہ نے اپنی ویڈیو میں کچھ اس طرح سے دیا ہے کہ“ خاتون وی لاگر کو اس معاشرے میں اتنی بھی آزادی حاصل نہیں ہوتی کہ وہ اپنی مرضی کا مواد اپنے چینل پر ڈال سکے ”اگر نائلہ اپنے اس ریلیشن میں پرخلوص نہ ہوتی تو وہ اپنے اس رشتہ کو برقرار رکھنے کے لیے زندگی کے قیمتی دس سال وقف نہ کرتی۔ وہ خوش شکل ہونے کے ساتھ ساتھ ایک خوبصورت اور تخلیقی دماغ کی بھی مالک ہے اور ایسے بندے اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر اور آزاد فہمی کے ساتھ زندگی کے ہر میدان میں کامیابی سے آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments