گلوکارہ زبیدہ خانم کے بیٹے اور پروڈیوسر فیصل بخاری سے ایک گفتگو
میری پسندیدہ گلو کارہ زبیدہ خانم ہیں۔ یہ فلمی صنعت کے معروف کیمرہ مین اور فلمساز سید ریاض بخاری صاحب سے شادی کر کے گلوکاری سے الگ ہو گئی تھیں۔ ان کی اولاد میں سے فیصل بخاری نے چائلڈ اداکار کے طور پر فلموں میں کام کیا۔ پھر یہ اپنے تایا سید جعفر شاہ بخاری اور والد سید ریاض بخاری کے نقش قدم پر چلتے ہوئے آج ماشاء اللہ آپ اپنی پہچان ہے۔ میں اس فنکار خاندان پر فیچر لکھنا چاہتا تھا لہٰذا سوچا کہ بہتر اور مستند معلومات ان کے بیٹے سے زیادہ اور کون دے سکتا ہے۔ فیصل سے رابطے کی کافی کوشش کی لیکن ان کی مصروفیت آڑے آتی رہی۔ بالآخر ایک روز یہ ملاقات اسی گھر میں ہو گئی جہاں فیصل کے والدین مقیم رہے۔ فیصل کے بڑے بھائی ایاز نے مجھے اندر بٹھایا اور ابتدائی بات چیت کی۔
ایاز بخاری نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے بتایا: ”میں اپنے والد ریاض بخاری اور والدہ زبیدہ بخاری کا بڑا بیٹا ہوں۔ فیصل مجھ سے چھوٹا ہے۔ ہم دو بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ بڑی بہن پھر میں، پھر فیصل اور پھر چھوٹی بہن“ ۔
” فنکارانہ صلاحیت تو ہم سب بہن بھائیوں میں موجود ہے۔ جہاں تک والد صاحب کے کام کا تعلق ہے اس میں تو ہم دونوں بھائیوں نے ہاتھ ڈالے اور اللہ کے فضل سے فیصل بہترین کام کر رہا ہے۔ رہی بات امی کے تعلق اور آواز کے حوالے سے تو سمجھ بوجھ تو تمام بہن بھائیوں میں ہے۔ فیصل میں ہم سے کچھ زیادہ ہے۔ امی کے سامنے تو منہ سے کوئی آواز نکالنے کا کبھی کسی کا حوصلہ ہی نہیں ہوا۔ اسی وجہ سے شاید ہم اس کام میں پیچھے رہ گئے۔ سمجھ بوجھ سب کی ہے، غلطیاں بھی پکڑ لیتے ہیں لیکن گا کوئی نہیں سکا“ ۔
اسی دوران فیصل بخاری آ گئے اور انہوں نے اپنی بات چیت کا آغاز کیا: ”سب سے پہلے تو نگار ویکلی کا شکریہ کہ آپ آئے اور ہمارے بڑوں کے بارے میں فیچر کا سوچا۔ میں اپنی امی جان سے شروع کروں گا۔ جب ہم نے ہوش سنبھالا تو امی کو ہم نے ایک بالکل گھریلو ماں کی طرح ہی پایا جیسے کہ کوئی بھی ماں اپنے بچوں کی تربیت کرتی ہے۔ ہمارے والد صاحب سے شادی کے بعد اور ہماری پیدائش سے پہلے ہی انہوں نے فلموں میں گانے کو خیر باد کہہ دیا تھا۔
انہوں نے کم عرصہ ہی گایا اور عروج کمایا جو سب ہی کو معلوم ہے۔ ہمیں تو علم ہی نہیں تھا کہ ہماری ماں اتنی مایہ ناز فنکار ہیں۔ جب ہم چھوٹے تھے تو شادی بیاہوں میں ہمارے پورے خاندان کو امی سے یہ کہتے سنا کہ بس آپ ہی گائیں! ڈھولک پر امی گانا شروع کرتیں تو ہم سب کو بہت اچھا لگتا کہ کیسی اچھی آواز ہے۔ پھر جب سوجھ بوجھ آئی تب اندازہ ہوا کہ ہمارے گھر میں کون ہستی ہیں! پھر جب ہم نے ان کے گانے سنے تو پتا لگا کہ امی جان نے کیسے کیسے گانے گائے تھے۔
جب ہی تو وہ اپنے وقت کی معروف پلے بیک سنگر تھیں۔ جب ہم بڑے ہوئے تو امی نے شادی بیاہوں میں گانا بالکل ہی چھوڑ دیا۔ پھر انہوں نے میلاد میں نعتیں پڑھنا شروع کر دیں۔ اپنی وفات سے دو سال پہلے تک میلاد شریف میں نعتیں پڑھیں۔ مختلف شعراء کے نوحے، قصیدے، مرثیے، نعتیں۔ انہوں نے اپنے ہاتھ سے لکھے اور یہ سب چیزیں انہوں نے سنبھال کر رکھی ہوئی تھیں۔ ہمارے ساتھ ان کی زندگی کا سفر بہترین رہا۔ وہ پورے خاندان کی جان تھیں۔
مزاج کی نہایت خوش اخلاق تھیں۔ گاؤں دیہات سے کئی کئی افراد یا خاندان ہمارے گھر آتے تو امی اکیلے کھانے اور رہنے کا بندوبست کرتیں۔ تو اس طرح چھوٹے بڑے سب ہی امی سے بے حد پیار کرتے تھے کہ ہم بیان نہیں کر سکتے۔ ہمارا پورا خاندان، میری تمام پھوپھیاں اللہ ان کی مغفرت فرمائے اور دیگر عزیز و اقارب امی کو بہت پسند کرتے تھے“ ۔
ایک واقعہ :
” ایک واقعہ یاد آیا۔ امرتسر، بھارت سے بھارتی پنجاب کے وزیر اعلیٰ لاہور کے دورے پر پاکستان آئے تو خاص طور پر امی کو ملنے کے لئے ہمارے گھر بھی آئے۔ امی صوفے پر بیٹھی ہوئی تھیں تو وہ ان کے پاس نیچے بیٹھ گئے۔ اور کہا کہ ماں جی آپ امرتسر چلیں۔ آپ کو پتا نہیں وہاں کتنے لوگ آپ کے پرستار ہیں۔ میں آپ کو ویزا بھیجتا ہوں اور خود آپ کو لینے آؤں گا“ ۔
” ان کی یہ بہت خواہش تھی کہ ایک دفعہ میں اپنا امرتسر والا گھر، وہ محلہ دیکھ لوں! اپنے آبائی گھر اور علاقے کو دیکھنے کی امی کی یہ خواہش ایسی تھی جو پوری نہ ہو سکی۔ اس کے بعد وہ بیمار رہنے لگیں اور ہم بھی انہیں ان کی جائے پیدائش لے جا نہ سکے۔ بس ہم ان کی ایک یہ تمنا پوری نہ کر سکے ورنہ اس کے علاوہ جتنی خدمت ہو سکتی تھی وہ ہم نے کی۔ ظاہر ہے اپنی ماں کے لئے ہر اولاد وہ سب کچھ کرتی ہے جو اس کے بس میں ہوتا ہے“ ۔
تایا جعفر علی شاہ بخاری اور کیمرے کے دو دبستان:
فیصل بخاری نے اپنے تایا جعفر علی شاہ بخاری صاحب کے بارے میں بتایا : ”میرے تایا جان پوری پاکستان فلم انڈسٹری کے استاد تھے۔ پاکستانی فلمی صنعت کے ابتدائی دور میں کیمرہ کے دو دبستان تھے : ایک جعفر بخاری صاحب کا اور دوسرا رضا میر صاحب کا ۔ میرے تایا جان کے شاگردوں میں رشید چوہدری صاحب، شیخ فیاض صاحب، فاضل صاحب، سرور گل صاحب، اسلم ڈار صاحب، باجوہ صاحب، اظہر برکی صاحب، میرے والد ریاض بخاری صاحب اور بہت سے دوسرے۔
مجھے بھی اپنے تایا جان کے ساتھ کام کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے۔ اس وقت میری عمر 18 سال ہو گی۔ تایا جان ڈھاکہ، مشرقی پاکستان کی ایک فلم کی شوٹنگ مغربی پاکستان میں کر رہے تھے۔ میں اس وقت نیا نیا اسسٹنٹ ہوا تھا۔ تایا جان نے اپنے مخصوص انداز سے کہا کہ چل پکڑ کیمرہ! سامنے ڈھاکہ سے آیا ہوا ڈانس ڈائریکٹر جاوید تھا جو خود بہت اچھا کوریو گرافر تھا، اور مجھے کیمرہ پکڑا دیا۔ زوم لگا ہوا ’ایری‘ Arriکیمرہ تھا۔ میں نے بھی پھر کھل کے کام کیا۔ مری اور لاہور میں گانے کیے۔ اس سے مجھ میں خود اعتمادی پیدا ہوئی۔ پھر تایا جان خود ڈائریکٹر آف فوٹوگرافی بھی تھے۔ اب ان کے سامنے کیمرہ پکڑنا۔ وہ دن اور آج کا دن میرا خود پر اعتماد الحمدللہ برقرار ہے“ ۔
ٹیکنیکل باتیں :
” اب میں کچھ ٹیکنیکل باتیں کروں گا۔ آج کل ’اسٹڈی کام‘ کیمرہ اور ’گئیر‘ اور ’پریشر‘ والے ’ہائڈرولک کیمرہ اسٹینڈ‘ آ گئے ہیں۔ جس سے ’ٹلٹنگ‘ اور ’پیننگ‘ ٹائٹ ہو جاتی ہے کہ جھٹکا نہ آئے۔ اس دور میں ایسا کچھ نہیں تھا۔ تایا جان نے پہلی مرتبہ ’کیمرہ ہینگر‘ خود بنا کر استعمال کیا۔ اس پر وہ کیمرہ لگا لیتے تھے۔ اسی ہینگر پر لگے کیمرے سے انہوں نے ون ون شاٹ گانے کیے۔ اسٹڈی کیم تو آج آیا ہے جبکہ اس دور میں تایا جان اپنے بنائے ہوئے ہینگر پر کیمرہ لگا کر آرٹسٹ کے ساتھ چل پڑتے۔
وہ کھڑی ہے تو یہ کھڑے ہیں، لیٹی ہے تو لیٹ گئے ہیں اور سب ون ون شاٹ! جیسے کیمرہ پانی کی طرح جا رہا ہو۔ پھر اس زمانے میں ’میچل‘ اور ’نیوئل‘ بڑے سائز کے کیمرے استعمال ہوتے تھے۔ اب تو ٹیکنالوجی سمٹ کر رہ گئی ہے۔ تو اس زمانے کے ان بڑے کیمروں کو میں نے استعمال کیا۔ شاٹ بالکل تیار تھا۔ ٹرالی لگی ہوئی تھی۔ اس وقت میری داڑھی تھی۔ تایا جان سب کے نام رکھتے تھے۔ مجھے کہتے تھے ’ڈکیت‘ ۔ تایا جان کی آواز آئی ’اوئے ڈکیت تیار ہے!
‘ میں نے کہا جی ہاں۔ نزدیک آ کر ہلکے سے ایک چانٹا رسید کیا۔ میں نے پوچھا کیا ہوا تایا جان؟ کہا کہ تھوڑی سی ٹلٹنگ ٹائٹ کر اور تھوڑی سی پیننگ ٹائٹ کر اور اب کیمرے کو پکڑ۔ وہ بھی کیسا دور تھا۔ ٹرالیاں کیسے لگتی تھیں۔ گیلی مٹی پر لکڑی کا تختہ رکھنا۔ تایا جان واحد کیمرہ مین تھے یا پھر ان کی لڑی کے کیمرہ مین، جنہوں نے روشنی کے لئے کبھی لائٹ میٹر استعمال نہیں کیا۔ آنکھیں میچ کر لائٹنگ کرواتے تھے کہ اس کو ’ہارڈ‘ کر اس کو ’سافٹ‘ کر ۔ پھر دور بدلا اور ’ہائی اسپیڈ نیگیٹیو‘ آ گئے۔ پہلے بلیک اینڈ وائٹ نیگیٹیو ہوتے تھے جن کے لئے بہت ہارڈ لائٹ کرنا پڑتی تھی۔ پھر فیوجی اور کو ڈک نے یہ ہائی اسپیڈ نیگیٹیو روشناس کروائے۔ کمال کی بات یہ ہے کہ تایا جان نے ان کے لئے بھی کبھی لائٹ میٹر استعمال نہیں کیا“ ۔
” میں نے اپنے والد صاحب کی بھی معاونت کی ہے“ ۔
” اللہ بخشے پرویز ملک صاحب کو انہوں نے مجھے ایک واقعہ سنایا تھا۔ آپ یہ بات حسن عسکری صاحب سے پوچھئے گا۔ ان کی فلم ’ہم اور تم‘ ( 1985 ) لندن، برطانیہ میں بنی تھی جس کے فلمساز شمیم ملک صاحب تھے۔ لندن کی نامور ’رینک فلم لیبارٹریز‘ (جو آج کل ’ڈی لکس لیبارٹریز‘ کہلاتی ہے ) میں اس فلم کا نیگیٹیو ڈیویلپ ہوا جسے دیکھ کر وہاں کے انچارج نے کہا کہ کسی بھی طرح یہ کام ہالی ووڈ کے کیمرہ مینوں سے کم نہیں! وہ مارے تجسس کہ یہ کون کیمرہ مین ہے اور کس طرح شوٹ کر رہا ہے، فلم کی عکس بندی دیکھنے آیا۔
اس وقت 500 اسپیڈ کا نیگیٹیو نیا نیا آیا تھا۔ وہ یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ وہاں چند گنی چنی لائٹیں موجود ہیں اور کیمرہ مین شاٹ لینے کی تیاری کر رہا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہمارا بجٹ ہی بہت کم تھا۔ جب کہ ان کا تو اسٹاف ہی اتنا زیادہ ہوتا ہے۔ عسکری صاحب نے شاٹ بتا دیا کہ کیا کرنا ہے۔ سامنے شیشہ لگا ہوا تھا جس کے انعکاس نے عکس بندی کے دوران کیمرہ مین کو بہت زیادہ تنگ کرنا تھا یہ بات اس لیب کا انچارج بغور دیکھ رہا تھا۔ میرے والد صاحب بتاتے ہیں کہ میں نے یہ بات نوٹ کر لی تھی۔ شاٹ سے پہلے والد صاحب نے اپنے اسسٹنٹ کے ذریعے سیٹ پر رکھے ایک بڑے گلدان کو اس کی جگہ سے اٹھوا کر ایسی جگہ رکھوایا جہاں سے شیشے میں انعکاس کا مسئلہ حل ہو گیا۔ اور شاٹ بھی او کے ہو گیا۔ اس حل سے لیب انچارج بہت ہی خوش ہوا“ ۔
فلم ’کامیابی‘ کا قصہ:
” پرویز ملک صاحب نے اس سے ملتی جلتی ایک اور بات بھی بتلائی کہ مملکت کینیڈا میں وہ اپنی فلم ’کامیابی‘ ( 1984 ) نیاگرا آبشار کے مقام پر کر رہے تھے۔ فلم ایڈیٹر زیڈ اے زلفی صاحب بھی ساتھ تھے۔ یہاں پر بھی جس ساز و سامان کے ساتھ عکس بندی ہوئی اس سے جو پرنٹ سامنے آیا تو فلم لیب میں وہاں کے اسٹاف وہ پرنٹ دیکھ کر بہت خوش ہوئے اور ایک توصیفی سرٹیفیکیٹ بھی دیا۔ فلم بندی کے دوران ریفلیکٹر ہاتھوں سے پکڑے ہوتے تھے حتیٰ کہ زلفی صاحب نے بھی ریفلیکٹر پکڑ رکھا تھا۔ جب کہ یہاں تو بڑی لائٹیں اور ریفلیکٹر اسٹینڈ پر رکھے جاتے ہیں۔ اس شوٹنگ میں تو کیمرے کے لیے دوسرا اسٹینڈ بھی موجود نہیں تھا۔ اس مسئلہ کے حل کے لئے عوام کو سیر کرانے کے لئے جو اسکوٹر چلتے ہیں اسی کو ٹرالی بنا کر کیمرہ شاٹ لے لیا۔ یہ سب کرنے کا ہمارے بڑوں کو شرف حاصل ہے“ ۔
فلم ”مغل اعظم“ اور کیمرہ مین مسعود الرحمن :
” ہمارے ملک کے نامور کیمرہ مین مسعود الرحمن جب بمبئی، بھارت میں فلم ’مغل اعظم‘ ( 1960 ) کی عکس بندی کے دوران شیش محل کے سیٹ پر گئے تو وہاں بہت سے شیشوں کی موجودگی کی بنا پر شاٹ نہیں ہو رہا تھا۔ اس وقت جب مسعود الرحمن صاحب نے وہ شاٹ لے کر دکھایا تو سیٹ پر موجود سب ہی افراد حیران رہ گئے کہ یہ کون کیمرہ مین آ گیا!“ ۔
” وہ بلیک اینڈ وائٹ فلموں کا دور تھا۔ تب بھارت اور پاکستان میں ایک دوسرے کے مقابلے پر فلمیں بنتی تھیں۔ کبھی ہم آگے جاتے تھے تو کبھی وہ آگے جاتے۔ ہر طرف اعلیٰ کام ہو رہا تھا۔ بس اسی دور میں ہم نے بھی کام سیکھا۔ ہمارے ہاں تو نہ کوئی فلم یونیورسٹی ہے نہ کوئی اکیڈمی! گریجوایشن کے بعد میں اس میدان میں والد صاحب کے ساتھ کام کرنے لگا۔ جب ان کی شوٹنگ نہیں ہوتی تو میں کامران مرزا صاحب کے ساتھ کام کرتا۔ پھر اس کے بعد جس کیمرہ مین کی بھی اسٹوڈیو میں شوٹنگ ہوتی میں وہاں چلا جاتا۔
یوں میں نے اپنا وقت ضائع نہیں کیا۔ اس طرح میں دو سال میں ’نیگیٹیو‘ کا کیمرہ مین بن گیا۔ وہی تو اصل کام تھا۔ آج کے ڈائریکٹروں، کیمرہ مینوں اور ایڈیٹروں سے آج کی یہ ٹیکنالوجی چھین لیں پھر دیکھیں کتنے افراد آپ کو نظر آتے ہیں! آج وہ نیگیٹیو والا کیمرہ ان کو دے دیں کہ اب آپ نیگیٹیو پر فلم بنائیں تو فلمساز ان کو گولی مار دے گا کیوں کہ وہ بے حساب نیگیٹیو لگا دیں گے! وہ اس کا استعمال کر ہی نہیں سکیں گے۔ آپ آج کے کسی ڈائریکٹر سے پوچھیں کہ ’شاٹ ڈویژننگ‘ کیا ہے؟ ؒ کہاں ’کلوز‘ لینا ہے اور کہاں ’ماسٹر‘ ؟ کہاں ’او ٹی‘ لینا ہے کہاں آپ نے ٹریک لینا ہے؟ وہ کہے گا کہ یہاں سے لے لو، یہاں سے بھی لے لو، جتنے چاہو شاٹ لے لو ہم ایڈیٹنگ ٹیبل پر جوڑ لیں گے“ ۔
تایا جان کی سختی:
” میرے تایا جان کے کام کرنے کے دوران سیٹ پر موجود افراد کا خون خشک ہو جاتا تھا! بے حد کڑک تھے۔ مجال ہے کہ بڑے سے بڑا اداکار ان کی شوٹنگ میں دیر سے آئے۔ ان سے متعلق ایک واقعہ ہے کہ ایک مشہور ہیرو تھوڑی دیر سے سیٹ پر پہنچے تو تایا جان نے آج کل کی اصطلاح کے مطابق اس ہیرو کا ’سافٹ وئیر‘ درست کر دیا“ ۔
” میں نے مشرقی پاکستان کی کسی فلم کی شوٹنگ کے دوران کی ایک بلیک اینڈ وائٹ پرانی تصویر دیکھی۔ اس میں اداکارہ شبنم آنٹی کورس میں ساتویں نمبر پر کھڑی ہیں۔ آنٹی اس لئے کہا کہ ان سے ہمارے خاندانی تعلقات ہیں۔ میرے والد نے ان کو ساتویں نمبر سے نکال کر پہلے نمبر پر کھڑا کیا کہ ان کا چہرہ مہرہ اچھا ہے۔ میں نے اپنے والد کو واحد کیمرہ مین دیکھا جو کرسی پر بیٹھا ہے اور تمام دیگر افراد کھڑے ہوئے ہیں۔ اور تو اور وہ اداکاروں کو سیٹ پر کھڑے کروا کر لائٹ کرتے تھے۔ ان اداکاروں کی جرات نہیں ہوتی تھی کہ وہ اپنی جگہ سے ہل جائیں۔ بس کھڑے ہیں۔ کیا ہو رہا ہے؟ لائٹنگ ہو رہی ہے! وہ چہرے کے حساب سے لائٹنگ کرواتے تھے۔ آج کل یہ سب کہاں؟ اب تو لائٹنگ کروانے اور شاٹ کی عکس بندی کے دوران موبائل ہاتھ میں ہوتا ہے۔ خیر۔ یہ تو لمبی گفتگو ہے! “ ۔
والد کا مزاج:
” میرے والد صاحب بہت ہی خوش مزاج تھے۔ خوش مزاج تو میرے تایا جان بھی بہت تھے لیکن ان کا انداز دوسرا تھا۔ میں نے اپنے تایا جان کے ساتھ دو یا تین فلمیں ہی کیں پھر انہوں نے کام چھوڑ دیا۔ میں نے تو بچپن میں ’چائلڈ اسٹار‘ کے طور کئی ایک فلموں میں کام بھی کیا ہے۔ والد تو ہنس کھیل کے کام لیتے تھے۔ ان کی لڑی سے بھی بڑے بڑے کیمرہ مین آگے آئے“ ۔
فلمی گانا ایک ٹیم ورک:
” دیکھیں! گانا بھی فلم کا ایک اہم حصہ ہے۔ فلمی گانے کی تیاری میں موسیقار اور شاعر تو موجود ہوتے ہی تھے۔ میں نے پرویز ملک صاحب کو خود دیکھا ہے کہ وہ گیت نگار مسرورؔ انور صاحب اور موسیقار ایم اشرف صاحب کے ساتھ بیٹھے ہوئے ہیں، میرے والد کو بھی بلوا یا ہے کہ گانا بننا ہے شاہ جی آپ بھی آئیں۔ یہی نہیں بلکہ فلم ایڈیٹر زیڈ اے زلفی صاحب بھی ہوتے تھے۔ تمام ٹیم کو بٹھا کر پھر گانا بنایا جاتا تھا کہ تمام افراد سنیں اور متفقہ نتیجہ پر پہنچیں۔ یہ ہوتا تھا ’ٹیم ورک‘ جو آج کل مکمل ناپید ہو چکا ہے“ ۔
فلم ’ماں تے ماما‘ کا دلچسپ واقعہ:
والد صاحب کی اپنی فلم ’ماں تے ماما‘ ( 1973 ) کے لئے ایک دھمال لکھا جانا تھا۔ اس کا بھی عجب قصہ ہے :فیصل کے بڑے بھائی ایاز نے اس موقع پر کہا : ”مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جب یہ دھمال لکھی جانی تھی تو میری ڈیوٹی یہ ہوتی تھی کہ میں صبح گاڑی لے کر موسیقار نذیر علی کو لے کر آ تا۔ پھر حزیں ؔ قادری صاحب کو لاتا۔ ان کے دو گھر تھے لہٰذا کبھی بڑ ے گھر تو کبھی چھوٹے گھر میں ہوتے۔ حزیں ؔ صاحب کو یہ دھمال لکھنا تھا۔
یہ روز آتے تھے۔ ان کی عادت تھی کہ وہ ماچس کی ڈبیہ کو انگلیوں سے بجا کر اس ردہم پر اشعار کہتے تھے۔ اب صورت حال یہ تھی کہ تین دن سے زیادہ ہو چکے تھے اور ان کو آمد نہیں ہو رہی تھی۔ ایک دن انہوں نے میرے سامنے ڈیڈی سے کہا کہ ریاض! آ چل سہون چلتے ہیں وہاں جا کر دھمال لکھیں گے یہاں کچھ آمد نہیں ہو رہی۔ اس پر ڈیڈی نے مجھ سے کہا کہ جاؤ تنویر کاظمی، حزیں قادری، ہدایت کار افتخار خان اور میرے لئے بذریعہ ہوائی جہاز کراچی جانے کا بندوبست کرو۔
میں نے ٹکٹیں کروائیں۔ آگے انہوں نے ٹیکسی پر سہون جانا تھا۔ ڈیڈی بتاتے ہیں کہ ہم ہوائی جہاز میں بیٹھے اور جیسے ہی طیارے نے پرواز شروع کی حزیں ؔ صاحب کو آمد ہوئی۔ انہوں نے اسی وقت کاغذ قلم نکالا اور کراچی پہنچنے سے پہلے پہلے یہ پوری دھمال ’شہباز کرے پرواز تے جانے راز دلاں دے، جیوندے رہے تے لال قلندر آن ملاں گے‘ مکمل کر لی۔ آپ جانتے ہی ہیں کہ وہ کتنی سپر ہٹ ثابت ہوئی“ ۔
” پہلے ایک صحتمند مقابلے کی صورت میں بہت ہی لگاؤ سے کام ہوتا تھا“ ۔ فیصل بخاری نے کہنا شروع کیا۔ ”آج کل تو سیٹ پر اداکاروں، کیمرہ مین اور ہنرمندوں کو بتایا جاتا ہے کہ صاحب یہ گانا ہے! ساؤنڈ والے کو کہا جاتا ہے کہ گانا لگائیں جی! تمام کاسٹ وہ گیت پہلی مرتبہ سن رہی ہوتی ہے۔ جب ہی تو آج کے گلوکار وہی ری مکس پرانے گانے گا رہے ہیں۔ فی زمانہ گیتوں میں نغمگی یا ’میلوڈی‘ ختم ہو چکی ہے“ ۔
” بحیثیت کیمرہ مین آپ کی پہلی فلم کون سی تھی؟“ ۔ میں نے سوال کیا۔
” میری پہلی فلم“ تلاش ” ( 1986 ) تھی۔ اس کا احوال یہ ہے کہ ڈیڈی فلمساز اور کیمرہ مین تھے میں ان کے ساتھ اسسٹنٹ تھا اور حسن عسکری صاحب ڈائریکٹر تھے۔ ہم سری لنکا گئے۔ ڈیڈی اقبال اختر صاحب کو بھی ساتھ لے گئے کہ کچھ گانے ہم کر لیں گے کچھ اقبال صاحب کر لیں گے۔ خیر وہ فلم مکمل ہو گئی اور ہم واپس پاکستان آ گئے۔ فلم لیبارٹری میں پرنٹ ہو کر جب گانا ہال میں چلا تو پردے پر وہ بہت شاندار لگا۔ میں بھی بڑا خوش ہوا۔
میں نے عسکری صاحب سے پوچھا کہ دیکھیں کتنا خوبصورت گانا ہے۔ اس پر انہوں نے بے ساختہ کہا کہ شاہ جی ( میرے والد ) نے کیا ہے نا!“ ۔ اس بات پر وہاں بیٹھے ہم سب نے قہقہہ لگایا۔ ”میں تو جل بھن کر رہ گیا“ ۔ فیصل نے بات کو جاری رکھتے ہوئے کہا۔ ”پھر عسکری صاحب نے کہا کہ تیرا شوٹ کیا ہوا گانا آئے گا تو پتا لگے گا۔ دوسرا گانا چلا جو تمام میں نے کیا تھا اور وہ بھی ہر لحاظ سے اسی معیار کا ثابت ہوا۔ اس کو دیکھ کر عسکری صاحب چشمے کو نیچے کرتے ہوئے اپنے مخصوص اسٹائل سے بولے : ’ہاں آغا اچھا ہے!
‘ ۔ پھر ہوا یہ کہ اس وقت کی انڈسٹری کے تقریباً تمام کیمرہ مین یہ کہتے تھے کہ اصل کام تو شاہ جی کرتے ہیں نام بیٹے کا دیا جا رہا ہے۔ میں یہ سن کر بہت کڑھتا اور سوچتا تھا کہ یا اللہ! میں اپنے آپ کو کس طرح منواؤں؟ تب ہدایتکار حسنین صاحب کی فلم ’ایک جان ہیں ہم‘ ( 1989 ) شروع ہو گئی۔ ڈیڈی اس کے بھی فلمساز تھے۔ پھر ڈیڈی کی ایک اور فلم ’قاتلوں کے قاتل‘ ( 1989 ) ایم اے رشید صاحب کی زیر ہدایت شروع ہو گئی۔
میں ہی ان سب فلموں کا اکیلا کیمرہ مین تھا لیکن مجھے کوئی کیمرہ مین ماننے کو تے ار ہی نہیں تھا۔ غلط العام تاثر تھا کہ کام شاہ جی کرتے اور بیٹے کا نام دیتے ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب ہماری زیادہ تر فلمیں بیرو نی ممالک میں بنتی تھیں۔ ڈیڈی کی فلم ’ایک جان ہیں ہم‘ بھی کافی حد تک بینکاک میں بنی تھی۔ پھر مجھے جان محمد جمن صاحب نے کام کرتے دیکھا اور مجھے اپنی فلم ’چوروں کا بادشاہ‘ ( 1988 ) کا کیمرہ مین لیا تب انڈسٹری والوں نے تسلیم کیا کہ لڑکا تو کیمرہ مین ہو گیا۔
بات فلم ’تلاش‘ سے شروع ہوئی تھی۔ اس فلم کا آؤٹ دور چھوٹے کیمرے ’ایری فلیکس‘ سے کیا تھا۔ فلم بندی مکمل کرنے کے بعد اب ان ڈور کام بڑے کیمرے پر ہونا تھا۔ سیٹ پر بڑے بڑے تجربہ کار کیمرہ مین بیٹھے ہوئے تھے جیسے کامران مرزا اور بابر بلال صاحب۔ علی جان صاحب روشنی کر رہے تھے۔ ویسے بھی ڈیڈی کے سیٹ پر یہ سب اکثر آ جاتے تھے کیوں کہ ڈیڈی فلمساز تھے اور یہ سب ان کے دوست احباب اور ایک ہی بیچ کے تھے۔ یہ دیکھ کر میں ناراض ہو کر سیٹ سے باہر چلا آیا۔
ڈیڈی میرے پیچھے آئے۔ میں نے ان سے کہا کہ ڈیڈی میں اس فلم کا کیمرہ مین ہوں تو آپ نے ان سب کو کیوں بلایا ہے؟ علی جان صاحب کیوں لائٹنگ کر رہے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ بیٹا یہ بڑے سیٹ کا بڑا کام ہے پھر کیمرہ بھی بڑا ہے اسی لئے انہیں بلوایا ہے۔ میں نے جواب دیا کہ نہیں! سارا کام میں خود کروں گا ورنہ آپ انہیں سے کام کروائیں اور میرا نام نہیں دیں۔ اس پر انہوں نے کہا چل تو کر یار! اب ڈیڈی کے تمام احباب کرسیاں ڈال کر پیچھے بیٹھ کر میرا کام دیکھنے لگے۔
میں اللہ کا نام لے کر اپنے کام میں جت گیا اور پیچھے مڑ کر بھی نہیں دیکھا کہ کون کون بیٹھا ہوا ہے۔ مجھے مطلوبہ خود اعتمادی میرے تایا جان ( سید جعفر علی شاہ بخاری ) دے چکے تھے جب انہوں نے مجھے پہلے ہی دن کہا تھا کہ چل کیمرہ پکڑ! بہرحال میں لائٹنگ سے فارغ ہو کر شاٹ لینے لگا۔ آہستہ آہستہ ڈیڈی کے دوست کیمرہ مین کرسیوں سے اٹھ اٹھ کر یہ کہتے ہوئے باہر چلے گئے کہ شاہ جی! لڑکا ٹھیک ہے۔ کام کر رہا ہے۔ پھر سب لوگوں نے مجھے کیمرہ مین ہی نہیں بلکہ لائٹنگ کیمرہ مین تسلیم کر لیا۔
پھر میں نے بڑے ڈائریکٹروں کے ساتھ کام کیا جیسے میڈم شمیم آرا، سید نور وغیرہ۔ میڈم شمیم آرا بہت میٹھی خاتون تھیں۔ میں ان کے ساتھ مالدیپ میں فلم ’کبھی ہاں کبھی نا‘ ( 1998 ) کرنے گیا۔ میں کہتا کہ میڈم آپ تو دن کے بارہ بجے کام شروع کرتی ہیں جب کہ یہاں صبح آٹھ بجے بہترین روشنی ہوتی ہے شوٹنگ کیوں نہیں شروع ہوتی؟ انہوں نے کہا کہ چلو تم صبح اٹھ کر گانے کی فلم بندی شروع کر دینا میں بعد میں آ جاؤں گی۔ میں صبح سات بجے میرا، ریشم، سعود، شان وغیرہ کو اٹھا کر فلم بندی شروع کر دیتا۔ میڈم بارہ ایک بجے آ کر دیکھتیں کہ کام ہو رہا ہے۔ یہ اور دیگر پرانے ہدایت کار، ڈائریکٹر آف فوٹوگرافی پر بھروسا اور اعتماد کرتے تھے“ ۔
” سید نور صاحب کے ساتھ میری پہلی فلم ’راجو بن گیا جنٹلمین‘ ( 1996 ) تھی۔ پھر ’دوپٹہ جل رہا ہے‘ ( 1998 ) کی۔ جب نور صاحب ڈائریکٹر کی حیثیت سے مشہور نہیں ہوئے تھے تب میرے والد صاحب کی فلم ’مرشد‘ بن رہی تھی۔ اس کا ہیرو فوت ہو گیا اور وہ فلم بند ہو گئی۔ داؤد بٹ صاحب اس کے ڈائریکٹر تھے۔ نور صاحب نے ڈائریکٹر کی حیثیت سے اس فلم کے کچھ سین بڑے شوق سے فلم بند کروائے اور وہ سیٹ بہت اچھا ایکسپوز کیا۔ کیمرہ مین میں ہی تھا۔
میں بڑا خوش ہوا۔ نور صاحب ہدایتکار نذر الاسلام کے پیرو کار تھے اور ایک اچھی سوچ اور نیا انداز لے کر انڈسٹری میں آئے تھے۔ بالکل اسی طرح ایور ریڈی پکچرز کی فلم ’جنگجو گوریلے‘ ( 1990 ) کا معاملہ ہوا۔ اس کے ہدایت کار عزیز تبسم صاحب تھے۔ جاوید شیخ اور نیلی پر ایک گانا تھا۔ میں کیمرہ مین تھا۔ اس گانے کو جاوید شیخ نے ڈائریکٹر کی حیثیت سے بہت شوق سے فلمایا اور یہ گانا بہت خوبصورت ہوا۔ ان دونوں کے اندر ہدایتکاری کی خدا داد صلاحیت موجود تھی۔ قدرت نے ان سے آگے چل کر ڈائریکٹر کا کام لینا تھا۔ نور صاحب کی تربیت اچھے ہدایتکاروں کے ساتھ ہوئی جیسے ایس سلیمان صاحب اور جاوید فاضل صاحب جو خود بھی سلیمان صاحب کے شاگرد تھے“ ۔
” ہمارے ہاں فلم اکیڈمی ہے نہ کوئی انسٹی ٹیوٹ۔ ہم نے اپنے بڑوں کو دیکھ دیکھ کر سیکھا۔ جاوید فاضل صاحب کے ساتھ میں نے بڑا کام کیا۔ پرویز ملک صاحب ہدایت کاری کے میدان اور ’میچ کٹنگ‘ کے ماہر اور میرے استاد تھے۔ ان کے شاٹ کیا ہموار / smooth ہوتے تھے۔ جان محمد جمن ہدایت کاری میں ’کرتبی کام‘ / ’ٹرک ورک‘ کے استاد تھے۔ پھر ماشا ء اللہ حسن عسکری صاحب بھی اپنا ایک جداگانہ انداز رکھتے ہیں۔ نذر شباب صاحب نے اپنی گولڈن جوبلی فلم ’ذرا سی بات‘ ( 1982 ) میں سب سے پہلے مجھے کیمرہ مین لیا تھا۔ یہ خود میرے والد صاحب کے شاگرد تھے“ ۔
ٹی وی کے لئے کام:
” میں نے کیمرہ مین کی حیثیت سے این ٹی ایم ٹیلی وژن کے لئے پہلا ڈرامہ ’دشت‘ ( 1993 ) کیا۔ عابد علی صاحب کو اللہ بخشے انہوں نے مجھے کیمرہ مین لیا تھا۔ یہ ڈرامہ گوادر، بلوچستان میں بننا تھا۔ اس دور میں یہ پہلا ڈرامہ تھا جس میں ٹی وی کے انداز کو تبدیل کیا گیا۔ میں نے ایک کھمبا لے کر کیمرے کے لئے کرین بنائی کیوں میری تو فلم کیمرے اور فلمی تکنیک پر ہی تربیت ہوئی تھی۔ اس کیمرا کرین کی بہت مشہوری ہوئی۔ پھر میں باقاعدہ ٹی وی کی طرف آیا اور این ٹی ایم چینل سے موسیقی کا پروگرام ’لوک فوک‘ پیش/پروڈیوس کیا۔ میں پنجاب، سندھ، بلوچستان، سرحد میں جس قسم کا گانا ہوتا تھا اسی لوکیشن پر عکس بندی کرتا تھا۔ اس نئے انداز کو بھی عوام میں پذیرائی ملی۔ پھر میں نے تاشقند میں جا کر اپنا پہلا سیریل ’کچے دھاگے‘ کیا۔ یہ وہ واحد سیریل ہے جس میں شان نے کام کیا“ ۔
” میں ایک اور نام بھی لوں گا پرویز رانا صاحب! وہ ماشاء اللہ پنجابی فلموں کے بادشاہ تھے۔ انہوں نے بھی مجھ پر بہت اعتماد کیا۔ خاص انداز سے اپنے ہاتھ کو ایک دائرے میں گھماتے ہوئے کہتے کہ چل پتری! بیٹا شاباش! یہ کر ۔ شروع میں تو مجھے سمجھ ہی نہیں آیا کہ رانا صاحب کیا کہہ رہے ہیں اور کیا شاٹ چاہتے ہیں۔ میں تو سوچتا ہی رہ گیا اور وہ یہ کہہ کر وہاں سے چلے بھی گئے! میں حیران ہوں کہ کیمرہ کہاں رکھنا ہے؟
کیا کرنا ہے؟ ان کے ساتھ ایک فائٹر ایم ایس کالیا ہوتا تھا۔ وہ میرے پاس آیا اور کہنے لگا کہ شاہ جی! جو دل کرے کھل کر کام کرو۔ پرویز رانا صاحب نے ڈائریکٹر سہیل خان کی فلم ’گولی تیرے نام کی‘ ( 1991 ) کے بلیک اینڈ وائٹ گانے ( رش پرنٹ ) دیکھے تھے جن کا کیمرہ مین میں تھا۔ ان گانوں میں سانپ کے شاٹ بھی تھے۔ میں نے لیٹ کر سانپ کے نکتۂ نظر سے بھی شاٹ بنائے۔ کہ سانپ گھوم رہا ہے وغیرہ۔ وہ گانا دیکھ کر رانا صاحب نے میرا انتخاب فلم ’گاڈ فادر‘ ( 1992 ) میں کیا تھا۔
تو پرویز رانا صاحب میری صوابدید پر چھوڑ کر چلے بھی گئے کہ جو چاہوں کروں۔ میں بھی اس وقت نیا تھا لہٰذا دل کھول کر کام کیا کہ کوئی ارمان رہ نہ جائے۔ میں نے رانا صاحب کی فلم ’وحشی عورت‘ ( 1995 ) کے گانے کیے وہیں سے صائمہ کو بہت سی فلمیں ملیں۔ باری اسٹوڈیو کی فلم لیب سے یہ گانے پرنٹ ہو کر ہال میں چلے۔ صائمہ ان میں بہت خوبصورت آئی۔ پھر تو ہر طرف صائمہ صائمہ ہی ہو گیا“ ۔
انڈسٹری کے کچھ بنیادی مسائل:
” فلم انڈسٹری کے بنیادی مسائل اور ان کے حل تو ایک لمبی بحث ہے۔ ہم نے تو خود ہی اپنے پاؤں پر کلہاڑی ماری ہوئی ہے۔ میرے نزدیک ہمارے تمام سینئیر ڈائریکٹر، کیمرہ مین قابل احترام ہیں لیکن میں ایک نکتہ اٹھاؤں گا کہ آج لاہور سے کام کیوں ہٹ گیا؟ صرف لاہور کی بات کر رہا ہوں کیوں کہ پوری فلم انڈسٹری کی تو کئی ایک وجوہات ہیں جیسے حکومت، کورونا، سنیما مالکان، پرسنٹیج کی باتیں وغیرہ! کراچی بھی ہمارا شہر ہے۔
وہاں کی انڈسٹری بھی ہماری ہے۔ لاہور میں ہمارے ڈائریکٹر اور تکنیکی ماہرین نے نئی ٹیکنالوجی کو نہیں اپنایا۔ وہ آج بھی کہتے ہیں کہ ہمیں وہ نیگیٹیو والا کیمرہ اور وہ ہی لیبارٹریاں دے دو ۔ جس کیمرے سے ’گر رررر‘ کی آواز آئے وہ ہی کیمرہ چاہیے۔ اب حالات بدل گئے ہیں۔ دنیا سے نیگیٹیو کا کام ناپید ہو گیا ہے۔ بے شک نیگیٹیو کا کوئی جوڑ اور مقابلہ ہی نہیں۔ نیگیٹیو نیگیٹیو ہی تھا! کیمرا تو رہا ایک طرف اب تو لائٹنگ کا نظریہ تک بدل گیا ہے۔ پہلے دور میں جب دن کے بارہ بجتے تھے تو ڈائریکٹر شوٹنگ پیک اپ کر دیتا تھا کہ ٹاپ لائٹ ہو گئی ہے رک جائیں تین بجے جب سورج کچھ نیچے آ جائے تب شروع کریں گے۔ آج ٹاپ لائٹ میں شوٹنگ ہوتی ہے۔ ان ڈور لائٹ بھی عین سر پر کی جاتی ہے۔ اب اندرونی عکس بندی کی روایتی لائٹنگ ختم ہو چکی ہے“ ۔
” کیا آپ پاکستانی فلم انڈسٹری کے مستقبل سے پر امید ہیں؟“ ۔
” کیوں نہیں؟ بالکل ہوں! وقت کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو تبدیل کرنا چاہیے۔ میرے پاس ڈیڑھ سو پرانی لائٹیں پڑی ہوئی ہیں لیکن وہ آج کل کے کام کے لئے کار آمد نہیں۔ آج کل جو مانگ ہے اگر وہ کیمرے اور لائٹیں استعمال کریں گے تو آپ وقت کے ساتھ چل سکیں گے“ ۔
” کچھ اپنے بیٹے کے بارے میں بتائیے؟“ ۔
” جس طرح میں ہم دو بھائیوں میں سے میں اپنے والد صاحب کے ساتھ فلم کیمرہ مین کی حیثیت سے میدان میں آیا تو میں نے بھی سوچا کہ ہم نے اس لڑی کو آگے بھی چلانا ہے۔ اب تو پہلے سے بہتر دور ہے کیوں کہ بچے پڑھ لکھ کر آ رہے ہیں۔ ہمارے وقتوں میں جو بچہ آوارہ گرد ہوتا تھا وہ فلم انڈسٹری میں آ تا تھا۔ میں بھی جب انڈسٹری میں آیا تو خاندان والوں نے کہا تھا کہ یہ آوارہ گرد ہے۔ مجھے شرف حاصل ہے کہ ہدایت کار حسن عسکری صاحب کا بیٹا، سینئیر کیمرہ مین کامران مرزا صاحب کا بیٹا، جعفر بخاری صاحب کا بیٹا ذوالفقار بخاری میرے شاگرد ہیں۔ پھر فلم ایڈیٹر اصغر صاحب کا بیٹا، وائلن نواز محبوب صاحب کا بیٹا، فائٹ انسٹرکٹر منظور ٹنڈ صاحب کا بیٹا عرشی، نبی احمد کیمرہ مین کا بیٹا نذیر عرف چنوں میاں میرے شاگرد ہیں۔ میں اپنے بیٹے کو بھی اس میدان میں لے کر آیا ہوں۔ اس
نے ’بی این یو‘ سے فلم میکنگ کی تعلیم حاصل کی پھر وہ چین اور ملائشیاء سے کورس کر کے آیا۔ اب ماشاء اللہ ڈی او پی ’ڈائرکٹر آف فوٹو گرافی‘ ایڈیٹر اور ڈائریکٹر کے طور پر کام کر رہا ہے۔ میں اس کے لئے دعا گو ہوں۔ جیسے ہم نے اپنے بڑوں کا نام روشن کرنے کی کوشش کی تو میں بھی امید کرتا ہوں کہ میرا بیٹا بھی انشاء اللہ ہمارا نام روشن کرے گا ”۔







