پوشیدہ خزانہ


آج کچھ خریدنا تھا مگر جب جیب کو ٹٹولا تو ایک روپیہ بھی نہیں پایا پھر بھی جیب کو بھاری محسوس کر کے ”آپریشن“ کرنے کا سوچا اور تمام ”قیمتی“ کاغذات کو باہر نکالا، قیمتی اس لحاظ سے کہ ہم ہر چٹھی کو ضروری قرار دے کر اسے جیب میں ٹھونستے رہتے ہیں پھر کچھ وقت بعد اسے بے وقت قرار دے کر پھاڑ کر اگ کی نذر کر دیا کرتے ہیں جو اس بات کی غماز ہے کہ ضروری نہیں کہ ہر چیز واقعی سنبھال کر غیر ضروری طور پر اپنے اپ کو اضافی ٹینشن سے دوچار رکھا جائے۔

زندگی میں ہر قسم کے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے اور طرح طرح کی مزاجوں کے اثر کو قبول کر کے دل و دماغ پہ سوار کرنا اپنے اپ کو اذیت سے دوچار کرنا ہوتا ہے۔ کہنا یہ ہے کہ کاغذ کی پرزوں کی طرح دل میں پالے ہوئے بغض، کینہ، حسد، نفرت، تعصب اور عداوت کو باہر نکال کے پرے پھینکنا عقلمندی اور اضافی بوجھ سے جان خلاصی ہے۔ دل و دماغ کی پاکیزگی ہی سے انسان کو سکون اور اطمینان کی دولت نصیب ہوتی ہے۔

تو جناب، ہم گوش گزار دراصل یہ کرنا چاہ رہے تھے کہ دوران ”آپریشن“ ہمیں پرس کے ایک کونے میں قائد اعظم بابا کی ایک تصویر نظر آئی اور اس وقت ہماری خوشی کی انتہا نہ رہی جب ہم نے انکھیں بند کر کے دو انگلیوں کو بہت ہی احتیاط سے دھڑکتے دل کے ساتھ ”بابا“ کی جانب بڑھایا تو ایک نہیں پوری چھ تصاویر کو انکھوں کے سامنے پایا، یعنی ”بابا“ کی مہربانی رہی اور ہم چھ ہزار روپوں کے مالک ٹھہرے، یعنی اللہ تعالی کی غیبی امداد کو پا کر پھولے نہیں سما رہے تھے۔

ایک لمحے کے لئے ہماری خوشی کا تصور کیجئے اور سوچ لیجیے کہ جب نفسانفسی کا عالم ہو گا اور ہر کوئی ایک ایک نیکی کو پانے کے لئے مارا مارا پھر ریا ہو گا مگر والدین، بچے، بیوی، شوہر اور بہن بھائی تک کوئی بھی کچھ دینے کی نہ پوزیشن میں ہوں گے اور نہ کوئی کسی کو کسی ایک نیکی دینے کے لئے آمادہ ہو گا لیکن عین اسی وقت نیکیوں کی ایک پوری ”بوری“ سامنے رکھ دی جائے تو حالت اور کیفیت کیا ہوگی؟

کیا اس خوشی کا تصور جا سکتا ہے؟

پوچھنے پہ معلوم ہو گا کہ یہ وہ ”چھوٹی، چھوٹی“ نیکیاں ہیں جن کی اہمیت کا اندازہ تجھے دنیا میں نہیں تھا مگر آپ کے رب نے اسے اسی سخت وقت کے لئے جمع کر لیا تھا۔

خندہ پیشانی سے کسی سے ملنا
کسی کی عیادت کرنا
جنازے میں شرکت کرنا
کسی محتاج کے ساتھ کچھ تعاون کرنا
کسی پریشان حال کی دل جوئی کرنا
کسی قرض دار کو مہلت دینا
کسی مصیبت زدہ کو دلاسا دینا
کسی مسافر کو کھانا کھلانا
کسی کے کسی مسئلے کو حل کرانے میں تعاون کرنا
لوگوں کے دکھ پہ دکھی اور خوشی پہ خوش ہونا
راستے سے کسی تکلیف دہ چیز کو ہٹانا
کسی جانور کو کھلانا، پلانا
صدقہ کرنا اگرچہ اپنے بچوں تک کو اچھا کھلانا ہی کیوں نہ ہو
والدین کے چہروں کو محبت بھری نظروں سے دیکھنا
صلہ رحمی کرنا
کسی کو معاف کرنا
غلطی پر کسی سے معذرت کرنا
کسی کی پردہ پوشی کرنا
بیوی کے ساتھ نرمی، محبت اور احترام کا تعلق رکھنا
خوش مزاجی اور خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتے رہنا

اس طرح کی بہت ساری آسان نیکیاں ہیں جو تھوڑی سی توجہ دے کر کی جا سکتی ہیں اور انہیں توشۂ آخرت بنا کر اللہ تعالی کی رضا اور جنت کے حصول کا ذریعہ بنایا جاسکتا ہے۔

Facebook Comments HS