دو بازیاب، چار اغوا: سندھ میں پھر بھی امن ہے!

سندھ میں بلدیاتی انتخابات مکمل ہونے کے بعد کراچی تا کشمور پیپلزپارٹی کا بول بالاہے۔ پہلی مرتبہ کراچی کی میئر شپ بھٹو کی جماعت کو ملی ہے۔ دیہی حلقوں کے بر عکس کراچی سے محض بھٹو کے نام پر ووٹ ملنا ذرا مشکل ہے۔ لہٰذا شہر میں ووٹ بنک بڑھانے، شہریوں کی رائے بدلنے اور پارٹی کی ساکھ بحال کرنے کے لیے جیالے میئر کو کارکردگی دکھانا ہوگی۔ امید ہے میئر کراچی شہر میں کام کرنے کے لیے روایتی سیاستدانوں

Read more

پیپلز بس سروس: کہانی کفیل کی، طیارہ پہلوان کا

ستر اور اسی کی دہائی کی بات ہے، شمالی سندھ کے سرحدی شہر کشمور سے سکھر، شکارپور سے لاڑکانہ بسیں چلا کرتی تھیں۔ والد محترم اس وقت کو یاد کرتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہ بسوں کے عروج کا زمانہ تھا۔ پگڈنڈی نما سڑک تھی، جس پر ویگن دور دور تک دکھائی نہیں دیتی تھیں۔ اب گڑھے ہیں اور گڑھوں کے درمیان کہیں کہیں سڑک بنی ہوئی ہے، جہاں صرف ویگنیں ہی چلتی دکھائی دیتی ہیں۔ مسافروں سے ٹھسا ٹھس

Read more

سندھ میں پیپلز پارٹی کے متبادل نہیں، مدِ مقابل کی ضرورت ہے

پیپلز پارٹی 2008 سے سندھ میں بر سر اقتدار ہے، لیکن سیلابی صورتحال میں ہم آج بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں 2010 تھے۔ بارہ سال کے عرصے میں کشمور سے کاچھو، کاچھو سے کراچی تک سندھ قسطوں میں ڈوبا ہے۔ ان بارہ سالوں میں سندھ میں کچھ بھی تو نہیں بدلا۔ کم و بیش وہی وزیر و میشر ہیں، بس بدلی ہیں تو وزارتیں، یا پھر نسلیں۔ مثلاً 2010 میں جب سیلاب آیا تو اس وقت ضلع کشمور سے ہمارے

Read more

بے بسی کے رقص کا مرحلہ ابھی دور ہے

گزشتہ ماہ ترکش مصنف خاتون صحافی ایستمل کر ان کی کتاب How to Lose a Country: The Seven Steps from Democracy to Dictatorship کا مطالعہ کیا۔ سیاسی تجزیوں اور تبصروں پر مبنی اس کتاب میں ترکش سماج اور وہاں کے جمہوریت پسندوں کی جد و جہد کا احوال ہے۔ کتاب میں ترکش صدر رجب طیب اردوان کے ابھرنے کی کہانی ہے۔ روشن خیالی سے رجعت پسندی کے سفر کی داستان ہے۔ اس کے علاوہ دa پاپولسٹ سیاسی رہنماؤں اور ان

Read more

سازشوں تلے پروان چڑھی نسلوں کا قصہ

سازشی مفروضوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ تاریخی اعتبار سے سماجی و معاشی بحران کے دوران پنپتے ہیں۔ لیکن پاکستان کی 75 سالہ تاریخ کچھ اور ہی بتاتی ہے۔ سرحد کے اس پار کٹر مؤرخین اور ماہرین سیاسیات کا خیال ہے کہ پاکستان مسلمانوں کی کاوشوں سے زیادہ انگریزوں کی سازشوں کا نتیجہ ہے۔ سابق بھارتی وزیر، جسونت سنگھ اپنی کتاب Jinnah: India۔ Partition۔ Independence میں رج رج کر قائد اعظم کی تعریفیں لکھنے کے باوجود وہ سمجھتے

Read more

ڈیجیٹل لٹریسی: فیک نیوز اور فیک ویڈیوز کا توڑ

پاکستان میں ان دنوں فیک نیوز کے معاملے میں حکومت اور اس کے حامی خاصے پریشان ہیں۔ ان کی نظر میں شاید پاکستان کا سب سے بڑا مسئلہ میڈیا کا راہ راست پر نہ ہونا ہے۔ بگڑے میڈیا کو سیدھی راہ پر لانے کے لیے کبھی میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے قیام کی بات کی جاتی ہے تو کبھی پروینشن آف الیکٹرانک کرائمز (پیکا) نامی قانون میں ترمیم کے ذریعے آزادی رائے پر قدغن لگانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ لیکن

Read more

گناہ کر شیطان پر ڈال، نیکی کر سوشل میڈیا پر ڈال

12 جنوری 2022 کی بات ہے، کراچی کی مشہور شاہراہ، شاہراہ فیصل پر واقع تحریر فروش ایجنسی میں ایک الفاظ فروش کی خالی جگہ پر کرنے کے لیے مجھے بلایا گیا تھا۔ انٹرویو کے بعد ایک دوست کو ناشتے کے لیے کال ملائی۔ ناشتہ میری طرف سے تھا۔ اس دوست سے یارانہ ایسا ہے جیسے کسی زمانے میں عمران خان اور جہانگیر ترین کا تھا۔ بڑے عرصے سے وہ ترین و علیم ایک ساتھ بنا ہوا تھا، اب میری باری

Read more

نائلہ، نمرتا، نادیہ اور اب نوشین: کیا یہ سلسلہ یونہی چلتا رہے گا؟

سال 2019 میں آصفہ ڈینٹل کالج لاڑکانہ میں آخری سال کی طالبہ ڈاکٹر نمرتا کی پر اسرار موت نے کئی سوالات کو جنم دیا۔ وہ سوال جنہیں جوابوں کی تلاش تھی ان کا مقدر کوڑا کرکٹ بنا، یوں نمرتا کا خون رائیگاں گیا۔ دو سال بعد لاڑکانہ سے ایک اور لاش ملی ہے اب کی بار نمرتا نہیں نوشین کی لاش ملی ہے۔ یوں گزشتہ چار سالوں میں سندھ کی تین مختلف جامعات میں زیر تعلیم چار طالبات، نادیہ اشرف،

Read more

روحانی راہوں کا بھٹکا مسافر شہر خموشاں کیوں بنانا چاہتا ہے؟

ایک روز یادوں کی کھڑکی میں کھڑا ارسلان آئینے میں اپنا عکس دیکھ رہا ہوتا ہے کہ اسے گئے وقتوں کی جھلک دکھائی دیتی ہے، جس میں اسے جامعہ کے دالان میں ٹہلتے کچھ دوست نظر آتے ہیں۔ ان دوستوں میں وہ جوان بھی شامل ہوتا ہے جو حال ہی میں ”نیپال تاپو بان“ سے لوٹا ہے۔ نیپال سے لوٹا یہ جوان طالب علمی کے زمانے میں گرو رجنیش المعروف اوشو کی کرشماتی شخصیت سے اس قدر متاثر ہوا کہ

Read more

کیا مذاہب کا مستقبل کا خطرے میں ہے؟

گزشتہ ہفتے ٹی ایل پی سربراہ سعد رضوی کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں اشتعال انگیز احتجاجی مظاہروں کا آغاز ہوا، جو ایک ہفتے تک جاری رہا۔ ہنگامہ آرائی کے دوران تحریک لبیک کے مشتعل کارکنان کی جانب سے سڑکوں کو بلاک کر کے نجی املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ پولیس اور مظاہرین میں جھڑپوں کے دوران قیمتی انسانی جانوں کا ضیاع ہوا۔ پورا ہفتہ صورتحال کافی پریشان کن رہی۔ موجودہ صورتحال کو دیکھ کر الجھن محسوس ہوتی ہے

Read more

موٹر سائیکل اور کار والوں کے نام

31 دسمبر کی رات ایک طرف دنیا پٹاخے پھوڑ کر جوش و خروش کے ساتھ نئے سال کو خوش آمدید کہہ رہی تھی تو دوسری طرف پاکستان میں حکومت وقت نے شہر قائد سمیت چند دیگر بڑے شہروں میں موٹر سائیکل والوں سے ان کی بے تکی ڈرائیونگ، موٹر سائیکل کو ہوا میں لہرانے اور سائیلنسر کے بغیر موٹر سائیکل چلانے سمیت دیگر حقوق پر قد غن لگا تے ہوئے دفعہ 144 نافذ کر کے بالکل صحیح کیا ۔ میرا

Read more