نائلہ، نمرتا، نادیہ اور اب نوشین: کیا یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا؟
سال 2019 میں آصفہ ڈینٹل کالج لاڑکانہ میں آخری سال کی طالبہ ڈاکٹر نمرتا کی پر اسرار موت نے کئی سوالات کو جنم دیا۔ وہ سوال جنہیں جوابوں کی تلاش تھی ان کا مقدر کوڑا کرکٹ بنا، یوں نمرتا کا خون رائیگاں گیا۔ دو سال بعد لاڑکانہ سے ایک اور لاش ملی ہے اب کی بار نمرتا نہیں نوشین کی لاش ملی ہے۔ یوں گزشتہ چار سالوں میں سندھ کی تین مختلف جامعات میں زیر تعلیم چار طالبات، نادیہ اشرف، نائلہ رند، نمرتا چندانی کے بعد نوشین کاظمی نے خود کشی کر کے زندگی کا خاتمہ کیا۔
طالبات خود کشی کر نے پر کیوں مجبور ہوتی ہیں؟
آنکھوں میں خواب سجائے مستقبل کو سنوارنے کا عہد لیے گھر سے نکلنے والی طالبات کے ساتھ آخر ایسا کیا ہوتا ہے جو وہ خود کشی کرنے پر مجبور ہو جاتی ہیں؟ ہر لڑکی کی اپنی کہانی ہوتی ہے۔ کسی کو خاندان کی پہلی اعلیٰ تعلیم یافتہ لڑکی ہونے کا اعزاز حاصل ہوتا ہے تو کسی کو علاقے کی پہلی خاتون ڈاکٹر بننے کا۔ یہ اعزاز یونہی نہیں ملتے ان کی بھاری بھرکم قیمت چکانی پڑتی ہے۔ امتحان میں اچھے نمبروں سے پاس ہونے کا دباؤ برداشت کرنا پڑتا ہے، اپنوں سے دور رہنا پڑتا ہے، اگر مالی و خاندانی مسائل ہوں تو انہیں جامعہ میں اکیلے جھیلنا پڑتا ہے اور راتوں کی نیندیں قربان کرنی پڑتی ہیں۔
سوچیں جس معاشرے میں بننے سنورنے پر عورت کے کردار پر انگلیاں اٹھائی جاتی ہوں، جہاں طالبات کو ہراساں کرنے والے افسران کا دفاع ادارے کرتے ہوں۔ جہاں لڑکیوں کے واش رومز میں خفیہ کیمرے لگائے جاتے ہوں وہاں طالبات کا خود کشی کرنا کوئی انہونی بات نہیں۔
روایتوں کے امین اخلاقیات کے ٹھیکے دار
چانڈکا میڈیکل کالج میں پڑھ چکے اور پڑھنے والے طالب علم سماجی میڈیا پر بر ملا اس بات کا اظہار کرتے رہتے ہیں کہ موجودہ انتظامیہ کا طلبہ کے ساتھ رویہ کوئی مثالی نہیں۔ کالج میں ایسے لوگوں کی بھرمار ہے جو خود کو روایتوں کا رکھوالا سمجھتے ہیں۔ مہم جو طبیعت کے مالک یہ جوان سمجھتے ہیں کہ وہ تہذیب بچانے کی مقدس مہم پر نکلے ہوئے ہیں۔ تنگ نظر کند ذہن نادر نمونے سماج میں آئے بگاڑ کو ٹھیک کرنے کی اضافی ذمہ داری لیے جامعہ جامعہ پھر رہے ہیں۔
یہ طلبہ کی چال چلن، رہن سہن پر کڑی نظر رکھتے ہیں، کس نے کون سے کپڑے پہنے ہیں یہ نوٹ کرتے ہیں۔ انتظامی عہدوں پر فائز یہی وہ لوگ ہیں جو آئے روز اخلاقی لباس زیب تن کرنے کے اعلامیے جاری کرتے رہتے ہیں۔ ہر جامعہ کے اپنے اصول ہیں کہیں جینز پہننا ممنوع ہے تو کہیں شلوار قمیض تو وہیں کچھ جامعات میں ٹائٹس پہننے والی اور سر پر دو پٹہ نہ اوڑھنے والی طالبات بے حیائی پھیلانے کی مرتکب ٹھہرائی جاتی ہیں۔ یہ ہے ہماری جامعات کا حشر، جہاں ما سوائے درس و تدریس کے باقی ہر کام ایمانداری سے سر انجام دیا جاتا ہے۔
آخری اور اہم وجہ، کیا ہم بات کر نے کو تیار ہیں؟
یہ بات درست ہے کہ جامعات میں انتظامی عہدوں پر اپنے کام میں مہارت رکھنے والوں سے زیادہ دوسروں کے کام میں ٹانگ اڑانے والوں کی ہے۔ لیکن کیا ہم نے کبھی ان پہلوؤں کو اجاگر کرنے کی کوشش کی ہے، جن پر ہم بات کرنے سے کتراتے ہیں؟
جانے والے چلے جاتے ہیں، لیکن پیچھے رہ جانے والوں کے لیے آدھے ادھورے تلخ سوال چھوڑ جاتے ہیں۔ ماں باپ، بہن بھائی، دوست یار سب کو اس بات کا غم رہتا ہے کہ مرنے والے نے ہم سے کیوں نہیں بات کی؟ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ہمارے ذہن اتنے کشادہ ہیں کہ سچ سن سکیں؟
گزشتہ سال کی بات ہے میرے ساتھ کام کرنے والی ایک دوست اپنی سہیلی کے بچھڑنے پر ذہنی تناؤ کا شکار ہو کر نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ وہ بتاتی ہیں کہ میری دوست، نہایت ہونہار ذہین، کتابوں سے محبت اور پڑھنے پڑھانے والی، سیر و سیاحت کی شوقین، گھنٹوں گھنٹوں مجھ سے بات کرنے والی اپنی سہیلی کے بچھڑنے پر میں ٹوٹ چکی تھی۔
جب معاملات آپ کی دسترس سے باہر ہوں تو آپ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پاتے۔ سو ایسا ہی کچھ میرے ساتھ ہوا تھا۔ دوست یار، ماں باپ بہن بھائی وجہ معلوم ہونے کے باوجود سب خاموش رہے۔ کہتی ہے، ہم بزدل، ڈرپوک ہیں۔ ہمیں جھوٹے وعدوں کا بھرم رکھنا پڑتا ہے، قسموں اور رسموں کو نبھانا پڑتا ہے۔ زبانوں پر تالے اور ذہن زنجیروں سے جکڑے ہوئے ہیں۔ سچ جانتے ہیں مگر بولنے کا یارا نہیں، لکھنا بھی تو ہمیں گوارا نہیں، تو پھر ہم کر کیا سکتے ہیں؟
ہم جھوٹ بول سکتے ہیں۔ خودکشی کو حادثاتی موت قرار دے سکتے ہیں۔ ہم ڈرے سہمے اناؤں کے مارے، ذات پات، قوموں قبیلوں، فرقوں اور طبقوں میں بٹے، اندر ہی اندر جلنے کڑھنے والے لوگ ہیں۔ ہمیں اپنے حق کے لیے آواز اٹھانے کے بجائے آواز نیچی کرنے کو کہا جاتا ہے۔ کوئی راہ چلتے آنکھ مارے، فقرہ کسے، کوئی چھیڑے تو اسے نظر انداز کرنے کا درس دیا جاتا ہے۔ ہمیں صبر کرنا اور خاموش رہنا سکھایا جاتا ہے۔
اپنے گھر کا ماحول ایسا بنائیں کہ کسی کو اپنے دل کی بات کہنے میں کوئی دشواری نہ ہو، گر کوئی کہے کہ ابا، اماں، بھائی، آپا، مجھے فلاں کی صورت بھاتی ہے، میں فلاں کو جیون ساتھی بنانا چاہتی ہوں۔ اگر انا آڑے نہ آئے تو رویہ نرم، ذہن کشادہ اور دل بڑا کر کے ان کی سن لیا کریں۔ ایسا کرنے سے ان میں خود اعتمادی کے ساتھ ساتھ بہتر فیصلہ کرنے کی صلاحیت پیدا ہوگی، وہ موت کو مسائل کا مستقل حل سمجھنے کے بجائے زندگی کو بھرپور انداز سے جینے کا ہنر سیکھیں گے، وہ پیچھے مڑ کر دیکھنے کے بجائے آگے بڑھنا سیکھیں گے۔
نوٹ: مقصد کسی کے کردار پر شک کرنا، سوال اٹھانا نہیں، بلکہ خود کشی کی تمام ممکنہ وجوہات پر بات کرنا ہے جن پر ہم بات نہیں کرنا چاہتے۔


