گوشی، سرگوشی، خاموشی اور نموشی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چند دن پہلے ہونے والی ایک سماجی تقریب میں ایک ادارے کے تمام ملازمین موجود تھے۔ تمام لوگ خاموشی سے سربراہ ادارہ کی تقریر کا انتظار کر رہے تھے۔ ہال میں مکمل سناٹا تھا۔ ایک محترم نے گوشی سے سرگوشی کی اور اس کے بعد ہال میں موجود تمام لوگوں کی خاموشی بولنے لگی۔ غرانے لگی۔ چنگھاڑنے لگی۔ اتنا شور ہوا کہ مجھے نموشی ہونے لگی۔ جن لوگوں کی خاموشی شور کر رہی تھی وہ شدید غصے میں بھی تھے۔ گوشی، سرگوشی سن کر ذرا سا مسکرائی۔ محترم کے چہرے پر بھی چمک آئی مگر باقی تمام لوگوں کے دل اور چہرے بجھ کے رہ گئے۔ لمحوں میں صدیوں کی داستان کہہ گئے۔ مدتوں ادارہ کے بند کمروں میں گوشی کے کردار پر کھلے عام باتیں ہوتی رہیں۔ سرگوشی کرنے والے صاحب بھی ناپسندیدہ افراد کی فہرست میں سرفہرست رہے۔

مجھے بے اختیار گورنمنٹ کالج جھنگ کے اردو کے ایک پروفیسر کی یاد آئی۔ وہ ہماری معاشرتی عادات کا نہایت بے رحمی سے تجزیہ کرتے تھے۔ اتنے ظالم تھے کہ اکثر سچ بول جاتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر کسی محلے کی کسی خوبصورت لڑکی کی شادی محلے ہی کے کسی جوان سے ہو جائے تو ہمارے ہاں سولہ سال سے اسی سال تک کے تمام مرد حضرات اس کو اپنی ذاتی حق تلفی سمجھتے ہیں۔ بات بات پر دہائی دینے لگ جاتے ہیں کہ اس ملک میں ”میرٹ“ تو ہے ہی نہیں۔ قابلیت کی کوئی قدر نہیں۔ ہمارے لوگوں کا کوئی حال نہیں۔ جب انہیں ہمارے جیسے نابغہ روزگار کا ہی کوئی خیال نہیں۔

کسی زمانے میں ہمارے ملک کے ایک بڑے شہر میں مردوزن کی مخلوط دوڑ کے مقابلے منعقد ہوئے۔ ہمارے گاؤں کے ایک بزرگ کو شدید افسوس ہوا۔ وہ تمام عمر شدید صدمے کی کیفیت میں رہے۔ سدا لوگوں کو بتاتے رہے کہ ”ہمارے ہاں بے حیائی بہت بڑھ گئی ہے“ ۔ ان کی زوجہ محترمہ بھی ان کی بات سے مکمل اتفاق کرتی تھیں۔ ہر بار خلوت میں ان کی قیمتی رائے میں صرف اتنا اضافہ کرتی تھیں ”آپ کو بے حیائی کے پھیلاؤ کا اتنا افسوس نہیں جتنا اپنی عمر کے بڑھاؤ کا ہے۔ اصل دکھ تو آپ کو اس بات کا ہے کہ آپ کی جوانی میں بے حیائی اتنی محدود کیوں تھی۔ اب اگر بڑھنی تھی تو ذرا پہلے ہی بڑھ جاتی۔ آپ جیسے کتنے بزرگوں کا بھلا ہو جاتا“ ۔

ایک تقریب کے اختتام پرایک خاتون نے ایک صاحب کو بلایا اور کہنے لگیں ”مجھے پتہ ہے کہ میں خوبصورت ہوں۔ لوگ مجھے دیکھ کر خوش ہوتے ہیں۔ مجھے لوگوں کی نظریں برداشت کرنے کی عادت ہے۔ آج مگر آپ نے اس ضمن میں ایک نیا ورلڈ ریکارڈ قائم کر دیا ہے۔ آپ نے ثابت کر دیا ہے کہ پہلی نظر ہی آخری ہونی چاہیے۔ آج تو تقریب کا دورانیہ چند گھنٹے کا تھا اگر اگلی ملاقات کسی ایسی جگہ پر ہوئی جہاں میرا قیام چند دنوں کے لئے ہوا تو آپ کو اپنا ریکارڈ بہتر کرنے کا موقع ضرور ملے گا مگر اس سے پہلے میرا بھائی بھی آپ سے ملے گا۔ وہ بھی آپ کو صرف ایک دفعہ ہی ملے گا“ ۔ لوگ بتاتے ہیں اس تقریب کے بعد ان صاحب کو جیسے کسی کی نظر لگ گئی ہو اور وہ پھر کبھی کسی تقریب میں نظر نہ آئے۔ ویسے تو خاتون کے بھائی کا نام بھی لوگ ”نذر“ ہی بتاتے تھے۔

ایک مشاعرے میں ایک بزرگ شاعر ایک ابھرتی ہوئی شاعرہ سے نظریں ہٹانا بھول گئے۔ شاعرہ مگر ان کو آج تک بھول نہیں سکیں، جب بھی ملیں شاعر صاحب سے یہی گلہ کرتی نظر آئیں ”ہمارے شاعر غالب سے چند دن بعد کیوں پیدا ہوئے۔ صرف چند دن کی دوری نے ان کو ایک عظیم شعر کہنے سے محروم کر دیا۔

گو ہاتھ کو جنبش نہیں، آنکھوں میں تو دم ہے
رہنے دو ابھی ساغر و مینا میرے آگے
میرٹ پر یہ شعر صرف ہمارے شاعر کا بنتا تھا۔ بس چند دن کی تاخیر سے اردو ادب کی تاریخ بدل گئی ”۔

ایک صاحب سچی محبت کرنے کے ماہر تھے۔ بڑے فخر سے بتاتے تھے کہ انہیں پہلی سچی محبت بچپن سے ہوئی تھی اور اب تک کی آخری ”پچپن“ میں۔ بیوی اپنی کو مگر خود سے بھی محبت کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ مشرقی شرم و حیا پر انسائیکلو پیڈیا تھے۔ زوجہ کبھی اگر تھوڑا وقت مانگتی تھیں تو ممتا کے فضائل گنوانا شروع کر دیتے تھے۔ عملاً اس بات کے قائل تھے کہ شادی کے بعد عورت کو بچوں کے ساتھ دل لگانا چاہیے اور شوہر کو کسی اور کنواری عورت کے ساتھ تاکہ عقد ثانی میں آسانی اور اولاد لاثانی پیدا ہو سکے۔

ایک صاحب کے چار بیٹے تھے۔ تین کے مزاج نرالے تھے۔ عادات عجیب سی تھیں۔ ایک لڑائی جھگڑے کا ماہر تھا۔ دوسرا زبان کا بہت تیز تھا۔ تیسرا خود غرض اور ضدی تھا۔ تینوں دل پھینک اور رنگین مزاج بھی تھے۔ چوتھا اور سب سے چھوٹا بیٹا دین دار تھا۔ لڑائی جھگڑے سے پرہیز کرتا تھا۔ صوم صلوۃ کا پابند تھا۔ باحیا تھا۔ ہمارے صاحب چھوٹے بیٹے سے شدید نالاں رہتے تھے۔ اس کو جتاتے رہتے تھے ”ہمارے ہاں با حیا مرد اور بے حیا عورت کا کوئی سکوپ نہیں۔“ مرد بن مرد ”۔ تیری شکل اور کام دیکھ کر دکھ ہوتا ہے“ ۔

نوشی کے دو ہم جماعت اس کے عاشق بھی تھے۔ ہر وقت محبت جتاتے رہتے تھے۔ چاند تارے توڑ لانے کے لیے بے تاب تھے۔ نوشی اعلیٰ کردار کی قابل ترین لڑکی تھی۔ اس کو بھی ایک صاحب پسند آ گئے۔ نوشی نے ان سے شادی کرلی۔ وہ نہایت شکی مزاج ثابت ہوئے۔ دیگر عادات بھی قابل اعتراض تھیں۔ سگریٹ نوش بھی بلا کے تھے۔ نوشی کا جینا دوبھر کر دیا۔ نوشی نے رشتہ برقرار رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر صاحب ذرا تبدیل نہ ہوئے۔ کسی ایک عادت پر بھی سمجھوتہ نہ کیا۔ تھک ہار کر نوشی کو طلاق لینا پڑی۔ سابق شوہر صاحب نے اپنی حرکات و سکنات کی بدولت صحت تباہ کرلی۔ پہروں بیٹھے سگریٹ کی ڈبی پر لکھی تحریر ”سگریٹ نوشی صحت کے لئے مضر ہے“ کے پہلے لفظ کو ہاتھ سے چھپا کر باقی عبارت ترنم سے زیر لب گنگناتے رہتے تھے۔

ایک صاحب ”ماسکو“ یونیورسٹی میں اردو پڑھاتے تھے۔ سچے پاکستانی اور پکے مسلمان تھے۔ ایک ”رشین“ خاتون ان کی سیرت پر مر مٹیں۔ اسلام قبول کر لیا۔ شادی کرلی۔ ضد کی کہ باقی زندگی شوہر کے آبائی وطن میں گزارنی ہے۔ ہما رے صاحب جاگیردار گھرانے کے فرد تھے۔ خاندان کے دیگر افراد رسم و رواج کے پابند تھے۔ روایات کے اسیر تھے۔ خاندان سے باہر شادی کا قطعاً رواج نہ تھا۔ اردو سے محبت کرنے والے جوڑے کو اتنی اذیت سے گزرنا پڑا کہ جوڑ جوڑ دکھنے لگا۔ اقبال کے عاشقوں کا غیروں میں اقبال بلند تھا۔ وطن آ کر حالات پست ہو گئے۔ اتنی تکلیف ہوئی کہ دونوں کی بس ہو گئی۔ بے بس ہو کر ذہنی صحت کی بحالی کے ایک ادارے میں داخل ہو گئے۔ تمام گھر والے ان کو پاگل سمجھتے تھے۔ ظلم یہ ہوا کہ یہ بھی خود کو پاگل سمجھنے لگے۔

یہ جسم و جاں تری ہی عطا سہی لیکن
ترے جہان میں جینا میرا ہنر بھی تھا


  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments